اگر مولانا فضل الرحمن سمیت چند سیاستدان یہ سمجھتے ہیں کہ اب کی مرتبہ وہ عالمی یہودی ایجنڈے کے تسلسل میں پاک فوج اور اس کے شہداء کی تضحیک کر کے، فوجی قیادت کو بلیک میل کر لیں گے اور فوجی قیادت بلیک ہو جائیگی تو پھر یاد رکھیں کہ اس مرتبہ یہ سب بہت بڑی بھول میں ہیں۔
ایٹمی پاکستان کے دشمنوں کا پالا ایک ایسی فوجی قیادت سے پڑا ہے جس کی جب سمجھ آتی ہے، تب مخالف ہمیشہ کیلئے جیل پہنچ چکا ہوتا ہے۔
Plz Save This Tweet.
مسئلہ مولانا کا یہ ھے کہ یہ ھمیشہ حکومتی ایوانوں میں رہنے کے عادی ھیں،اس بار ان کو کچھ مل نہیں رھا ،اب فرسٹریشن میں جو بکواس فوجی جوانوں کے بارے میں کر بیٹھے ھیں وہ عرصے تک ان کا پیچھا کرے گی،باقی مولانا یہ تو بھول جائیں کہ یہ اب کبھی حکومت میں آئینگے،اپنے حلقے سے یہ ایک نوسرباز علی امین گنڈہ پور سے ہار جاتے ھیں یہ ان کی ٹوٹل مقبولیت ھے باقی ان کو صرف بلیک میل کرکے کام نکلوانا آتا ھے اور کچھ نہیں ،مسئلہ سارا یہی ھے کہ اب کوئی بلیک میل ھونہیں رھا۔
مولانا صاحب !
تنخواہ سرکاری ملازمت کی ہوتی ہے، خون کی کوئی قیمت نہیں ہوتی۔
کبھی اُس ماں سے پوچھیں جس نے اپنا جوان بیٹا کھو دیا۔
کبھی اُس باپ سے پوچھیں جس کے بڑھاپے کا سہارا چھن گیا۔
کبھی اُس بہن سے پوچھیں جس کا بھائی واپس نہ آیا، اور کبھی اُس بچے سے پوچھیں جس کے سر سے باپ کا سایہ اُٹھ گیا۔
پھر اُن سے کہیں کہ یہ قربانی تو صرف ایک ایسی نوکری تھی جس کی تنخواہ ملتی تھی!
فوجی کو مُلک کے دفاع کی ذمہ داری ضرور دی جاتی ہے، مگر اُسے اپنی جان قربان کرنے کا ٹھیکہ نہیں دیا جاتا۔
جب وہ وردی پہنتا ہے تو صرف ایک سرکاری ملازم نہیں رہتا۔ وہ کسی ماں کی آنکھوں کا نور، کسی باپ کا فخر، کسی بہن کا محافظ، کسی بیوی کی اُمید اور کسی بچے کا سہارا بھی ہوتا ہے۔
عوام کے ٹیکس سے اُس کی تنخواہ تو ادا کی جا سکتی ہے لیکن کسی ماں کے جگر گوشے، کسی باپ کے سہارے، کسی بیوی کے خواب اور کسی بچے کے مستقبل کی قیمت کبھی ادا نہیں کی جا سکتی۔
جو جوان سرحد، چوکی یا میدانِ جنگ میں اپنی جان دے دیتا ہے، وہ کسی پر احسان نہیں جتاتا۔
وہ خاموشی سے اپنی آخری سانس وطن کے نام کر دیتا ہے۔
مگر کیا ہمیں یہ حق حاصل ہے کہ اُس کی قربانی کو محض ”تنخواہ کا کام“ کہہ کر اُس کے خون کی حرمت پامال کر دیں؟
اُس کے پیچھے رہ جانے والی آنکھوں کے آنسو، بچوں کی خاموشی اور گھر کی ویرانی کیا واقعی صرف ایک سرکاری نوکری کی قیمت ہے؟
اختلاف ضرور کریں۔
پالیسیز اور اداروں کے فیصلوں پر سوال اُٹھائیں، مگر اُس جوان کی قربانی کی توہین نہ کریں جس نے اپنی آخری سانس تک اِس مٹی کا دفاع کیا۔
اور جو شخص منبر سے خون کی حرمت کا درس دیتا ہے، اُسے سب سے پہلے شہید کے خون کی حرمت محسوس کرنی چاہیے، کیونکہ یہ خون صرف زمین پر نہیں گِرتا بلکہ پوری قوم کے ضمیر پر نقش چھوڑ جاتا ہے۔
