جرمن سفیر کی وفد کے ہمراہ مولانا فضل الرحمٰن کی رہائش گاہ آمد
خطے کی سیاسی صورتحال، افغانستان و فلسطین، قیامِ امن، انسانی حقوق اور پاک جرمنی دوطرفہ تعلقات پر تفصیلی تبادلۂ خیال
اسلام آباد( ) : پاکستان میں متعین جرمنی کی سفیر اینا لیپل (Ina Lepel) نے وفد کے ہمراہ جمعیت علمائے اسلام کے سربراہ مولانا فضل الرحمٰن کی رہائش گاہ پر ملاقات کی۔ ملاقات میں خطے کی مجموعی سیاسی صورتحال، افغانستان کے حالات، امن و امان، انسانی حقوق، فلسطین کی صورتحال سمیت اہم علاقائی و عالمی امور پر تفصیلی تبادلۂ خیال کیا گیا۔
ملاقات میں پاکستان اور جرمنی کے دوطرفہ تعلقات اور باہمی دلچسپی کے مختلف امور بھی زیر بحث آئے، جبکہ خطے میں امن و استحکام کے لیے درپیش چیلنجز اور ان کے ممکنہ حل پر بھی گفتگو ہوئی۔
جرمن سفیر اور وفد نے مختلف علاقائی و سیاسی معاملات پر جمعیت علمائے اسلام کے مؤقف کو تفصیل سے سنا اور اس کے مؤقف کی تحسین کی۔ جرمن وفد نے بالخصوص قیام امن، آئین کے تحفظ، جمہوری اقدار اور انسانی حقوق کے لیے جمعیت علمائے اسلام کی جدوجہد کو سراہا۔
مولانا فضل الرحمٰن نے ملاقات کے دوران افغانستان اور فلسطین میں انسانی حقوق کی صورتحال سے جرمن وفد کو آگاہ کیا۔ انہوں نے خطے میں پائیدار امن کے قیام، عوام کے بنیادی حقوق کے تحفظ اور تنازعات کے پرامن و سیاسی حل کی ضرورت پر زور دیا۔
جرمن وفد نے افغانستان اور فلسطین سے متعلق معاملات کے مثبت، پرامن اور قابلِ قبول حل کے لیے دلچسپی کا اظہار کیا اور اس حوالے سے مختلف پہلوؤں پر تبادلۂ خیال کیا۔
ملاقات میں اس امر پر بھی گفتگو ہوئی کہ خطے میں پائیدار امن اور استحکام کے لیے مکالمے، سیاسی عمل، آئین و جمہوری اصولوں اور انسانی حقوق کا احترام ناگزیر ہے۔
جرمن سفیر کے ہمراہ وایولیٹا کُزمووا-آنند (Violetta Kuzmova-Anand)، فرسٹ سیکریٹری برائے مائیگریشن، انسانی حقوق اور قانون کی حکمرانی (First Secretary, Migration, Human Rights and Rule of Law) اور اینا ایمانوئل (Anna Emmanuel)، کمیونیکیشن اینڈ پولیٹیکل سیکشن (Communication and Political Section) بھی موجود تھیں۔
جبکہ جمعیت علمائے اسلام کی جانب سے سینیٹر کامران مرتضیٰ، انجینئر ضیاء الرحمٰن اور مفتی ابرار ملاقات میں شریک تھے۔
@MoulanaOfficial@GermanyinPAK
یہی اس بات کا واضح ثبوت ہے کہ مولانا کی ��یاست اقتدار کے لیے نہیں، بلکہ اصولوں کے لیے ہے۔
مولانا نے اپنی سیاسی زندگی کا بڑا حصہ اپوزیشن میں گزارا، مگر ہر اختلاف ذاتی مفاد کے بجائے اصول اور قومی مفاد کی بنیاد پر کیا۔ یہی وجہ ہے کہ مخالفین عوام کو گمراہ کرنے کے لیے بار بار یہ پروپیگنڈا کرتے ہیں کہ مولانا ہر حکومت میں شامل ہو جاتے ہیں، جبکہ حقیقت اس کے برعکس ہے۔
ہم نے دیکھا ہے سکندر کو فنا ہوتے ہوئے
وقت آنے دے تیری اوقات بھی کھل جائیگی۔
جو یہ کہتا تھا میں سورج ہوں کرونگا روشنی۔
اس کے آتے ہی اندھیرا اور گہرا ہوگیا۔
جے یوآئی کا حکومت مخالف تحریک کا اگلا قدم
جمعیت علماء اسلام کا اگست میں چاروں صوبوں سمیت اسلام آباد میں صوبائی اور ضلعی ذمہ داروں سے مشاورت کا فیصلہ
تمام صوبوں میں مشاورت کیلئے کنونشن منعقد کئے جائیں گے
کوئٹہ ، پشاور ،سکھر اور ملتان میں کونشن ہونگے
کنونشن سے مولانا فضل الرحمن اور دیگر مرکزی وصوبائی قائدین خطاب کریں گے
مہنگائی ،بدامنی ،لاقانونیت اور آئین سے ماورا قانون سازی کے خلاف آئندہ لائحہ عمل پر مشاورت کی جائے گی
قائد جمعیت مولانا فضل الرحمان کے خلاف حالیہ جھوٹے پروپیگنڈہ کو بے نقاب کیا جائے گا
جے یو آئی آئین او�� جمہوریت کی بقاء کی جنگ ایوانوں کے ساتھ ساتھ میدانوں میں بھی لڑے گی
ایوان میں اٹھنے والی آواز کو بلیک آوٹ اور میدانوں میں بلند ہوتی آواز پر کردار کشی کو چیلنج کیا جائے گا
انتہاء پسندی ،فرقہ واریت اور لسانیت کی سیاست دفن کرنے کا صلہ کردار کشی اور جھوٹے پروپیگنڈے کی صورت قبول نہیں
انتخابات چوری کرنے والوں کا بھر پوتعاقب کریں گے
کارکن تیاری کریں ۔ان شاء اللہ اگلا دھکا ریت کی دیواروں کیلئے آخری ہو گا
میڈیا سیل جے یو آئی پاکستان