باچا خانی کیا ہے؟
باچا خانی ان چار نکات ثر مشتمل ہے
1: سب سے پہلے نکتہ انسان دوستی ہے؛ مزہب،نسل،رنگ،جنس اور لسانی بنیاد پر امتیاز انسان دوستی کی ضد ہے۔ اس طرح تمام عقائد کا احترام واجب ہے اور مذہب و عقیدہ کسی بھی فرد کا ذاتی عمل ہے۔
2: سماجی انصاف کی ہے۔
3: صنفی مساوات ہے۔
1/2
سنجیدگی دکھانی ہوگی۔ پاکستان مسلم لیگ ہمت دکھائے، جمہوریت، آئین اور عوام کی خدمت کرے۔ وردوی والوں سے اتنا نہ ڈریں، ہم ساتھ دینگے، جو بھی سختیاں آئیں گی، ایک ساتھ سہہ لیں گے۔
سینیٹر ایمل ولی خان
مرکزی صدر عوامی نیشنل پارٹی
#AimalWaliKhan | #ANP | #AwamiNationalParty
آج سارا پاکستان خوش ہے۔ خدا کرے کہ یہ صرف ایران اور امریکہ تک محدود نہ رہے، بلکہ یہ خوشی پختونخوا اور بلوچستان میں بھی آئے اور وہاں بھی امن قائم ہو۔ آج سے سو سال پہلے باچا خان لوگوں کو امن کا درس دے رہے تھے، اور آج پوری دنیا نے تسلیم کر لیا ہے کہ ممالک کے درمیان مسائل کا واحد حل مذاکرات ہیں۔ لڑائی سے مسائل حل نہیں ہوتے بلکہ مزید پیچیدگیاں جنم لیتی ہیں۔ ہمسایہ ممالک کے ساتھ امن کے معاہدے ہونے چاہئیں۔ ہم پوری دنیا میں امن کے حامی ہیں۔
ایمل ولی خان
مرکزی صدر، عوامی نیشنل پارٹی
#ANP | #AimalWaliKhan
مرکزی صدر اے این پی سینیٹر ایمل ولی خان نے پارٹی کے رکنِ صوبائی اسمبلی نثار باز خان کے ساتھ اسلام آباد ایئرپورٹ پر پیش آنے والے واقعے کو نہایت تشویشناک قرار دیتے ہوئے اسے پارلیمنٹ کی بے توقیری اور ایک منتخب عوامی نمائندے کے استحصال کے مترادف قرار دیا ہے۔ باچا خان مرکز پشاور سے جاری بیان میں انہوں نے کہا کہ پارٹی اس معاملے کی مکمل چھان بین کرے گی اور ریاستی اداروں کو اس پر مجبور کریگی کہ وہ بتائیں کہ آخر کس بنیاد پر ایک منتخب رکنِ اسمبلی کا نام ای سی ایل میں شامل کیا گیا۔ انہوں نے واضح کیا کہ ریاست اور متعلقہ اداروں سے اس اقدام کی وجوہات ضرور طلب کی جائیں گی اور اس سلسلے میں ہر سطح پر پیروی کی جائے گی۔ انہوں نے افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ یہ ایک عجیب صورتِ حال ہے کہ جن لوگوں کو ملک سے باہر جانے سے روکا جانا چاہیے وہ باآسانی بیرونِ ملک چلے جاتے ہیں، جبکہ ایک معزز پارلیمنٹرین، جو اپنے س��اسی مؤقف کی وجہ سے پہلے ہی دہشت گرد عناصر کے نشانے پر ہے، اس عمل سے یہ بھی ظاہر ہوتا ہے کہ وہ ریاستی اداروں کے بھی نشانے پر ہیں۔ انہوں نے سوال اٹھایا کہ عمرہ جیسی مذہبی ذمہ داری پوری کرنے کے بعد کیا وہ ملک واپس نہیں آتا؟ انہوں نے کہا کہ پارٹی اس معاملے کو ایوانِ بالا اور صوبائی اسمبلی دونوں میں بھرپور انداز میں اٹھائے گی اور پارلیمنٹ کی بے توقیری اور منتخب نمائندوں کے استحصال پر جواب طلبی کرے گی۔ انہوں نے زور دیا کہ جمہوری نظام میں منتخب عوامی نمائندوں کے وقار اور آئینی حقوق کا تحفظ ہر صورت یقینی بنایا جانا چاہیے۔
@AimalWali
