🚨🚨 اگر بات بیانات کی ہے تو وزیر اعلی پنجاب نے بیان دیا ہے کہ مجھے انڈیا سے نہیں کے پی سے خطرہ ہے ، کیا یہ بیان کے پی کو پاکستان سے الگ کرنے کی کوششوں کی علامت نہیں؟؟؟شاہ فیصل اتمان خیل ایڈووکیٹ جنرل کے پی
ہمارے گھر لندن ہیں، ہم علاج لندن سے کراتے ہیں، ہمارے کاروبار لندن ہیں، ہمارے بچے لندن سے ڈگریاں لاتے ہیں، ہم شاپنگ لندن سے کرتے ہیں، ہمارے فیملی ممبرز کے پاس برطانیہ کی شہریت ہے۔ لیکن ہمارے دل میں پاکستان کی بہت محبت ہے، ہم یہاں اقتدار پر مسلط ہو کر خدمت کرنا چاہتے ہیں: احمد وڑائچ
@ahmadwaraichh
خبر کا ذریعہ جاننے کے لیے QR Code Scan کریں
#Pakistan
عمران خان کو اس لیے جیل میں ڈالا گیاکیونکہ وہ الیکشن جیت گئے تھے۔۔اور اب پاکستان مستحکم ہونے جا رہا تھا۔۔اب پاکستان میں معشیت اور جمہوریت اسی صورت مستحکم ہو گی جب وہاں نئے آزاد الیکشن ہوں گے
لارڈ ہینن کی گفتگو
واشنگٹن DC پر، میجر عمران کی کہانی!
26 نومبر کو ڈی چوک میں ایک نمازی کنٹینر سے نیچے گرا دیا گیا۔ جس نے میرے ضمیر کو جھنجھوڑ دیا,
میں اس وقت بطور کمپنی کمانڈر وہاں ڈیوٹی پر تھا۔مجھے سٹیٹ کی طرف سے احکامات ملے کہ آپ نے ان لوگوں کو وہاں سے ہٹانا ہے، چاہے اس کے لیے فائرنگ کیوں نہ کرنی پڑے۔ لیکن میں نے اپنے لوگوں پر فائرنگ کرنے سے صاف انکار کر دیا۔انکار کرنے کے بعد مجھے فوراً گرفتار کر لیا گیا اور دو ماہ تک اٹک جیل میں قید رکھا گیا۔ جب مجھے ضمانت ملی، تو فوج کی طرف سے میرے خلاف انکوائری شروع کر دی گئی۔
ان حالات کے دوران، میں کسی طریقے سے ملک سے باہر نکل آیا ہوں۔
عمران خان کے پاس جیل میں ایک بریگیڈیئر کوبھیجا گیا ، اس نے کہا اگر آپ نو مئی پر معافی مانگ لیں تو آپکو حکومت دے دیں گے ۔عمران خان نے کہا کہ آپ قرآن پر ہاتھ رکھ کر کہہ سکتے ہیں کہ نو مئی میں نے کروایا ہے تو بریگیڈیئر نے ایسا کرنے سے انکار کر دیا ۔
یاد رکھو ! وہ دن دور نہیں ہے جس کے بارے میں اللہ فرماتا ہے :
الیوم نختم علی افواھھم وتکلمنا ایدیھم وتشھد ارجلھم بما کانو یکسبون”(یٰسین:٦۵)
(آج ہم ان کے مونہوں پر مہر لگا دیں گے اور ان کے ہاتھ ہمارے ساتھ باتیں کریں گے اور ان کی ٹانگیں گواہی دیں گی جو وە کیا کرتےتھے )
اس دن تو گواہی کے لئیے قرآن پر ہاتھ رکھنے کی بھی ضرورت نہیں ہو گی
🚨 یہ لانگ مارچ اسلام آباد پر حملہ نہیں عدالتوں کے حق میں ہے ،آپ کے احکامات پر حکومتی ادارے اور سپرٹنڈنٹ اڈیالہ عملدرآمد نہیں کرتا ، ایڈووکیٹ جنرل کے پی کا چھکا
میرے کل کے ٹویٹ پر ہونے والا ردِعمل میں نے دیکھا۔ جو بات میں نے کل کی، وہ میں روزانہ کرتا ہوں۔
اس پر آنے والے ردِعمل اور کمنٹس پڑھے۔ عوام کی نبض اور دل کی بات یہی ہے۔ اسٹیبلشمنٹ اور عاصم منیر کو میری بات سمجھنی چاہیے کہ عوام نے اتنا ردِعمل کیوں دیا۔
آج میرے مرحوم بھائی کے فارم کو ملیا میٹ کر دیا گیا ہے۔
لگ رہا ہے کہ آج رات مجھے گرفتار کر لیا جائے۔ پولیس کے جتھے میرے گاؤں میں داخل ہونا شروع ہو گئے ہیں۔
میں تیار بیٹھا ہوں۔ آؤ اور کر لو گرفتار!
