یہ دونوں بہن بھائی ہیں
بھائی کا نام علی اور بہن کا نام ثناء ہے۔
علی اور ثناء سال 2002 میں اپنے چچا کے ہاتھوں لاہور کے ایک شیلٹر میں داخل ہوئے تھے۔
دونوں بہت ننھے منے سے تھے۔ اب یہ جوان ہوچکے ہیں۔
علی کہتا ہے کہ میں جب بھی ثناء سے ملنے جاتا ہوں تو اسکا ایک ہی سوال ہوتا ہے کہ ہمارا گھر کب ملےگا؟
علی کی فائل کے مطابق انکو انکے چچا محمد نیاز ولد ابراہیم نے سال 2002 میں یتیم کہہ کر داخل کیا تھا۔ چچا کے شناختی کارڈ کی کاپی بھی لگی ہے جسمیں انکا ایڈریس لاہور کا علاقہ غازی آباد مغل پورہ مکان نمر 32 گلی نمبر 32 لکھا ہوا ہے۔
انکے والد کا نام عبدالملک لکھا ہوا ہے۔
دونوں بہن بھائی چاہتے ہیں کہ وہ اپنے خاندان کو ضرور ایک بار دیکھ لیں۔ دونوں شادی کی عمر ہوچکی ہے ان شاءاللہ انکا گھر بھی بس جائےگا لیکن اگر ماں کہیں موجود ہو تو وہ ضرور ماں کو دیکھنا چاہتے ہیں۔ یا ماں کے خاندان والے مل جائیں ۔ زندگی میں ضرور ایک بار اپنوں کی محبت دیکھنا چاہتے ہیں۔
علی اپنی بہن ثناء کے لئے ایک مضبوط چٹان بن کر بھائی ہونے کی ذمہ داری بنھا رہا ہے۔ لیکن کہیں نا کہیں اپنوں کی کمی انکو ضرور اداس کردیتی ہے۔
لاہور کے تمام دوستوں سے اپیل ہے کہ اس پوسٹ کو خوب زیادہ شئیر کریں۔ 2002 سے آج تک جو چہرے مرجھائے ہوئے ہیں ان چہروں پر مسکراہٹ لوٹ آئے۔
کسی بھی اطلاع کے لئے نیچے درج نمبر پر وٹس ایپ کریں۔
+923162529829
30 june 2026
#waliullahmaroof #lahore #PakistanZindabad
چند روز قبل11اور12جون کی درمیانی رات کو جب سب عمران خان کا پمز اور الشفاءISDمیں انتظار کررہے تھے تو اسی وقت خانsbکو الشفاء آئی اسپتال پنڈی میں لایا گیا جہاں انکی اہم ملاقات بھی ہوئی
https://t.co/HVQOa7Ncyg
سائفر، اس کی پردہ پوشی، اور اس کے نتائج
ڈراپ سائٹ نیوز نے ایک دستاویز شائع کی ہے، اور دعویٰ کیا ہے کہ یہ 7 مارچ 2022 کا اصل سائفر ہے جو ایک فوجی ذریعے سے حاصل ہوا۔ دنیا اب سمجھتی ہے کہ یہی وہ ناقابلِ تردید ثبوت ہے۔ آئیے، یہیں سے اس کی گرہ کھولتے ہیں۔
پاکستان کے اسٹیبلشمنٹ نے چار سال تک اسے دبایا، لوگوں پر اس کے حوالے سے مقدمات قائم کیے، اور یہ دعویٰ کیا کہ ایسا کوئی سائفر موجود ہی نہیں تھا۔ حقیقت پاکستان کے اندر سے نہیں، بلکہ ایک امریکی تحقیقاتی ادارے کے ذریعے دنیا کے سامنے آئی۔ صرف یہی حقیقت بذاتِ خود ایک فردِ جرم ہے۔
ڈونلڈ لو نے پاکستان کے سفیر سے صاف الفاظ میں کہا: "واشنگٹن میں سب کچھ معاف کر دیا جائے گا"، اگر وزیرِاعظم
@ImranKhanPTI
کے خلاف عدم اعتماد کی تحریک کامیاب ہو جاتی ہے، اور ساتھ ہی خبردار کیا کہ اگر ایسا نہ ہوا تو پاکستان تنہائی کا شکار ہوگا۔ یہ سفارت کاری نہیں تھی۔ یہ ایک دھمکی تھی، جو ایک خود مختار ریاست کے سفیر کو دی گئی۔ قومی سلامتی کمیٹی نے اپنی دو اجلاسوں میں واضح طور پر کہا کہ یہ پاکستان کے اندرونی معاملات میں ناقابلِ قبول اور کھلی مداخلت ہے، اور حکومت نے برحق سفارتی احتجاج (ڈیمارش) جاری کیا۔
