ایرانی صدر نے غلط صفحہ دکھا کر فیلڈ مارشل اور شہباز شریف کیساتھ زیادتی کی ہے
فیلڈ مارشل غسل کرنے کے بعد جواب دینگے۔
انصار عباسی کا اگلا کالم 🤣
یارررر اتنی بے عزتی بحثیت پاکستانی
بیغیرتو انکا پیج سیم انکے صفحے پر تیسرے سائین کی جگہ بھی نہیں تھی 😢پھر بھی۔۔
مظفرآباد MI-17 حادثے کے بارے میں سامنے آنے والی اطلاعات انتہائی سنگین اور خوفناک سوالات اٹھاتی ہیں۔
اطلاعات کے مطابق اس ہیلی کاپٹر میں SSG سے منسلک ایک یونٹ، “Special Operations Group” کے اہلکار سوار تھے، جو مبینہ طور پر عاصم منیر کے براہِ راست احکامات کے تحت اندرونی جبر، خوف پھیلانے، اور خصوصی کارروائیوں کے لیے استعمال ہو رہا تھا۔
کہا جا رہا ہے کہ یہ یونٹ کسی بیرونی دشمن کے خلاف نہیں، بلکہ اپنے ہی پاکستانی شہریوں کے خلاف استعمال ہو رہا تھا؛ اُن شہریوں کے خلاف جو اپنے سیاسی حقوق، عزت، وقار اور انصاف کا مطالبہ کر رہے ہیں۔
اسی یونٹ کے افسران اور اہلکاروں پر مبینہ طور پر اسلام آباد قتلِ عام، مریدکے قتلِ عام، اور اب راولاکوٹ قتلِ عام سے تعلق کے الزامات لگائے جا رہے ہیں۔
مزید اطلاعات کے مطابق یہ یونٹ ایک اور کارروائی کے لیے جا رہا تھا، جس کا نشانہ وہ بے گناہ پاکستانی اور کشمیری تھے جو اپنے سیاسی حقوق کے لیے احتجاج کر رہے تھے۔
SSG
کا میجر عثمان، جس کی تصویر نیچے موجود ہے، اطلاعات کے مطابق اسی یونٹ سے وابستہ تھا اور ہیلی کاپٹر میں موجود گروپ کی کمانڈ کر رہا تھا۔
اگر یہ اطلاعات درست ہیں، تو پاکستان کو اب کسی پیشہ ور فوجی ڈھانچے کا نہیں، بلکہ ریاستی سرپرستی میں چلنے والے ایک ڈیتھ اسکواڈ نظام کا سامنا ہے، جو اپنے ہی عوام کے خلاف مکمل بے خوفی اور استثنا کے ساتھ استعمال ہو رہا ہے۔
یہ مماثلتیں نہایت لرزہ خیز ہیں: ارجنٹینا کے ڈرٹی وار اسکواڈز، گسٹاپو طرز کے دہشت گردانہ ہتھکنڈے، مسلط کیا گیا خوف، عوامی سزا، اور اختلافِ رائے کو منظم طریقے سے کچلنا۔
یہ قومی سلامتی نہیں۔
یہ منظم ریاستی دہشت گردی ہے۔
اور یہی اُس مافیا کلچر کی سفاک حقیقت ہے جو اُن لوگوں کے کمانڈ اسٹرکچر میں سرایت کر چکا ہے جو آج بھی خود کو پاکستان کا محافظ کہنے کی جرات کرتے ہیں۔
حیدر مہدی
@SHaiderRMehdi
ذیشعور لوگوں سے سوال:
آج مظفرآباد میں آرمی کا ایک ہیلی کاپٹر حادثے کا شکار ہوا جس میں تقریباً21 افراد کے جان بحق ہونے کی تصدیق ہوئی۔ جب یہ خبر سوشل میڈیا تک پہنچی تو اسکے بعد ہزاروں لاکھوں لوگوں نے اس حادثے پہ منفی کمنٹس کیے میرا سوال ہے
