“خدارا میرے بچے کو بندوق نہ دو، اُسے قلم دے دو۔
میرے بچے کو کارتوس نہ دو، اُسے کتاب دے دو۔
میرے بچے کو خو دکش جیکٹ نہ پہناؤ، اُسے اسکول کا یونیفارم دے دو۔”
— ملی مشر اسفندیار ولی خان کا آج سے دو دہائی قبل قومی اسمبلی سے خطاب
روزِ اوّل سے ہمارا یہی ایک مطالبہ رہا ہے کہ خدارا افغانستان کو افغانستان ہی رہنے دیں، اسے پاکستان کا پانچواں صوبہ بنانے کی کوشش نہ کریں۔ آج افغانستان سے جو دہشت گرد کارروائیاں ہو رہی ہیں، ان کا لقمۂ اجل بھی ہم ہی بن رہے ہیں،کوئی سویلین کپڑے پہن کر اپنے معصوم بچوں کو بے سہارا چھوڑ رہا ہے تو کوئی پولیس، ایف سی اور فوج کا یونیفارم پہن کر۔
جب جنرل ضیاء ڈالروں کے عوض مہاجرین آباد کر رہا تھا اور اسی آڑ میں دہشت گرد تیار ہو رہے تھے، تب بھی مخالفت صرف خان عبدالولی خان کر رہے تھے۔ پھر جب آپ لوگوں کے گھروں میں گھس کر ان کے ٹیلی وژن اسکرینیں تک توڑ رہے تھے اور ایک انتہا پسند ذہنیت پروان چڑھائی جا رہی تھی، تب اسفندیار ولی خان اسمبلی میں کھڑے ہو کر ان پالیسیوں کی مخالفت کر رہے تھے، مگر آپ نے بات نہ مانی بدلے میں ہمیں اسمبلیوں سے ہی باہر کردیا۔
جب طالبان آ رہے تھے تو کوئی اسے غلامی کی زنجیریں توڑنے سے تعبیر کر رہا تھا اور کوئی انہیں “ذہین مخلوق” کہہ کر اللہ اکبر کے نعرے بلند کر رہا تھا۔ میں اُس وقت بھی کہہ رہا تھا کہ امریکہ نکلا نہیں، صرف اقتدار کسی اور کے حوالے کیا ہے، مگر اس کے جواب میں آپ نے اپنے پالتو ہمارے اوپر چھوڑ دیے۔
آج وہی “ذہین لوگ” جو کچھ کر رہے ہیں، کیا کسی کے پاس اس کا جواب ہے کہ اس سب کا ذمہ دار کون ہے؟
دونوں اطراف کے عوام امن چاہتے ہیں۔ جنگ کو غیر ضروری طور پر نہ بھڑکایا جائے۔ امن ہی پاکستان کی سلامتی اور خوشحالی کا ضامن ہے۔ ہم بہت لاشیں دیکھ چکے ہیں؛ خدارا اس عالمی جنگ کو ہماری سرزمین پر مزید نہ پھیلنے دیں۔
وقت نے ثابت کر دیا کہ خان عبدالولی خان درست تھے۔
اسے کہتے ہیں سیاسی بصیرت اور دوراندیشی۔
یوں لگتا ہے جیسے آج بھی حالات کو دیکھ رہے ہوں اور کہہ رہے ہوں
وقت بدلتا ہے، مگر سچی بات ہمیشہ زندہ رہتی ہے۔
Security in Khyber Pakhtunkhwa has reached a tipping point yet the provincial government remains indifferent or even complicit. Short of making it a political martyr, the federal government must consider all constitutional options available to it to restore law, order, and public confidence.