مئی 2022 میں، میں نے بطور صدر، چیف جسٹس عمرعطا بندیال صاحب کو باضابطہ طور پر خط لکھا، جس میں جوڈیشل کمیشن کے قیام، کھلی سماعتوں، مکمل تحقیقات، اور حقیقت کو ریکارڈ پر لانے کا مطالبہ کیا۔ یہ خط تمام اخبارات میں شائع ہوا۔ (براہِ کرم مندرجہ ذیل خط کا اردو ترجمہ پڑھیں، اس کے ہر لفظ میں اس نوعیت کے عالمی معاملات میں تاریخی وزن ہے۔)
چیف جسٹس نے وہ خط وصول کیا۔ کوئی تبصرہ نہیں کیا۔ کوئی قدم نہیں اٹھایا۔ عدلیہ کی خاموشی اداروں کے آگے ھتھیار ڈالنے کا آغاز تھا۔ اگر وہ کمیشن تشکیل دے دیا جاتا، تو یہ سوالات حلف کے تحت جواب طلب ہوتے: سائفر کس نے وصول کیا؟ اس پر کس نے عمل کیا؟ کس نے اندرونِ ملک غیر ملکی اشارے کو سہولت فراہم کی؟ اور پاکستانی ریاست کے کن اداروں نے ایک منتخب وزیرِاعظم کو ہٹانے میں تعاون کیا؟
پاکستان کو حقیقت معلوم ہو جاتی۔ وہ شخص جس نے قوم کو خبردار کیا تھا، اسے جھوٹے مقدمات میں قید نہ کیا جاتا جو اسی دستاویز سے جنم لیئے، جس کی تحقیقات سے ریاست نے انکار کر دیا تھا۔ اس کے بجائے، قوم کو تباہی کے مسلسل چارسال ملے۔
صرف ایک حکومت نہیں بدلی گئی، بلکہ جمہوریت کو ٹکڑے ٹکڑے کر کے ختم کیا گیا، ہر سطح پر مکمل ادارہ جاتی سازش کے ساتھ اسے منہدم کیا گیا۔ پارلیمان کو "بدبودار مفادات کا ایوان" بنا دیا گیا۔ پاکستان کی تاریخ میں سب سے بڑے عوامی مینڈیٹ کی حامل تحریکِ انصاف سے اس کا انتخابی نشان چھین لیا گیا، اس کی نشستیں عدالتی حکم کے ذریعے ڈھٹائی سے دوسروں کو دے دی گئیں، صرف اس لیے کہ 17 نشستوں والی جماعت کو جعلی دو تہائی اکثریت دی جا سکے۔
تحریکِ انصاف کے کارکنان پر فوجی عدالتوں میں مقدمات چلائے گئے۔ اس کے ووٹرز کو حقِ رائے دہی سے محروم کیا گیا۔ اس کے قائد کو قید کر دیا گیا — انہی الزامات پر جو اسی دستاویز سے پیدا ہوئے جسکا ریاست نے جائزہ لینے سے انکار کر دیا تھا۔ 26ویں اور 27ویں ترامیم جبر کے ذریعے منظور کروائی گئیں، جنہوں نے عدلیہ کو انتظامیہ کی لونڈی، اور حقوق کی محافظ کے بجائے غاصبانہ اقتدار کے استحکام کا ایک آلہ بنا دیا۔
اب انسانی نقصان کا حساب کریں۔ ہماری 44 فیصد آبادی خطِِ غربت سے نیچے زندگی گزار رہی ہے، یعنی دس کروڑ پچاس لاکھ افراد — جو 2019 کے مقابلے میں دو کروڑ زیادہ ہیں۔ حقیقی آمدنی تباہ آدھی رہ گئی ہے۔بجلی اور پیٹرول آسمان سے بات کر رہے ہیں۔ مہنگائی اور بے روزگاری عروج پر ہیں۔بمشکل تین فیصد کی جی ڈی پی کا اضافہ آبادی کے اضافے کے ساتھ قدم نہیں ملا سکتی، نئے مزدوروں کو روزگار دینا تو دور کی بات ہے۔ دہشت گردی اپنی بلند ترین سطح پر ہے۔ سرمایہ آ نہیں رہا، بلکہ جا رہا ہے۔ دو کروڑ بیس لاکھ نوجوان نہ کام کر رہے ہیں اور نہ تعلیم حاصل کر رہے ہیں، جبکہ ڈھائی کروڑ بچے اسکولوں سے باہر ہیں۔ سمت بالکل واضح ہے: پاکستان کہیں زیادہ تیزی سے غریب ہو رہا ہے۔