کیا فوج، ریاستی فیصلہ سازوں اور دیگر بااختیار حلقوں میں کسی ایک کو بھی اس بات کی سنگینی کا ادراک نہیں کہ عاصم منیر اپنے ذاتی بغض و عناد کی خاطر ملک کے اداروں کو اس مقام پر لے آیا ہے جہاں عوام اور اداروں کے درمیان خلیج خطرناک حد تک بڑھ چکی ہے؟ صورتحال یہ ہے کہ جو فرد تھوڑی سی بھی سیاسی بصیرت رکھتا ہے اداروں کے حق میں ہمدردی کا ایک لفظ بھی نہ سننا چاہتا ہے نہ کہنا چاہتا ہے۔
آج قوم اس نہج پر پہنچ چکی ہے کہ فوج کے خلاف نفرت کے اظہار کا کوئی موقع ہاتھ سے جانے نہیں دیتی۔ یہی وہ فوج ہے جس پر کبھی یہ قوم واری صدقے جاتی تھی۔کیا کسی فیصلہ ساز کو احساس ہے کہ عوام اور اداروں کے درمیان اعتماد کا رشتہ کس حد تک ٹوٹ چکا ہے؟ آج عاصم منیر کا بغض ہے، کل مشرف کا عناد تھا، اور اس سے پہلے کسی اور جرنیل کی ذاتی خواہش۔ آخر یہ ملک کب تک چند جرنیلوں کی انا اور ذاتیات کی بھینٹ چڑھتا رہے گا؟ حالت یہ ہے کہ ہر جنرل خود کو خدا اور جوابدہی سے بالاتر سمجھتا ہے۔ نہ احتساب کا نظام باقی رہنے دیا گیا ہے نہ کسی اصلاح کی کوئی گنجائش چھوڑی۔
اپنا قبضہ برقرار رکھنے کے لئے قوم کے اجتماعی شعور کی توہین تو پہلے بھی کئی بار کی گئی ہے لیکن اب کی وفعہ تو ہر اخلاقی حد پار کردی گئی ہے ناں چادر اور چار دیواری کا تقدس چھوڑا گیا ہے ناں جان و مال کا احترام۔ ملک کو قتل گاہ بنا دیا گیا ہے، ہر قانون نافذ کرنے والا کرائے کا قاتل بنا ہوا ہے۔ نام نہاد سیاسی لیڈر اداکار، صحافی ٹاؤٹ اور جج ربر اسٹیمپ بنے ہوئے ہیں۔ اداروں کے سربراہ کو اپنی ذات سے آگے کچھ نظر نہیں آرہا، معاشرتی اقدار قومی یکجہتی،ملکی مفاد، عوام، اداروں کی ساکھ کسی چیز کی کسی کو کوئی فکر نہیں اور یہ سب صرف ایک ادارے کے سربراہ کی رضا اور خوشنودی حاصل کرنے کے لئے۔
قوم کو تو ابھی تک یحییٰ خان کا اکہتر نہیں بھولا کیا عاصم منیر قوم کے ساتھ پھر اکہتر جیسا سانحے دہرانا چاہتا ہے ؟ جس کے نتائج اگلی کئی نسلوں کو بھگتنا پڑیں گے۔
مجھے اکثر احساس ہوتا ہے عمران خان غلط قوم کے لیے اپنی زندگی جیل میں گزار رہا ہے،
جو عمر انسان کے آرام کی ہوتی ہے عمران خان وہ زندان میں گزار رہا ہے۔
باقی انکے نام پر جو منتخب ہیں وہ تو اپنی شاہانہ زندگی گزار رہے ہیں عمران خان نے تو بینائی تک کھو دی، منتخب نمایندوں میں statesmanship نہیں تو اعتراف کرلے کہ ہم اس اہل نہیں کے عمران خان کو رہا کرلیں، عام سمجھ بوجھ والے جو اسمبلیوں تک پہنچ گئے ہیں۔
نوازشریف کی مسلم لیگ کا بدلتا بیانیہ۔۔۔
ایک دوست نے تجزیہ کیا ھے کہ
1977 میں جنرل ضیا نے مارشل لگایا، وہ ٹھیک تھا۔
1999 میں مشرف نے جو مارشل لا لگایا، وہ غلط تھا۔
1988 میں جنرل ضیا نے جونیجو حکومت برخاست کی، وہ ٹھیک تھی۔
1998 میں جنرل مشرف نے جو حکومت برخاست کی، وہ غلط تھا۔
1990 میں غلام اسحاق نے بینظیر حکومت کے خلاف 58 ٹو بی استعمال کی، وہ ٹھیک تھی۔
1993 میں غلام اسحاق نے نوازشریف کے خلاف جو 58 ٹو بی استعمال کی، وہ غلط تھا۔
