🚨سیفٹی ایکویپمنٹ کی مد میں اربوں روپے کی کرپشن کرنے والوں کو خبر ہو کہ اسلام آباد الیکٹرک سپلائ کمپنی (IESCO ) کا ایک اور ورکر عبد اللہ دوران ڈیوٹی کرنٹ لگنے سے شہید ہو گیا ہے
آڈیٹر جنرل آف پاکستان کی رپورٹ میں بھی سیفٹی ایکویپمنٹ کی مد میں اربوں روپے کی خرد برد کے انکشافات موجود ہیں جبکہ انہیں معاملات پر نشاندہی کرتی متعدد انویسٹیگیٹو سٹوریز خادم آپکے سامنے رکھ چکا ہے۔
اضافی نوٹ: جزباتی ہو کر اس خبر کے ساتھ لکھا گیا اضافی پیراگراف حذف کر دیا ہے، آپ ایسے ہی خادم کے جزبات سمجھ لیں! شکریہ!😔
اسلام آباد ایکسپریس وے پر تباہ پُل کہ کہانی,
لوگو کے لیے وبال جان بنا ہؤا ہے!
نام نہاد حکومت ایک پُل کی معمولی مرمت نہیں کرسکتی, اب عوام اپنے مدد آپ مرمت کررہے ہیں!!
اربوں روپے کے جہاز اور کروڑوں کی گاڑیاں خریدنے والے بے حس لوگ, 26 ہزار روپے اس پل کی مرمت پر نہیں لگا سکتے!
سابق ڈی جی آئی ایس آئی اور موجودہ آرمی چیف، بشریٰ بی بی کی کرپشن کی فائلیں لے کر عمران خان کے پاس گئے تھے: عظمیٰ کاردار!
تو وہ آرمی چیف ہیں، کدھر ہیں وہ کرپشن کی فائلیں؟ کون ہیں وہ افسر جن کے، بشریٰ بی بی نے فرح گوگی کے ذریعے پیسے لے کر، تبادلے کروائے؟ کوئی ایک کیس؟ کوئی ایک افسر جسے آپ نے نوکری سے فارغ کیا ہو کیونکہ اس نے رشوت دی:ثمینہ پاشا!
آج صبح میں سویا ہوا تھا کہ میرے موبائل پر ایک نامعلوم نمبر سے مسلسل تین کالز آئیں۔ پہلے دو کالز میں نے نیند کی وجہ سے نہیں اٹھائیں، لیکن جب تیسری بار فون بجا تو میں نے کال رسیو کر لی۔
دوسری طرف ایک معصوم سا بچہ تھا۔ اس کی آواز میں ایسی بے بسی تھی کہ میری نیند ایک لمحے میں غائب ہو گئی۔
اس نے کہا:
“بھائی، آپ فوڈ کی ویڈیوز بناتے ہیں نا؟
میری بھی ویڈیو بنا دیں۔ میرے بابا کا انتقال ہو گیا ہے، میں اپنی امی کے ہاتھ کی بنی ہوئی بریانی بیچتا ہوں، لیکن کام بہت سست ہے۔
میں فوراً بستر سے اٹھا، فریش ہوا اور سیدھا اس بچے کی لوکیشن کی طرف روانہ ہو گیا۔
جب میں وہاں پہنچا تو بچے نے اپنی پوری کہانی سنائی۔
اس نے بتایا کہ اس کے والد کا ہارٹ اٹیک سے انتقال ہو گیا ہے اور گھر میں کوئی بڑا بھائی نہیں جو ذمہ داری اٹھا سکے۔
والدہ پہلے لوگوں کے گھروں میں کام کرتی تھیں، لیکن کچھ عرصہ پہلے ان کا کام بھی ختم ہو گیا۔
گھر کرائے کا ہے، اور اب ہر دن گزارنا مشکل ہوتا جا رہا ہے۔
اس نے بتایا کہ پہلے وہ خالی لیموں اور کولڈ ڈرنک کی بوتلیں بیچتا تھا، پھر تقریباً 10 سے 12 دن پہلے اس کی والدہ نے بریانی بنا کر دینی شروع کی تاکہ شاید اللہ اس میں برکت دے دے۔
لیکن آج بھی وہ صرف ایک کلو بریانی بناتے ہیں اور اکثر شام کو کافی بریانی واپس گھر لے جانی پڑتی ہے کیونکہ گاہک بہت کم آتے ہیں۔
