A 17-year-old valedictorian, Leen Hijaz, used her graduation speech to speak for the voiceless: "Millions suffering in Palestine, Sudan, Congo, Afghanistan. Families torn apart by ICE."
The school administrator cut her mic. Told her: "If you don't stop, you're not graduating." They withheld her diploma for four days.
▪️ جو ظلم و جبر کا بازار انہوں نے گرم کر رکھا ہے، آج بلوچستان نیشنل پارٹی کے سربراہ سردار اختر جان مینگل کو اپنے ورکر کی شہادت پر تعزیت اور فاتحہ خوانی میں شرکت کے لیے جانے سے کرفیو کے نام پر روکا جا رہا ہے۔
▪️ اسی ��لسلے میں بلوچستان نیشنل پارٹی (مینگل) نے 10 تاریخ کو پورے صوبے میں شٹر ڈاؤن ہڑتال کی کال دی ہے۔ تمام جمہوری اور ملت پال سیاسی جماعتیں اس شٹر ڈاؤن ہڑتال کی مکمل حمایت کا اعلان کرتی ہیں۔
▪️ ہم سمجھتے ہیں کہ عوامی آواز کو دبانے، سیاسی قیادت کو محدود کرنے اور شہری آزادیوں پر قدغن لگانے کے یہ اقدامات ناقابلِ قبول ہیں۔ ان شاء اللہ ہم اس ظلم، جبر اور ناروا پالیسیوں کے خلاف متحد ہیں اور ان ناجائز اقدامات کے ساتھ ساتھ ان کے پشت پر بیٹھے ریاستی ہتھکنڈوں کے خلاف اپنی جمہوری و سیاسی جدوجہد جاری رکھیں گے۔
~اصغر خان اچکزئی
صدر، عوامی نیشنل پارٹی بلوچستان
کوئٹہ میں گزشتہ روز ایک خاتون ڈاکٹر کے ساتھ جو کچھ ہوا، وہ صرف ایک فرد پر حملہ نہیں بلکہ ہماری روایات، ہماری اقدار اور بلوچستان کی اجتماعی غیرت پر حملہ ہے۔ یہ اس سرزمین کی روح کے خلاف ہے جہاں عورت کو عزت، وقار اور احترام کا سب سے بلند مقام حاصل رہا ہے۔
آج ہم ایک ایسے دور کے گواہ ہیں جو ہمارے لیے باعثِ شرم ہے۔ ہم خاموش بیٹھے ہیں جبکہ ہماری بیٹیاں ہسپتالوں میں نشانہ بنائی جا رہی ہیں، انہیں اٹھایا جا رہا ہے، قید کیا جا رہا ہے اور ہراساں کیا جا رہا ہے۔ یہ سب اُس دھرتی پر ہو رہا ہے جہاں کبھی عورت کی حرمت ہر شے سے بڑھ کر سمجھی جاتی تھی۔ یہ دیکھنا روح کو زخمی کر دیتا ہے کہ ہم بحیثیتِ معاشرہ کہاں سے کہاں پہنچ گئے ہیں۔
بلوچستان وہ سرزمین ہے جہاں عورت صرف عزت کی علامت نہیں بلکہ قیادت، ہمت اور شعور کی نمائندہ بھی رہی ہے۔ جو لوگ پسماندہ، تنگ نظر اور فرسودہ سوچ کے ذریعے باعزت ��ور کامیاب خواتین کو بدنام کرنے، دبانے یا ان کی آواز خاموش کرنے کی کوشش کرتے ہیں، انہیں جان لینا چاہیے کہ وہ صرف ایک عورت نہیں بلکہ پورے معاشرے کی بنیادوں کو نشانہ بنا رہے ہیں۔
کسی بھی عورت کی عزت، سا��ھ اور کامیابی پر حملہ دراصل ہماری اجتماعی اقدار پر حملہ ہے۔ ایسے رویوں کے لیے کوئی گنجائش نہیں ہونی چاہیے۔ خواتین کا احترام کوئی انتخاب نہیں، بلکہ ایک اصول ہے جسے ہر حال میں برقرار رکھنا ہوگا۔
ہم متاثرہ خاندان کے ساتھ مکمل یکجہتی کا اظہار کرتے ہیں اور مطالبہ کرتے ہیں کہ ذمہ دار عناصر کو فوری طور پر قانون کے کٹہرے میں لایا جائے۔ خاموشی اب جرم بن چکی ہے۔ وقت آ گیا ہے کہ ہم اپنی روایات، اپنی غیرت اور اپنی بیٹیوں کے وقار کے دفاع کے لیے یک آواز ہو جائی!!
