The American people do not want to see hundreds of thousands of people starve.
The American people do not want to see small children bombed to death while they sleep.
The American people do not want to continue funding Netanyahu’s cruel war.
انڈین ریاست حیدرآباد میں تیار کیے گئے مہلک 20 ڈرونز کی اسرائیل کو فروخت اور ممکنہ طور پر غزہ میں حملوں کے لیے ان کے استعمال پر انڈیا میں انسانی حقوق کی تنظیم سراپا احتجاج ہے۔ https://t.co/qHeQCYCmn4
#Gaza, #Yemen, #Iraq, #Afghanistan ...
Much of the US economy is based on arms sales. Therefore, the USA is the biggest promoter of wars around the world. Business as usual.
۔ 'ZARA' کی جانب سے غزہ جنگ کے بارے میں توہین آمیز اشتہار دینے کے بعد امریکی عوام نے 'ZARA' برانڈ کے تمام کپڑے کمپنی کے سامنے پھینک دیے.
غزہ میں ہونے والی نسل کشی کا مذاق اڑانے والی اپنی اشتہاری تصاویر کی وجہ سے کپڑوں کے برانڈ 'ZARA' کا دنیا کے کئی ممالک میں بائیکاٹ کیا جا رہا ہے۔
غزہ میں #اسرائیل کی وحشیانہ بمباری اور فلسطینیوں کے قتل عام پر پوری دنیا میں احتجاج ہو رہے ہیں
لندن میں ایک شخص میٹرو ٹرین میں غزہ کے معصوم بچوں کے قتل عام پر اپنے طور پر احتجاج کر رہا ہے
وہ مسافروں کو گیت سنا رہا ہے جس کا مطلب ہے
دریاؤں سے سمندر تک
غزہ کے بچے آزادی سے گھوم پھر نہیں سکتے
غزہ میں انسانیت نام کی کوئی چیز نہیں ہے
جب تک فلسطینی بچے آزاد نہیں ہوتے
غزہ میں انسانیت نام کی کوئی چیز نہیں
فلسطین کو آزاد کرو فلسطین کو آزاد کرو
جب تک غم کے بادل نہیں چھٹ جاتے، ہم یہیں رہیں گے۔
غزہ کے صحافی، خان یونس کے النصر ہسپتال کے اندر بقا کا گیت گا رہے ہیں۔
الجزیرہ کے رپورٹر وائل الدحدوح بھی ان کے ساتھ موجود ہیں، جنہوں نے اپنی بیوی اور بیٹے کو اسرائیلی بمباری میں کھو دیا۔
جرمن طلباء نے غزہ میں فلسطینی بچوں کے ساتھ اظہار یکجہتی کے لیے اپنے ہاتھوں پر اپنے نام لکھ کر تصاویر پوسٹ کیں۔
کیونکہ فلسطینی بچوں نے اپنے جسموں پر اپنے نام لکھے تھے کہ اگر وہ اسرائیلی فضائی حملوں میں مارے گئے تو ان ک�� شناخت ہو سکے۔