@Khanabadosh33@haroon_natamam کیا یہ جواز درست ھے کہ ولی نے کیوں نہیں کیا ۔بھائ یہ جواز بنا کر کسی بھی پوری قوم کی تباہی جائز ھے ۔ھوش کے ناخون کو لو اس مافیا کی سائیڈ مت لو ۔
یہ پھر آپ بھی ان لوگوں کے پےرول پر ھو
@raftardotcom Salam Sir,
With an Extreme respect, it's a thorough research episode but it's not gonna affect them at all ,
"لگے رہو اور شور مچاؤ ھمیں کون روکےگا,"
They Dame care at all eventually we just burn over selves.
@TalhaEjaz07ee@SalmanSpeaks_@ShafqatQureshi_ It means we can get at least 85 x 5 Ah or 4400 kWh from an normally available 5 kWh battery and we charge and discharge it daily it's 1 cycle and if it's an 6000 cycle unit we can get at least 3000-4000 cycle means at least 7 to 8 years a rough estimate.
As I get it.
@Maviturkk@WeatherWupk please share your technical knowledge in this phenomenon
All around Iran Iraq Turkey weather changes dramatically and the areas which are on the verge of drought are now turning lush green
@2Kazmi@grok is it possible to analyze that the projected installed capacity is real or fake generational as so far they didn't produce even 60% of it in last 20 years
@Shrd93707017@Noobiy12 Most people think oil is just oil.
But in reality… oil quality changes everything.
Here’s the difference 👇
🇺🇸 US WTI: 40° API → Light & easy to refine
🇮🇷 Iran Light: 34° API
🇷🇺 Russia Urals: 31° API
🇻🇪 Venezuela: 8–12° API
It’s about crude quality
@Shrd93707017@Noobiy12 please advise what is the difference between crude oil and Brent oil?
2 what is the landed cost of both qualities ?
please make a good reserch so we can understand your valueable and cost and analysis
عزیز و اقارب کی بیٹیوں کی شادی میں جاتے تو مہمانوں کو کھانا کھلانے کا سارا انتظام اپنے ہاتھ میں لے لیتے اور اس خوبی سے برتاتے کہ کبھی کھانا کم نہ پڑتا چاہے جتنے مرضی لوگ آجائیں، اب گھر والوں کو کوئی فکر نہ ہوتی. صوفی صاحب بخوشی اس بار کو اٹھاتے اور پیش آمده مشکلات سے خود ہی نبٹتے، خود ہی حل نکالتے....
مشہور دانشور اور افسانہ نگار اشفاق احمد نے ایک بار اپنے ڈرائنگ روم میں بیٹھے پھیکی چائے کا گھونٹ لیتے ہوئے ہمیں بتایا کہ جن دنوں وه گورنمنٹ کالج لاہور کے طالب علم تھے، ان کے استاد صوفی تبسّم صاحب نے ایک دن اپنے Fifth Year کے طلبہ سے کہا چلو بھئی فلاں گھر میں بارات آنے والی ہے، جاکر کھانا برتانا ہے.
بھاٹی دروازے میں بتّیاں والی سرکار کے پیچھے ایک گھر تھا، وہاں پہنچے.
کچھ دیر بعد نائی دیگیں بھی لے آئے. گھر والے بڑے خوش اور مطمئن تھے کہ اب صوفی صاحب آگئے ہیں فکر کی کوئی بات نہیں. بارات میں 80 لوگوں کا بتایا گیا تھا اور اسی حساب سے انتظامات کئے گئے تھے. مگر جب بارات آئی تو وه لوگ 160 سے بھی زیاده تھے...
صوفی صاحب کے ماتھے پر پسینے کے قطرے نمودار ہوئے اور ناک تک آ گئے.
انہوں نے قریب موجود اشفاق احمد سے کہا...!
"اشفاق ہُن کی کرئیے؟"
اشفاق احمد نے اپنی طالبعلمانہ سمجھ سے کہا...
