علیمہ خان خیبرپختونخواہ کے بعد پنجاب میں بھی سٹریٹ موومنٹ کریں گی یہ ہمارا پلان ہے وقت سے پہلے کچھ بھی نہیں بتا سکتے لیکن جتنا ظلم ہو چکا ہے اب کچھ نہ کچھ تو ہو گا۔۔ نورین خان کی گفتگو. مکمل ویڈیو 👇
https://t.co/L0oDy1wMZB
کیا یہ کاندھے بلوچستان کے شہید پولیس اہلکاروں کی میتوں کا وزن نہیں اٹھا سکتے؟
یاد رہے یہ فوٹو نومبر 2024 میں تحریک انصاف کے احتجاج کے دوران روڈ حادثے میں شہید ہونے ولے رینجر جوان کے جنازے کی ہے۔
عمران خان نے بنی گالہ کو وزراعظم کیمپ آفس ڈیکلیر نہیں کیا جیسے آپ لوگوں نے جاتی امرا کو کیا
جہانگیر ترین فنانشنل مضبوط ہونے کے باجود خان نے نکال دیا کیونکہ کرپشن سیکنڈل چلا تھا
آپ کی ساری کابینہ ناہلوں چوروں کی بھری ہے یہ ہوتا ہے وژن نظریہ
پاکستان تحریک انصاف کی حکومت نے پٹرولیم لیوی زیرو کر دی تھی۔۔ یہ لوگ بھی کر سکتے ہیں،لیکن ٹیکس کلیکشن میں ناکامی یہاں سے پوری کرتے ہیں۔۔۔۔ رانا عاطف صاحب
”علیمہ خانم نہ تحریک انصاف کی چیئرمین بنی ہیں اور نہ وہ وزارت اعظمی کی امیدوار ہیں۔ وہ پارٹی میں کسی جانشینی کی دعویدار نہیں ہیں بلکہ صرف اپنے بھائی عمران خان کی رہائی کیلئے جدوجہد کر رہی ہیں۔ علیمہ خانم کا عمران خان کے جائز حقوق کیلئے آواز اٹھانا، ہرگز موروثی سیاست نہیں کہا جا سکتا۔“ علینہ شگری
@alinashigri
جو مورثیت کی باتیں کر رہے ہیں وہ دبے پاؤں جو باریک واردتیں ڈالتے ہیں انہیں شرم آنی چاہیے یہ تین چار ہیں ، ابھی تو ایک خاتون کا مجھے شک تھا وہ نکل کر بولے گی کہ خان نے ہمیں ایسا نہیں کہا تھا بیٹا خان نے تو بہت کچھ کہا تھا کیا آپ سب پر پورا اترتے ہو
سائرہ بانو
سابق ڈی جی آئی ایس آئی اور موجودہ آرمی چیف، بشریٰ بی بی کی کرپشن کی فائلیں لے کر عمران خان کے پاس گئے تھے: عظمیٰ کاردار!
تو وہ آرمی چیف ہیں، کدھر ہیں وہ کرپشن کی فائلیں؟ کون ہیں وہ افسر جن کے، بشریٰ بی بی نے فرح گوگی کے ذریعے پیسے لے کر، تبادلے کروائے؟ کوئی ایک کیس؟ کوئی ایک افسر جسے آپ نے نوکری سے فارغ کیا ہو کیونکہ اس نے رشوت دی:ثمینہ پاشا!
عمران خان نے آج تک جرنیلوں سے شدید ترین لڑائی ہونے کے باوجود دو باتیں کبھی نہیں کیں۔ کبھی کمپنی کے شہدا کی تضحیک نہیں کی۔ کبھی فوج کو جنگیں ہارنے کا طعنہ نہیں دیا۔ پھر بھی کمپنی عمران خان کی دشمن کیوں ہے؟ سوچیے! مسئلہ شہدا یا فوج کی عزت نہیں، مسئلہ اقتدار پر قبضے کا ہے! وقار ملک
#pakistan @RealWaqarMaliks
خبر کا ذریعہ جاننے کے لیے QR Code Scan کریں
"Tariq Ali is a Marxist, secularist, atheist and lifelong critic of religion’s intimacy with political power. Imran Khan, by contrast, has increasingly articulated his politics through an Islamic moral vocabulary: justice as obligation, sovereignty as freedom from servitude, welfare as compassion made institutional, and resistance to domination as a duty before God. Their metaphysical worlds are sharply different. Yet when Khan required solidarity, the atheist recognized the moral substance beneath the theological distance, while many professional custodians of Islam discovered the devotional pleasures of looking away."