1994 میں بینظیر کے خلاف جو تحریک نجات چلائی گئی، وہ ٹھیک تھی۔
1998 اور 2014 میں جو نوازحکومت کے خلاف احتجاج کیا گیا، وہ غلط تھا۔
1993 میں جسٹس نسیم حسن شاہ نے نوازشریف کی حکومت بحال کی، وہ ٹھیک تھا،
2017 میں سپریم کورٹ نے نوازشریف کوبرطرف کیا، وہ غلط تھا۔
1997 میں شہبازشریف نے جسٹس قیوم کو کال کرکے مطلوبہ فیصلہ کرنے کا جو حکم دیا، وہ ٹھیک تھا۔
2017 میں سپریم کورٹ رجسٹرار نے جو ایف آئی اے کو کال کرکے جے آئی ٹی کے ممبران کے نام مانگے، وہ غلط تھا۔
2011 میں زرداری حکومت کے خلاف وزیراعلی پنجاب کی جو احتجاجی مہم تھی، وہ ٹھیک تھی،
2016 میں وزیراعلی خیبرپختون نے مرکزی حکومت کے خلاف جو جلوس نکالا، وہ غلط تھا۔
1996 میں اپوزیشن لیڈر بینظیر کو اس کے کم سن بچوں کے ساتھ اڈیالہ جیل میں غیرمردوں کے سامنے گھنٹوں انتظار کروانا ٹھیک تھا،
2017 میں مریم نواز کو باعزت طریقے سے جے آئی ٹی میں طلب کیا جانا غلط تھا۔
سپریم کورٹ پر حملہ درست تھا۔
اج سادہ احتجاج بھی جرم ھے
سن 2000 میں رات کے اندھیرے میں اپنی پارٹی کے کارکنان کو بتائے بغیر مشرف کے ساتھ معاہدہ کرکے جدہ بھاگ جانا ٹھیک تھا،
2007 میں بینظیر کا مشرف کے ساتھ این آر او کرکے پاکستان آنا غلط تھا۔
2012 میں سپریم کورٹ کی طرف سے وزیراعظم گیلانی کو نااہل قرار دینا ٹھیک تھا،
2017 میں سپریم کورٹ کا وزیراعظم نوازشریف کو نااہل قرار دینا غلط تھا۔
1990 کے الیکشن میں آئی ایس آئی سے کروڑوں روپے لے کر الیکشن میں دھاندلی کرکے جیتنا ٹھیک تھا،
بے نظیر بھٹو کا سرے محل غلط تھا۔
کواپریٹیو بینکوں، تاج کمپنی سے حدیبیہ پیپر ملز کی حقیقت درست تھی۔
2014 میں عمران خان کا ریٹائرڈ آئی ایس آئی چیف سے ٹیلیفون پر بات کرنا غلط تھا۔
بے محترمہ بینظیر بھٹو کے سوءہز بینک غلط تھے۔
اپنی لندن کی جاءیدادیں۔ جدہ مل۔ اف شور اکاونٹ۔ درست تھے۔
2016 میں اپنی بیٹی کے ذریعے ڈان لیکس کروا کر فوج کو بدنام کروانا ٹھیک تھا،
2011 میں زرداری کا میموگیٹ کے زریعے فوج کے خلاف خط لکھنا غلط تھا۔
مشرف دور میں اس کی ساری کی ساری ٹیم غلط تھی،
2013 میں حکومت بنانے کے بعد مشرف کی آدھی ٹیم کو وزارتیں دینا ٹھیک تھا۔
1990 میں محترمہ بینظیر بھٹو عورت کی حکومت غیر اسلامی تھی
اج مریم صفدر کی حکمرانی درست ھے۔۔
ووٹ کو عزت دو کا نعرہ لگا کر بوٹ کو عزت دینے کا سفر۔۔۔
نوازشریف نے پچھلے دنوں ایک بیان میں کہا تھا کہ وہ ایک نظریئے کا نام ہے۔ ابھی جو کچھ آپ نے اوپر پڑھا ہے، وہ نوازشریف کے نظریئے کی ایک جھلک ہی تو ہے۔
ان لوگوں کی دماغی صحت کا اندازہ خود ہی لگا لیں جو اس قسم کا نظریہ رکھنے والے نوازشریف کو اپنا لیڈر مانتے ہیں!!!