لیکن ضرور سوچنا کہ اس ٹویٹ سے بھونچال کیوں آیا اور حقیقت میں عوام کی رائے کیا ہے۔
آپ جب 11 ارب کا جہاز لیتے ہیں، IMF خوش ہوتا ہے، آپ جب کروڑوں کی گاڑیاں لیتے ہیں، IMF بہت خوش ہوتا ہے، جب آپ حکومتی ٹھیکے اپنی ہی کمپنیوں کو دیتے ہیں، IMF خوشی سے پاگل ہو جاتا ہے، IMF حرامزادہ غصہ تب کرتا ہے جب آپ کسی غریب کو کوئی فائدہ دیتے ہیں۔ عدیل راجہ
#pakistan@adeelraja
خبر کا سورس لنک جاننے کیلئے QR Code سکین کریں۔۔
پہلی مرتبہ سینئر قانون دان فیصل صدیقی صاحب کو اس طرح کے لب و لہجے میں گفتگو کرتے اور سخت باتیں کرتے سنا ہے جس میں وہ وزیر اعظم کو بے اختیار وزیر اعظم اور چپراسی تک کہہ رہے ہیں۔ کاریگروں کو سوچنا چاہیے کہ نرم اور مہذب لہجے میں دلیل سے گفتگو کرنے والوں کا صبر کیوں جواب دے رہا ہے۔
اسحاق ڈار نے سارک کانفرنس کے نام پر 34 بلٹ پروف گاڑیاں کروڑوں روپے میں منگوائیں۔ کانفرنس نہ ہوئی تو نواز شریف نے مبینہ طور پر 20 سرکاری گاڑیاں ’’مالِ مفت، دلِ بے رحم‘‘ سمجھ کر اپنے پاس رکھ لیں اور کچھ خاندان کے افراد کو بھی دے دیں۔
یعنی عوام کے پیسے سے خریدی گئی گاڑیاں، عوام کے خزانے سے خرچ، اور فائدہ شریف خاندان کا؟ 2019 میں عمران خان کے دورِ حکومت میں نیب نے رائے ونڈ سے یہی گاڑیاں برآمد کیں۔
میں براہِ راست عاصم منیر سے سوال کرتا ہوں۔۔
کبھی تم صوبے بنا رہے ہو، کبھی صدر بن رہے ہو، کبھی مارشل لا لگا رہے ہو۔ عاصم منیر، تم ہو کون؟ تم نے پاکستان کو سمجھ کیا رکھا ہے؟ تم ایک عام چوکیدار ہو، تمہاری حیثیت عام شہری سے بھی کم ہے۔ تمہاری زمینیں، تمہارے بنگلے، کھربوں کی جائیدادیں کہاں سے آتی ہیں؟ ہم تمہیں امریکہ کے جرنیل کے برابر تنخواہ دینے کو تیار ہیں، لیکن تم جزیروں سے کم تو بات نہیں کرتے۔
صوبے بننے چاہئیں، لیکن عوام کی مرضی سے، تمہاری مرضی سے نہیں۔ میں قائداعظم کا بمبئی کا محل دیکھ رہا تھا، وہ یہاں زیارت میں پڑا تھا۔ قائداعظم نے وہ محل کیوں بنوایا؟ انہوں نے اپنی بیٹی کو نہیں دیا۔ وہ ایک مصروف ترین وکیل تھے۔ قائداعظم نے ہر چیز اپنی قوم کو دی۔
مشرف صاحب کا بیس پچیس ارب کا محل ہے، جس میں وہ ایک رات بھی نہیں رہ سکا۔ عاصم، تمہارا انجام بہت برا ہوگا، پتہ نہیں ہم ہوں گے یا نہیں۔ عوام اب ہر چیز جان چکی ہے۔ سہیل آفریدی کو کون جانتا تھا؟ اس نے اتنی عوام نکالی ہے۔
قوم عمران کو لیڈر مانتی ہے۔ وہ لاوارث نہیں ہے۔ تم کون ہو قوم کے لیڈر کا علاج روکنے والے؟ تم بتاؤ، آج تم ہو کون؟ تمہارے پاس صرف بندوق ہے۔
میں 70 سال سے سیاسی ورکر ہوں۔ تم میرا کیا کر سکتے ہو؟ مجھے 12 سال کی عمر میں آپ کے ایوب خان نے پہلی دفعہ 1964 میں جیل بھیجا۔ میں نے اسمبلی میں ضیاء الحق کو 1985ء میں کہا تھا:
اور یہی تمہیں کہتا ہوں
عاصم منیر، تمہیں بھی کہتا ہوں:
About turn quick march go back to your barracks and never come back again.
ڈی جی آئی ایس پی آر نورین خان کے انٹرویو پر وردی پھاڑ کر شور مچاتے رہے آج یہاں کیوں خاموش ہیں؟!
مریم نواز کا بھارت کی حمایت دیا گیا بیان !
بھارتی میڈیا ڈی جی آئی ایس پی آر کے بیانیے کی دھجیاں اڑا رہا ہے ۔ اور فخر سے پوری دنیا کو بتا رہا ہے کہ پاکستان کی سیٹنگ وزیراعلی نے کہا ہے کہ انھیں بھارت سے ذیادہ خطرہ اپنے صوبوں سے ہے!
"میں نے جب پیش ہونا تھا گیارہ اریسٹ وارنٹ جاری کیے گئے، میرے اکاؤنٹ ، شناختی کارڈ بند کیے گئے اب جب پراسکیوٹر پیش نہیں ہو رہا تو کیا پراسکیوٹر قانون سے اوپر ہے؟ ہم نے چیلنج کیا ہے تو اب جج صاحب نے کل اس کو بلایا ہے، ہم پیش ہورہے تو پراسیکیوٹر کے خلاف اریسٹ وارنٹ کیوں جاری نہیں ہورہے "۔
علیمہ خان
@Aleema_KhanPK