کوئٹہ سمیت بلوچستان بھر میں زندگی معمول کے مطابق رواں دواں ہے اور عوام نے واضح طور پر اس تاثر کو رد کیا ہے کہ نام نہاد ہڑتالوں کو کسی قسم کی عوامی حمایت حاصل ہے،بازاروں کی سرگرمی اور شہریوں کی مصروفیات اس بات کا ثبوت ہیں1/2
#Balochistan#Quetta#SaryabRoad
سی پیک روٹ کی بندش کے ذریعے احتجاج عوامی زندگی اور روزگار کو متاثر کرتا ہے، جبکہ مسنگ پرسنز کے نام پر ایک بیانیہ بنا کر بعض عناصر مبینہ طور پر بی ایل اے کے ایجنڈے کو تقویت دیتے ہیں۔
#Pakistan#Balochistan#Soimo
سیکیورٹی کارروائیوں کے بعد شدت پسند گروہ سوشل میڈیا پر پرانی ویڈیوز کو نئے واقعات بنا کر خوف پھیلانے کی کوشش کرتے ہیں، مگر اب یہ طریقہ بے نقاب ہو چکا ہے اور عوام زیادہ باخبر ہے۔
#Pakistan#Balochistan#Soimo
پاکستان تحریک انصاف کا وفاقی حکومت کے دھوکے پر مبنی نام نہاد پیٹرول سبسڈی اور وفاقی وزراء کی پریس کانفرنس پر ردعمل:
پاکستان تحریک انصاف وفاقی حکومت کے فراڈ کے مترادف نام نہاد عوامی ریلیف کے اعلانات کو یکسر مسترد کرتی ہے۔
اس مسلط شدہ فارم 47 کی وفاقی حکومت نے جمعرات کو پیٹرول 137 روپے اور ڈیزل 184 روپے فی لیٹر بڑھا کر عوام پر مہنگائی کا ایٹم بم گرایا، اور پھر صرف 24 گھنٹوں کے اندر تحریک انصاف اور شدید عوامی ردعمل کے دباؤ میں آ کر صرف پیٹرول کی قیمت میں 80 روپے فی لیٹر کمی کا اعلان کیا۔ مگر حقیقت یہ ہے کہ پیٹرول اب بھی 57 روپے فی لیٹر مہنگا کر دیا گیا ہے جبکہ ڈیزل کی قیمت میں ایک پیسے کی بھی کمی نہیں کی گئی۔ یہ حکومت کی کھلی رنگ بازی کے علاوہ کچھ نہیں۔ فارم 47 کے مسلط شدہ وزیراعظم صاحب نے قوم سے خطاب میں اعتراف کیا کہ انہوں نے عجلت میں کابینہ سے مشورہ نہیں کیا، اور بعد میں “مشورہ” ملا کہ قیمت کم کی جائے۔ ہم پوچھتے ہیں کہ آئین کے مطابق وفاقی حکومت کا مطلب پوری کابینہ ہوتی ہے، نہ کہ ایک فرد، تو کیا شہباز شریف صاحب نے 137 روپے پیٹرول اور 184 روپے ڈیزل بڑھانے کا فیصلہ بغیر کسی سے مشورہ کئے اکیلے ہی کر لیا؟
آج کچھ دیر قبل وفاقی وزراء کی پریس کانفرنس نے سچ مزید واضح کر دیا، وہ پریس کانفرنس کم اور اسٹیج ڈرامہ زیادہ تھی۔ عوام کو یہ تاثر دیا جا رہا ہے کہ وزیراعظم راتوں کو جاگتے ہیں، نیند نہیں آتی اور ہر وقت عوام کا سوچتے رہتے ہیں۔ عوام سب جانتی ہے، شہباز شریف صاحب کو بھی، نون لیگ کو بھی اور حکومتی اتحادیوں کو بھی کہ انہیں سوائے اپنے مفادات کے کسی کی فکر نہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ یہ اضافہ ٹیکس شارٹ فال پورا کرنے کے لیے عوام کا خون نچوڑنے کی ایک بھونڈی کوشش تھی۔ چوری پکڑی گئی، کھیل نہیں چلا تو یوٹرن لینا پڑا، وہ بھی آدھا۔ آج بھی پیٹرول 378 روپے فی لیٹر ہے اور ڈیزل 520 روپے فی لیٹر پر جوں کا توں کھڑا ہے، تو کس ریلیف کی بات ہو رہی ہے؟
سرکاری ٹرانسپورٹ مفت کرنے کا اعلان اور موٹر سائیکل سواروں کیلئے دو ہزار روپے 20 لیٹر کی مد میں پیٹرول سبسڈی کا جھانسہ محض عوام کو بہلانے کا ایک اور ڈرامہ ہے۔ سبسڈی بھی صرف 70 سی سی موٹر سائیکل تک محدود! کیا 100 سی سی یا 125 سی سی موٹر سائیکل رکھنے والا امیر ہو گیا؟ کیا مہران یا آلٹو رکھنے والا امیر ہو گیا؟ ہرگز نہیں! یہ سب فضول اقدامات ہیں۔
اصل حقیقت یہ ہے کہ پیٹرول کی لاگت تقریباً ڈھائی سو روپے فی لیٹر ہے اور باقی سارا بوجھ لیوی اور ٹیکسز کی شکل میں عوام پر ڈالا جا رہا ہے تاکہ حکومتی نااہلی اور ٹیکس شارٹ فال کو طرح طرح کے ٹیکس اور ڈیوٹیز لگا کر عوام کا خون پسینہ نچوڑ کر پورا کرنے کی کوشش کی جا سکے۔