پھر اس معصوم بچے نے ایک ایسی بات کہی جس نے مجھے خاموش کر دیا۔
اس نے ہچکچاتے ہوئے پوچھا:
“بھائی… آپ ویڈیو بنانے کے پیسے تو نہیں لیتے؟”
میں چند لمحوں کے لیے بالکل خاموش ہو گیا۔ شاید اس بچے نے دنیا میں بہت سے ایسے لوگ دیکھے تھے جنہوں نے ہر کام کی قیمت مانگی ہوگی۔
پھر میں نے اس کے کندھے پر ہاتھ رکھا اور کہا:
“بیٹا، نہ میں آپ سے ویڈیو بنانے کے پیسے لوں گا، نہ آپ کی بھیجی ہوئی بریانی ٹیسٹ کرنے کے لیے لوں گا، اور نہ ہی آپ سے کسی قسم کا کھانا لوں گا۔
الحمدللہ، میں نے آج تک کسی غریب، ضرورت مند یا مجبور انسان سے نہ ویڈیو بنانے کے پیسے لیے ہیں اور نہ ہی ان کا کھانا لیا ہے۔ میری کوشش صرف یہ ہوتی ہے کہ اللہ مجھے کسی کی مدد کا ذریعہ بنا دے۔”
یہ سنتے ہی بچے کے چہرے پر ایک امید بھری مسکراہٹ آ گئی، اور میری آنکھیں بھی نم ہو گئیں۔
یہ بچہ روز صبح اسکول جاتا ہے، تقریباً 11 بجے واپس آتا ہے اور پھر 12 بجے اپنی چھوٹی سی ریڑھی لے کر میلہ گلی میں کھڑا ہو جاتا ہے تاکہ اپنی والدہ کے ہاتھ کی بنی ہوئی بریانی اور بوتلیں بیچ کر گھر کا خرچ چلا سکے۔
لوکیشن:
میلہ گلی، پیکو والی گلی کے اندر، نذیرالدین پلازہ بہاولپور
آپ پلازہ کے سامنے وہاں کسی سے بھی پوچھیں وہ آپ کو اس بچے کی ریڑھی تک پہنچا دے گا۔
اگر آپ بہاولپور یا آس پاس رہتے ہیں تو ایک بار ضرور اس بچے کے پاس جائیں۔
ممکن ہے آپ کی خریدی ہوئی ایک پلیٹ بریانی یا ایک بوتل اس گھر کے لیے امید کی ایک نئی کرن بن جائے۔
اور اگر آپ وہاں نہیں جا سکتے تو اس پوسٹ کو ضرور شیئر کریں تاکہ اس محنتی بچے کی آواز زیادہ سے زیادہ لوگوں تک پہنچ سکے۔
اللہ تعالیٰ اس بچے اس کی والدہ اور ہر محنت کرنے والے ضرورت مند کے رزق میں برکت عطا فرمائے اور ان کے لیے آسانیاں پیدا فرمائے۔
آمین یارب العالمین 🤲🥺
یہاں جو ہیلی کاپٹر کھڑے ہیں وہ میرے پیسوں سے خریدے گئے ہیں
میرے جوانوں سے خون بہتا رہا
دو جوان اس لئے شہید ہوئے کہ کوئی بروقت پہنچ نہ سکا
آپ کی حکومت مجھے ایک ہزار روپے راشن الائونس دیتی ہے
ایک ہزار روپے کی کیا ایک مرغی خریدی جا سکتی ہے؟
میں تھانیدار ہوں 94ہزار روپے مجھے ملتے ہیں
میرے پیٹرول کا خرچہ میری گاڑی کا خرچہ کہاں سے پورا ہوگا؟
میں گاڑی کی مد میں 8 لاکھ روپے قرض دار ہوں
تم میرے بڑے ہو
اللہ تم سے میرا پوچھے گا
تمہارے لئے میں نے بنی گالہ میں مار کھائی ہے
سابق وزیر اعلی کی وجہ سے میں جیل گیا ہوں
زمان پارک میں مجھے مارا گیا
اسلام آباد پولیس نے مارا ہے جیل میں رگڑا گیا ہے مجھے
زیادہ سینہ نہیں تان سکتے تو اتنا سینا ہی سہلا دو جتنا ہم نے کیا ہے
دیر پولیس کے اہلکار کی وزیر اعلی سہیل آفریدی سے فریاد
پیٹرول مہنگا ہے تو عوامی لاک ڈاؤن لگا ہوا ہے.