پاکستان کی اس سے بڑی بدقسمتی اور کیا ہو سکتی ہے کہ یہاں اداروں کے اشاروں پر اٹھنے اور بیٹھنے والے بھی صدیوں پر محیط سیاسی تحریکوں پر تبصرے کر رہے ہیں۔ 1947ء میں ریفرنڈم کے بائیکاٹ کے ہمارے فیصلے کی وجوہات خالصتاً سیاسی تھیں، اور سیاسی معاملات کو سیاسی لوگ ہی بہتر سمجھ سکتے ہیں، فواد جیسے مسلط ٹولے کے افراد ہرگز نہیں۔
1937ء اور 1946ء کے انتخابات میں خدائی خدمتگاروں نے آپ کی مسلم لیگ کے مقابلے میں واضح کامیابی حاصل کی تھی۔ ایسے میں آپ یہ کیسے دعویٰ کر سکتے ہیں کہ 1947ء میں پورا صوبہ انضمام کا خواہاں تھا؟ حقیقت یہ ہے کہ اگر ہم جیسے لوگ نہ ہوتے تو آج بھی آپ پورے صوبے کے پاکستان کے ساتھ تعلق کا دعویٰ نہ کر پاتے۔ پختونوں اور دیگر مظلوم قومیتوں نے پاکستان کے ساتھ جو رشتہ نبھایا ہے، اس میں ہمارا کردار بنیادی حیثیت رکھتا ہے۔
ڈاکٹر خان صاحب کے حوالے سے آپ نے کون سی کتاب پڑھی ہے جس میں یہ لکھا ہو کہ انہوں نے قومی پرچم کو سلام نہیں کیا؟ تاریخ کو مسخ کرنے کے بجائے اسے درست طور پر پڑھیں۔ ڈاکٹر خان صاحب کی حکومت کا خاتمہ دراصل پاکستان میں پہلا مارشل لاء تھا،یہ مارشل لاء بدقسمتی سے جناح صاحب کی موجودگی میں لگایا گیا تھا،ہمارے ایم پی ایز کو پابند سلاسل کیا گیا اور قیوم کو وزیراعلٰی بنایا گیا،جس نے بعد میں بابڑہ کا واقعہ کیا اور پاکستان نے نہتے 600 سے زائد خدائی خدمتگاروں کو شہید کیا۔
سوویت یونین کے دور میں ہم نے عالمی طاقتوں کے کھیل کو مسترد کرتے ہوئے آپ کے نام نہاد جہاد کو فساد قرار دیا۔ ہم اُس وقت بھی آزاد خارجہ پالیسی کے حامی تھے، آج بھی ہیں اور آئندہ بھی رہیں گے۔ افسوس کہ ہماری باتیں آپ جیسے ریاستی ترجمانوں کو سمجھنے میں دہائیاں لگ جاتی ہیں، مگر آخرکار حقیقت وہی ثابت ہوتی ہے جس کی نشاندہی ہم پہلے ہی کر چکے ہوتے ہیں۔
جہاں تک افغانستان کا تعلق ہے، غلامی کی زنجیریں توڑنے کا بیانیہ قوم پرستوں کا نہیں تھا۔ ہم نے تو ہمیشہ یہی کہا کہ افغانستان کو افغانستان ہی رہنے دیا جائے، اسے پاکستان کا پانچواں صوبہ بنانے کی کوشش نہ کی جائے، ورنہ اس کے نتائج خود پاکستان کو بھگتنا پڑیں گے۔ مگر اُس وقت بھی ہمیں آپ جیسوں کی جانب سے گالیوں اور الزامات کا سامنا کرنا پڑا، جیسا کہ آج ہو رہا ہے۔
ہم نے دہشت گردی کے خلاف ڈٹ کر مقابلہ کیا اور اپنے 1300 سے زائد کارکنان کی قربانیاں دیں۔ کیا یہ دہشت گردی ہمارے خلاف کوئی ذاتی جنگ تھی؟ اس کے باوجود پاکستانی اسٹیبلشمنٹ نے ہمارے صوبے پر آپ جیسے عناصر مسلط کیے، جو گرفتاری کے خوف سے بھی راہِ فرار اختیار کرتے ہیں اور ایسے بھاگتے ہیں کہ اُن کے اس بھاگنے پر بھی میمز بن جاتی ہیں۔
پاکستان سے دہشت و وحشت کے خاتمے کا واحد حل یہ ہے کہ خلوصِ نیت سے گڈ اور بیڈ کی تفریق ختم کر کے ان دہشت گردوں کی حقیقی معنوں میں کمر توڑی جائے۔ ایسا نہیں ہو سکتا کہ دہشت گردوں کو دوبارہ آباد کرنے والے، افغانستان میں طالبان رجیم کو انقلاب سے تشبیہ دینے والے، امن پر تقریریں بھی کرتے پھریں اور اندر سے وہ دہشتگرد بھی ہو۔
