دو سال سے زائد عرصہ قید اور مشکلات کے باوجود علی وزیر کے حوصلے آج بھی بلند ہیں۔ چہرے پر مسکراہٹ اور آنکھوں میں عزم اس بات کی گواہی ہے کہ قید حوصلے اور نظریے کو شکست نہیں دے سکتی۔
علی وزیر کی ثابت قدمی اور جدوجہد کو سلام۔
#ReleaseAliWazir
حبیب اللّٰہ ولد اشرف علی جانی خیل بنوں کو 2 سال پہلے امتحانی مرکز سے واپسی پر چیک پوسٹ سے لاپته کردیا تھا اور ابھی ٹھیک 2 سال بعد اسکی لاش کو گھر والوں کے حوالے کردیا ہے۔
#PashtunLivesMatter#StopStateTerrorism
پشتون تحفظ موومنٹ (PTM) بنوں میں صوبائی حکومت کی اجازت سے جاری آپریشن، بنوں اور لکی مروت میں کئی روز سے موبائل سروسز کی بندش، اور عوام کو درپیش شدید مشکلات پر گہری تشویش کا اظہار کرتی ہے۔
مسلسل جاری آپریشن اور مواصلاتی نظام کی بندش نے عام شہریوں، تاجروں، مزدوروں، طلبہ، مریضوں اور روزگار سے وابستہ افراد کی زندگی کو بری طرح متاثر کیا ہے۔ کاروبار ٹھپ ہو چکے ہیں، معمولاتِ زندگی درہم برہم ہیں، اور عوام اپنے بنیادی رابطے کے حق سے بھی محروم ہیں۔
ماضی میں خیبر پختونخوا میں متعدد فوجی آپریشن کیے گئے، مگر اس کے باوجود دہشت گردی کا مکمل خاتمہ نہ ہو سکا، جبکہ عام شہریوں نے جانی و مالی نقصانات اٹھائے، گھروں اور املاک کی تباہی دیکھی اور ہزاروں خاندان نقل مکانی اور دیگر مشکلات سے دوچار ہوئے۔
انتہائی افسوس کی بات یہ ہے کہ آج لکی مروت جیسے ضلع میں عوامی مسائل پر مؤثر انداز میں آواز اٹھانے والی قیادت نظر نہیں آتی۔ ایسا محسوس ہوتا ہے کہ صوبائی حکومت کے پاس اقتدار تو ہے، مگر عوامی مسائل کے حل کے لیے مؤثر اختیار اور عملی کردار دکھائی نہیں دیتا۔ اگر ایک منتخب حکومت اپنے ہی صوبے میں موبائل سروسز کی بحالی، عوام کے تحفظ اور بنیادی سہولیات کو یقینی نہ بنا سکے تو یہ اس کی کارکردگی پر ایک سنجیدہ سوال ہے۔
پی ٹی ایم مطالبہ کرتی ہے کہ بنوں اور لکی مروت میں موبائل سروسز فوری طور پر بحال کی جائیں، عوام کو درپیش مشکلات کا ازالہ کیا جائے، اور تمام اقدامات آئین، قانون اور بنیادی انسانی حقوق کے مطابق کیے جائیں۔ عوام کی جان، مال، عزت اور بنیادی آزادیوں کا تحفظ ہر حکومت کی اولین ذمہ داری ہے۔
#PTMLakkiMarwat @PTAofficialpk@telenorpakistan@Zongers@jazzpk@Ufone@Abtessam_PTI
بنوں میں جاری سرچ آپریشن کے نام پر عوامی مشکلات
گزشتہ ایک ہفتے سے بنوں میں سرچ آپریشن کے نام پر عام عوام کو شدید مشکلات کا سامنا ہے۔ کئی روز سے موبائل نیٹ ورک کی بندش نے لوگوں کو اپنے پیاروں سے رابطے سے محروم کر رکھا ہے۔ کاروباری طبقہ، طلبہ، مریض اور روزانہ اجرت پر کام کرنے والے افراد سب اس صورتحال سے متاثر ہیں۔ عوام یہ سوال کر رہے ہیں کہ آخر اس مسلسل نیٹ ورک بندش کا نقصان عام شہری کیوں برداشت کریں؟
دوسری جانب مقامی اطلاعات کے مطابق بنوں پولیس امن کمیٹی کی جانب سے سرچ آپریشن کے دوران بعض گھروں میں داخل ہو کر لوگوں کو ہراساں کرنے کے واقعات بھی سامنے آئے ہیں۔ کل نوراڑ میں ملک بشیر کے گھر زبردستی داخل ہو کر ان کے دو بھائیوں کو مبینہ طور پر تشدد کا نشانہ بنایا گیا، جبکہ دیگر گھروں میں بھی سرچ آپریشن کے نام پر داخل ہونے کی اطلاعات ہیں۔ اگر یہ اطلاعات درست ہیں تو ذمہ داروں کے خلاف کارروائی ہونی چاہیے۔
دو دن پہلے کرفیو نافذ کیا گیا، جبکہ سکندر خیل بالا اور لالوزئی سمیت مختلف اسکولوں اور کالجوں میں ایف سی اور آرمی اہلکار تعینات کر دیے گئے ہیں۔ اگر علاقے میں امن ہے تو عوام کے دلوں میں خوف پیدا کرنے کے بجائے معمولاتِ زندگی بحال کیے جائیں۔ بچوں کے تعلیمی اداروں کو خوف کی علامت بنانے کے بجائے تعلیم کے تسلسل کو یقینی بنایا جائے۔
یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ خیبر پختونخوا میں آپریشنوں کا سب سے زیادہ بوجھ عام عوام نے اٹھایا ہے۔ عوامی حلقوں کی رائے ہے کہ آپریشنوں کی وجہ سے جتنا نقصان خیبر پختونخوا اور خصوصاً پشتون عوام نے برداشت کیا، اتنا نقصان دہشت گردوں کو نہیں پہنچا۔ عوام یہ سوال بھی اٹھاتے ہیں کہ اگر برسوں سے آپریشن جاری ہیں تو دہشت گردی کا مکمل خاتمہ کیوں نہیں ہو سکا، بلکہ لوگ سمجھتے ہیں کہ مسئلہ آج بھی برقرار ہے۔
مزید یہ کہ 2014 سے 2026 تک خیبر پختونخوا میں ہونے والے بیشتر آپریشن اس عرصے میں ہوئے جب صوبے میں پاکستان تحریکِ انصاف کی حکومت تھی۔ اسی تناظر میں منظور پشتین کا یہ مؤقف بھی عوام میں زیرِ بحث رہتا ہے کہ "جب سیاسی جماعتیں اقتدار سے باہر ہوتی ہیں تو چیختی اور احتجاج کرتی ہیں، لیکن جب اقتدار میں آتی ہیں تو خاموش ہو جاتی ہیں۔" عوام کا مطالبہ ہے کہ پارلیمانی نمائندے اقتدار میں ہوں یا اپوزیشن میں، ہر حال میں عوام کے حقوق، امن اور انصاف کے لیے یکساں آواز بلند کریں۔
