بسم اللہ الرحمٰن الرحیم
رَّبِّ ارۡحَمۡہُمَا کَمَا رَبَّیٰنِیۡ صَغِیۡرًا
(ﷲ کے حضور) عرض کرتے رہو:
"اے میرے رب! (میرے) ان دونوں (والدین ) پر رحم فرما جیسا کہ انہوں نے بچپن میں مجھے (رحمت و شفقت سے) پالا تھا۔"
چکوال میں 9 سالہ ہانیہ احمد کی ہلاکت صرف ایک خاندان کا المیہ نہیں، بلکہ پنجاب میں بگڑتے ہوئے امن و امان اور نظام کی ناکامی کی ایک اور مثال ہے۔ جب ملک پر نکمے اور نااہل حکمران مسلط ہوں جن کا فوکس اپنی سیاست اپنی زات اور اپنی بقا ہو تو عوام کی حفاظت پر معمور ادارے ذاتی خدمتگار بن کر رہ جاتے ہیں۔
ہانیہ احمد کو ڈاکوؤں نے نہیں بلکہ سی سی ڈی اہلکار کی فائرنگ نے نگل لی��۔ ایک ایسا ادارہ جسے عوام کے تحفظ کے لیے بنایا گیا، اسی کے اہلکار کی گولی نے ایک معصوم بچی کی جان لے لی۔
المیہ صرف یہ نہیں کہ ایک بچی مار دی گئی، بلکہ اس کے بعد متا��رہ خاندان کو انصاف دینے کے بجائے دباؤ، بدسلوکی اور دھمکیوں کا سامنا کرنا پڑا۔ ہانیہ کے والد کے مطابق، پولیس اہلکاروں نے واقعے کا رخ بدلنے کی کوشش کی اور ان سے زبردستی کاغذات پر دستخط کروانے کی کوشش کی گئی۔
یہ اس نظام کی ناکامی ہے جہاں طاقت رکھنے والے خود کو قانون سے بالاتر سمجھنے لگیں۔ پنجاب پولیس عوام کے تحفظ کے بجائے عوام پر دباؤ ڈالنے کا ذریعہ بن چکی ہے اور لاقانونیت عروج پر ہے۔
ذمہ داروں کا احتساب، شفاف تحقیقات اور متاثرہ خاندان کو انصاف دینا سراسر ریاست کی ذمہ داری ہے۔
کیسا دیس ہے ہمارا عالمی سطح پر تیل گیس سستا بھی ہو جائے تو عوام کو سستا دینے سے صاف انکار کر دیتے آئی ایم ایف سے اجازت کا بہانہ کرتے اور الیٹ کلاس ممبران اسمبلی کے لیے خفیہ طور پر تاحیات بلیو پاسپورٹ مفت بجلی اور ٹیکس نا دینے کئ قانون سازی کرتے ہیں
اور رتی ماشہ شرمندہ نہی ہوتے ہیں
سستا پیٹرول خرید کر مہنگا ترین بیچ رہے ہیں سستی گیس مہنگی بیچ رہے بجلی کے بل میں فکسڈ ٹیکس ہے ایک یونٹ اوپر جانے پر چھ مہینے کی سزا ہے یہ سب عوام کی ��یب سے لے کر اراکین اسمبلی کو تاحیات مفت بجلی کے بل پاس کر رہے ہیں
لعنتیں کردار
پاکستان کا ہر مح��مہ خسارے میں ہے پاکستان خود مجموعی طور پر آٹھ دس ہزار ارب خسارے میں چل رہا اور اس ملک پر سو ارب ڈالر سے زیادہ قرضہ ہے ملک یہاں تک ہمارے حکمرانوں ججوں افسر شاہی کی وجہ سے پہچا ہے ملک کو خسارے میں ڈالنے والوں کو البتہ مراعات پر مراعات مل رہی مفت پلاٹ بجلی فون مل رہے بیرون ملک جانے کے لیے بزنس کلاس ٹکٹ مل رہے ہیں
اور عوام ان کی نالائقی کی قیمت مہنگے ترین بجلی گیس کے بل اور پیٹرول خرید کر بھر رہی اور پاکستان میں غربت بڑھ رہی ہے