معیشت تباہ ہو گئی ہے کیونکہ انویسٹمنیٹ نہیں ہے.
روزگار نہیں ہے اور مہنگائی ڈبل ٹرپل قیمتوں پر ہے.
استاد تنخواہ 15000 جبکہ ستھرا پنجاب والوں کو کئی ماہ نہیں ملتی.
مگر پنجاب میں 2000 ججز کو مہنگی گاڑیاں صرف 250,000/350,000 میں ملیں گی.
یہ پاکستان میں کیا ہو رہا ہے 🤔
لاہور ہائیکورٹ میں قتل کے ملزم کہ عبوری ضمانت خارج ہوئی پولیس نے گرفتار کرنے کی کوشش تک نہ کی مدعی بیچارہ اپنی مدد آپ کے ملزم کو دبوچ کر کھڑا ساتھ ملزم سے تھپڑا بھی کھا رہا ہے
سولر پینل قومی گرڈ کیلئے خطرہ بنتے جارہے ہیں ۔ ان سے قومی گرڈ کو نئے تکنیکی اور انتظامی مسائل کا سامنا ہے ۔ وزیر توانائی اویس لغاری
دبئی میں تقریبا ایک ہزار میگا واٹ بجلی سولر سے بن رہی جو نیشنل گریڈ سے منسلک ہے۔
پاکستان میں ضلع لیہ کی تحصیل چوبارہ میں بہت بڑ سولر پارک ہے جو نیشنل گریڈ سے منسلک ہے۔
اب میں بتاتا ہوں وزیر صاحب کی اصل تکلیف!!
واپڈ اور پالیسی میکرز کی نالائقیوں کی وجہ سے تنگ آجر جب عوام نے اپنا تمام لوڈ سولر پر شفٹ کر لیا جو کہ ہاکستان کی ٹوٹل ڈیمانڈ کا تقریبا پچیس فیصد ہے تو واپڈ کی کمائی کم ہو گئی اب ٹکریں مار رہے کہ سولر گریڈ کیلئے تکنیکی مسائل ہے۔
یہ جو دفتروں اور اسمبلیوں میں اشرافیہ بیٹھی ہے ان کو صرف غریب کا چار،پانچ کلو واٹ کا سولر ہضم نہیں ہو رہا۔
رات 12 بجے کے قریب جب میں ترامڑی چوک میں واقع کوئٹہ آرم باغ کیفے میں چائے پینے کے بعد بل ادا کرنے کے لیے کاؤنٹر پر گیا تو ہوٹل کے مالک امداد خان نے ایک ایسی کہانی سنائی جس نے مجھے اندر تک ہلا کر رکھ دیا
انہوں نے سامنے ایک ٹیبل کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا، “یہ بچہ گزشتہ چار سے پانچ گھنٹوں سے یہاں بیٹھا ہے۔ اس کا باپ کھانا کھانے کے بعد 640 روپے کا بل ادا نہ کر سکا۔ اس نے اپنی گھڑی اتار کر مجھے دی اور کہا کہ میرے پاس اس وقت پیسے نہیں، آپ گھڑی رکھ لیں
امداد خان نے بتایا کہ انہوں نے گھڑی لینے سے انکار کیا تو اس شخص نے کہا، “میرا بیٹا یہیں بیٹھا ہے، میں صرف پانچ منٹ میں پیسے لے کر آتا ہوں، پھر بل بھی ادا کر دوں گا اور اپنے بیٹے کو بھی ساتھ لے جاؤں گا
