In Gomazi area of Tump Kech Balochistan the fascist Pakistani army raided poor families’ homes, stole their hard-earned belongings, then set them ablaze, women and children watched their entire lives turn to smoke,this is genocidal looting and arson by a cruel occupying state
پاکستانی آرمی کی بلوچستان میں جارحیت جاری
کیچ کے علاقے تمپ میں سیکیورٹی فورسز نے کئی لوگوں کے گھروں کو نذرِ آتش کیا اور بعض گھروں کو مسمار کر دیا ہے۔
یاد رہے کہ کچھ سال قبل ریاستی سیکیورٹی فورسز نے ہمارے اپنے گھر کو بھی اسی طرح جلا کر مسمار کر دیا تھا۔
#JuisticeForBalochistan
ریاست عام لوگوں کو TTP کے سامنے کھڑا کر رہی ہے۔ مقامی لوگوں کو مسلح کیا جا رہا ہے تاکہ وہ TTP کا مقابلہ کریں۔ یہ وہ واحد ریاست ہے جس کے ادارے سیکیورٹی کے نام پر اربوں روپے کا بجٹ لیتے ہیں، لیکن جب لڑائی کا وقت آتا ہے تو عام شہریوں کو ہتھیار پکڑا دیتے ہیں۔ سردار میر بادشاہ کی تقریر کی ویڈیو دیکھی، جس میں دائیں بائیں پولیس اور سیکورٹی اداروں کے اہلکار بیٹھے ہوئے ہیں، لیکن موصوف مقامی لوگوں کو ہتھیار اٹھانے پر آمادہ کر رہے ہیں۔ یہ صورتحال تمن قیصرانی میں حالات کو مزید کشیدگی کی طرف لے جائے گا۔ مقامی لوگوں کو بھی ہوش کے ناخن لینے چاہیں، سیکیورٹی فورسز جانے اور ٹی ٹی پی جانے ۔ لڑائی کے لیے سرکار پیسہ سیکیورٹی فورسز کو دیتی ہے نا کہ مقامی آبادی کو، اور نا ہی سیکیورٹی عام لوگوں کی زمہ داری ہے۔
جب مردوں کے سامنے پینٹ گیلی ہو جائے تو عورتوں کو نشانہ بنانا دہشت گرد نامرد ذانی فوج کی پرانی عادت ہے
بلوچ عورتوں کو اٹھانا اور پھر بلوچستان کے مردوں کے ہاتھوں کتوں کی طرح مارے جانے پر شور کرنا انتہائی منافقانہ عمل ہے
بلوچ طالبہ ماہ جبین کی جبری گمشدگی کو آج
~380~ دن مکمل ہوگئے !!
آئیں ہم سب مل کر بلوچ طالبہ کی باحفاظت بازیابی کے لیے آواز اٹھائیں۔
#ReleaseMahjabeenBaloch
جرنیلوں نے ہاتھوں میں قرآن پاک اٹھا کر کہا کہ ہم آپ کے مسلمان بھائی ہیں، اللہ رسول اور قرآن کو ضامن بنا کر کہتے ہیں کہ ہم آپ کے ساتھ انصاف کریں گے
بلوچ نواب نوروز نے قرآن کے نام پر جرنیلوں پہ اعتبار کر لیا
"انہیں جرنیلوں نے نواب نوروز اور اس کے خاندان کو پھانسی پر لٹکا دیا تھا"
کشمیریوں کہ پتہ ہونا چاھیئے کہ پاکستانی جرنیل ایک ہاتھ میں قرآن اٹھا کر دوسرے ہاتھ سے خنجر گھونپتے ہیں۔
@JAAC__Official #کشمیر
یہ مقبوضہ بلوچستان ہے جہاں لوٹ مار کا سامان لے جانے والے سارے ٹرکوں کو چن چن کر راکھ میں بدل دیا جاتا ہے
پاکستان کی دہشت گرد فوج نے پاکستانیوں کو دہائیوں سے سی پیک کے نام پر چوتیا بنایا ہوا ہے اور اپنا ذاتی دھندا چلا رہے ہیں
لیکن حقیقت یہی ہے کہ بلوچستان علیحدہ ملک ہے اور غیر ملکی زمین پر چلنے والا ہر فوجی پروجیکٹ صرف ایک لولی پاپ ہے
صدام بلوچ کو کیچ سے جولائی 2025 کو ریاستی سیکورٹی فورسز نے جبری طور پر لاپتہ کیا تھا،آج صدام کے اہل خانہ کو جو اسکی بحفاظت واپسی کے منتظر تھے ، صدام کی مسخ شده لاش کو واپس دےدیا گیا۔
افسوس ہم اپنی بلوچ قوم کی بد ترین نسل کشی کی بےبس عینی شایدین ہیں ۔!!! 💔
#StopBalochGenocid
Dawood Baloch an ex student from uet lahore was forcibly detained infront of his family.Still no whereabouts of him are known.