بنوں کے عوام کو خوف نہیں بلکہ امن چاہیے، بندشیں نہیں بلکہ معمول کی زندگی چاہیے، اور ایسے اقدامات چاہیے جو دہشت گردی کا خاتمہ کریں، نہ کہ عام شہریوں کو مزید مشکلات میں مبتلا کریں۔
#PTMLakkiMarwat
@PashtunTMbnu@PTMDir@ptmkhyber@ptm_momand@PTMUK_Official@PtmPeshawar@ptm_usa@PTMglobal@HRCP87@hrw
The continued imprisonment of Haji Samad despite serious concerns about his health has become a matter of urgent public concern. No individual should be forced to suffer in detention without receiving proper medical attention. Delaying treatment can have irreversible consequences. The authorities must act now, ensure transparent medical care, and release Haji Samad without further delay. #SaveHajiSamad
@BBhuttoZardari@ZardariPPP@HRCP87@hrw@SindhCMHouse
Immediately Transfer Haji Abdul Samad to a Hospital
Pashtun Tahafuz Movement (PTM)
Peshawar, 21 July 2026: The continued disregard for the deteriorating health of senior PTM leader Haji Abdul Samad (Samadullah), who has been detained in Dadu (Sindh) Jail for several days, is not merely medical negligence; it reflects a serious disregard for the life, dignity, and fundamental rights of an elderly political leader.
Despite his serious illness, lack of adequate medical facilities, and repeated delays in treatment, he has not been provided with appropriate medical care. Denying essential healthcare to an elderly leader who has dedicated his life to the struggle for people's rights is both irresponsible and contrary to basic humanitarian values.
Political differences can never justify depriving any individual of the right to medical treatment, dignity, and life. Denying a detainee the right to health and safety is a failure of the state's responsibility.
We demand that Haji Abdul Samad be transferred immediately to an appropriate hospital, receive a comprehensive medical examination by qualified specialists, and be provided with all necessary medical treatment without discrimination. We also call for transparent, fair, and timely legal proceedings in his cases.
Any harm caused to his health or life will rest entirely with the state and the relevant authorities.
Using the health and lives of political prisoners as a tool of pressure or retaliation is both politically unacceptable and morally inhumane. We strongly condemn such practices.
We call upon political activists, lawyers, journalists, human rights organizations, and all conscientious citizens to raise their voices for the immediate transfer of Haji Abdul Samad to a hospital and for the protection of his fundamental human rights.
Haji Abdul Samad must be transferred to a hospital without delay. Any harm to his life or human dignity is unacceptable.
#SaveHajiSamad
@ZardariPPP@BBhuttoZardari@SindhCMHouse@UNHumanRights@IHRF_English@HRCP87@UN_HRC@hrw
ہر شہری کو آئین کے دائرے میں رہتے ہوئے اپنے حقوق کے لیے پرامن جدوجہد کرنے کا حق حاصل ہے۔ ہم مطالبہ کرتے ہیں کہ زبیر شاہ آغا کے معاملے میں قانون، شفافیت اور انصاف کے اصولوں کو یقینی بنایا جائے اور انہیں فوری رہا کیا جائے۔
#ReleaseZubairShahAgha
جمہوریت کی اصل طاقت عوام کی آواز، آزادیِ اظہار اور پرامن سیاسی جدوجہد کے احترام میں ہے۔ اختلافِ رائے کو دبانے کے بجائے مکالمے کو فروغ دینا ہی مسائل کا پائیدار حل ہے۔ زبیر شاہ آغا کی فوری رہائی کا مطالبہ کرتے ہیں۔
#ReleaseZubairShahAgha
Freedom of expression and peaceful political participation are fundamental rights. Calls continue for the immediate release of Zubair Shah Agha. #ReleaseZubairShahAgha
strong democracy allows peaceful dissent and protects the rights of all citizens to express their views. We call for the release of Zubair Shah Agha. #ReleaseZubairShahAgha