Another excellent piece by @Academicatarms
https://t.co/hxK3lV2YPV
میں آپ کو بتاؤں عمران خان صاحب کے پاس جو پلان لے کے گئے تھے، میں ساتھ تھا اس میں۔ عمران خان صاحب نے اس سے پہلے کہ یہ لوگ، پانچ چھ لوگ تھے ہم۔ سلمان اکرم راجہ صاحب تھے، علی امین گنڈاپور صاحب تھے، صاحبزادہ حامد رضا میرا بھائی جو بے گناہ جیل میں ہے، تو خان صاحب نے بیٹھتے ہی کہا، "میں نے، پہلے میری بات سنو، میں نے بنی گالا نہیں جانا ہے۔"
"میں نے کوئی کمپرومائز نہیں کرنا ہے۔ میرے ساتھ والے لوگ جو ایک جملہ لکھ کے دے دیتے باہر آ جاتے۔ وہ جیل میں رہیں اور میں جنابِ والا ڈیل کر کے تو جا کے ادھر بیٹھ جاؤں؟ میں نہیں جاؤں گا۔ اور یہ جیل میرے لیے اللہ کی نعمت ہے۔" "میں پہلے وقت نہیں ہوتا تھا، قرآن پڑھتا ہوں تو پہلے ایک ترجمہ ابھی میرے پاس کئی ترجمے ہیں یا تفسیریں ہیں، مجھے اب صحیح یاد نہیں ہے۔" چار پانچ کی انہوں نے بات کی تھی۔ "دعا کرتا ہوں، پہلے نماز جلدی جلدی پڑھتا تھا، اب اطمینان سے نماز پڑھتا ہوں۔ کتابیں پڑھتا ہوں۔ یہ جیل میرے لیے اللہ کی نعمت ہے۔
قائد حزب اختلاف سینٹر علامہ راجہ ناصر عباس
عمران خان ساڑھے تین سال وزیراعظم رہے۔ کبھی ان کی بہنیں وزیراعظم ہاؤس نہیں آئیں۔ لاہور آتے تھے مگر بہنوں کو کبھی وزیراعلیٰ ہاؤس نہیں دیکھا گیا۔ فیملی کے کسی فرد کے پاس پارٹی کا کوئی عہدہ نہیں۔ باوجود اس کے ایک منگل کا دن بھی ایسا نہیں جب وہ عمران خان کے لیے آواز اٹھانے اڈیالہ جیل کے باہر نہ گئی ہوں۔ آواز اٹھانے کے جرم میں انہیں مختلف فسطائی حربوں کا سامنا کرنا پڑا مگر وہ ڈٹ کر کھڑی ہیں۔
بیرسٹر شہزاد اکبر
Her name is Gina Martin. She was at a music festival in London when a man pushed his phone between her legs and took a photo under her skirt. She reported it to the police immediately. They told her it wasn't a criminal offence. There was nothing they could do.
She went home and decided that was unacceptable. With no legal background, no political connections and no funding she launched a campaign to make upskirting a criminal offence in England and Wales. She petitioned. She lobbied MPs. She spoke publicly about what had happened to her. The government initially blocked the bill.
She kept going. The Voyeurism Act passed in January 2019. Upskirting now carries up to two years in prison. Scotland followed. Other countries are following. A woman at a festival with no lawyer, no funding and no political connections rewrote the law for an entire nation in eighteen months.
کوئٹہ جس جگہ لاشیں پڑی ہوئی ہیں ٹھیک 15 کلو میٹر دور فنکار امین حفیظ و دیگر فنکار پنجاب وفاق کے پی سندھ سے جا کر ٹھمکے لگا رہے ہیں کوئی زندہ ضمیر شخص اتنا بے حس کیسے ہو سکتا ہے
ڈاکٹر شہباز گل کا کرنل صاحب سے سوال
افسوس نظام 💔
خان صاحب کی بہنیں ایک بار پھر ملاقات کے بغیر روانہ
اڈیالہ جیل میں ملاقاتیں نا ہونے کا سلسلہ بدستور جاری ہے
عمران خان کا اغواء اب تک قائمُ ہے
Hey @FBIDirectorKash: U.S. taxpayers pay your salary to protect Americans, not to go easy on officials from a government that targets Pakistani-Americans through transnational repression. Did you make that clear to @MohsinnaqviC42?