We need our loved ones back.
#ReleaseDawoodBaloch#EndEnforcedDisappearances
ایک ڈاکٹر کی حیثیت سے میں اپنا تعارف کراتا ہوں کہ میں پنجاب کے ایک بڑے ٹیچنگ ہسپتال میں ڈاکٹر ہوں اور وہاں خدمات انجام دے رہا ہوں۔میرے ایک پرانے دوست نے مجھ سے رابطہ کیا جو پنجاب کا رہائشی ہے۔ رسمی سلام کے بعد اس نے کہا کہ ڈاکٹر صاحب، اگر ممکن ہو تو آپ سے ایک چھوٹا سا کام کروانا ہے۔ میں نے کہا کہ آپ میرے پرانے دوست ہیں، بتائیں کیا کام ہے؟اس نے بتایا کہ میرا ایک کزن پاکستان آرمی میں سپاہی ہے اور اس کی پوسٹنگ کوئٹہ میں ہے۔ آرمی کا ضابطہ انتہائی سخت ہے اور اس کی ڈیوٹی فیلڈ میں لگائی گئی ہے۔ اس نے ریزائن دینے کی کوشش کی مگر اس کی ریزائن منظور نہیں ہو رہی۔ وہ والدین کا اکلوتا بیٹا ہے اور اس پر بڑی ذمہ داریاں ہیں۔ اس لیے وہ چاہتا ہے کہ کسی طرح ایک میڈیکل سرٹیفکیٹ بنوا دیا جائے جس میں اسے ان فٹ قرار دیا جائے تاکہ میڈیکل گراؤنڈز پر آرمی سے ڈسچارج لے سکے۔اس سے پہلے اس نے کوئٹہ کے ایک ہسپتال سے میڈیکل سرٹیفکیٹ بنوایا تھا جس میں ارتھرائٹس کی وجہ سے ان فٹ قرار دیا گیا تھا۔ مگر وہ پڑھا لکھا نہیں ہے، اس کی تعلیم صرف میٹرک ہے، اس لیے اسے پتہ نہیں تھا کہ کس بیماری کا سرٹیفکیٹ بنوانا درست ہوگا۔ جب اس نے وہ سرٹیفکیٹ اپنے سینئر کے پاس جمع کرایا تو پینل نے اسے مسترد کر دیا۔ پینل کا کہنا تھا کہ ارتھرائٹس عام طور پر ۵۰ سال سے زیادہ عمر والوں کو ہوتی ہے جبکہ اس کی عمر صرف 30 سال ہے۔ اب وہ شدید پریشان ہے۔دوست کی یہ بات سن کر مجھے حیرت ہوئی کہ آخر بلوچستان میں کیا صورتحال ہے اور ایک عام فوجی کا مورال کتنا گر چکا ہے۔ میں نے اپنے دوست سے کہا کہ میں اپنے سینئر ڈاکٹر سے مشورہ کر کے آپ کو بتاتا ہوں۔دوسرے دن میں نے اپنے سینئر ڈاکٹر (آرتھوپیڈک) سے یہ ساری کہانی بیان کی۔ انہوں نے صاف الفاظ میں کہا کہ اگر یہ کوئی عام شہری یا پولیس وغیرہ کا کیس ہوتا تو ہم شارٹ کٹ لگا کر unfit سرٹیفکیٹ بنا سکتے تھے۔ مگر یہ شخص پاکستان آرمی سے تعلق رکھتا ہے۔ آرمی کا اپنا چیک اینڈ بیلنس سسٹم ہے اور اس کا میڈیکل سرٹیفکیٹ صرف سی ایم ایچ یا کسی ملٹری ہسپتال سے ہی قابل قبول ہوگا۔ ہم ملٹری کے اپنے نظام کو نظرانداز کر کے اپنی نوکری کو خطرے میں نہیں ڈال سکتے۔ میں بھی ان کی بات سے مکمل طور پر متفق تھا۔ میں نے اپنے دوست کو ساری بات کھل کر بتائی اور کہا کہ یہ کام ہم سے نہیں ہو سکتا۔ اس کے بعد اس دوست نے مجھے لڑکے کی بہن کی وائس میسجز بھیجیں جن میں وہ روتے ہوئے التجا کر رہی تھی کہ کسی نہ کسی طرح میرے بھائی کا میڈیکل سرٹیفکیٹ بنا کر دیں تاکہ وہ صحیح سلامت گھر واپس آ سکے۔ اس کا ریزائنیشن لیٹر منظور نہیں ہو رہا اور نہ ہی اس کی پوسٹنگ کسی محفوظ جگہ پر تبدیل کی جا رہی ہے۔ اسے کوئٹہ اور اس کے نواحی خطرناک علاقوں میں تعینات کر دیا گیا ہے۔مجھے دلی طور پر بہت دکھ ہوا، مگر میں اپنے پیشہ ورانہ اخلاقیات اور قوانین کے پابند تھا۔ میں نے معذرت کر لی اور کہا کہ آپ اس کی بہن کو سمجھا دیں کہ ڈاکٹرز نے واضح طور پر کہہ دیا ہے کہ یہ کام صرف سی ایم ایچ یا کسی ملٹری ہسپتال سے ہی کروایا جا سکتا ہے۔ اس پوری کہانی کو لکھنے کا مقصد یہ ہے کہ جب کوئی غریب آدمی اپنی غربت اور بے روزگاری کو وجہ بنا کر پاکستان آرمی، رینجرز یا ایف سی میں شامل ہوتا ہے تو اس کی پریشانیاں اور بھی بڑھ جاتی ہیں۔ چالیس ہزار روپے کی تنخواہ کے لیے وہ اپنی اور اپنے خاندان کی زندگی کو مسلسل خطرے میں ڈال دیتا ہے۔ حالانکہ وہ دیہاڑی لگا کر یا کسی دوسرے محفوظ کام سے زیادہ کما سکتا ہے، بغیر اپنی جان کو خطرے میں ڈالے اور بغیر اپنے بوڑھے والدین اور بہن بھائیوں کو ہر وقت پریشان کیے۔لہٰذا، پاکستان آرمی یا اس جیسی کسی بھی فورس میں شامل ہونے سے پہلے سوچ سمجھ کر فیصلہ کریں۔
Forwarded as received
Dad Shah Baloch, was forcibly disappeared on 21/04/26 Since that day his family has been living in pain uncertainty and endless waiting.