یہ صرف اعداد و شمار نہیں ہیں۔ یہ وہ بچے ہیں جو بھوکے پیٹ سوتے ہیں۔ یہ وہ نوجوان ہیں جو کشتیوں میں ڈوبتے ہوئے ان ساحلوں کی طرف جا رہے ہیں جو شاید انہیں مار ڈالیں، کیونکہ ان کا اپنا ملک انہیں دھکیل رہا ہے۔ یہ وہ مائیں ہیں جو دوا اور روٹی کے درمیان انتخاب کرنے پر مجبور ہیں۔ ان تمام انسانوں کی حالت اپریل 2022 کے اس فیصلے کا براہِ راست، قابلِ سراغ، فرانزک نتیجہ ہے، جس میں پاکستانی عوام کے جمہوری مینڈیٹ کو سبوتاژ کیا گیا۔ یہ کوئی قدرتی آفت نہیں۔ یہ ایک سازش کی قیمت ہے، جس کے تمام شریکِ جرم عوام کے سامنے برہنہ کھڑے ہیں۔
ڈونلڈ لو نے دھمکی دی۔ اس نے حکومت نہیں گرائی۔ پاکستانیوں نے ایک پاکستانی حکومت گرائی۔ جنرل باجوہ وردی میں۔ کچھ لوگ عدالتی جبّوں میں۔ کچھ "دستار" میں۔ بدعنوان سیاستدان۔ اور ایسے جنہوں نے دبئی میں قوم کے لوٹے ہوئے خزانوں کے رجیم چینج کے لیئے منھ کھول دیئے۔ ان سب نے عوام اور اس آئین کے تحفظ کے بجائے، ایک غیر ملکی اشارے کو ترجیح دی۔ مجرم صرف بیرونی نہیں تھے، اندرونی بھی تھے۔ یہ بات صاف اور ہمیشہ کے لیے ریکارڈ پر رہنی چاہیے۔
جو لوگ کہتے ہیں، "یہ ماضی کی بات ہے، آگے بڑھیں"، میں ان سے کہتا ہوں: قانون کی حکمرانی کے بغیر سرمایہ کاری نہیں آ سکتی۔ آزاد عدلیہ کے بغیر قانون کی حکمرانی نہیں ہو سکتی۔ اور ایسی عدلیہ، جس کی بنیاد زیادہ تر بدعنوان ججوں پر ہو، کبھی آزاد نہیں بن سکتی۔ آگے بڑھنے کا راستہ حقیقت کے درمیان سے گزرتا ہے، اس کے باہر سے نہیں۔
پاکستان کی معاشی تباہی، اس کا ادارہ جاتی زوال، مکمل کرپشن، قومی دیمک جو سب کچھ کھا رہی ہیں، ان میں سے کوئی بھی خدا کا فعل نہیں بلکہ اعمال کا نتیجہ ہے۔ یہ ایک مجرمانہ رجیم چینج کا براہِ راست اور قابلِ سراغ نتیجہ، جسے باہر سے سہولت دی گئی اور اندر سے اس پر عمل درامد کیا گیا۔
جیسا کہ سائفر کے مندرجات اب عوام کے سامنے رپورٹ ہوئے ہیں، ریکارڈ واضح ہے۔ یہی غاصب اب بھی اقتدار میں ہیں اور میرے ملک کی تباہی کی منصوبہ بندی کر رہے ہیں۔ آگے بڑھنے کا واحد معقول اور منصفانہ راستہ بالکل واضح ہے:
اب پیچھا چھوڑو، اور میرے لوگوں کو جینے دو۔
مجھے اس قوم سے غداری کرنے والوں کے لیے اقبال کا حوالہ دیتے ہوئے تکلیف ہوتی ہے، مگر یہ شعر لازوال ہے۔
جعفر از بنگال و صادق از دکن
ننگِ آدم، ننگِ دیں، ننگِ وطن
سائفر بول چکا ہے۔ اب پاکستان کو بولنا ہوگا۔ 🇵🇰
On the Cipher, the Coverup, and the Consequences:
Drop Site News published a document, claiming that it is the original Cipher I-0678 dated 7 March 2022, and it came from a military source. The world now believes that this is the smoking gun. Let's dissect it from there.