مگر وہ پانچ منٹ گھنٹوں میں بدل گئے
میں بچے کے پاس گیا اور پوچھا، “بیٹا، آپ کہاں سے ہو؟ آپ کا نام کیا ہے؟
وہ خاموش رہا۔ اس کی آنکھوں میں خوف اور بے یقینی صاف دکھائی دے رہی تھی۔ شاید وہ اجنبی لوگوں سے بات کرنے سے گھبرا رہا تھا یا پھر اپنے باپ کے انتظار میں گم تھا
کچھ دیر بعد میں نے اس سے صرف ایک سوال کیا، “بیٹا، کھانا کھایا ہے؟
اس نے خاموشی سے ہاں میں سر ہلا دیا
آہستہ آہستہ جب وہ کچھ مانوس ہوا تو میں نے دوبارہ اس سے گھر کے بارے میں پوچھا۔ اس بار اس نے اپنے گھر کا پتا بتا دیا
پھر میں، امداد خان، ان کے چند دوست اور ان کے بچے، اس معصوم کو اس کے بتائے ہوئے پتے پر چھوڑنے نکل پڑے
وہاں پہنچ کر پڑوسیوں سے معلوم ہوا کہ بچے کے والدین الگ الگ رہتے ہیں۔ اس کا والد وقاص خان، جو پیشے کے لحاظ سے پینٹر ہے، ایک گھر کے کرائے کے کچن میں رہائش پذیر ہے اور بچہ بھی اسی کے ساتھ رہتا ہے
جب ہم وہاں پہنچے تو وقاص خان گھر پر موجود نہیں تھا۔ کافی انتظار اور تلاش کے باوجود اس کا کوئی سراغ نہ ملا۔ آخرکار بچے کی حفاظت کو مدنظر رکھتے ہوئے اسے تھانہ شہزاد ٹاؤن کی پولیس کے سب انسپکٹر انور کے حوالے کر دیا گیا تاکہ اسے محفوظ رکھا جا سکے اور اس کے والد تک پہنچنے کی کوشش کی جا سکے
یہ واقعہ صرف 640 روپے کے ایک بل کی کہانی نہیں، بلکہ اس معاشرے کی تلخ حقیقت ہے جہاں غربت انسان کو ایسے فیصلے کرنے پر مجبور کر دیتی ہے جن کا تصور بھی تکلیف دہ ہے۔ ایک معصوم بچہ گھنٹوں اپنے باپ کے انتظار میں خاموش بیٹھا رہا، اور شاید اسے یقین تھا کہ اس کا باپ ضرور واپس آئے گا
افسوس اس بات کا ہے کہ اسی ملک میں ایک طرف اشرافیہ اربوں روپے کے نئے جہاز خریدنے میں مصروف ہے، جبکہ دوسری طرف اسی ملک کے عام لوگ ایک وقت کا کھانا کھانے کے لیے بھی شدید مجبوری کا شکار ہیں۔ جب ریاست کی ترجیحات بدل جائیں تو ایسے ہی دردناک مناظر جنم لیتے ہیں!!
صحافی مشرف ضیاف ستی کی تحریر 💔
ڈی پی او آفس کے دروازے پر کھڑا وہ کھوکھا اس ملک کے پورے نظام کی تصویر ہے!
