بلوچستان سے تحریک انصاف کے ممبر قومی اسمبلی عادل بازئی کے گھر انٹیلیجنس ایجنسیوں کے افراد کا غیر قانونی چھاپہ،
کہتے ہیں کہ جب روم جل رہا تھا، نیرو بانسری بجا رہا تھا۔۔
جب بلوچستان میں دہشتگردی کی آگ بھڑک رہی ہے اور سیکڑوں معصوم جانیں خطرے میں ہیں، جنرل آصم منیر کی ناجائز عسکری حکومت اپنی پوری طاقت کے ساتھ صرف پی ٹی آئی کو نشانہ بنانے میں مصروف ہے، تبھی دہشتگردی اور لاقانونیت عروج پر ہے اور عوام بار بار آرمی چیف کو یاد کروا رہی ہے کہ
"اپنی ڈیوٹی پر فوکس کریں۔۔۔"
#UndeclaredMartialLaw
سابق وزیراعظم عمران خان کا اڈیالہ جیل سے اہم پیغام:
“ملک میں اس وقت دہشتگردی اپنے قدم دوبارہ جما چکی ہے۔ ہمارے دور میں ملک دہشتگردی پر قابو پا کر سیاحت کے فروغ کی جانب گامزن ہو چکا تھا اور “گلوبل ٹیررازم انڈکس” میں پاکستان کی رینکنگ چار درجے بہتر ہوئی تھی- لیکن رجیم چینج نے اس سارے عمل کو بھی ریورس گئیر لگا دیا اور اب بدقسمتی سے ہم گلوبل ٹیررازم انڈکس میں دوبارہ دنیا کا دوسرا بدترین ملک بن گئے ہیں۔
اندرونی معاملات کی طرح اس وقت پاکستان کی خارجہ پالیسی بھی بدترین طریقے سے چلائی جا رہی ہے- افغانستان کے ساتھ ہماری سرحد بہت لمبی ہے ان کے ساتھ معاملات بات چیت سے حل ہونے چاہئیے۔ جب تک ہمسایہ ممالک کو لے کر ہماری خارجہ پالیسی آزاد اور خود مختار نہیں ہو گی ملک میں امن نہیں آ سکتا۔ فوجی آپریشنز کبھی مسائل کا حل نہیں ہوتے بڑی بڑی جنگوں کا حل بھی مذاکرات اور امن و استحکام کی کوشش سے ہی نکلتا ہے۔
خفیہ اداروں کا اصل کام سرحدوں کا تحفظ اور دہشتگردی سے بچاؤ ہے، اگر وہ پولیٹیکل انجنئیرنگ اور تحریک انصاف کو توڑنے میں ہی لگے رہیں گے تو سرحدوں کا تحفظ کون کرے گا؟ بلوچستان میں دہشتگردی پنپ رہی ہے اور وہاں کے مسئلے کا کوئی سیاسی حل نہیں نکال رہا۔ بلوچستان سمیت ملک بھر میں جب تک عوامی اعتماد پر مشتمل حکومت نہیں لائی جائے گی، استحکام ممکن نہیں ہے-
ملک بھر میں گورننس کا برا حال ہے کیونکہ ہر جگہ عوام کے حقیقی نمائندگان کے بجائے فارم 47 والوں کا قبضہ ہے۔ خیبرپختونخوا واحد صوبہ ہے جہاں عوامی حکومت موجود ہے اور عوامی امنگوں کی ترجمانی کے باعث پختونخواہ کی کارکردگی تمام صوبوں سے بہتر ہے۔ خیبرپختونخوا حکومت کی سالانہ کارکردگی رپورٹ بہترین ہے۔ علی امین گنڈاپور بطور وزیراعلٰی بہت اچھا کام کر رہے ہیں-
اڈیالہ جیل اس وقت قانون سے بالاتر ہے۔ جیل مینول کے برخلاف میری اپنی اہلیہ سے 90 دن میں 72 گھنٹے ملاقات نہیں کروائی جا رہی جو کہ میرا بنیادی اور قانونی حق ہے۔ عدالتی احکامات کے باوجود دو ہفتوں سے میرے بچوں سے بھی بات نہیں کروانے دی جا رہی۔ پچھلے چار ماہ میں صرف چار بار بات کروائی گئی- یہاں تک کہ میری کتابیں مجھ تک پہنچنے نہیں دی جاتی ہیں۔ یہ سب کچھ بنیادی انسانی حقوق ، قانون اور جیل مینول کی سنگین خلاف ورزی ہے۔ پاکستان میں اس وقت صرف جس کی لاٹھی اس کی بھینس کا قانون نافذ ہے۔“
خواتین صرف وہ نہیں جو بوٹ پالش کے انعام کے طور پر جعلی فارم 47 کے ذریعے ملک پر مسلط کر دی جائیں، بلکہ وہ بھی ہیں جو آپ کے ناجائز قبضے کو ٹھکرا کر ظلم و جبر کے سامنے سینہ تان کر کھڑی ہو گئیں۔ یحیٰی خان پارٹ ٹو کی ناجائز عسکری حکومت میں خواتین کا جس طرح استحصال کیا گیا اس کی مثال نہیں ملتی! #WhoAreYou
ان خواتین پر ظلم کرنے والے نامعلوم تو نہیں تھے۔ ان کی تو شناخت بھی بارہا کروائی گئی۔ لیکن الٹا مظلوم کو کبھی سڑکوں کبھی عدالتوں میں گھسیٹا گیا۔
-کیا یہ پاکستانی نہیں؟
-کیا ان پر اسلامی ریاست کا تحفظ کا قانون لاگو نہیں ہوتا؟
-کیا ان پر ناحق ظلم کرنے والوں کا حساب نہیں ہونا؟
#WhoAreYou
مناواں میں ایک باوردی پولیس اہلکار کو بھکاری خاتون سے جنسی زیادتی کرتے ہوئے رنگے ہاتھوں پکڑا گیا۔ جب اہلکار کو پکڑا گیا تو اس نے شہری پر فائرنگ کر دی جس کے نتیجے میں ایک نوجوان ساجد زخمی ہو گیا۔۔۔۔
https://t.co/8na5ClUt74
یحیٰی خان پارٹ ٹو کی عسکری حکومت میں معصوم عوام کا قتل عام جاری۔۔۔
کوٹ ادو چوک سرور شہید میں پولیس کی غیر قانونی ریڈ کے دوران تحریک انصاف کے غلہ منڈی کے صدر اور سابق چیئرمین یاسر مان جان کی بازی ہارگئے۔ ریڈ کے دوران چادر اور چار دیواری کا تقدس پامال کرتے ہوئے گھر میں توڑ پھوڑ کی گئی، باہر کھڑی متعدد گاڑیوں کو بھی نقصان پہنچایا گیا اور گھر والوں کو ہراساں کیا گیا، وہ ادارے جن کا کام عوام کو تحفظ فراہم کرنا ہے اب وہی قاتل بنے پھر رہے ہیں!
#UndeclaredMartialLaw