درکارہوتی ہے۔ہردور میں یہ سچ ثابت ہواہےکہ بگاڑکی رفتارسنوارنے سےکہیں زیادہ تیز ہے۔"
جیساکہ ایک قدیم چینی کہاوت ہے:
"نیکی کرناپہاڑسرکرنےجیساہے،جبکہ برائی کاراستہ ڈھلوان کی طرح خودبخود نیچےلےجاتاہے۔"
"善难,如登天;恶易,如塌方。"
(Shàn nán, rú dēng tiān; è yì, rú tā fāng)—
"ایک چمچ تارکول(قطران)پورے شہد کےبیرل کوخراب کرسکتاہے،لیکن ایک چمچ شہدتارکول کےبیرل میں کوئی تبدیلی نہیں لاسکتا۔"
"A spoonful of tar can spoil a barrel of honey,but a spoonful of honey does nothing for a barrel of tar."
(ایک سڑا ہوا سیب پورے بیرل کو خراب کر دیتا ہے۔)
"It is much
ہے،جبکہ نیکی کوپھیلنےکےلیےوقت درکارہوتاہے۔""Entropy"(اینٹروپی)
سائنسی اورفلسفیانہ نقطہ
نظرسے،کائنات میں کسی بھی چیز کو"بکھرنےیاخراب ہونے"(Chaos)کےلیےکسی توانائی کی ضرورت نہیں ہوتی،وہ خودبخودہوجاتا ہے۔ لیکن کسی چیزکو"ترتیب دینےیا سنوارنے"(Order)کے لیےمسلسل محنت اور توانائی
جن خامیوں،ناانصافیوں اور مسائل کی نشاندہی آپ اپوزیشن میں رہ کرکرتی تھیں،اب وقت ہےکہ اقتدار میں آ کر انہی مسائل کےحل کے لیےعملی اقدامات کریں۔ یاد رکھیں،اقتدار کےایوانوں میں سب سے بڑا خطرہ تنقید کرنےوالے نہیں بلکہ وہ لوگ ہوتےہیں جوخوشامدکے ذریعےحقیقت سےدور رکھتے ہیں۔ فیصلے تعریفوں
عطا تارڑ کی ترجیحات حکومت اور حکومتی مسائل کے بجائےاپنی تشہیر،ذاتی امیج سازی اورخاندانی مفادات کےگردگھومتی دکھائی دیتی ہیں۔ایک حکومتی نمائندے سے توقع ہوتی ہے کہ وہ واضح مؤقف، مضبوط دلیل اور مؤثر بیانیہ کے ساتھ عوام کا اعتماد حاصل کرے،مگر یہاں نہ گفتگو میں وزن نظر آتا ہے اور نہ ہی
🚨دروغ بر گردنِ راوی!!
اطلاع ہے کہ کابینہ میں متوقع رد و بدل کی صورت میں وزیراطلاعات و نشریات عطاء تارڑ صاحب کو بھی گھر بھیجا جارہا ہے۔
اگر یہ حقیقت ہے تو یہ بہترین اور معقول فیصلہ ہوگا۔ تارڑ صاحب ریاستی بیانیہ سازی اور میڈیا مینیجمنٹ کے ہر محاز پر ناکام رہے۔
رد و بدل کی صورت میں میری گزارش ہے کہ وزارتِ خزانہ اور داخلہ کیطرح وزارتِ اطلاعات کا قلمدان بھی کسی غیر سیاسی شخصیت کو دیا جائے جو سیاسی وابستگی سے بالاتر ہوکر ریاستی بیانیہ کی مؤثر انداز میں ترویج کرسکے۔
2011 میں جب پروجیکٹ عمران خان پہ کام کیا جا رہا تھا تو تب میرا ایک دوست تھا جس کے ساتھ میں نے دو ٹی وی چینل پہ کام کیا اور باقی بھی بڑے بڑے تجزیہ نگار کالم لکھتے تھے احمدی نژاد اور عمران خان کا موازنہ کیا جاتا تھا پاکستان کو بھی ایسا لیڈر چاہیے جو احمدی نژاد جیسا ہو جو سادہ مزاج ہو جس کے کپڑوں میں سوراخ ہوں جو زمین پہ سوتا ہو آج نیویارک ٹائمز بتا رہا ہے جس کے کپڑوں میں سوراخ تھا جو زمین پہ سوتا تھا جو بڑا سادہ تھا جس نے خطے کی تقدیر بدلنی تھی وہ تو موساد کا ایجنٹ تھا ابصار عالم
El sonido de la lluvia es la forma más hermosa que tiene el silencio de hablar—
The sound of rain is the most beautiful way silence speaks—
بارش کی آواز، خاموشی کے بولنے کا سب سے خوبصورت انداز ہے۔ 🌧️
——"محبت کا اظہار وفاداری ہے، اور مقصد کا اظہار خوشامد؛ دونوں کے درمیان کا فرق ہی حکمران کی بقا ہے۔" ———
حکمرانوں کواپنے پاس ایسے چاپلوسوں کا ایک بڑا گروہ رکھنا چاہیےجو ہرحال میں اس کادفاع کریں۔یہ لوگ عوامی سطح پرحکمران کی حماقتوں کو حکمت،اس کے ظلم کوانصاف،اور اس کی غلط پالیسیوں
ہوناچاہیےکہ یہ منافقین ہردربارکاحصہ ہوتےہیں،انہیں کام میں تولایاجاسکتاہے،لیکن انہیں کبھی۔بھی اپنا "مشیر" یا "رازدار" نہیں بناناچاہیے۔خوشامد ایک سیاسی ہتھیار تو ہے،مگر یہ وفاداری کی ضمانت نہیں ہے۔"منافقین کا وجود ایک دودھاری تلوار ہے۔ وہ حکمران کےاقتدار کو مستحکم کرنے میں تو