کل رحیم یار خان ڈی پی او آفس جانا ہوا، داخل ہوتے ہی پولیس اہلکار نے روکا، موبائل اندر نہیں لے جا سکتے، ٹھیک ہے، یہ سمجھ میں آتا ہے۔ مگر اگلا جملہ سمجھ میں نہیں آیا۔ موبائل ادھر بھی جمع نہیں ہوگا، باہر والے کھوکھے پر رکھوائیں اور ٹوکن لے لیں!
باہر گیا، کھوکھے والے نے موبائل لیا، ٹوکن دیا، اور ساتھ مانگے پچاس روپے!
میں نے حیرانی سے سوال کیا کس چیز کے؟ بولا موبائل رکھنے کے!
میں نے کہا واپسی پر دیتا ہوں!
اندر گیا، کام نمٹایا، انفارمیشن کاؤنٹر پر بیٹھے آفیسر سے پوچھا کہ یہ پچاس روپے کس اتھارٹی کے تحت لیے جا رہے ہیں،گول مول جواب آیا، وہ پرائیویٹ دکان ہے، مجھے نہیں پتہ!
واپسی پر موبائل لیا، پچاس روپے دیے اور رسید مانگی!
اس نے ایسے دیکھا جیسے میں نے کوئی انوکھی زبان بول دی ہو، حیرانی سے کہتا کس چیز کی رسید؟
میں نے کہا تم عوام سے فیس وصول کر رہے ہو، نہ بلدیہ کا لیبل ہے، نہ کوئی منظوری، تو یہ پیسے کہاں جا رہے ہیں؟
کھسیانا ہو کر بولا، میں تو ملازم ہوں، مالکوں سے بات کریں، اور کھسک گیا!
اب ذرا حساب لگائیں۔
ڈی پی او آفس جس کے انڈر پورے ضلع کے ستائیس تھانے کام کرتے اور اس کو رپورٹنگ کرتے ہیں، جہاں روزانہ ہزاروں لوگ آتے ہیں، اس کے دروازے پر کھڑے اس کھوکھے پر اگر ایک دن میں صرف ایک ہزار لوگ آئیں، تو پچاس ہزار روپے روزانہ،مہینے کے پندرہ لاکھ، سال کے؟
جی ہاں کروڑوں!
بغیر کسی لائسنس کے، بغیر کسی رسید کے، بغیر کسی منظوری کے!
اب سوال یہ ہے کہ یہ کھوکھا وہاں کیسے لگا؟ کس نے اجازت دی؟ کس کی سرپرستی میں چل رہا ہے؟ اور یہ پیسہ کہاں جا رہا ہے؟
جو آفیسر اندر بیٹھا تھا اسے پتہ ہے، جو پولیس اہلکار باہر کھڑا تھا اسے بھی پتہ ہے، جس نے یہ کھوکھا لگوایا اسے پتہ ہے، اور ڈی پی او آفس کی چھت کو بھی پتہ ہے۔ صرف عوام کو نہیں پتہ، اور عوام کو پتہ نہ چلے، یہی اس کھیل کی کامیابی ہے۔
یہ پاکستان میں کرپشن کا وہ چہرہ ہے جو بڑے بڑے اسکینڈلز میں نہیں ملتا، یہ چھوٹے چھوٹے ڈاکوں میں ملتا ہے۔ ہر سرکاری دفتر کے باہر کوئی نہ کوئی کھوکھا ہے، ہر کام کے لیے کوئی نہ کوئی غیر سرکاری فیس ہے، ہر عام آدمی کو کہیں نہ کہیں کچھ نہ کچھ دینا پڑتا ہے اور یہی چھوٹے چھوٹے ڈاکے مل کر اربوں کا وہ کالا دھن بناتے ہیں جو نہ کسی ٹیکس ریٹرن میں ہے، نہ کسی رجسٹر میں، نہ کسی حساب میں!
