آج بلوچ قوم نے صرف ایک فرد نہیں کھویا، بلکہ اپنی تاریخ کا ایک زندہ، متحرک اور مزاحمتی باب کھو دیا ہے۔ ماما قدیر بلوچ محض اپنے بیٹے کی تلاش میں نکلنے والے ایک باپ نہیں تھے؛ وہ بلوچستان کے ہر اُس غم زدہ ماں باپ اور ہر اُس خاندان کی اجتماعی آواز تھے جو جبری گمشدگیوں سے لے کر ہر طرح کے ریاستی جبر کا شکار رہے۔
پیرانہ عمری اور کمزور جسم کے باوجود، ہمت اور عزم کے ساتھ انہوں نے سولہ برس تک کوئٹہ اور کراچی کے پریس کلبوں کے سامنے بھوک ہڑتالی کیمپ لگا کر بیٹھے رہے اور مسلسل دنیا کو یہ باور کراتے رہے کہ بلوچ کے ساتھ کس قسم کی ناانصافیاں ہورہی ہیں۔ انہوں نے ہزاروں میل کا پیدل سفر اس لیے کیا تاکہ دنیا مزید لاعلمی اور خاموشی کا سہارا نہ لے سکے۔ان کی جدوجہد ایک اجتماعی آواز تھی۔ انہوں نے ہزاروں بلوچ خاندانوں کے کرب، دکھ اور تکلیف کو اپنی ذات میں سمو کر اسے انصاف اور وقار کے ایک واضح اور مسلسل مطالبے میں ڈھال دیا، ایسا مطالبہ جو انصاف، انسانی وقار، اور بنیادی حقوق کی بحالی سے کم کسی چیز پر راضی نہیں تھا۔
ماما قدیر بلوچ کا انتقال ایک ناقابلِ تلافی نقصان ہے، مگر ان کی جدوجہد یہاں ختم نہیں ہوتی۔ وہ ہر اُس ماں میں زندہ ہیں جو اپنے لاپتہ بیٹے کی راہ دیکھ رہی ہے، ہر اُس بہن میں جو سڑکوں پر احتجاج کر رہی ہے، اور ہر اُس نوجوان میں جو ناانصافی کو مقدر ماننے سے انکار کرتا ہے۔ بلوچ قوم کے لیے ماما قدیر بلوچ ہمیشہ ایک استعارہ اور مزاحمت کی علامت رہیں گے، اور ایک یاد دہانی کہ تاریک ترین حالات میں بھی ایک پیر مرد نے کھٹن حالات اور رکاوٹوں کے باوجود صبر، ہمت اور مستقل مزاجی، کے ساتھ مزاحمت اور جدوجہد کو زندہ رکھا۔
Ghani Aman, A Progressive Student Politics and Human Rights Activist from Sindh has been abducted. Peaceful Student Activist are not criminals... They are the voice of people. We demand the safe recovery of Ghani Aman.
#ReleaseGhaniAman
How can a person who speaks for the humanism, peace and common people’s rights be treated like a criminal? Don’t let Sindhis’ political minds be misled. Free Ghani Aman.. stop silencing voices that defend justice, progress and dignity in this polarised society.
#ReleaseGhaniAman
یہ ایک ایسا نظام ہے جہاں انصاف اور امید محض سراب ہیں۔ ایک ایسا سراب جس کے پیچھے دوڑتے رہنے کے باوجود مایوسی اور کرب ہی نصیب ہوتے ہیں۔ جہاں بار بار اسی انصاف کے دروازے کو کھٹکھٹانا پڑتا ہے جس کے پیچھے صدیوں کی نامیدی و ناانصافیوں کی کہانی ہے، ایک ایسی خاموشی جو مظلوموں کے نالوں اور سسکیوں کو بھی نگل جاتی ہے۔
اس جہدوجہد میں ہر بار بکھر جانا، پھر ٹوٹے ہوئے وجود کو سنبھالنا، زخموں کو سہلانا، خود کو سمیٹ کر دوبارہ کھڑا کرنا، اور پھر ایک نئی امید کے ساتھ جینا… لیکن آخرکار یہ کڑوی حقیقت قبول کرنا پڑتی ہے کہ کوئی آپ کی صدا نہیں سنے گا۔ یہ اذیت شاید دنیا کا سب سے بڑا کرب ہے، وہ کرب جو جسم کو نہیں، روح کو چھلنی کرتا ہے۔