وزارت خزانہ نے زیرو کوپن بانڈ ایشو کیا ہے جس پر انہوں نے 80 ارب روپیہ اٹھایا ہے اور 15 سال بعد اس پر 512 ارب روپیہ دینا پڑے گا 15 سال بعد کی جنریشن کو ہم کیا دے کے جا رہے ہیں یہ کس طرح کی پالیسی ہے کہ 80 ارب سے آپ جو کچھ کریں واپس 512 ارب کرنے پڑیں گے ! علی خضر ۔۔
ایک گھر کے چوکیدار کو چوروں نے خط لکھا کہ: “رات کو ہم چوری کرنے آئیں گے، دروازہ کھلا رکھنا۔”
مگر خط غلطی سے چوکیدار کے بجائے گھر کے مالک کے ہاتھ لگ گیا۔ مالک نے فوراً پولیس کو بلایا اور کہا: “یہ دیکھیں! چوروں اور چوکیدار کی ملی بھگت کا ثبوت!”
پولیس نے چور پکڑنے کے بجائے مالک کو ہی گرفتار کر لیا اور کہا: “تم نے بغیر اجازت کسی کا خط کیوں پڑھا؟”
بس یہی “سائفر” کی پوری کہانی ہے۔
جب آپ آئی پی پیز”مافیا“ کی بات کرتے ہیں تو اس میں وزیراعظم کے بیٹے سلیمان شہباز کے آئی پی پی”چنیوٹ پاور لمیٹڈ“ کو بھی شامل کرتے ہیں؟ انکا بجلی گھر ان بگاس بجلی گھروں میں شامل ہیں، جنہیں کپیسٹی چارجز کی مد میں بھاری ادائیگیاں ہوتی رہی ہیں۔۔سرکاری ریکارڈ کے مطابق اس بجلی گھر کے مین اسپونسرسلیمان شہباز ہیں،انکی شیئرہولڈنگ 94.191فیصد ہے جبکہ باقی ماندہ سپونسرز کی شیئرہولڈنگ 5.809فیصد ہے۔ دیگر شیئرہولڈرز میں شریف ڈیری فارمز پرائیویٹ لیمیٹڈ (5.808فیصد)،ندیم سعید 0.001فیصد اور محمد سجاد انور0.001فیصد شامل ہیں۔۔۔اس بجلی گھر کی گراس کپیسٹی 62.4 میگاواٹ ہے جبکہ پرائمری ایندھن ”اِمپورٹ شدہ کوئلہ/اور بگاس (گنے کی پھوک) ہے۔ دستاویز کے مطابق منصوبے کی کل لاگت 62.18784ملین ڈالرز ہے۔ منصوبے کی اس لاگت میں قرض کی رقم 49.75027ملین ڈالر ہے جبکہ ایکوئٹی اماؤنٹ 12.437568ملین ڈالر ہے
#پِٹھو_پِٹھوہوتاہے
کیا آپ جانتے ہیں کہ پاکستان کی معیشت کو آئی سی یو (ICU) تک پہنچانے والا اصل 'قاتل' کون ہے؟
وہ ہیں 90 نجی بجلی گھر (IPPs)۔
ان کے مالکان اور معاہدوں کی لرزہ خیز تفصیلات جان کر آپ دنگ رہ جائیں گے
ان خون آشام اداروں کی ملکیت کا بٹوارہ کچھ یوں ہے
شریف خاندان و ن لیگی رہنما: 44%
زرداری و پی پی پی رہنما: 24%
اسٹیبلشمنٹ: 10%
یعنی 78% حصہ صرف ان تین طاقتور گروپس کے پاس ہے۔
باقی 16% چینی و عرب سرمایہ کار اور 6% دیگر کے پاس ہے۔
اور اس پرظلم کی انتہا دیکھیے
یہ بجلی گھر پاکستان کی ضرورت سے 125% زیادہ بجلی پیدا کرنے کی صلاحیت دکھا کر لگائے گئے،
