سیکرٹ انفارمیشن کسی کو بتا نہیں سکتے۔ اور اب اسکی اپنی جماعت پی ٹی آئی نے پوری دنیا کو بتا دی،
پہلے بھی بتا چکی ہوں، عمران خان کو اسکے اپنے ہی لوگ مروائیں گے۔
#Pakistán#زندان_ٹوٹے_گا_خان_چھوٹے_گا#Ptiexposed
انڈیا کو دیکھ کر ایسا لگتا ہے کہ جگہ جگہ چکلے کھل چکے ہیں، انکو دیکھنے والوں کی نفسیات پر بھی برا اثر ہونا یہی، یہی وجہ ہے کہ انڈیا میں ریپ کیسز بہت زیادہ ہیں۔
#India#modidrama
#بم#شل#نیوز
چار اشخاص کا گٹھ جوڑ اربوں روپے لے ڈوبا عوام/انوسیٹرز/سمندر پار پاکستانیوں کے وہ بھی “پراپرٹی و پلاٹس” کے نام پر
راولپنڈی کی تاریخ کا سب سے بڑا لینڈ فراڈ سکینڈل
جس میں CBR Employees Cooperative Housing Society اور CBR Residencia Islamabad اور Faisal Town II اور Taj Residencia راولپنڈی نامی فراڈ سوسائٹیز کی آڑ میں چار اشخاص نے عوام سے اربوں لوٹے اور مبینہ طور پر غیر قانونی طریقہ سے بیرون ممالک منتقل کردیے
اس بڑے لینڈ سکینڈل کے مرکزی کرداروں میں مشتاق عسکری اور الطاف احمد آف عباس پور پونچھ، آزاد جموں کشمیر، چوھدری مجید آف فیصل ٹاؤن اور سردار تنویر الیاس مبینہ طور پر شامل
مشتاق عسکری و الطاف احمد نے ایک ہی زمین کے کاغذات بار بار اربوں روپے کے عوض فروخت کر ڈالے عوام عوام کو؛ پھر چودھری مجید آف فیصل ٹاؤن کو اور پھر چودھری تنویر الیاس آف سینٹورس/تاج ریذڈینشیاء کو اور ہڑپ کیے اربوں
یہی متنازع زمین پھر سے فروخت کی چودھری مجید نے فیصل ٹاؤن 2 اور سردار تنویر الیاس نے تاج ریذڈینشیاء میں
سب سے خوفناک و دلچسپ بات کہ اس ملٹی بلین لینڈ فراڈ کیس میں پاکستان مسلم لیگ ن کے ایک طاقتور وفاقی وزیر حنیف عباسی کا نام بھی گردش میں ہے جن پر الزام ہے کہ انہوں نے الطاف احمد/مشتاق عسکری اور چودھری مجید مابین اس متنازع زمین کا سودا کروا کر اپنے الیکشن کمپین لیے الطاف احمد سے بھاری نزرانہ وصول کیا
متائثرین اب رُل رہے FIA, NAB اور پولیس و اینٹی کرپشن دفاتر میں
خبر کی تفصیل و دیگر دستاویزات دیکھیں/پڑھیں مکمل تھریڈ میں
@chsandhilaa کیوں جناب یہ مریم نواز کے زاتی پیسوں سے بنا ہے، حکومت جتنی لیوی مانگتی ہے، قوم دیتی ہے، جتنا ٹیکس عوام سے نچوڑتی ہے، قوم خاموش ہے، آئی ایم ایف سے قرض لیتی ہے،جبکہ سادگی اور قربانی بھی عوام ہی دیتی ہے، یہ سب تو مزے میں، جہاز پر سفر، مکمل مراعات و پروٹوکول تو مریم کا پنجاب کیوں؟؟
وفاقی حکومت گالیاں کھا کر بھی لیوی کیوں لگاتی ہے؟
کیونکہ
"لیوی"وہ ٹیکس ہوتا ہے جو
وفاقی حکومت خود کھا جاتی ہے اور NFC کے تحت صوبوں میں بھی تقسیم نہیں کرتی۔
(اس سال 1500 ارب روپے لیوی کا ٹارگٹ ہے جو وفاقی حکومت خود"کڑچ کر جائے" گی)
پٹرولیم لیوی کو قانونی طور پر "ٹیکس" کے بجائے "نان ٹیکس ریونیو" یا ایک "لیوی" کے طور پر درجہ بند کیا گیا ہے۔ آئین کے تحت صرف مخصوص ٹیکس ہی "قابل تقسیم پول" (Divisible Pool) کا حصہ بنتے ہیں جنہیں صوبوں کے ساتھ شیئر کرنا لازمی ہوتا ہے۔
چونکہ لیوی قابل تقسیم پول سے باہر ہے، اس لیے وفاقی حکومت اس سے حاصل ہونے والی 100 فیصد رقم اپنے پاس رکھتی ہے۔
اس لیے عوام چاہے گندی گالیاں نکالے یا بدعائیں دے
لیوی لگا کر"وفاقی دیہاڑی"
ہر صورت لگائی جا رہی ہے۔
(اسد آر چوہدری)