مایوسی کو تصویروں میں قید کرنا، مایوسی کے کرب کو فائلوں اور الماریوں میں دفن کر دینا، اور خود کو بار بار یہ جھوٹی تسلی دینا کہ انصاف اس سرزمین پر مظلوموں کے لئے نہیں۔ پھر ہر بار خالی ہاتھ لوٹنے کی اذیت کو اپنے دل میں جگہ دینا، یہ دکھ اپنی نوعیت میں اتنا شدید ہے کہ اسے بیان کرنے کے لئے الفاظ ہمیشہ کم پڑ جاتے ہیں۔
مگر اس سب کے باوجود، وہ زخم جو پیاروں کی گمشدگی نے ہمارے دلوں پر لگائے ہیں، وہ دکھ اتنا وسیع اور اتنا گہرا ہے کہ اس کے سامنے باقی تمام دکھ چھوٹے، معمولی اور بے معنی محسوس ہوتے ہیں۔ یہ ایسا غم ہے جو ہمارے وجود کے ہر گوشے کو اپنی لپیٹ میں لے لیتا ہے، جو ہمارے خوابوں کو اجاڑ دیتا ہے، ہماری ہنسی چھین لیتا ہے، اور ہمیں ایک نہ ختم ہونے والے جدوجہد اور اذیت میں دھکیل دیتا ہے۔
یہی غم ہمیں مایوسی کے اندھیروں میں ڈوبنے نہیں دیتا۔ یہی دکھ ہمیں سونے نہیں دیتا، ہمیں بھلا دینے نہیں دیتا۔ یہی کرب ہماری مزاحمت کی بنیاد بنتا ہے۔ یہ دکھ ہمیں ہر دن یاد دلاتا ہے کہ جب تک ہمارے پیارے واپس نہیں آتے، جب تک جبری گمشدگیوں کا سلسلہ ختم نہیں ہوتا، جب تک ظلم کی دیواریں نہیں گرتیں۔ ہماری جدوجہد سڑکوں پر جاری رہے گی۔
یہ مزاحمت صرف ایک احتجاج نہیں، یہ ہمارے زخموں کی زبان ہے۔ یہ ان ماؤں کی چیخ ہے جن کے بچے چھین لئے گئے، یہ ان بہنوں کی سسکی ہے جو برسوں انتظار میں ہیں، یہ ان بچوں کی معصوم آنکھوں کی پکار ہے جو اپنے والد کے لمس کو ترس گئے۔ اور جب تک یہ زخم زندہ ہیں، یہ مزاحمت بھی زندہ رہے گی۔
مھکم باتے ✌️
ہم گزشتہ دس دنوں سے اسلام آباد میں دھرنا دیے بیٹھے ہیں بجائے ہمیں سننے کے ہمارے پیچھے بد تہذیب لوگوں کو بھیجا جاتا ہے ہمیں ہراس کیا جاتا ہے اور ہمارے تجربات بتاتے ہیں کہ ریاستی ادارے کس حد تک بلوچستان کے معمالات میں سنجیدہ ہیں
#ReleaseBYCLeaders
مہروان آ ایڑ
نی بیرہ کنا ایڑ افیس ادی جان نی ہمو ہستی نی ہمو طاغت اُس ہرا تینا زند ئنا آسراتی تے کھل ءِ اسہ پارہ غا تخیسہ ،لمہ و ایڑ تا ٹیک جوڑ مسوس ، نی اسٹ ئس اسس ولے نی تینا لمہ ایڑ ایلم سنگت راج کُھل ئنا زمہ واری تے ارفیسوس ، ای نا پند و خواری تا گواہ اُٹ ای نا ہمو شام ئنا بے توغی تا گواہ اُٹ ای نا تینا راج ئکن اسہ شار آن ایلو شار ئٹی سفر تا گواہ اُٹ، نی ہمو ہستی اُس کہ نا باسونی ءِ نا سیلٹ ءِ ہوریسہ ہر وخت لمہ ایڑ تیتون ہم کوپہ مسونس۔نی ننے پاریسہ کہ ای نمے و تینے یتیم مننگ آن رکھنگ کتوٹ ولے ای بلوچ نا ایلو چُناتے یتیم مننگ کن ہلپروٹ و نی تینا اندا ہیت آ سلوک اینو اسکان بندی اُس ولے تینا راج ئنا لمہ غاتیتون اینو ہم سلوک اُس ، او ادی جان نے سما ءِ اندن کہ نی تینا راج ئنا بیگواہ غا ایلم تا خاہوت آتیتون سلوک اسوسہ اینو اندا خاہوت ایڑ و ایلم لمہ غاک نا خاہوت تون سلوک ءُ۔
سلامت مریس
#ReleaseBYCLeaders
#ReleaseMahrangBaloch
What’s happening isn’t random—it's scripted. Whether it’s Bilawal, Shehbaz, Imran, or Maulana, the real control lies elsewhere. But still, a handful of peaceful Baloch resist—armed with nothing but the Constitution.