مگر حقیقت میں صرف 48% بجلی فراہم کرتے ہیں۔ لیکن عوام سے قیمت پورے 125% کی وصول کی جا رہی ہے
اسی لوٹ مار کا نتیجہ ہے کہ پچھلے 5 سال میں عوام کی جیب سے 6 ہزار ارب نکلوانے کے باوجود یہ ملک آج بھی ان کا 2900 ارب کا مقروض ہے۔
یہی وہ 90 لوگ ہیں جو ملک کی شوگر، سٹیل، سیمنٹ اور گاڑیوں کی صنعت پر بھی قابض ہیں۔ یہ ہے وہ نظام جو پاکستان کو دیمک کی طرح چاٹ رہا ہے۔
عجیب تضاد ہے۔وردی میں ملبوس ایک شخص آئین توڑ سکتا ہے۔ عوامی مینڈیٹ کو جوتے کی نوک پر رکھ سکتا ہے۔ سوال اٹھانے والوں کو گولیوں سے بھون سکتا ہے۔منتخب عوامی نمائندوں کو جیلوں میں ڈال دکتا ہے۔ اپنے حلف کے چیتھڑے اڑا سکتا ہے۔عدلیہ کو بے دست و پا کر سکتا ہے۔چوبیس کروڑ لوگوں کی زندگیوں کو یرغمال بنا سکتا ہے۔بنیادی انسانی حقوق معطل کر سکتا ہے۔لیکن وردی میں موجود دوسرا شخص آپ پر تنقید نہیں کر سکتا۔
زورین نظامانی نے ایک اور کالم لکھ لیا اور اس کا عنوان کے عورت کے پیچھے نہیں بھاگنا چاہئے اگر وہ آپ سے ہائی سٹیٹس کی ہو تو بالکل اس کے پیچھے مت بھاگے اور اپنے دوست کا قصہ سنا ڈالا۔یقین مانے کہ مجھے بہت عجیب لگا کہ اب زورین کیسے عنوانات پر بات کررہا،مگر کہانی کے اینڈ میں بات سمجھ میں آگئی کہ کیا کہنا چاہ رہے!!
دیکھتے ہیں کیا آپ کو بھی سمجھ آج آئیگی کہ وہ ہائی سٹیٹس والی لڑکی کون اور زورین کا وہ دوست کون ہے جس کا وہ واقعہ زورین سنا رہا؟
عجیب الخلقت خاندان
نواز شریف 67 سال کا ہے لیکن69 سال والے شہباز سے
سے بڑا ہے
نواز شریف نے جب کلثوم بی بی بیمار تھی کہا تھا
میرا ان سے چالیس سال رفاقت کا رشتہ ہے ،جبکہ حسین 48 سال
اور مریم 46 کی تھی حسن 42 سال کا
نواز شریف کا ابا امیر تھا ،شہباز کا غریب
مریم کہتی ہے حسین نواز کا دادا ارب پتی تھا
جبکہ حمزہ کا دادا ایک مزدور تھا
جدہ سٹیل 2006 میں بیچ کے اسی پیسے سے 2002 میں لندن فلیٹ
خریدے جبکہ حسن نواز 1992 میں ادھر رہ رہا تھا
چودھری نثار کہتا ہے لندن فلیٹس 93 سے شریف خاندان کی ملکیت ہیں
سن 68 میں لگنے والی اتفاق فاؤنڈری نے 65 کی جنگ میں ٹینک بنائے تھے
جدہ سٹیل بیچی اور لندن کی پراپرٹی خریدی ،لیکن الحمد للہ جدہ سٹیل اب
بھی ہماری ہے 1989 ابوظہبی سے سٹیل مل شفٹ کرکے 1988 میں
جدہ میں لگا لی
ہم الحمد اللہ 1988 میں ارب پتی تھے لیکن ٹیکس صرف 900 دیتے تھے
سن 1992 میں چار ہزار سات سو ٹیکس دیا
میں جب وردی پہن کر گآؤں جاتا تو گاؤں کی عورتیں چھت پر چڑھ کر
