اب اس بیان پر جعلی پراپیگینڈا شروع ہوگیا۔
اس سے پہلے کہ آپ اسکا شکار ہوجائیں، آئیں ہم آپ کو لیز اور آوٹ سورس کا فرق بتاتے ہیں۔
لیز؛
یہ ایسا معاہدہ ہوتا ہے جس کے تحت ایئرپورٹ کا "مکمل" انتظام کسی پرائیویٹ کمپنی کو مقرر مدت تک دے دیا جاتا ہے۔ اس مدت تک وہ ایئرپورٹ اس پرائیویٹ ادارے کی ذمہ داری ہوتا ہے۔ جیسے ہی وہ مدت مکمل ہوتی ہے وہ ائیرپورٹ واپس حکومت کے پاس آجاتا ہے۔
لیزنگ کا فائدہ یہ ہوتا ہے کہ حکومت زیادہ پیسے کما سکتی ہے لیکن ائیرپورٹ انتظامیہ پر حکومت کا کن��رول نہیں رہتا۔
آوٹ سورس:
یہ وہ معاہدہ ہے جس کے تحت ائیرپورٹ کا مکمل کنٹرول حکومت کے پاس ہی ہوتا ہے لیکن حکومت ائیرپورٹ میں دی جانے والی مختلف سروسز جیسے سکیورٹی، صفائی، مینٹیننس، کھانا پینا وغیرہ پرائیویٹ کمپنیوں کے حوالے کردی جاتی ہیں۔
آوٹ سورس کا فائدہ یہ ہوتا ہے کہ ائیرپورٹ کی مختلف سروسز ایکسپرٹ کمپنیوں کے حوالے کی جاتی ہیں لیکن نقصان یہ ہوتا ہے کہ انویسٹمنٹ لیزنگ کے مقابلہ میں کم ہوتی ہے اور سروسز میں فرق آسکتا ہے۔
ویسے تو یہ باتیں حکومت کے بتانے کی ہیں لیکن چونکہ تحریک انصاف کے جعلی پراپیگینڈا کا صرف علم پھیلا کر خاتمہ ہوسکتا ہے اسلئے ہم یہ شمع روشن کرتے رہیں گے۔
شکریہ
آخر کیوں تحریک انصاف کے بعض بظاہر سمجھدار نظر آنے والے لوگ بھی ع��یب و غریب گفتگو کرتے ہیں؟
اس تصویر میں نظر آنے والے شخص کا نام ہارولڈ کیمپنگ ہے، یہ امریکہ میں بہت مشہور پادری تھا۔ اپنے مقبولیت کے دور میں اسکے 140 سے زائد ریڈیو چینل امریکہ میں جگہ جگہ پھیلے ہوئے تھے جبکہ بیرون ملک بھی فالونگ تھی۔ وہ سب شخصیت پرست تھے اور کیمپنگ پر اندھا اعتماد کرتے تھے۔
اس نے 21 مئی 2011 کو اعلان کیا کہ دنیا میں قیامت آئے گی اور 20 کروڑ لوگ فوت ہوجائیں گے۔ کیمپنگ نے اتنی تفصیل سے ساری کہانی بیان کی کہ اس کے تمام ماننے والے اس پر یقین کر بیٹھے اور 21 مئی کا انتظار کرنے لگے۔ حالات یہ تھے کہ ایک 14 سال کی لڑکی نے خودکشی کر لی تاکہ اسکو 21 مئی نا دیکھنا پڑے جبکہ بہت سے لوگ گھروں میں بنکر بنا کر چھپ گئے۔ میڈیا بھی دیکھتا رہا۔
21 مئی کو کوئی قیامت نہیں آئی، جب میڈیا والے ہیرولڈ کیمپنگ کے ماننے والوں کے انٹرویو لینے گئے تو انہیں لگا شاید وہ لوگ راہ راست پر آئیں گے لیکن الٹا وہ لوگ میڈیا والوں سے لڑنے لگے اور کہنے لگے کہ قیامت اس لئے نہیں آئی کیونکہ ہمارے ایمان کو چیک کیا جانا تھا کہ کہ کون لوگ 21 مئی کے بعد ہیرولڈ کے ساتھ جڑے رہتے ہیں یا نہیں، اسکے علاوہ کچھ لوگ ح��اب کتاب سے بتاتے رہے کہ ہیرولڈ درست ہے بس تاریح چند ماہ آگے تھی۔
میڈیا والے حیران پریشان رہ گئے لیکن کچھ عرصہ بعد اسی ہیرولڈ کیمپنگ نے قیامت کی نئی تاریخ دے دی جو 21 اکتوبر 2011 تھی۔ اسکے ماننے والے دوبارہ قیامت کےانتظار میں مصروف ہوگئے، لیکن قیامت دوبارہ نہیں آئی۔
اس دفعہ میڈیا والوں کو یقین تھا کہ اسکے ماننے والے ساتھ چھوڑ گئے ہونگے لیکن انکو حیرت تب ہوئی جب ہیرولڈ کے ماننے والے کہنے لگے کہ ہیرولڈ کا جو قیامت کا تصور ہے وہ دراصل روحانی قیامت ہے جبکہ تم لوگ دنیاوی قیامت کا سوچ رہے تھے۔
خیر کچھ عرصہ بعد ہیرولڈ نے خود ہی تسلیم کر لیا کہ وہ غلط تھا البتہ اسکے پیروکاروں نے پھر بھی اسکو نا چھوڑا۔
یہی حال تبدیلی کا ہے جو 9 سال خیبر پختونواہ، 4.5 سال پنجاب اور 3.8 سال وفاق میں حکومت کے باوجود بھی نہیں آئی اور نا ہی آئے گی لیکن شخصیت پرستی کے پیروکار ہر دفعہ نئے بہانے ڈھونڈ کر دل کو تسلی دیتے ہیں۔ اسکو سائیکالوجی میں Cognitive Dissonance کہا جاتا ہے۔