گودی میڈیا متوجہ ہو
یہ ہیں وہ دہشتگرد جن کو کشمیری کہہ کر ایکشن کمیٹی پر الزام لگایا جاتا ہے یہ فورسزز کے اپنے تربیت یافتہ لوگ ہیں جو سول کپڑوں میں ملبوس ہو کر فائرنگ کرتے ہیں الزام ایکشن کمیٹی کے کارکنوں پر لگاتے ہیں
اگر ہمت ہے تو سوال کرو سیکٹر کمانڈر برگیڈیر فائق سے
یہ دنیا کی تاریخ کا سب سے بڑا سرینڈر ہورہا ہے!!
جب مقابلہ بندوق والوں سے ہوتا ہے, تو تاریخ کا سب سے بڑا سرینڈر کر دیتے ہیں, پچھواڑے اٹھا اٹھا کر معافیاں مانگتے ہیں, 93 ہزار پتلونیں چھوڑ کر آتے ہیں,
یہاں نہتے لوگو کو کس کی ایما پر مارا ہے, بزدلوں!!
یہ درندہ سمجھتا ہے کہ میں استثنی لے کر بچ جاؤں گا
تمہاری درندگی کا حساب ہو گا، تمہاری وحشت اور انسانیت کی تذلیل کا حساب ہو گا، پاکستان کیساتھ غداری کا حساب ہو گا کوئی بھی استثنی بھی تمہیں اپنی دھرتی ماں کا سودا کرکے سزا سے نہیں بچا سکتا
آزاد کشمیر میں پاکستانی ایجنسیاں سول کپڑوں میں ملبوس افراد کو ایک جگہ پر اکٹھا کرتی ہیں، ان کے ہاتھوں میں بندوقیں تھما دیتی ہیں، اور پھر ان کی ویڈیوز اور تصاویر پاکستانی مین اسٹریم میڈیا کو یہ کہہ کر بھیجتی ہیں کہ یہ شرپسند عناصر ہیں اور عوامی ایکشن کمیٹی کے کارکن ہیں۔