مولانا فضل الرحمن فرماتے ہیں کہ فوجی شہید ہونے کی تنخواہ لیتے ہیں۔
مولانا صاحب تو کیا سیاست دان تنخواہ اور مراعات صرف انتشار اور لوٹ کھسوٹ کے لئے لیتے ہیں؟
سعودیہ نے اسی ہفتے آئل فی بیرل 11 ڈالر قیمت کم کی، کل بھی عالمی مارکیٹ میں تیل سستا ہوا ھے۔
لیکن ہماری حکومت نے جنگ کا بہانہ بنا کر تقریبا 14روپے لیٹر پیٹرول بڑھا دیا۔ حالانکہ پاکستان میں پہلے ہی تیل کا فائدہ غریب عوام کے بجائے آئل مافیا کو پہنچ رہاھے۔
اب اسکو ہم کیسے ڈیفینڈ کرے؟
بجلی کے بلوں پر تباہی پھیر کر اویس لغاری تو کل کو کسی دوسری پارٹی میں نکل جائے گا جیسے اس کے والد محترم نے کیا تھا مگر سیاسی قیمت نون لیگ کو ادا کرنی ہو گی
کیا اس پر سوچا گیا ہے ؟
ابھی لوگ خیبر پختونخواہ اسمبلی کی جانب سے موجودہ اور سابقہ اراکین اسمبلی اور ان کے اھل خانہ کیلئے آفیشل بلیو پاسپورٹ سمیت مختلف مراعات کی منظوری کے صدمے سے باھر نہیں نکلے تھے کہ سینٹ کی ایک قائمہ کمیٹی نے سابق پارلیمینٹیرینز اور انکے اھل خانہ کیلئے بلیو پاسپورٹ کی سفارش کر دی ھے
ایسے ھی اقدامات منتخب ایوانوں کو بے وقعت کرتے اور مسائل کی زنجیروں میں جکڑے عوام کی نظر میں سیاستدانوں کو قابل تحقیر بناتے ھیں ۔۔
جب تک سیاستدانوں ، بیوروکریٹس ، اعلٰی عدلیہ اور سینئیر فوجی افسران کو حاصل غیر معمولی مراعات کو مناسب سطح تک نہیں لایا جاتا ، ناانصافی سماجی ناھمواری اور عوامی اضطراب کی دیمک معاشرے کو گُھن کی طرح چاٹتی رھے گی ۔۔
تین دن پہلے بلوچستان میں 42 شہید ہوئے، کسی نے سینیٹ کا اجلاس دیکھا؟ کسی نے قومی اسمبلی کا ہنگامی اجلاس بلایا؟ کسی کے منہ سے پریس کانفرنس میں جھاگ نکلتی دیکھی گئی؟ اسی بات کی شرم کر لو کہ ملک میں سکیورٹی کا حشر کیا ہوا پڑا ہے۔ کسی صورت اللے تللے ختم نہیں ہوتے ان کے۔
میرا وزیراعظم سے یہ سوال ھے کہ ہر ناکامی کے اثرات عوام پر کیوں ڈالے جا رھے ہیں؟
اگر حکومتی معاملات چلانے میں کچھ مسائل ہیں بھی تو آپ عام عوام کو پر اتنا بوجھ کیسے ڈال سکتے ہیں؟
اگر آپکے نزدیک ہر مسائل کا حل پٹرول کا ریٹ بڑھا دینا یا عوام پر دیگر ٹیکس لگا دینا ھے تو پھر معذرت کیساتھ آپ لوگ بھی فقط حکومت انجوائے کر رھے ہیں۔ آپ مسلسل حکومت کی ہر ناکامی کا بوجھ عام عوام پر ڈال رھے ہیں بجائے ان لوگوں کو پکڑنے کہ جو دونوں ہاتھوں سے مال بنا رھے ہیں، فوائد حاصل کر رھے ہیں، جو مختلف بحرانوں میں بھی کروڑوں کما رھے ہیں، یہ ایسے لوگ ہیں جنہیں ہم اشرافیہ کہتے ہیں۔ کبھی کبھی تو ایسے لگتا ھے جیسے 25 کروڑ عوام فقط چند سو خاندانوں کی خدمت کرنے کے لئے ہیں۔ خدارا مذید ظلم کرنا بند کریں۔ نوازشریف کی بنائی جماعت کو یوں تباہ و برباد مت کریں...!!