#ANP | #AimalWaliKhan | #NisarBaazKhan
ولی خان اور آج کا پاکستان
ولی خان انتہا کے مستقبل شناس تھے۔ ضعیف ہوئے۔ بیمار رہنے لگے۔ ایک مرتبہ مولانا فضل الرحمان مزاج پرسی کے لئے گئے۔ ولی بابا نے آؤ بھگت کی۔ لڑکوں کو دوڑایا کہ مولانا صاحب کی مہمان داری میں کوئی کمی کوتاہی نہ آئے۔ پھر مولانا سے گفتگو کرنے لگے۔ مولانا سے پوچھا کہ بیٹا یہ بتاؤ کہ یہ جو افغانستان میں جنگ ہوئی یہ ک فر اور اسلام کی لڑائی تھی یا روس اور امریکہ کی۔ تب تک تو بات کھلی چکی تھی۔ مولانا بولے کہ بابا یہ تو امریکا اور روس کی لڑائی تھئ۔ اگلا سوال کیا کہ روسی کتنے مرے اس جنگ میں۔ مولانا نے کہا اتنے۔ اور امریکی کتنے مرے؟ وہ تو بابا کوئی نہیں مرا۔ امریکیوں کی طرف سے کون مرا؟ زیادہ تر قبائلی پشتون اور باقی پاکستان کے لوگ۔ تب ولی خان نے کہا کہ بیٹا یہی بات جب ہم آپ کے والد صاحب کو سمجھاتے تھے کہ مفتی صاحب یہ جہاد نہیں فساد ہے تو ہم پہ فتوے لگتے تھے۔ ہم نے مفتی صاحب کو یہ بھی عرض کی تھی کہ مفتی صاحب اس خطے کے لوگ پیدائشی مسلمان ہیں۔ ان کے اندر زور زبردستی مزید اسلام نہ گھسائیں۔ یہ اضافی اسلام ان کے اندر خراب ہوجائے گا اور اس خراب اسلام کو نکالنے کے لئے اس سے زیادہ خون خرابہ کرنا پڑے گا۔
تو بات یہ ہے۔ کہ یہ وہ اضافی اسلام ہے جو اندر جا کے خراب ہو چکا ہے۔
روزِ اوّل سے ہمارا یہی ایک مطالبہ رہا ہے کہ خدارا افغانستان کو افغانستان ہی رہنے دیں، اسے پاکستان کا پانچواں صوبہ بنانے کی کوشش نہ کریں۔ آج افغانستان سے جو دہشت گرد کارروائیاں ہو رہی ہیں، ان کا لقمۂ اجل بھی ہم ہی بن رہے ہیں،کوئی سویلین کپڑے پہن کر اپنے معصوم بچوں کو بے سہارا چھوڑ رہا ہے تو کوئی پولیس، ایف سی اور فوج کا یونیفارم پہن کر۔
جب جنرل ضیاء ڈالروں کے عوض مہاجرین آباد کر رہا تھا اور اسی آڑ میں دہشت گرد تیار ہو رہے تھے، تب بھی مخالفت صرف خان عبدالولی خان کر رہے تھے۔ پھر جب آپ لوگوں کے گھروں میں گھس کر ان کے ٹیلی وژن اسکرینیں تک توڑ رہے تھے ا��ر ایک انتہا پسند ذہنیت پروان چڑھائی جا رہی تھی، تب اسفندیار ولی خان اسمبلی میں کھڑے ہو کر ان پالیسیوں کی مخالفت کر رہے تھے، مگر آپ نے بات نہ مانی بدلے میں ہمیں اسمبلیوں سے ہی باہر کردیا۔
جب طالبان آ رہے تھے تو کوئی اسے غلامی کی زنجیریں توڑنے سے تعبیر کر رہا تھا اور کوئی انہیں “ذہین مخلوق” کہہ کر اللہ اکبر کے نعرے بلند کر رہا تھا۔ میں اُس وقت بھی کہہ رہا تھا کہ امریکہ نکلا نہیں، صرف اقتدار کسی اور کے حوالے کیا ہے، مگر اس کے جواب میں آپ نے اپنے پالتو ہمارے اوپر چھوڑ دیے۔
آج وہی “ذہین لوگ” جو کچھ کر رہے ہیں، کیا کسی کے پاس اس کا جواب ہے کہ اس سب کا ذمہ دار کون ہے؟
دونوں اطراف کے عوام امن چاہتے ہیں۔ جنگ کو غیر ضروری طور پر نہ بھڑکایا جائے۔ امن ہی پاکستان کی سلامتی اور خوشحالی کا ضامن ہے۔ ہم بہت لاشیں دیکھ چکے ہیں؛ خدارا اس عالمی جنگ کو ہماری سرزمین پر مزید نہ پھیلنے دیں۔