دیکھتیں ،صفدر اعوان
حسین نواز نے دو سال کی عمر میں شیخ جاسم کے والد سے پارٹنر شپ
کا معاہدہ کیا
کلیبری فونٹ ایجاد ہونے سے پہلے اس خاندان نے استعمال کر لیا
ایک سال پہلے میری لندن تو کیا پاکستان میں کوئی پراپرٹی نہیں
لیکن ایک سال بعد الیکشن کے کاغذات میں پانچ ملیں سینکڑوں ایکڑ
زرعی اراضی ،شاپنگ مالز ،لندن میں پراپرٹی اور اٹلی میں سٹیل مل
سرا چکرا گیا کہ نی ؟؟🤣🤣🤣
متحدہ عرب امارات سے کہا
تمہارا قرض منہ پر ماریں گے
پٹواریوں اور ٹاؤٹس نے دھمالیں ڈالنا شروع کر دیں
کہ قومی غیرت اور خودداری سب سے بڑھ کر ہے
اور پھر پتہ چلا کہ عرب امارات کا قرضہ ، سعودی عرب سے قرضہ لے کر اتارا جا رہا ہے
بدلے میں سعودیہ کو کیا کچھ دیا گیا ہے
معلوم نہیں
اٹھہتر سالہ تجربہ کار انجنیئرز قرضہ اتارنے کیلئے اور قرضہ لیتے ہیں
اور پھر اس قرضے کو اتارنے کیلئے کوئی سڑک یا عمارت گروی رکھ دیتے ہیں
کسی گاؤں کا ان پڑھ آدمی ان سے کہیں بہتر ملک چلا سکتا ہے
#پاکستان
کام کے سلسلے میں برلن جا رہا ہوں، سوچا اب جب کہ پاکستان دنیا میں امن کی ضمانت اور ثالث ہے تو برطانوی پاسپورٹ کی بجائے پاکستانی پاسپورٹ لے جاتا ہوں، سٹینسٹڈ ائیرپورٹ امیگریشن کاؤنٹر پر گورے کو پاکستانی پاسپورٹ دیا، اس نے پاسپورٹ الٹ پلٹ کر دیکھا ویزہ نہیں تھا اس نے میری طرف سوالیہ نظروں سے دیکھا!میں نے کہا یہ پاکستانی پاسپورٹ ہے اور اب اسکی دنیا بھر میں عزت ہے اس پر ویزے کی کیا ضرورت ہے؟ برطانوی پاسپورٹ پر بھی تو بغیر ویزے کے جاتا ہوں، گورے نے پوچھا یہ بات تمہیں کس نے بتائی؟
میں نے کہا پاکستانی دنیا بھر سے ٹوٹیر پر پوسٹ لگا رہے ہیں، اس پر گورا بولا پوسٹ لگانے والوں سے کہنا
“انی دیو اے مذاق اے؟”
یہ تو شکر ہے احتیاطاً برطانوی پاسپورٹ بھی ساتھ رکھ لیا تھا نہیں تو فلائٹ مس ہو جاتی!!
جب عمران خان نے ابھی نندن کو واپس کیا اور کہا ہم امن چاہتے ہیں تو انہوں نے کہا کہ یہ تو ڈر گیا ہے،
جب او ای سی کا اجلاس ہوا تو انہی لوگوں نے کہا تھا کہ ہم دیکھتے ہیں کانفرنس کیسے ہوتی ہے،
تب انہوں نے نیب کا ایشو بنا دیا تھا،
امن کی بات کرنے سے کوئی لیڈر غدار نہیں ہوتا، ذیشان عزیز
جے ڈی وینس کو ہوشیار رہنا چاہیے ، مریم نواز صاحبہ کے پاس بہت سی ویڈیوز ہیں خود ان کے شوہر کیپٹن صفدر نے فخریہ اعلان کیا تھا اور ایسی ہیں کہ دیکھی نہیں جاسکتی ۔۔۔۔
یہ آج اخلاقیات پڑھاتے ہیں۔