گزشتہ چار سال میں اوسط شرح نمو صرف ایک اشاریہ چھ فیصد رہی ہے، یہ کارکردگی نہیں بلکہ ناکامی ہے۔ دوسری طرف حکمرانوں کے غیر ملکی دورے، شاہانہ اخراجات اور اربوں روپے کی عیاشیاں جاری ہیں۔ حالیہ مثال پنجاب کی وزیر اعلیٰ کا اربوں روپے کا شاہانہ جہاز ہے جس پر کروڑوں روپے ماہانہ خرچ ہوتے رہینگے۔ پھر یہ دعویٰ کیا جاتا ہے کہ یہ عوام کے درد میں مبتلا ہیں، یہ سب جھوٹ، دھوکہ اور فریب ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ یہ حکومت خود ایک دھوکے اور فریب کی پیداوار ہے۔
نون لیگ کی پرانی فنکاری ایک بار پھر بے نقاب ہو چکی ہے۔ پہلے قیمتیں 458 روپے تک لے جاؤ، پھر 80 روپے کم کر کے “ریلیف” کا ڈھونگ رچاؤ، اور اصل اضافہ 378 روپے پر برقرار رکھو۔ مگر اب عوام اس دھوکے کو سمجھ چکی ہے۔ ہماری جماعت 378 روپے فی لیٹر پیٹرول اور 520 روپے فی لیٹر ڈیزل کی قیمت کو مکمل طور پر مسترد کرتی ہے۔
ہم مطالبہ کرتے ہیں کہ پیٹرول پر عائد تمام غیر ضروری ٹیکسز اور لیویز ختم کر کے قیمت 300 روپے فی لیٹر مقرر کی جائے۔ اسی طرح ڈیزل، جو اس وقت 520 روپے فی لیٹر کی تاریخ کی بلند ترین سطح پر ہے، فوری طور پر کم کر کے سابقہ سطح پر بحال کیا جائے کیونکہ مہنگائی، ٹرانسپورٹ کرایوں اور روزمرہ اشیاء کی قیمتوں کا براہ راست انحصار ڈیزل پر ہے۔ اس قیمت پر نہ کاروبار ممکن ہے نہ عوام کو کوئی ریلیف مل سکتا ہے۔
خاص طور پر اس وقت جب گندم کی کٹائی کا سیزن جاری ہے، کسانوں کے لیے 520 روپے فی لیٹر ڈیزل کے ساتھ کھیتی باڑی جاری رکھنا ناممکن ہو چکا ہے۔ اگر حکومت واقعی عوام کو ریلیف دینا چاہتی ہے تو فوری طور پر پیٹرول اور ڈیزل کی قیمتیں جنگ سے پہلے والی سطح پر بحال کرے ورنہ یہ تمام دعوے محض کھوکھلے نعرے اور سیاسی ڈرامہ بازی ہیں۔
پاکستان تحریک انصاف عمران خان صاحب کے ویژن کے عین مطابق کسی صورت عوام کے حقوق پہ سمجھوتہ نہیں کرے گی اور ہم پاکستان کے ایک ایک فرد کے ساتھ کھڑے ہیں اور ہمیشہ کھڑے رہینگے انشاء اللہ۔
جاری کردہ
مرکزی شعبہ اطلاعات
پاکستان تحریک انصاف
”روس کا دورہ کر کے صدر پیوٹن سے میں نے معاملات طے کر لیے تھے کہ بھارت کی طرح وہ ہمیں بھی سستا تیل دیں۔ مگر جب واپس آیا تو “گریٹ” 22 گریڈ افسر نے امریکہ کی خوشنودی کیلئے روس کی مذمت کر دی۔ میں یہ سب اپنی ذات کیلئے نہیں بلکہ پاکستانی عوام کے لیے کر رہا تھا کہ انہیں مہنگائی سے ریلیف مل سکے۔ “ سابق وزیراعظم عمران خان
عمران خان نے جنرل باجوہ کو رجیم چینج سے روکنے کی بہت کوشش کی، بتایا کہ معیشت بڑی مشکل سے میں نے سنبھالی ہے خدا کے لیے یہ کام مت کرو یہ تم مجھے نہیں نکال رہے پاکستان اس سے نیچے چلا جائے گا، جلسوں میں وہ کہتے رہے باجوہ کو سمجھاتے رہے، سٹاف کالج کوئٹہ میں عمران خان نے خطاب کرنا تھا جب خطاب کر کے واپس جہاز میں بیٹھے تو انہوں نے اپنے ایم ایس پر بڑے غصے کا اظہار کیا کہ اردو ہماری قومی زبان ہے تو تم کیوں انگلش بولتے ہو، لکھو کہ آئندہ کسی بھی پروگرام میں میں گیا وہاں پہ انگلش نہیں بولی جائے گی وہاں پہ اردو میں بات ہوگی تمام فوجی بھی اردو میں بات کریں گے، باجوہ کو عمران خان کا شلوار قمیض پہننا اور اردو بولنا بہت برا لگتا تھا اس لیے کہ وہ امریکہ کی طرف یا یورپ کی طرف دیکھتے تھے خود وہاں جا کر رہتے ہیں ان کے بچے وہاں پڑھتے ہیں چائنا کی طرف نہیں دیکھتے تھے، عمران خان نے خارجہ پالیسی بیلنس رکھنے کی کوشش کی کہ آزاد خارجہ پالیسی بنائیں لیکن یہ غلام ذہنیت کے لوگ ہیں۔
#RegimeChangeInPakistan
#PakistanUnderMartialLaw