ایک سوال یہ بھی کہ وزیر تعلیم بتاتے کہ دو سو ارب اور چار سو ارب ہم نے تعلیمی بجٹ میں بڑھا دیے ہیں سوال یہ کہ یہ پیسہ جاتا کہاں ہے ؟
سرکاری سکول تو آپ کہہ رہے چل نہی رہے استاد بقول آپ کے پڑھاتے نہی اور سکول آپ نے بیچ دیے ہیں ایک کروڑ بچہ سکول سے باہر ہے کہاں جاتے یہ نو سو ارب روپے ؟
پنجاب کے بچوں کو اس سے کیا فائدہ ہوا ہے ؟
تعلیمی معیار کتنا بڑھا ہے ؟
کسی بھی طور پر اپنے حق سے پیچھے نہیں ہٹیں گے۔
45 پرسنٹ ڈسپیریٹی ۔
لیو انکیشمنٹ ۔ پنشن کٹوتی
تنخواہوں میں مہنگائی کے حساب سے اضافہ۔ اگر وزرا کی تنخواہیں 600 پرسنٹ بڑھ سکتی ہیں تو ہماری کیوں نہیں
پنجاب میں ایک وزیراعلیٰ ایسا بھی آیا
چوہدری پرویز الٰہی نے تمام اساتذہ جماعتوں کو الحمراء ہال لاہور میں بلایا
مطالبات سنے
ٹیچرز پیکج دیا
اور اتنی بڑی تعداد میں اساتذہ کو چائے بھی پلائی
یہ چھوٹی بات نہیں —
استاد کو عزت دینا ہر کسی کے بس کی بات نہیں
آج کے حکمران؟
اساتذہ و ملازمین پنجاب کے حقوق کے حصول اور سرکاری سکولوں کی نجکاری کی روک تھام کیلئے آواز بلند کرنے پر
میڈم شمائلہ عزیز جڑا نوالا فیصل اباد کی معطلی کی بھرپور مزمت کرتے ہیں اور چیف ایگزیکٹو آفیسر ایجوکیشن فیصل آباد سے مطالبہ کرتے ہیں کہ فوری میڈم شمائلہ عزیز کو بحال کیا جائے۔۔۔۔
سستا تیل خرید کر مہنگا بیچنے پر جو بھی حکومتی اقدامات کی تعریف کر رہا دفاع کر رہا وہ یا تو راتب خور ہے یا اقتدار سے کوئی فائدہ لے رہا ہے
رذق حلال کھانے والا کوئی شخص اس کا دفاع نہی کرے گا
پنجاب کے وزیر تعلیم ارشاد فرما رہے ہیں کہ چونکہ ایک ٹیوشن سینٹر میں بچوں کی ہلاکت کا حادثہ ہوا ھے اس لئے صوبے میں تمام ٹیوشن اور کوچنگ سینٹرز بند کر رہے ہیں -
منسٹر صاحب سے میری گزارش ھیکہ چونکہ روڈ پہ روزانہ ایکسیڈنٹ ہوتے ہیں اس لئے سارے روڈ یا ساری گاڑیاں بند کر دیں:-
ٹیچر کے لئے پندرہ ہزار اور افسر شاہی کے لئے کروڑوں کی مفت کاریں
عوام کا پیسہ افسر شاہی کیسے لوٹ رہی اس کی ایک مثال پنجاب میں یہ دی پنجاب پروونشل کوآپریٹو بینک لمیٹڈ ہے اس بینک کے 95فیصد شئیر پنجاب حکومت کے پاس اور اسے ایکیوٹئ سپورٹ ملتی جیسے ابھی پنجاب حکومت نے چھ ارب روپے دیے یہ منافع نہی کماتا ہے اب اس نے پہلے مرسڈیز اور مہنگی گاڑیاں خریدیں پھر پاکیسی بنائی کے صرف ایک فیصد قیمت دے کر اعلی عہدیدار گاڑیاں گھر لے جا سکتے وہ انکی ذاتی ملکیت ہوں گی مطلب دو کروڑ کی گاڑی صرف دو لاکھ کی ملے گی یہ مریم صاحبہ کے پنجاب کی صورتحال ہے آٹھ ہزار ارب سود ہم مفت میں نہی دیتے ہیں وہ لوٹ مار کا تاوان ہے