تاریخ بہت بے رحم ہوتی ہے۔ اپنے آقاؤں سے کہیں کہ ایک ٹرتھ اینڈ ری کنسیلی ایشن کمیشن بنایا جائے، تاکہ یہ طے ہو سکے کہ تاریخ میں کون کہاں کھڑا تھا۔
چالیس سال بعد یہ لوگ ہمارے گیت گائیں گے
ولی خان بابا
چالیس پہلے جب ہمارے اکابرین چیخ چیخ کر کہہ رہے تھے کہ جہاد نہیں فساد ہیں اور اسکی کھلم کھلا مخلافت کی مگر انکو نام نہاد مذہبی اسلام کے ٹھیکیداروں نے کفر کے فتووں سےنوازا انگریز روسی ایجنٹ تک ان پر فتویٰ لگائیے
#ANPTheOnlyHope
آج پاکستان اور افغانستان کے درمیان جو کشمکش جاری ہے، اس کا پس منظر پچاس برس سے بھی زیادہ پرانا ہے۔ ان حالات کو سمجھنے کے لیے تاریخ کے ان ابواب کو پڑھنا ضروری ہے جنہیں جان بوجھ کر نظر انداز کیا جاتا رہا۔ چار نسلوں سے ہم چیخ چیخ کر اپنی ریاست کو سمجھانے کی کوشش کرتے رہے، مگر ہماری آواز کو سنجیدگی سے نہیں لیا گیا۔
باچا خان نے برملا کہا تھا کہ یہ روس اور امریکہ کی جنگ ہے، یہ جہاد نہیں بلکہ فساد ہے۔ مگر نہ قوم نے اس بات پر توجہ دی اور نہ ہی مقتدر حلقوں نے۔ پھر ولی خان نے خبردار کیا کہ اگر آپ کسی کے گھر بارود بھیجیں گے تو بدلے میں آپ کو پھول نہیں ملیں گے، مگر انہیں "روسی ایجنٹ" قرار دے دیا گیا۔ اسفندیار ولی خان نے اسمبلی کے فلور پر ہاتھ جوڑ کر کہا کہ میرے بچے کو کارتوس اور کلاشنکوف نہیں، قلم دیا جائے؛ اسے خودکش جیکٹ نہیں، اسکول بیگ دیا جائے۔ مگر انہیں "امریکی ایجنٹ" کہہ کر رد کر دیا گیا۔
لاکھوں خدائی خدمتگاروں، پختون قوم پرستوں اور زندگی کے ہر شعبے سے تعلق رکھنے والے باشعور لوگوں نے اپنی جان و مال کی قربانیاں دے کر ریاست کو یہ باور کرانے کی کوشش کی کہ تشدد کا راستہ تباہی کی طرف لے جاتا ہے، مگر افسوس کہ آج تک اس حقیقت کو تسلیم نہیں کیا گیا۔
آج جو حالات اس نہج تک پہنچ چکے ہیں، یہ کسی ایک دن یا ایک واقعے کا نتیجہ نہیں۔ ہم نے جو بویا تھا، آج وہی کاٹ رہے ہیں۔ انتہاپسندی کے بیج بوئے گئے، نفرت کو ہوا دی گئی، اور پوری ایک نسل کو ذہنی طور پر جنگ اور تشدد کے بیانیے کے سپرد کر دیا گیا۔ اگر خدانخواستہ یہ آگ آج دوبارہ بھڑک اٹھی تو پھر یہ کسی سرحد، کسی قومیت اور کسی ریاست کی تمیز نہیں کرے گی۔
ہم آج بھی یہ مؤقف دہراتے ہیں کہ ہماری قوم بحیثیت مجموعی امن پسند ہے۔ جو جنگ لڑی جا رہی ہے، وہ پاکستان اور افغانستان کے عوام کی جنگ نہیں بلکہ عالمی قوتوں کی جنگ ہے، اور اس کے لیے اس خطے کو برسوں سے میدان بنایا جاتا رہا ہے۔ سوال یہ ہے کہ کیا افغانستان میں قائم حکومت واقعی عوام کی مرضی کی نمائندہ ہے؟ کیا پاکستان اور خصوصاً پختونخوا میں بیٹھی حکومتیں حقیقی معنوں میں عوام کی رائے سے وجود میں آئی ہیں؟ حقیقت یہ ہے کہ ان حکومتوں کے قیام میں عوامی منشا سے زیادہ دیگر قوتوں کا کردار نمایاں رہا ہے۔
میں آج بھی دونوں اطراف کے مقتدر حلقوں سے یہی گزارش کروں گا کہ جو بھی پالیسیاں بنائی جائیں، ان میں عوام کی رائے کو مقدم رکھا جائے۔ سرحد کے دونوں جانب کے عوام جنگ نہیں چاہتے، وہ امن، روزگار، تعلیم اور باعزت زندگی چاہتے ہیں۔
