اگر میں عاصم منیر ہوتا تو جو نیو ائیر نائٹ پر جو کچھ پاکستانی قوم نے کردیا ہے میری بھی کھل جاتی آنکھیں۔ حافظ صاحب کو صبح شام بریفنگز دی جاتی ہیں کہ سوشل میڈیا شیطانی چرخہ ہے یہ سب باہر بیٹھے ہوئے چند لوگ ہیں۔ امید ہے حافظ صاحب کے لیے نئے سال کا پہلا دن آگہی اور ادراک کا دن ہوگا۔ انہیں آج سمجھ آجائے گی کہ وہ پاکستان میں سب سے زیادہ نفرت کیے جانے والے شخص ہیں۔
There is open oppression and atrocities against this country and with its citizens. Its being calculated Inn Sha Allah ۔ Everyone who is involved, should be ready. Allah's stick is silent.#امپورٹڈ_حکومت_نامنظور
کو ٹھڈنگ کی ملے جائیگی، پھر اگر لوگوں کے لیئے بیٹھنے کے لیئے اضافی سھولت مھیا وفائے تو اس کا Reflection ارد گرد کے ماحول کو دوچار کردے گا۔۔
آپ جو جگہ بن گئیں ہیں، ان کو دکھا کر خوب داد لیتے ہو، اپ کو ان جگہوں کو بھی سامنے لانا چاھئے جس کو نظرانداز کیا جا رہا ہے۔
طارق روڈ اور خالد بن ولید روڈ کے درمیان ایک ground ہے، جو بلکل شکستہ حال ہے۔ میدان ھموار نہیں، جس پر چلا بھی نہیں جاسکتا، اس کے ایک حصے میں کچھرا پھینکا جاتا ہے، جو کئی روز تک جمع ھوکر بعد میں ٹیلا بن جاتا ہے۔ اس علاقے کو PECHS block 2 کہا جاتا ہے۔ continued
بیگم گراونڈ کہا جاتا ہے۔ اسے بابو بھائی کے نام سے بھی بلایا جاتا ہے۔
اس جگہ کو ترتیب دیکر محلے والوں کو ضروری سھولتیں مہیا کی جاسکتی ہے۔ اس پر walking Track بنا کر اور Cycling track شامل کر کے جگہ کو خوبصورت بنایا جا سکتا ہے۔ شجر کاری جو وقت کی ضرورت بھی ہے اور اس کی وجہ ماحول
@ImranRiazKhan
کراچی کی زبون حالی پر پروگرام کریں۔ یہاں پر سڑکیں نہیں، پیدل چلنے والوں کے لیئے فوٹ پاتھ نہیں، بلکہ ان پر دکانداروں، ٹھلے والوں نے قبضہ جمائیا ھوا ہے۔ لوگوں کو ٹریفک کے ساتھ ساتھ چلنا پڑتا ہے، جو بلاخر جان لیوا ثابت ھوتا ہے۔ جاری۔۔۔۔۔
۔ کراچی کی 90 فی صد سڑکیں اور فوٹ پاتھ پر مکمل قبضہ ہے۔ ٹریفک کا نظام مکمل طور پے ناکام ہو چکا ہے۔ ٹریفک پولیس کی بس کا کام نہیں، ان کو کوئی اختیار میں نہیں لاتا۔ وہ تو سگنل پر کئی تعداد میں ھونے کے باوجود بھی کنٹرول نہیں کر پاتے۔ ایسا ماحول بن چکا پے جہاں پر قانون پر چلنے۔