بابے صدیق کی ضمانت ہوگئی
شیخوپورہ، شرق پور شریف کا رہائشی بابا صدیق ایک بازو سے معذور ہے اور ریڑھی لگا کر اپنا گزر بسر کرتا ہے، چند روز قبل اسکی ریڑھی پر لگا پھل اور کنڈا انتظامیہ نے ضبط کرلیا۔ بابا جی کسی صحافی کو ویڈیو بیان دے بیٹھے جس کے بعد بابا جی کو سامان واپسی کے نام پر تھانے بلا کر مقدمہ درج کرلیا گیا۔ معذور بابا جی کو ہتھکڑی لگی، تھانہ کچہری میں ذلالت ہوئی اور اب انکو مقدمہ سے ڈسچارج کردیا گیا ہے۔ امید ہے بزرگ اب کبھی اپنے ساتھ ہونے والی زیادتی پر بولیں گے نہیں
ٹویشن سینٹر کی چھت گری بچے حادثہ کا شکار ہوئے گھر کے مالک اور اس خاتون کو گرفتار کر لیا گیا ہے یہ سیالکوٹ میں چند دن پہلے سرکاری سکول جو ٹھیکے پر دیا اس کا گیٹ بچی پر گر گیا اس کی ٹانگ ٹوٹ گی اس ٹھیکدار کو گرفتار نہی کیا گیا الٹا والدین سے زبردستی بیان لکھوا لیا کہ سکول ذمہ دار نہی ہے کیونکہ سکول جن کو ٹھیکے پر دیے اس کے ترجمان وزیر تعلیم خود ہیں
“لیا ہے بھائی “
لگثری جہاز اس غریب ملک میں خریدا جو قرضوں میں ڈوبا ہے آٹھ ہزار ارب سود ہر سال دیتا اور جس کی وجہ سے آئی ایم ایف کے پاس ملک گروی ہے پنجاب میں پچھلے چند سال میں 93 کروڑ لوگ غربت کی سطح سے نیچے گے اور ہر دوسرا بچہ خوراک کی کمی کا شکار ہے گیس اور بجلی کے بل پر فکسڈ ٹیکس اور سستا پیٹرو�� مہنگا ترین بیچ کر ملک چلا رہے ہیں کہتے ہیں شریف فیملی الیٹ ہے تو ایسا ایک جہاز ذاتی خرچے سے لے کر غریب ملک کو دے دیتے اگر عوام کے پیسے سے لیا تو سوال تو ہوں گے جواب دیجیے فرعونیت مت دیکھائیں
کسی بھی مسئلے پر لکھتے ہوئے ہم اکثر اس کے کچھ اہم پہلو نظر انداز کر دیتے ہیں۔ آج کل پنجاب کے سرکاری سکولوں پر بحث ہو رہی ہے تو ایک استاد نے مجھے یہ بات لکھی، جس نے سوچنے پر مجبور کر دیا۔
نفسیات دان ابراہام میسلو کی Hierarchy of Needs کے مطابق جب تک انسان کی بنیادی ضروریات، جیسے بھوک، پیاس، تحفظ اور لباس پوری نہ ہوں، اس کے لیے سیکھنے، توجہ دینے اور اپنی صلاحیتوں کو بروئے کار لانا بہت مشکل ہوتا ہے۔
پاکستان کے سرکاری سکولوں میں زیادہ تر معاشرے کے غریب ترین طبقے کے بچے آتے ہیں، جن میں سے بہت سے بچے بنیادی ضروریات سے بھی محروم ہوتے ہیں۔ ایسے حالات میں محدود وسائل کے ساتھ انہیں پڑھانا یقیناً ایک انتہائی مشکل ذمہ داری ہے۔
پاکستان کی تقریباً آدھی آبادی خطِ غربت کے آس پاس یا اس سے نیچے زندگی گزار رہی ہے۔ اس لیے جب ہم اساتذہ پر تنقید کریں تو اس سماجی اور نفسیاتی حقیقت کو بھی ضرور ذہن میں رکھنا چاہیے۔