🚨🚨🚨شاہ زیب خانزادہ سے مجھ سمیت آپ سب کے لاکھ اختلافات سہی مگر انہوں نے یہاں صحافت کا پورا پورا حق ادا کیا ہے!!!
رضا ڈار کی جگہ کوئی عام آدمی غیر ملکی خواتین کے کیس میں ملوث ہوتا تو سی ٹی ڈی نے اب تک ان کاؤنٹر کر چکا ہوتا، شاہ زیب خانزادہ 🔥👏
ا��ٹیبلشمنٹ اور شہباز شریف دونوں عمران خان کے بیانیے کو توڑنے میں ناکام رہے۔
عوام آج بھی وہی مانتی ہے جو عمران خان کہتا ہے، کیونکہ محبت زبردستی نہیں بدلی جاتی ! منیب فاروق۔
اللّه کی قدرت۔ کیسے کیسے سچ سامنے آ رہے ہیں۔
عمران خان مخالف ایمل ولی برملا اعتراف کر رہے ہیں کہ 9 مئی صرف ایک ڈرامہ تھا جو PTI کو پھنسانے کیلئے کیا گیا۔
ایک طرف پنجاب کا بجٹ ، عوام کے ٹیکس کے پیسوں سے بننے والے منصوبوں پہ “ پورے ٹبر “ کے نام لگا دئیے
دوسری طرف خیبر پختونخواہ کا بجٹ جہاں “ کسی ٹبر “ کا نام نہیں چسپاں کیا گیا عوام کے ٹیکس کے پیسوں سے بننے والے منصبوں کا
فرق جان کر جیو
اب تو منصور بھی آئینہ دکھا رہا
لاہور کے حلقے میں بلاول کی کیمپین میں نے کی تھی میں مانتی ہوں کہ اس حلقے میں بے ایمانی ہوئی بلاول نہیں جیتے لیکن عطا تارڑ بھی نہیں جیتے تھے ! شہلا رضا ۔۔
عمران خان کی سیاست کی وجہ سے الیکشن میں الیکٹیبلز کی سیاست ختم ہو گئی،
پنجاب میں برادری سسٹم والا ووٹ کلچر ختم ہوا،
2024 کے الیکشن میں تحریک انصاف کو 4 کروڑ ووٹ ملا،
کراچی کی 20 قومی اسمبلی کی سیٹوں میں 19 تحریک انصاف جیتی مگر وہاں دھاندلی کی گئی، شفیع جان
میں مانتا ہوں میں تحریک انصاف کے امیدوار سے ہارا ہوں ۔۔۔ مجھے ساری زندگی ہو گئی الیکشن لڑتے لڑتے لیکن 2024 الیکشن میں پہلی بار یہ دیکھا کہ لوگ اپنے امیدوار کو جانتے تک نہیں تھے لیکن صرف عمران خان کے نام پے ووٹ دیتے گئے۔۔۔۔۔
ن لیگی رہنما جاوید عباسی:-
پاکستان ��ا فارن ایکسچینج ریزرو سب سے کم زرداری کے دور میں 15 بلین ڈالرز، مشرف کا 18 سے 20 بلین ڈالرز، نواز شریف کا 22 جبکہ عمران خان کا 27 بلین ڈالرز تھا۔ میں عمران خان کا نمائندہ نہیں لیکن جو ��چ ہے وہ بولا جائے گا، ڈاکٹر دانش
پرال کے CEO کی تنخواہ 52 لاکھ روپے
صدر ایگزم بینک کی تنخواہ 50 لاکھ روپے
صدر فرسٹ ویمن بینک کی تنخواہ 22 لاکھ روپے
صدر زرعی ترقیاتی بینک کی تنخواہ 54.5 لاکھ روپے
گورنر سٹیٹ بینک کی تنخواہ 40 لاکھ روپے
یہ سرکاری ملازمین اس ملک کو کھا گئے ہیں ان لوگوں کو ڈیزل گاڑیاں بنگلے ، بیرونی دورے ، فیملی ویزے ، لاکھوں کے دیگر الاونسز مل رہے ہیں ان لوگوں پر ہاتھ جب تک نہیں ڈالا جائے گا غریب کا بچہ یوں ہی بھوکہ سوئے گا
اس ملک میں پولیس افسر باہر نکلتا ہے 6 گاڑیاں ساتھ ہوتی ہیں۔ ٹریفک سگنل بند ہوتا ہے۔ آپ ایران امریکا کے درمیان جتنے مرضی مذاکرات کروا لیں ملک میں ایک روپے کی سرمایہ کاری نہیں آئے گی، شاہد خاقان عباسی