#BalochLivesMatter#IslamabadProtest#WeStandWithBaloch
We have published the semi-annual 2025 report on human rights violations in Balochistan. While this report reflects only a partial picture—due to widespread fear, intimidation of victims, and the restricted access faced by human rights groups and media—the documented cases are deeply concerning and continue to rise.
We call on journalists, media outlets, writers, and human rights advocates to review, amplify, and share this report. Your voice is vital in breaking the silence. We urge you to help bring this crisis to the attention of the international community, including the United Nations and other global human rights bodies.
#StopBalochGenocide
جب سے ڈاکٹر ماہ رنگ بلوچ، بیبو بلوچ اور گلزادی بلوچ کو گزشتہ روز کوئٹہ کے سیول لائنز تھانے منتقل کیا گیا ہے، تب سے انہیں اپنے اہلِ خانہ سے ملاقات کی اجازت نہیں دی گئی۔ تھانے کو مکمل طور پر سیل کر دیا گیا ہے، جس کے باعث زیرِ حراست خواتین رہنماؤں کی خیریت اور حفاظت کے حوالے سے شدید خدشات پیدا ہو گئے ہیں۔
آج پورا دن ڈاکٹر ماہ رنگ، بیبو اور گلزادی کے اہلِ خانہ تھانے کے باہر ملاقات کے انتظار میں کھڑے رہے، لیکن کسی کو اندر جانے کی اجازت نہیں دی گئی۔ بیبو بلوچ کی والدہ، جو ضعیف ہیں اور وہیل چیئر پر موجود تھیں، سارا دن تھانے کے باہر رہنے کے باعث بے ہوش ہو گئیں اور ان کی طبیعت ناساز ہو گئی۔اسکے علاوہ بیبگر بلوچ، شاہ جی صبغت اللہ اور غفار بلوچ کی موجودہ لوکیشن تاحال معلوم نہیں ہو سکی۔ خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے کہ انہیں کینٹ میں یا کسی نامعلوم مقام پر منتقل کر دیا گیا ہے۔
ہمیں شدید تشویش ہے کہ زیرِ حراست کارکنوں کو دورانِ حراست تشدد یا غیر انسانی سلوک کا نشانہ بنایا جا سکتا ہے۔
#ReleaseBYCLeaders
جب سے ڈاکٹر ماہ رنگ بلوچ، بیبو بلوچ اور گلزادی بلوچ کو گزشتہ روز کوئٹہ کے سیول لائنز تھانے منتقل کیا گیا ہے، تب سے انہیں اپنے اہلِ خانہ سے ملاقات کی اجازت نہیں دی گئی۔ تھانے کو مکمل طور پر سیل کر دیا گیا ہے، جس کے باعث زیرِ حراست خواتین رہنماؤں کی خیریت اور حفاظت کے حوالے سے شدید خدشات پیدا ہو گئے ہیں۔
آج پورا دن ڈاکٹر ماہ رنگ، بیبو اور گلزادی کے اہلِ خانہ تھانے کے باہر ملاقات کے انتظار میں کھڑے رہے، لیکن کسی کو اندر جانے کی اجازت نہیں دی گئی۔ بیبو بلوچ کی والدہ، جو ضعیف ہیں اور وہیل چیئر پر موجود تھیں، سارا دن تھانے کے باہر رہنے کے باعث بے ہوش ہو گئیں اور ان کی طبیعت ناساز ہو گئی۔اسکے علاوہ بیبگر بلوچ، شاہ جی صبغت اللہ اور غفار بلوچ کی موجودہ لوکیشن تاحال معلوم نہیں ہو سکی۔ خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے کہ انہیں کینٹ میں یا کسی نامعلوم مقام پر منتقل کر دیا گیا ہے۔
ہمیں شدید تشویش ہے کہ زیرِ حراست کارکنوں کو دورانِ حراست تشدد یا غیر انسانی سلوک کا نشانہ بنایا جا سکتا ہے۔
#ReleaseBYCLeaders
Awami Workers Party is deeply grieved to learn about the passing of Tasneem Minto, wife of Abid Hassan Minto, founding President of AWP at the age of 90 in Lahore. Tasneem was an established short story writer, & authored Zara Si Baat (Small Matters), ‘myth’ & other short stories
Heartbreaking words from this little Baloch girl:
"They took everything from us. We don't want anything from them; we only want our loved ones back."
#BalochFightForHumanRights#Balochistan
سنڌ انڊيجينئس رائيٽس الائينس ڪراچي چيپٽر جو جنرل سيڪٽري 27 جون 2025 گڏاپ جلسي جي حوالي سان سنڌ جي عوام لاء پيغام
سنڌ انڊيجينئس رائيٽس الائينس
#sindhrejectscorporatefarming#Sindh