شاہ محمود قینچی کا نام ایپسٹین لیک میں آنا حیرت کی بات ہے اس نے ہم سب سیدوں کے سر جھکا دیئے ہیں لیکن اس رپورٹ میں ایک بات سوچنے کی ��ے ایپسٹین نے عمران خان کی دو شادیوں کا ذکر کیا جس میں کہا خان نے میری دو فرینڈز سے شادیاں کی ایک تو جمائمہ لیکن دوسری کون سی ریحام خان یا پنکی+++
بلوچستان کے موجودہ اور پُر اثر حالات میں پشتون اور بلوچ اقوام کو چاہیےکہ وہ روایتی فضولیات،خرافات اور منفی بحث و مباحثوں میں اپنا وقت ضائع نہ کریں اور نہ اس پر توجہ دیں
بلکہ پشتون اور بلوچ اپنی روشن مستقبل اور خطے میں رونما ہونے والی تبدیلیوں پر اپنی توجہ مرکوز رکھیں
جلسۂ عام | شہدائے عوامی نیشنل پارٹی کو خراجِ عقیدت
سابق سینئر صوبائی وزیر، شہیدِ امن بشیر احمد بلور کی 13ویں برسی کے سلسلے میں عوامی نیشنل پارٹی کے زير اہتمام عظیم الشان جلسۂ عام 28 دسمبر 2025، بروز اتوار، دوپہر 2 بجے، نمک منڈی چوک پشاور میں منعقد ہوگا۔ جلسۂ عام سے عوامی نیشنل پارٹی کے مرکزی صدر سینیٹر ایمل ولی خان خصوصی خطاب کرینگے۔
#ANP | #RememberingBashirAhmadBilour
فیض حمید کو دی جانے والی سزا ناکافی ہے، کیونکہ چالیس ہزار دہشت گردوں اور 102 خطرناک دہشت گرد قیدیوں کی رہائی کا حساب ابھی باقی ہے۔ میرے اکلوتے بیٹے کے قاتل احسان اللہ احسان آج بھی آزاد گھوم رہا ہے۔ میرے ایک بیٹے کو شہید کر دیا گیا، اور میرا قصور صرف یہ تھا کہ میں دہشت گردی کے خلاف کھڑا تھا اور اپنی پشتون قوم کے ساتھ ہر محاذ پر موجود تھا۔
میاں افتخار حسین
صوبائی صدر عوامی نیشنل پارٹی
#ANP | #ANPPakhtunkhwa | #MianIftikharHussain
@Sherazi_Silmian Uploaded journalist
Aimal wali ne jo tumra class lea wo bul chuke ho
Asim muneer ke tafer bol gye ho ur tum wait karo jaldi tumra software update hojy GA yad rako
@Alikhanyzai What the joke 🤣
صوفی جعمہ خان کے کتاب کے جواب فیصل فاران نے فریب تمام میں کردیا ہیں تم میرا خیال سے زیادہ چھاٹ رہے ھو بوٹ کو ایمل ولی خان نے حقیقت بیان کیا ہے تم کو کیوں خارش ھورہا ہیں
وفاق کی مجبور اور بزدل حکومت! تمہاری یہ بزدلی سب کو معلوم ہے کہ ایک آئینی بیان کی پاداش میں تم نے اپنے آقاؤں کو خوش کرنے کی خاطر ایمل ولی خان سے سیکورٹی واپس لی۔ مگر ایمل ولی خان کے پیچھے یہ جان نثار سُورخ پوش موجود ہیں۔ تمہاری سیکورٹی پر توووو۔
#AimalWaliOurPride
The federal government/ Interior Ministry has taken back all the security personnel allotted to me and my father and family.
Two things
1. If anything happens to me or my family the responsibility will be yours
2. I��ll keep on speaking for the public and am ready for anything coming my way.
Yes i will be moving more securely with private personal and the Salaar’s.
See you on Monday.