مولانا فضل الرحمان ایک کہنہ مشق سیاست دان اور ممتاز مذہبی رہنما ہیں، اس لیے ان سے الفاظ کے انتخاب میں زیادہ ذمہ داری کی توقع کی جاتی ہے۔ فوجی جوانوں کی وطن کے لیے قربانی کو ان کی تنخواہ سے جوڑنا نہ صرف غیرمنصفانہ ہے بلکہ شہداء اور ان کے خاندانوں کی دل آزاری کے مترادف ہے۔ کوئی شخص محض تنخواہ کے لیے اپنی جان نہیں دیتا۔ جان کی قربانی کے پیچھے کسی نظریے، عقیدے، فرض اور وطن سے گہری وابستگی ہوتی ہے۔ آپ حالات و واقعات یا طریقہ کار سے اختلاف کر سکتے ہیں، مگر اس نظریے، وابستگی، محبت اور قربانی کی توہین نہیں کر سکتے۔
ایسے وقت میں، جب دہشت گردی کے خلاف جنگ جاری ہے اور ماؤں کے جوان بیٹے (بشمول افواج پاکستان، دیگر قانون نافذ کرنے والے ادارے اور سب سے بڑھ کر ہمارے سویلینز) روز قومی پرچم میں لپٹ کر واپس آ رہے ہیں، ان کی قربانی کو تنخواہ کا نتیجہ قرار دینا سیاسی تنقید نہیں بلکہ اخلاقی بے حسی ہے۔ مولانا صاحب نے صرف ایک ادارے کو نہیں، ہزاروں شہداء، زخمیوں، بیواؤں، یتیم بچوں اور سوگوار والدین کے جذبات کو مجروح کیا ہے۔
اپوزیشن لیڈر اسمبلی میں اپنی تقریر کا آغاز افغانستان سے کرتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ سارے پختون افغانستان کو اپنا گھر سمجھتے ہیں۔ ایسا بالکل بھی نہیں ہے۔ میں ایسا نہیں سمجھتی، نہ میرے بچے اور نہ ہی میرا خاندان ایسا سمجھتا ہے۔ ہمارے بزرگ یہیں پیدا ہوئے ہیں۔ ثمر ہارون بلور
@ammarmasood3@SamarHBilour
محمود اچکزئی نے بلوچستان کے حالات پر تشویش کا اظہار کیا تو کیا ان کو نہیں معلوم کہ اختر مینگل کیا گُل کھلا رہے ہیں، اپنے ساتھ بیٹھے اختر مینگل کے بارے میں کیا محمود اچکزئی نہیں جانتے؟ کیا دودھ پیتے بچے ہیں؟ میں یقین سے کہہ سکتا ہوں کہ اختر مینگل یہ دہش ت گر دوں کا سیاسی چہرہ ہے
ہم پہلے ہندو تھے پھر اسلام قبول کیا۔ لیکن ہمارا ڈی این اے اب بھی وہی ہے یعنی ہم آج بھی ہندو ہیں: افغان وزیر کا انڈیا میں بیان
شکر ہے خارجی اب خود تسلیم کررہے ہیں کہ ہم گوتم بدھ کی اولاد ہیں ہم کہتے ہیں تو برا مان جاتے ہیں
انہوں نے صرف نام اسلامی رکھے ہیں باقی کام اور عمل وہی ہے
ہونا تو یہ چاہیے کہ سپریم کورٹ نسلہ ٹاور کا ہرجانہ گلزاری لعل سے سود سمیت وصول کرے اور جج صاحب کی جائیداد فروخت کرکے متاثرین کا نقصان بھرے اور کان پکڑ کر ناک رگڑ کر معافی کی درخواست کرے اور آئندہ پاکستانی ماؤں سے عرضی بھی کرے کہ گلزار جیسے گندے انڈے دائی تک پہنچانے سے گریز کریں
عوام کے پاس کھانے کیلئے کچھ نہیں ہے لوگ خودکشیاں کررہے ہیں ۔ میت کے دفنانے کیلئے لوگوں کے پاس کفن نہیں ہوتا ۔ یہ چل کیا رہا ہے ۔ یہ کس قسم کا نظام ہے ۔ اینکر نے پنجابی میں کھری کھری سنادی