His family demand the immediate release of Dad Shah Baloch and all other missing persons
#EndEnforcedDisappearances#ReleaseDadShahBaloch
A 9th grade student and teenager Aqif Baloch S/O Fazal Rehman Baloch was subjected to enforced disappearance by Pakistan F.C and its CTD armed forces from the Quetta city Balochistan, according to the reports the whereabouts of the victimized 14 year student is still unknown @UN
یہ کھیل ان دہشتگردوں کا اب سب کو سمجھ آگیا ہے ناپاک فوج معصوم نہتے بلوچوں کو اغوا کرکے مسنگ پرسن بنا کر پھر جعالی دہشتگرد ان کاونٹر میں دہشتگرد بنا کر ان کو نہتے نوجوانوں کو شہید کر دیتے @OfficialDGISPR تم صرف اللہ سے جنگ کر رہے یہ گناہ کر کے
بلوچ یکجہتی کمیٹی (BYC) نے حالیہ دنوں میں پیش آنے والے تین مختلف جابرانہ واقعات کی تفصیلات جاری کرتے ہوئے بین الاقوامی انسانی حقوق کی تنظیموں اور عالمی اداروں سے فوری نوٹس لینے کی اپیل کی ہے۔
#dailysangar#Balochistan#PakistanArmy#EndEnforcedDisappearances#BalochGenocide #BalochWomen #BYC
https://t.co/AnFeXwNGdv
𝟭𝟵-𝘆𝗲𝗮𝗿-𝗼𝗹𝗱 𝗦𝗵𝗮𝗯𝗲𝗲𝗿 𝗔𝗵𝗺𝗲𝗱 𝘄𝗮𝘀 𝘁𝗮𝗿𝗴𝗲𝘁𝗲𝗱 𝗮𝗻𝗱 𝗸𝗶𝗹𝗹𝗲𝗱 𝗼𝗻 𝗝𝘂𝗻𝗲 𝟴, 𝟮𝟬𝟮𝟲, 𝗶𝗻 𝘁𝗵𝗲 𝗕𝗮𝘀𝗶𝗺𝗮 𝗮𝗿𝗲𝗮 𝗼𝗳 𝗪𝗮𝘀𝗵𝘂𝗸.
𝙅𝙪𝙣𝙚 8, 2026 - 𝘽𝙖𝙨𝙞𝙢𝙖, 𝙒𝙖𝙨𝙝𝙪𝙠, 𝘽𝙖𝙡𝙤𝙘𝙝𝙞𝙨𝙩𝙖𝙣
Shabeer Ahmed son of Sabro Khan, a 19-year-old farmer from Kocha Gresha Naal. He was forcibly disappeared on April 27, 2026. Following his disappearance, his family made continuous efforts to trace his whereabouts but received no information regarding his condition or location.
After remaining missing for more than a month, Shabeer Ahmed was killed and his bullet riddled body was dumbed
on June 8, 2026, in the Basima area of Washuk. The circumstances surrounding his disappearance and subsequent death have raised serious concern among local residents and human rights observers.
Shabeer was a young farmer who worked to support his family through agriculture. His death has left his family, relatives, and loved ones devastated and in mourning.
This case further highlights ongoing concerns regarding enforced disappearances and unlawful killings in Balochistan. Families affected by such incidents often endure prolonged periods of uncertainty while searching for their loved ones and pursuing justice.
The Baloch Yakjehti Committee (BYC) strongly condemns the killing of Shabeer Ahmed. This incident reflects the continuing pattern of enforced disappearances and killings in Balochistan, where families are often left searching for their loved ones for months, only to later receive their dead bodies.
We call on international human rights organizations and global institutions to urgently take notice of the situation in Balochistan and take meaningful steps to ensure justice for victims and their families.
#StopBalochGenocide
پاکستانی فوج سے منسلک سوشل میڈیا آئی ڈیز 2015 میں بلوچستان کے علاقے بولان میں شہید ہونے والے محی الدین کرد کی تصویر کو شائع کرکے جھوٹ بول رہے ہیں کہ وہ افغانستان کے جنوبی صوبے ہلمند میں مارا گیا۔