A personal plea to @elonmusk
My two sons have not been allowed to see or speak to their father Imran Khan who has been held unlawfully (acc to the UN) for 22 months of solitary confinement.
X is the only place left where we can still tell the world he is a political prisoner without basic human rights.
Yet every time I post about him, the reach inside Pakistan (and often globally) is throttled to almost zero.
You promised free speech, not “speech but no one hears it”.
Please fix the visibility filtering on my account so we can get the message out! @MarioNawfal
“اڈیالہ میں میرا نام نہاد ٹرائل کوئی جج نہیں ایک ISI کا کرنل چلوا رہا ہے، جو آرمی چیف عاصم منیر سے ہدایات لیتا ہے۔ یہ سول نہیں ملٹری ٹرائل ہے۔
پاکستان میں اس وقت جو بھی ہو رہا ہے عاصم لاء کے تحت ہو رہا ہے اور مسلسل آئین و قانون کی دھجیاں اڑائی جا رہی ہیں۔ مجھ پر تین سو سے زائد بے بنیاد مقدمات درج کیے گئے جن کا میں سامنا کر رہا ہوں اور کوئی ڈیل کیے بغیر عدالتوں سے انصاف لے کر ہی باہر آؤں گا۔ ہماری جماعت پر ہر طرح کا ظلم ڈھایا گیا۔ اگر میرٹ پر فیصلہ کیا جائے تو میں اور میری اہلیہ آج ہی رہا ہو جائیں۔ میرے اور میری اہلیہ بشرٰی بیگم کے تمام انسانی حقوق پامال ہیں۔ ہمیں عام قیدی والی سہولیات سے بھی محروم رکھا گیا ہے، میری کتابیں تک روک لی جاتی ہیں آٹھ ماہ میں صرف ایک بار میری بچوں سے بات کروائی گئی۔ ججوں کی میرے مقدمات میں کوئی حیثیت نہیں نہ میرے مقدمات کا ٹرائل جج آزادانہ طور پر کر سکتے ہیں بلکہ ایک کرنل جو کہتا ہے وہی فیصلہ کرتے ہیں۔ وہ کرنل عاصم منیر کے احکامات پر چلتا ہے۔
میں اپنی تمام پارٹی کو کہتا ہوں کہ آپ سب متحد رہیں ظلم کا نظام زیادہ دیر قائم نہیں رہے گا۔ آپ سب کے لیے لازم ہے کہ میری ٹویٹ کو ری ٹویٹ کریں تاکہ میرے پیغام پر اتحاد قائم رہے۔
خیبرپختونخوا میں ایک گرینڈ جلسے کا اعلان کیا جائے جس میں پورے ملک سے لوگ شریک ہوں اور اس سیاہ رات کے خلاف کھڑے ہوں-“
سابق وزیراعظم عمران خان کی اڈیالہ جیل میں اہل خانہ سے گفتگو (۱۵ ستمبر، ۲۰۲۵)
3/3
میں اللّٰہ کو گواہ بنا کر کہتا ہوں کہ میں نے آفیشل سیکرٹس ترمیمی بل 2023 اور پاکستان آرمی ترمیمی بل 2023 پر دستخط نہیں کیے کیونکہ میں ان قوانین سے متفق نہیں تھا۔ میں نے اپنے عملے سے کہا کہ وہ بغیر دستخط شدہ بلوں کو مقررہ وقت کے اندر واپس کر دیں تاکہ انہیں غیر موثر بنایا جا سکے۔ میں نے ان سے کئی بار تصدیق کی کہ آیا وہ واپس جا چکے ہیں اور مجھے یقین دلایا گیا کہ وہ جا چکے ہیں۔ تاہم مجھے آج پتہ چلا کہ میرا عملہ میری مرضی اور حکم کے خلاف گیا۔
اللہ سب جانتا ہے، وہ انشاء اللہ معاف کر دے گا۔ لیکن میں ان لوگوں سے معافی مانگتا ہوں جو اس سے متاثر ہوں گے۔
میری موجودگی میں باجوہ صاحب نے عثمان ڈار سے معافی مانگی۔ میرے سامنے راجہ ریاض کو ٹکٹ دی گئی۔ آپ کہتے ہیں کہ ہم عمران خان کو ۲۰۱۸ میں لائے۔ اگر ہمت ہے تو آج الیکشن کروا کر اپنی مرضی کا بندہ لے آئیں۔
ڈی جی آئی ایس آئی تو بہت بڑی چیز ہوتا ہے، وہ تو K-2 کو دیکھے تو K-2 اس کے آگے جُھک جائے۔ یہاں تو پٹواری ایک آنکھ سے تین ہزار ووٹوں کی دھاندلی تو ایسے ہی کروا لیتا ہے۔ ہر کوئی یہاں چیف آف آرمی سٹاف کو گاڑی تک چھوڑنے آتا ہے، میں نے آج تک عمران خان کو اپنے چیمبر سے باہر نکلتے ہوئے نہیں دیکھا۔ وہ بیساکھیوں کے ساتھ حکومت میں تھا لیکن غیرت کے ساتھ تھا۔ مطیع اللہ جان کے اغوا ہونے پر وزیر اعظم عمران خان نے کیا کہا، میں اس کا گواہ ہوں۔ شہباز گِل کی فلوریڈا میں دھواں دار تقریر کا چھوٹا سا حصہ
#قيدی_نمبر804
تم جسے ہرانے کے لیے گرے جارہے ہو، وہ تو کب کا جیت چکا ہے۔ یہ لڑائ تو شروع ہی اس کی جیت سے ہوئ تھی۔ جب تم نے جان لیا تھا کہ تم اسے ہرا نہیں سکتے تب ہی تو تمہاری بغلوں میں چھپے خنجروں پر تمہاری انگلیوں کے نشان چمکے تھے۔ کل تک جنہیں تم پیٹھوں میں گھونپتے تھے اس نے تمہیں مجبور کیا کہ وہ تم اس کے سینے پر رکھو اور وہ تمہاری آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر یہ گواہی دے کہ لا الہ الا للہ۔۔ نہیں ہے کوئ معبود اللہ کے سوا!