Pakistan's establishment spent four years suppressing, prosecuting people over it, claiming that it did not exist. The truth was forced out not from within Pakistan, but by an American investigative outlet. That fact alone is the indictment.
Donald Lu told Pakistan's Ambassador plainly: “All will be forgiven in Washington”, if the no-confidence motion against PM @ImranKhanPTI succeeded, while warning of isolation if it did not. This was not diplomacy. It was a threat and a bribe, delivered in the same breath, to a sovereign nation's ambassador. The NSC in its two meetings clearly stated that this amounted to unacceptable and blatant interference in the internal affairs of Pakistan and that the Govt. rightly issued a démarche.
On 12 May 2022, I as President formally wrote to CJP Umar Bandial requesting a Judicial Commission, open hearings, full investigation and truth be placed on record. This was published in all newspapers. (Please read the letter below, every word carries historic weight in world affairs of this nature).
CJP received that letter. Did not comment. Did not act. The judiciary's silence marked the beginning of its institutional surrender. Had that Commission been constituted, these questions would have been answered under oath: who received the cipher, who acted upon it, who domestically facilitated the foreign signal, and which institutions of the Pakistani state collaborated in the removal of an elected prime minister.
Pakistan would have had the truth. A man who warned the nation would not have been imprisoned on false charges arising from the very document the state refused to investigate. Instead, the nation got four years of compounding ruin.
A regime was not merely changed but democracy was dismantled, piece by piece, demolished with full institutional complicity at every level. Parliament was reduced to a 'stinking chamber of convenience'. PTI commanding the largest popular mandate in Pakistan's history had its electoral symbol stolen, its seats brazenly allocated to others by judicial decree, all to hand a 17-seat party, a fraudulent two-thirds majority.
PTI's workers were tried in military courts. Its voters were disenfranchised. Its leader imprisoned — on charges arising from the very document the state refused to examine. The 26th & 27th Amendments were coercively passed, turning the judiciary into a handmaiden of the executive, an instrument of crooked consolidation rather than a guardian of rights.
Now count the human cost. 44% of our people are below the poverty line, 105 million people that is 20 million more than in 2019. Real incomes have collapsed. GDP growth of barely 3% cannot keep pace with population, let alone absorb new labour. Terrorism is at its highest. Capital is leaving, not arriving. 22 million young Pakistanis are neither working nor studying, 25 million children are out of school. The direction is unambiguous: Pakistan is getting poorer, faster than ever.
These are not statistics. These are children going to bed hungry. Young men drowning on boats to shores that may kill them, because their own country is pushing them out. Mothers choosing between medicine and bread. Every single one of these human beings is a direct, traceable, forensic consequence of the decision made in April 2022 to subvert the democratic mandate of the Pakistani people. This is not an act of God. It is the price of a conspiracy with all its collaborators naked before the people.
Donald Lu issued a threat. He did not remove a government. Pakistanis removed a Pakistani government. General Bajwa in uniform. Some in robes. Some in ‘dastaar’. Corrupt politicians, some with deep pockets from Dubai. They chose a foreign signal over the people and the constitution they had sworn to protect. The perpetrators were not only foreign but local. Let that be stated plainly and permanently on the record.
To those who say, "this is the past, let us move forward", I say that: There is no investment without rule of law. There is no rule of law without an independent judiciary. And there is no independent judiciary that can be built upon the foundations of predominantly crooked judges. The path forward runs through the truth, not around it.