حکومت ایک ایسی آئینی تبدیلی بھی کرسکتی ہے کہ تیل کی قیمت میں کمی کے مطالبے کرنے والے سوشل میڈیائی صارفین کو پانچ سال کے لئے جیل میں ڈالا جا سکے۔
ہور چوپو
جن بیانیہ سازوں کو ایکسٹرا پیمنٹ کر کے مہنگے پیٹرول کے حق میں پوسٹ کروائی عوام نے ان کو بھی چھترو چھتر کر دیا ہے وہ بھی اب مزید لکھنے کے لئے تیار نہی ہیں
🚨🚨اہم ترین
حکومت نے بجلی بلوں پر صارفین پر بڑا بم گرا دیا ہے اور دو سو یونٹ والی پروٹیکٹڈ کیٹگری ختم کر دیا ہے اب سبسڈی کے لئے کیو آر کوڈ پر ڈیٹا دینا ہو گا اور آپ اسی صورت حق دار اگر آپ نے چھ مہینے میں کبھی بھی دو سو سے اوپر یونٹ استعمال نا لئے ہوں ایک پتہ پر ایک میٹر ہو وغیرہ وغیرہ
اب سب کے بل تقریباً پانچ چھ ہزار مہنگے ہو جائیں گے آپ کے بل پر جو اضافی رقم سبسڈی کی لکھی تھی اگست کے بعد وہ بل میں ایڈ ہو جائے گی
مزہ آ رہا تجربہ کار نون لیگ کی ٹیم کا ؟
جب پیٹرول کی قیمت گرتی ہے تو شہباز سپیڈ تک اطلاع پہچنے میں دیر لگتی ہے۔ لیکن جیسے ہی پیٹرول کی قیمت میں زرا بھی اضافہ ہوتا ہے شہباز اسپیڈ کو پیٹ پر پتھر باندھ لینا پڑتا ہے
پی پی سے ہمیں سیاسی اختلاف ہے مگر یقین کیجئے اس کا وزیراعظم ہوتا تو اس طرح آنکھ بند کر کے ہر حکم تسلیم نا کرتا وہ کچھ نا کچھ عوام پر ترس کر لیتے ہیں شہباز شریف جتنا ظلم کر رہے نواز شریف کے ساری سیاسی جمع پونجی بہا کر رکھ دیں گے اپنے ساتھ میاں صاحب کو بھی گالیاں پڑوا رہے ہیں جبکہ نواز شریف نے اس طرح عوام پر ظلم نہی کیا ہے
جب پیٹرول چند پیسے سستا کرتے تو سرکاری خزانے سے ایسے اشتہار چھپاتے راتب خور بھنگڑے ڈالتے شہباز شریف کا شکریہ ادا کرے
آج ایسے اشتہار کیوں نہی بنا رہے ہیں ؟