اور سب سے تکلیف دہ بات کیا ہے؟
یہ کہ ہم سب جانتے ہیں ہر کوئی جانتا ہے مگر پچاس روپے کے لیے لڑنا اس ملک میں بہادری نہیں بلکہ پاگل پن سمجھا جاتا ہے۔
آدمی سوچتا ہے کہ چھوڑو جھگڑا، کام نکالو اور نکل چلو، اور یہی سوچ اس نظام کی سب سے بڑی طاقت ہے!
مگر میں آج کہتا ہوں کہ یہ پچاس روپے چھوڑنے والا معاملہ نہیں۔ جب تک ہم یہ سوال نہیں پوچھیں گے، جب تک ہم رسید نہیں مانگیں گے، جب تک ہم یہ نہیں کہیں گے کہ یہ کس کی اجازت سے ہے، یہ کھوکھے پھیلتے رہیں گے، یہ ڈاکے چلتے رہیں گے، اور یہ نظام عوام کو لوٹتا رہے گا!
ڈی پی او رحیم یار خان سے سوال ہے کہ آپ کے آفس کے دروازے پر یہ کھوکھا کس کی اجازت سے ہے، اس کی کمائی کہاں جا رہی ہے، اور کیا آپ کو واقعی نہیں پتہ؟
عوام جانتی ہے۔ اور اب عوام پوچھے گی بھی!
تحریر: مسعود باجوہ
#موناسکندر
🔴 ایتھوپیا میں آباد بانا قبیلے کے نوجوان چرواہے اپنے مویشیوں کی نگرانی، دلدلی علاقوں میں آسانی سے چلنے اور سانپوں کے ساتھ ساتھ شیر اور چیتے جیسے خطرناک درندوں سے محفوظ رہنے کے لیے یہ روایتی طریقہ استعمال کرتے ہیں۔
اس طریقے پر مہارت حاصل کرنے کے لیے بچپن سے تربیت، مضبوط جسمانی ساخت اور غیر معمولی توازن کی صلاحیت درکار ہوتی ہے۔
سابق ارکان پارلیمنٹ اُن کی شریک حیات اور اٹھائیس سال تک بچوں کے لیے بلیو پاسپورٹ کا بل سینیٹ سے منظور
یہ وطن ججوں کا ہے جرنیلوں کا ہے سیاستدانوں کا ہے بیوروکریسی کا ہے
یہ وطن تمھارا ہے باقی شودر عوام کی 200 یونٹ والی سہولت بھی ختم ہو گئی ہے
مبارک ہو چاچو کی حکومت نے دل پر پتھر رکھ کر ملک بھر میں ہائی وے پر ٹول بڑھا دیا ہے اراکین اسمبلی کا تو مفت ہو چکا عام بندوں کے لئے اب عام سڑک کا ہر ٹول 100 روپے ہیں پشاور اسلام آباد کا اب سات سو روپے ہے
آپ کو مزہ تو آ رہا ہو گا ان پتھروں کا ؟
پہلے 1 یونٹ زائد استعمال کرنے کا جرمانہ 6 ماہ بھرنا پڑتا تھا ، اب اگر حد کراس کی تو ہمیشہ کے لیے پروٹیکٹڈ کیٹیگری سے نکل جائیں گے ۔
200 یونٹس کا بل : 3600
201 یونٹس کا بل : 10,200
مبارک ہو
اس پر زیادہ سے زیادہ شور ڈالیں ورنہ یہ بہت بڑی واردات ہے چھ مہینے والی سزا تو پہلے نون لیگ نے مقرر کی تھی اب تو یوں سمجھ آ رہا کہ ایک دفعہ 201یونٹ استعمال کرنے پر ہمیشہ آپ کا بل زیادہ آئے گا
اس کی وضاحت آنا بہت لازم ورنہ غریب مکمل تباہ ہے