Pakistan's economic misery, its institutional decay, total corruption, national termites eating up everything, none of it is an act of God. It is the direct and traceable consequence of a criminal regime change, facilitated from without and executed from within.
The contents of the cipher as reported are now public. The record is clear. The usurpers remain in power orchestrating my country's misery. The only reasonable and just way forward is unambiguous: LEAVE and let my people LIVE.
It pains me to invoke Iqbal for those who betrayed this nation, but this verse is timeless:
جعفر از بنگال و صادق از دکن
ننگِ آدم، ننگِ دیں، ننگِ وطن
Jaffer of Bengal, Sadiq of Deccan,
Disgrace to humanity, disgrace to faith, disgrace to country.
The cipher has spoken. Now Pakistan must. 🇵🇰
Today I, being the Chief Executive of Khyber Pakhtunkhwa Province, along with my cabinet and parliamentarians, going to Adiala Jail situated in the province of Punjab to show solidarity with former Prime Minister of Pakistan Mr. Imran Khan.
The federal government has stopped us in Islamabad 26 number chowk. It’s not only an insult of the chief executive but of the 46 Million people of KP.
The federal government has also stopped the Gas of KP. Punjab government has stopped the wheat movement towards KP. All of these acts are against the spirit of federation and the constitution of Pakistan.
Mr. Imran Khan has lost 85% of his eyesight due to the negligence of Adiala Jail’s administration and their handlers. He is not being allowed to meet his legal counsel, family and even personal physician. The federal government is not obeying the court orders and Punjab government is violating the fundamental rights of a political prisoner. Mr. Imran Khan is being treated inhumanely and has been placed in complete solitary confinement since November 2025.
We strongly demand the immediate access of Imran Khan sahb’s family and personal physician to him without any further delay. The state of his health is a matter of serious national concern and any harm caused to him due to negligence or deliberate denial of medical care is the direct responsibility of the federal government, the Punjab police, the administration of Adiala Jail and their handlers. We warn that the nation is watching and history will not forgive those who remain silent or complicit. Justice must prevail and it will prevail!
🚨BREAKING: The original cypher, cable I-0678, the document that triggered the removal of former Pakistani Prime Minister Imran Khan released by Drop Site.
This is the cable at the center of the "regime change" controversy.
Imran Khan-linked ‘Cyphergate’ Row hits Pakistan: US' role confirmed in his ouster? Secret cipher says 'All will be forgiven in Washington.'
https://t.co/lj1ZWFyrSR
🚨BREAKING: For the first time, the original Pakistani cypher — cable I-0678, the document that triggered the removal of former Pakistani Prime Minister Imran Khan — is being released in full by Drop Site.
آئی ایس پی آر کو میرا جواب اور وہ دو بنیادی وجوہات جن کی بنیاد پر پی ڈی ایم اور اس کے سرپرست مجھے گرفتار کرنے کی کوششوں میں لگے ہوئے ہیں:
۱۔ مجھے انتخابی مہم چلانے سے روکنے کیلئے کیونکہ انشاءاللہ جب انتخابات کا اعلان ہوگا تو میں جلسے منعقد کروں گا۔
۲- پی ڈی ایم حکومت اور اس کے سرپرستوں کیجانب سے سپریم کورٹ کی حکم عدولی اور انتخابات کےانعقادکے حوالے سے دستور سے انحراف کی صورت میں مجھے آئین کی حمایت میں ایک بھرپور عوامی تحریک کیلئے عوام کو متحرک کرنے سے باز رکھنے کیلئے۔
❗فوری ضرورت برائے خون A Positive
شوگر کے مریض کی سرجری ہے خون کی کمی ہونے کی وجہ سے سرجری ڈیلے ہو رہی ہے 4 بوتلیں خون چاہئے برائے مہربانی اگر آپ میں سے کوئی دے سکتا ہے یا پھر کہیں سے ارینج کر سکتا ہے تو صدقہ جاریہ سمجھ کر ایک جان بچائیں جزاک اللّٰہ
مریض : محمد افضل
ہسپتال : فیض میموریل ہسپتال سرگودھا
فون نمبر : 03259190058