سندھ کی بیٹی ام رباب چانڈیو کے کزن ریاض علی چانڈیو کو اندھا دھند فائیر۔نگ کرکے قتل کر دیا گیا، کچھ عرصہ قبل روتی بلکتی ام رباب چانڈیو کو تسلیاں اور دلاسے دینے والا اور قدم قدم پر ساتھ چلنے والا ریاض چانڈیو بھی حق کی راہ میں مارا گیا۔ سندھ کی بیٹی انصاف کی جدوجہد میں اکیلی ہو گئی یہ واقعہ اس وقت پیش آیا جب اپنے خاندان کے تہرے قتل کے مشیر ریاض چانڈیو اپنی زمینوں میں ٹریکٹروں کے ذریعے کام کروا رہے تھے ۔ کئی مسئلہ افراد نے وہاں دھاوا بول دیا اور اندھا دھند فائیر۔نگ کرکے ریاض چانڈیو کو ق۔تل کردیا۔ یاد رہے کہ آج ہوئے واقعہ کے ملزمان بھی وہی ہیں جو پہلے اس خاندان کے تین قتل کرنے کے بعد بھی آزاد گھوم رہے ہیں۔
پانی اب سر سے گزر چکا ہے،،،
جو لوگ کہتے ہیں بلوچستان میں ترقیاتی منصوبے لگائے جائیں تو نام نہاد ناراض بلوچوں کے نام پر دہشتگردوں کی احساس محرومی ختم ہو جائے گی
انھیں معلوم ہونا چاہیے کہ دہشتگردوں کو تکلیف ہی ترقیاتی منصوبوں سے ہے ان کی دشمنی ہی بلوچستان کی ترقی سے ہے
عامر خان بار بار ہندو عورتوں کے ساتھ شادی کر رہا ہے، یہ ہندوؤں کی توہین ہے۔ عامر خان مسلسل ہندو معاشرے کو چیلنج کر رہا ہے۔
عامر خان سازش کے تحت ہندوؤں کو کمزور کر رہا ہے۔ قانون اور عدالتیں کہاں ہیں؟
عامر خان شادی ہندو عورتوں سے کرتا ہے مگر بچوں کے نام مسلمانوں والے رکھتا ہے۔
اگر عامر خان باز نہ آیا تو ہم اُسے سبق سکھا دیں گے۔ سرکار سے مطالبہ ہے کہ عامر خان کے خلاف سخت کارروائی کی جائے۔
بھارتی عسکریت پسند ہندوتوا تنظیم ”بجرنگ دَل“ کے رکن کی بالی ووڈ سٹار عامر خان پر تنقید
نسلہ ٹاور گرائے جانے کے سپریم کورٹ کے فیصلے کو اب غلط قرار دینے کی حثیت بھی بالکل اسی طرح ہے جیسے بعد از وفات چند قیدیوں کو الزامات سے بری کر دیا گیا تھا-
لوگوں کے گھر اجڑ گئے, وہ اپنی ساری زندگی کی جمع پونجی گنوا بیٹھے-
کچھ اور نہیں تو کم سے کم اس گھٹیا سابق چیف جسٹس گلزاری کو ہی کٹہرے میں لے آئیں-
سعودیہ نے اسی ہفتے آئل فی بیرل 11 ڈالر قیمت کم کی، کل بھی عالمی مارکیٹ میں تیل سستا ہوا ھے۔
لیکن ہماری حکومت نے جنگ کا بہانہ بنا کر تقریبا 14روپے لیٹر پیٹرول بڑھا دیا۔ حالانکہ پاکستان میں پہلے ہی تیل کا فائدہ غریب عوام کے بجائے آئل مافیا کو پہنچ رہاھے۔
اب اسکو ہم کیسے ڈیفینڈ کرے؟
یہ ویڈیو اس بات کا ثبوت ہے کہ ایکشن کمیٹی کے کن کترے خود راستہ روک کر بیٹھے ہوئے ہیں لیکن جب تقریریں کریں گے تو بولیں گے کہ پاکستان نے ہماری سپلائی روکی ہوئی ہے۔
یہ جتھے خود ایسی حرکتیں کرکے معصوم بنتے ہیں لیکن اب 1971 نہیں 2026 ہے جب سوشل میڈیا پر ہر منافقت کا ثبوت ہوتا ہے