"دیگوں میں مزید پانی ڈال دیتے ہیں, سالن کا ہی مسئلہ ہے, وه بڑھ جائے گا اور سب کو پورا ہوجائے گا."
انھوں نے گھبرا کر ایک چپت لگائی اور بولے...
"احمق لڑکے! پانی ڈال کر مرنا ہے, سالن تو اور جلدی ختم ہو جائے گا. اب طریقہ یہ اختیار کریں گے کہ سالن میں گھی کا پورا " پِیپا" یعنی 16 کلو کا پورا ٹین ڈالیں گے. جب سالن میں "تریِر" زیاده ہو تو کم کھایا جاتا ہے."
پھر اسی طریقے سے کھانا تیار ہوا...
لڑکوں نے بھاگ بھاگ کر کھانا Serve کیا. وه اندر سے ڈر بھی رہے تھے کہ کھانا کہیں کم نہ پڑ جائے، آخر عزت کا سوال تھا...
باراتیوں سے پوچھتے بھی جاتے تھے کہ اور لائیں..اور لائیں...
ادھر کھانا ختم ہونے ہی والا تھا جب اچانک باراتیوں میں سے کسی نے آواز لگائی "بس جی..."
پھر باقی ہر طرف سے بھی یہی آوازیں آنے لگیں. ایسے موقعوں پرلوگ ہمیشہ کسی پہلی آواز کے منتظر ہوتے ہیں. صوفی صاحب کے ہاتھ میں کپڑا اور کڑچھا تھا، وه اندر سے خدا جانے کتنے پریشان تھے. یونہی یہ آواز آئی، وه تیورا کر زمین پر گرے. وہاں ایک بڑا سا لوہے کا کڑاها پڑا تھا. شکر ہے اس سے ان کا سر نہیں ٹکرا گیا....
شاگردوں نے بھاگ کر اٹھایا، لٹایا، ٹانگیں دبائیں، ہاتھ پاؤں کی مالش وغیره کی اور وعده لیا کہ خدا کے واسطے ایسی ٹینشن والا کام دوباره ذمہ نہیں لینا. انہوں نے بھی ہاں میں ہاں ملائی اور کہا...
"میری توبہ! آج تو پریشانی نے مار ہی ڈالا تھا."
وہاں سے نکلے تو استاد صاحب آگے آگے اور شاگرد پیچھے پیچھے چل رہے تھے. پندره بیس قدم چلے ہوں گے کہ ایک گھر سے ایک مائی نکلی. اس نے صوفی صاحب کو دیکھا اور دور ہی سے پکاری....
"وے غلام مصطفیٰ! میں تَینوں لبھدی پِھرنی ساں. کُڑی دی تاریخ رکھ دِتّی اے، بھادوں دی تیراں....
کَھان پِین دا اِنتظام تُوں اِی ویکھنا ایں".
صوفی صاحب جو تھوڑی ہی دیر پہلے توبہ کر کے نکلے تھے، جھٹ سے بولے...
" کاغذ لاؤ، یہ لو پینسل اور لکھو،
تیراں سیر گوشت، ایک بوری چَول........ بس اَسی پہنچ جاواں گے."
کبھی صوفی تبسم نے بھی تو اپنی Self Examination کی ہوگی. تبھی تو استاد ہوتے ہوئے بھی دوسروں کے لئے بڑے آرام سکون سے تنور پر روٹیاں لگانے بیٹھ جاتے تھے. ایسی خوبیاں جو ذات کا حصہ بن جائیں اور پھر دور و نزدیک آپ کی پہچان ٹھہریں، ذاتی تجربے کے نتیجے میں ان میں اور نکھار آتا ہے، ان پر پیار آتا ہے، شرمساری نہیں ہوتی....
(اختر عباس کی کتاب "قابل رشک ٹیچر" سے )