ڈاکٹر ثمر مبارک کا نواز شریف پر ل سنگین الزام 🚨
جہاں آئی پی پیز 24 روپے فی یونٹ بجلی بنا رہے تھے، وہاں ڈاکٹر صاحب نے صرف 6 روپے فی یونٹ بجلی پیدا کر کے ایک مثال قائم کی۔
مگر اس کا صلہ یہ ملا کہ ان کے تمام فنڈز روک دیے گئے۔ انہوں نے احسن اقبال، نواز شریف سمیت متعلقہ حکام کو خطوط بھی لکھے، مگر سستی بجلی بنانے کے ‘جرم’ میں ان کے مزید فنڈز بھی بند کر دیے گئے۔
یہ سب اس لیے کیا گیا کیونکہ آئی پی پیز میں حکمران طبقے کے مفادات جڑے ہوئے ہیں، جن میں چنیوٹ پاور پلانٹ سمیت سلمان شہباز جیسے افراد کے نام بھی شامل تھے۔
@PTIofficial
جب آئی پی پیز کے معاہدے کیے جا رہے تھے اور اس میں پیپلز پارٹی اور ن لیگ دونوں فریق شامل تھے، اُس وقت یہ احساس نہیں تھا کہ آگے چل کر یہ فیصلے کتنے سنگین مسائل پیدا کریں گے۔
پیپلز پارٹی کے سابق وزیر خزانہ ڈاکٹر مبشر حسن نے اس وقت بھرپور مؤقف اپنایا تھا کہ آئی پی پیز کے ساتھ ہونے والے معاہدے شفاف نہیں، ریٹس غیر معمولی طور پر زیادہ رکھے جا رہے ہیں، اور سوورین گارنٹیز مستقبل میں معیشت کے لیے بڑا بوجھ بن جائیں گی۔
اس کے باوجود ن لیگ اور پیپلز پارٹی دونوں نے ان معاہدوں پر دستخط کیے! نجم سیٹھی۔
جہاں ہمیں اگر بجلی 24000میگاواٹ درکار تھی، وہاں ہم نے 42000میگاواٹ کے پاور پلانٹس لگا رکھے ہیں۔ اضافی بجلی بھی ہم ان سے نہیں لے رہے، مگر پھر بھی IPPs کوادائیگیاں کر رہے ہیں۔ اس میں شریف خاندان سمیت تقریباً اڑتالیس اشرافیہ خاندان شامل ہیں جنہیں ڈالرز میں ادائیگیاں کی جا رہی ہیں۔ ظلم کی انتہا دیکھیں کہ جن کا بجلی کا بل پہلے 10,000آتا تھا، وہ اب ان کی مہربانیوں کی وجہ سے 50,000 تک پہنچ گیا ہے! روف کلاسرا۔
@KlasraRauf
آ پی پیز میں زیادہ حصہ شہباز شریف کے بیٹے سلمان شہباز کا ہے ،اور یہ کالا دھن 2015 میں اسی ن لیگی حکومت نے پاس کیا تھا ،جو اس ملک کے غریبوں کا خون چوس رہا ہے۔
آئی پی پیز سے پہلی بار مذاکرات سابق وزیراعظم عمران خان کے دور میں ہوئے تھے، جس میں عمران خان نے ڈالر کا ریٹ فکس کروا کر قوم کے اربوں روپے بچائے تھے، جبکہ دوسری طرف شہباز شریف کے بیٹے نے چنیوٹ پاور پلانٹ کی مدد سے قوم کے اربوں روپے لوٹے ہیں۔
@KlasraRauf
تین سو یونٹس کو سٹور کرنے کے لیے لیتھیم کی 5کلو واٹ والی دو بیٹریاں بہت ہیں