اگر آپ خود کو مسلمان کہتے ہیں تو اپنی مسلمانی کی خاطر امن کو ترجیح دیں۔ اگر آپ پختون ہیں تو پختونولی کی روایات کو یاد رکھیں، جن کی بنیاد عزت، رواداری اور جرگے کے ذریعے مسائل کے حل پر ہے۔ اگر آپ افغان ہیں تو افغانیت کا تقاضا بھی امن ہے، اور اگر آپ پاکستانی ہیں تو پاکستانیت کا تقاضا بھی یہی ہے کہ اپنے ہی لوگوں کو جنگ کی آگ میں نہ جھونکا جائے۔ جنگ کبھی کسی مسئلے کا پائیدار حل نہیں بنی۔
میں اپنی قوم سے بھی یہی کہوں گا کہ اس وقت میرے بس میں جو ہے، میں وہ کر رہا ہوں۔ اگر اس سے بڑھ کر کچھ کر سکتا تو ضرور کرتا۔ ہماری ذمہ داری ہے کہ ہم ہوش، صبر اور شعور کا دامن نہ چھوڑیں اور نفرت کے بیانیے کا حصہ نہ بنیں۔
اللہ ہم سب کا حامی و ناصر ہو۔
Dr. Mehwish’s killer is openly challenging the state, police & the Pakhtunkhwa government - roaming free, posting videos, and showing no fear of the law.
3 days have passed. No arrest.
Is this the writ of the state?
#JusticeForDrMehwish
Dr. Mehwish’s children are still waiting for their mother... Thinking she’s on duty and will walk through the door any moment.
They don’t know she was killed for simply doing her job.
This wasn’t just the murder of a doctor, It was the loss of a mother, a home, a future.
Another video of Aina Wazir shows her bowling a brilliant over and batting with great confidence. She has exceptional talent for her age.
Authorities should enroll her in a quality cricket academy and support her growth. Kids from Waziristan deserve opportunities — not neglect.
شمالی وزیرستان سے تعلق رکھنے والی آئینہ وزیر ایک نہایت باصلاحیت باؤلر ہے مگر افسوس کہ بنیادی سہولیات کی کمی کے باعث اس کے ٹیلنٹ کے ضائع ہونے کا خطرہ ہے۔حکومت کو چاہیے کہ اس بچی کو کسی معیاری کرکٹ اکیڈمی میں داخلہ دلوا کر اس کی سرپرستی کرے۔
ملگری وکیلان کے ایڈوکیٹ طارق افغان کی درخواست پر پشاور ہائی کورٹ کا بڑا ایکشن۔ آج ہی چیف سیکرٹری اور آئی جی پولیس کو طلب کرکے تمام بند راستے فالفور کھولنے کا حکم دے دیا!
@afghan_tariq
پشاور ہائی کورٹ نے رٹ پٹیشن پر آئی جی پولیس اور چیف سیکرٹری کو سڑکیں فوری طور پر کھولنے کا حکم دے دیا۔
عدالت نے متعلقہ حکام کو کل تک عملدرآمد رپورٹ جمع کرانے کی بھی ہدایت کی ہے۔
یہ رٹ پٹیشن ملگری وکیلان کے ایدوکیٹ طارق افغان @afghan_tariq کی جانب سے دائر کی گئی تھی۔
سہیل آفریدی صاحب! ترقی اسے کہتے ہیں، یہ دیکھیے اور کچھ سیکھیے۔
اگر پچھلے 13 برسوں میں پی ٹی آئی نے واقعی پختونخوا کے لیے کچھ کیا ہوتا تو آج باتیں گھمانے کے بجائے سیدھا جواب دیتے کہ یہ ہے ترقی، ہم نے یہ کام کیے۔
حقیقت یہ ہے کہ 13 سالہ نااہلی نے پختونخوا کو تباہ و برباد کر دیا ہے۔