اس کی نظروں کی بے خوفی ہی نے تو تمہیں نظروں سے گرا دیا ہے۔ آج اس کا زندان بھی روشن ہے، اور تمہارے محلوں پر بھی آسیب کا سایہ ہے۔ اب تم بین ڈال ڈال کے اپنی مظلمویت کا پرچار کرو یا اپنے ہی جگر گوشوں کے کلیجے چباؤ۔ جیت تو وہ گیا ہے تم تو خجالت میں صرف اپنے نقاب نوچ رہے ہو۔
🧵Part 4/n
80 days of illegal incarcerations & enforced disappearances by the imposed, fascist, illegitimate regime.
Law, constitution, democracy, human rights, freedom of speech, sanctity of life - ALL suspended.
The silence of human rights organisations & women rights organisations in Pakistan is deafening & will be remembered for all times to come.
#PakistanUnderFascism
#خان_تیرے_ساتھ_رہیں_گے
اپنی 27 سالہ سیاست کے دوران میں نے کبھی کسی بھی موڑ پر اپنے کارکنان کو تشدد کی تلقین نہیں کی۔ چنانچہ 9 مئی کے واقعات (کی تفصیلات معلوم ہونے پر) پر پہلے تو مجھے نہایت تعجب اور حیرانگی ہوئی اور پھر مجھے اس حقیقت تک پہنچنے میں کچھ زیادہ وقت نہیں لگا کہ میری پرتشدد گرفتاری سے جلاؤ گھیراؤ اور پھر نازیوں کے سے انداز میں (تحریک انصاف کیخلاف) کریک ڈاؤن تک کا پورا ڈرامہ ایک سوچے سمجھے منصوبے کے تحت رچایا گیا۔
اس صحافی کی یہ ویڈیو اس سب کی مکمل تصدیق کرتی ہے۔
یہی وجہ ہے کہ میں نے روزِ اوّل سے اس واقعے کی آزادانہ تحقیقات کا مطالبہ کیا ہے۔
@Marriyum_A Dadu charger shut your mouth 🤫 nurse ke bachi bta 72arab k asasay kaisy bnay hain btao khan pai bat krti ha tujh jaisee orat ko to ham jaisy worker jawab daina psnd ni krty phr mjbri ma krna prhta ha sab pta ha tu ju ju krti hain sharifon k ghar ma rh k or Tri Ma b jo krti thi
تحریک انصاف کے کارکنان اور حمایتیوں کیطرح وائس چیئرمین شاہ محمود قریشی کو بھی ضمانت ملنے کے باوجود پھر سے گرفتار کرلیا گیا ہے۔
اب ہم پوری طرح جنگل کے قانون کی زد میں ہیں جہاں جس کی لاٹھی اس کی بھینس کا اصول ہی اصل دستور ہے جبکہ اس (لاقانونیت) کی راہ میں واحد رکاوٹ ہماری عدلیہ ہے۔
عدالتِ عظمیٰ کے احکامات کے ساتھ آئین کو بھی نہایت بےرحمی اور ڈھٹائی سے روندا جارہا ہے۔ پولیس کے ذریعے تحریک انصاف کو کچلنے کا سلسلہ جاری ہے اور ہمارے قائدین کو تحریک چھوڑنے پر مجبور کیا جارہا ہے۔
انسانی حقوق کا خون سرِعام کیا جارہا ہے، میڈیا کو گلا گھونٹا جاچکا ہے جبکہ سوشل میڈیا کارکنان (ایکٹیویسٹس) کو ڈرانے دھمکانے کا سلسلہ بھی جاری ہے۔ عدالتی احکامات کے باوجود عمران ریاض کو عدالت میں پیش نہیں کیا جارہا۔ اس کے ساتھ شدید گرم موسم میں ہمارے گرفتار کارکن تنگ و تاریک کوٹھریوں میں ٹھونس دیے گئے ہیں جبکہ کئی ایک کو دورانِ حراست بدترین تشدد کا سامنا ہے۔
اس یزیدیت کے سامنے سَرنِگوں ہونے کا مطلب بحثیت قوم ہماری موت ہے چنانچہ میں اپنے آخری دَم تک (اس یزیدیت کیخلاف) مزاحمت کروں گا۔