اج کل اچھی سے اچھی بیٹری تقریبا ڈھائی لاکھ روپے کی ہے جو پانچ سال کی وارنٹی کے ساتھ آتی ہے اور اس کی لائف 12 سے 15 سال کی ارام سے ہے سائیکل کے حساب سے۔ اب ہوگا کیا جب واپڈا کا کنزیومر دو بیٹریز لگا دے گا تو اس کے فالتو تین سو یونٹ ایکسپورٹ ہو رہے تھے وہ ایکسپورٹ ہونا بند ہوجائیں گے اور وہی یونٹس بیٹریز میں محفوظ ہو جائیں گے جنہیں آپ رات میں استعمال کر سکیں گے۔ اچھا جب یہ کنزیومر 300 یونٹ کے حساب سے بیٹری لگا کے جب پرفارمنس دیکھے گا ایک مہینے چھ مہینے سال اور اس کو ایک فیلنگ ائے گی تو بڑا اچھا سلوشن ہے تو وہ کہے گا کہ کیوں نہ میں دو بیٹریز اور لگا لوں۔ اب جب وہ چار بیٹریز نکالے گا تو کافی زیادہ چانس ہے کہ اگر یہ جس سائز کے گھر کی ہم بات کر رہے ہیں کہ ہو سکتا ہے اس کی پوری رات ہی بیٹریز پر چلے۔ اور اس کو واپڈا کی ضرورت ہی نہ پڑے۔ ابھی تو پھر بھی رات کے ٹائم پہ وہ واپڈا کو استعمال کر رہا تھا یہ کنزیومر اگلے ایک سال ڈیڑھ سال دو سال تین سال میں وہ اہستہ اہستہ واپڈا کو ٹوٹلی چھوڑ دے گا پھر واپڈا کیا کرے گا صرف بیک اپ کے لیے چھوڑ دیا کہ چلو کبھی کبھی اگر میرے پاس مہمان ا جائیں گے تو اس ٹائم واپڈا کو استعمال کرے گا جب اسے بہت زیادہ پاور کی ضرورت ہوگی ورنہ نارمل ڈیز کنزیومر بیٹریز ہی استعمال کرے گا تو اس ٹائم واپڈا کو زیادہ بڑا نقصان ہو گا تو لہذا واپڈا کو یہ بات سمجھنے کی ضرورت ہے کہ سر یہ جو اپ پالیسی بنا رہے ہیں یہ اج کا شاید اپ کا مسئلہ حل کر دے تھوڑی دیر کا لیکن دیکھیں نا کنزیومر کے پاس دوسری اپشن ہے۔۔ بابا میاں صاحب کی وال سے
ایک ایسا شعبہ جس نے 32 سال میں پاکستان کو موت کے دہانے پر پہنچا دیا۔ وہ ہے IPPs۔ یعنی بجلی پیدا کرنے والے 90 پرائیویٹ ادارے۔
ان معاہدوں کی قاتلانہ شرائط سے آپ پہلے ��ے واقف ہیں لیکن ان خون آشام اداروں کے مالک کون کون ہیں وہ بھی آپکو پتہ ہونا چاہیے
28 فیصد شریف خاندان ۔۔ %16 نواز لیگ کے رہنما ۔۔۔ تقریبا % 16 ہی زرداری اور %8 پیپلز پارٹی کے رہنما اور %10 اسٹیبلشمنٹ جو اس ملکے کی سلامتی کی ٹھیکدار ہے ۔۔ %8 وہ جن کی دوستی سمندر سے گہری اور ہمالیہ سے اونچی ہے یعنی چینی کمپنیاں ۔۔ %8 ہمارے مسلم برادر عرب کے سرمایہ کار (قطری) بابو اور تقریبا %6 فیصد پاکستانی سرمایہ دار ہیں ۔۔
یعنی 78 فیصد صرف تین گروپس ( شریف ، زرداری، اسٹبلشمنٹ) کی ملکیت ہیں۔ ۔۔ اس سے آگے کا المیہ بھی سن لیجیے ۔۔۔ یہی وہ 90 لوگ یا گروپ ہیں جس کے پاس پاکستان کی تمام شوگر ملز، سٹیل ملز، سیمنٹ، کھاد، کپڑے، بنک، LPG اور گاڑیاں بنانے کے لائسنس ہیں۔۔۔۔
یہ بجلی گھر پاکستان کی کل ضرورت کا %125 فیصد پیدا کرنے کی صلاحیت بتا کر لگائے گئےلیکن یہ بجلی گھر صرف %48 فیصد بجلی فراہم کرتے ہیں """ لیکن قیمت عوام سے %125 فیصد کی وصول کرتے آ رہے ہیں، لہذا پچھلے 5 سال میں 6 ہزار ارب دینے کے باوجود یہ ملک ان کا اج بھی 2900 ارب کا مقروض ہے۔
یہ تحریر بہت قیمتی ہے ۔۔۔ اس کو شیئر کریں تاکہ ان بدبخت اور لٹیرے حکمرانوں کاحال اس عوام کو پتہ چلے ۔۔۔۔۔۔۔۔