اگر عامر جمال کے 804 لکھنے سے اتنا مسلہ ہے تو وسیم اکرم کےخلاف بھی ایکشن لیں وہ تو ہر جگہ سیدھا نام لیتا ہے۔
عامر جما�� کو اسکے ٹیلنٹ کی بنیاد پر پورا موقع ملنا چاہیے افریقہ ولڈکپ میں اسکی ضرورت بھی ہے۔
ویسے قومی پلیئرز کو بھی چاہیے کہ وہ کھیل کو سیاست سے دور رکھیں
ساوتھ افریقہ میں آپکو ایک یا دو میڈیم پیسر آلرونڈر پلینگ الیون میں کھلانے ہیں،اس لیے ان باہمی سیریز میں انکو چانس دینا بہت ضروری ہے۔
اس وقت پاکستان کے پاس یہ کچھ آپشن ہیں جن میں سے دو کو ہر صورت سکواڈ میں ہونا چاہیے۔
1-فہیم
2-دانیال
3-عامر جمال
4-خاں
عمران خان نے خیبر پختونخواہ کو بلدیاتی نظام دیا لیکن پنجاب کو نہیں، مریم نواز بھی پنجاب کو بلدیاتی نظام نہیں دے رہی، اسلام آباد میں بھی بلدیاتی انتخابات نہیں کروائے جا رہے تو لاہور اور اسلام آباد کو آزاد کروانے کی کوئی بات نہیں کرتا۔ سب کو کراچی کا درد اٹھتا ہے جہاں بلدیاتی نظام بھی موجود ہے، وسائل بھی کراچی کو بہتر بنانے پر صرف ہو رہے ہیں۔ 52 ارب روپے کی لاگت سے 39 کلومیٹر طویل شاہراہ بھٹو بنائی گئی ہے جس سے کراچی پورٹ اور انڈسٹریل ایریا سے نکلنے والی ہیوی ٹریفک شہر سے باہر منتقل ��و جائے گی۔ 25 لاکھ لوگ روزانہ اس سڑک سے مستفید ہوں گے۔۔۔
مصباح الحق اور عاقب جاوید جیسے لوگوں کو میں پچھلے بیس سال سے پاکستان کرکٹ بورڈ کے سیٹ اپ میں دیکھ رہا ہوں۔ انکے ساتھ انضمام الحق، مشتاق احمد، ثقلین مشتاق، وقار یونس، کچھ عرصہ سے وہاب ریاض اور کئی دوسرے بھی مکمل طور پر اس سیٹ اپ کا حصہ رہے اور ہیں۔ مگر پاکستان کرکٹ بد سے بدترین حالات سے دوچار ہوگئی۔ کھلاڑی ملک چھوڑ گئے، کئی کرکٹ چھوڑ گئے، کرکٹ کمیونٹی مایوسی اور شدید بدحالی کا شکار رہی ۔ پاکستان کرکٹ ٹیم تمام فارمیٹس میں نیچے سے نیچے جا چکی ہے۔
کوئی بھی گراوٹ یا تباہی ایک دم نہیں آتی یہ مسلسل بدترین پالیسیوں، ناقص حکمت عملی، شعور سے عاری فیصلوں کا شاخسانہ ہوتی ہے جس کا نتیجہ کرکٹ سے محبت کرنے والی عوام اور کرکٹ کمیونٹی کو بھگتنا پڑتا ہے۔
اب سوال یہ ہے کہ جب یہ لوگ اتنے عرصہ سے بڑے عہدوں پر فائز ہیں تو تباہی اور بربادی کی ذمہ داری بھی انکو قبول کرنی چاہیے کیونکہ یہ کون سا چیرٹی یا سوشل ورک کر رہے ہیں۔ کبھی مینٹورز کی صورت میں پچاس لاکھ ماہانہ اور کبھی کوچ ڈائریکٹر اور کنسلٹنٹ کی صورت میں کروڑوں وصول کر رہے ہیں ایک ایسے ملک میں جہالت نوے فیصد آبادی خط غربت سے نیچے زندگی بسر کرنے پر مجبور ہے۔ تو جواب تو دینا پڑے گا۔
اگر جنرل باجوہ کے تلوے چاٹتے ہوئے عمران خان کو اٹھہتر سال کی اسٹیبلشمنٹ کی اصلیت کا نہیں پتہ تھا تو وہ دنیا کے سب سے بڑے جاہل تھے اور اگر پتہ تھا تو دنیا کے سب سے بڑے منافق تھے۔۔۔
اب فیصلہ خود کر لیں کہ عمران خان صاحب جاہل ہیں یا منافق۔
یہ ہے عمر چیمہ جن کو صحافت کا لبادہ پہن کر دوسروں کی کردار کشی پرباقاعدہ لاکھوں کی جرمانے عدالتوں سے ہو چکے ہیں
لیکن پھر بھی دوسروں کی کردارکشی انکا پسندیدہ مشغلہ ہے-آجکل ویوز کم ہونے کی وجہ سے قوم کے شہید لیڈروں کی کردار کشی پر لگے ہوئے ہیں
کوئ شرم ہوتی ہے کوئ حیا ہوتی ہے
Malik sahb ye log Nawaz or Imran deserve krty hn
Zra c relaxation mily to Bhutto py bhonkna shru kr dety hn
Patwari , youthiyon sy zyada khatrnak hoty hn..jb iqtidar m hon
بھٹو کے دو پہلو تھے ایک جمہوری بھٹو دوسرا منقسم المزاج یقینا ان سے بہت سے غیر جمہوری فیصلے بھی ہوئے ۔لیکن ان کی جمہوری خدمات کو بھی یکسر نظر انداز کرنا مناسب نہیں ۔
بھٹو کو ان کی خامیوں نہیں خوبیوں کی وجہ سے پھانسی دی گئی ۔