What happened to the female doctor in Quetta yesterday goes against our traditions, our values, and everything Balochistan stands for. Women hold the highest place of respect in our society, and there can be no tolerance for those who try to bring down respected and successful women with backward and patriarchal thinking.Balochistan is a land where women are honoured, valued, and often lead from the front. Any attack on a woman’s dignity, reputation, or achievements is an attack on our collective values. We stand with every woman facing injustice and strongly condemn those who believe they can silence, shame, or target women. There must be zero tolerance for such behaviour. Respect for women is not a choice it is a principle that must be upheld at all times. We stand united with the victims family and demand justice.
آج صبح 8 بجے سے #BNP کے سربراہ سردار اخترجان مینگل اور پارٹی کی مرکزی قیادت کے اراکین کو زہری جانے سے روکا جا رہا ہے، جہاں وہ سردار نصیر احمد موسانی کے صاحبزادے کے شہادت پر تعزیت کے لیے جانا چاہتے تھے۔ اس سے بھی زیادہ افسوسناک بات یہ ہے کہ سردار موسانی کے زیرِ حراست بیٹوں کو اپنے بھائی کے جنازے میں شرکت کی اجازت نہیں دی گئی۔ خاندان کے افراد، دوستوں اور سیاسی ساتھیوں کو اپنے مرحوم عزیز کے غم میں شریک ہونے اور سوگ منانے سے روکنا کسی بھی جمہوری نظام پر ایک سیاہ دھبہ ہے۔
ایک بھائی کو اُس کے بھائی کے جنازےسےروکنا اور اُس کے بھائی کو اُس کے خاندان کے سامنے بے رحمی سے قتل کرنا ظلم کی انتہا ہے۔ اب اُس کے دوست رقیب کو بھی اُس کے خاندان سے ملنے نہیں دیا جا رہا اور نہ ہی کسی کو تعزیت کے لیے جانے دیا جا رہا ہے”
#کل_بھی_بھٹو_قاتل_تھا_آج_بھی_بھٹو_قا��ل_ہے
آج صبح 8 بجے سے مجھے اور پارٹی کی مرکزی قیادت کے اراکین کو زہری جانے سے روکا جا رہا ہے، جہاں ہم سردار نصیر احمد موسانی کے صاحبزادے کے انتقال پر تعزیت کے لیے جانا چاہتے تھے۔
اس سے بھی زیادہ افسوسناک بات یہ ہے کہ سردار موسانی کے وہ بیٹے جو حراست میں ہیں، انہیں اپنے ہی بھائی کے جنازے میں شرکت کی اجازت نہیں دی گئی۔ پارٹی کارکنوں، ہمدردوں اور دوستوں کو بھی سوگوار خاندان کے ساتھ اظہارِ تعزیت اور یکجہتی سے روکا گیا۔
غم میں شریک ہونا، جنازے میں شرکت کرنا اور تعزیت کرن�� نہ صرف ایک بنیادی انسانی حق ہے بلکہ ہماری معاشرتی اور روایتی اقدار کا بھی حصہ ہے۔ ایسے حالات کا سامنا ہمیں جنرل مشرف کے دور میں بھی نہیں کرنا پڑا تھا۔ یہ انتہائی تشویشناک امر ہے کہ جمہوریت کے دعوے کرنے والے نظام میں لوگوں کو اپنے پیاروں کے غم میں شریک ہونے کے بنیادی حق سے بھی محروم کیا جا رہا ہے۔
Was it democracy when you became speaker didn’t you believe in it, during speakership you were arrested wasn’t you, you protested in front of CM why there no Pakistani flag on the car which was sent for you at the airport and still you are proud to call yourself speaker of Balochistan assembly Shame!
Was it democracy when you became speaker didn’t you believe in it, during speakership you were arrested wasn’t you, you protested in front of CM why there no Pakistani flag on the car which was sent for you at the airport and still you are proud to call yourself speaker of Balochistan assembly Shame!
آج صبح 8 بجے سے مجھے اور پارٹی کی مرکزی قیادت کے اراکین کو زہری جانے سے روکا جا رہا ہے، جہاں ہم سردار نصیر احمد م��سانی کے صاحبزادے کے انتقال پر تعزیت کے لیے جانا چاہتے تھے۔
اس سے بھی زیادہ افسوسناک بات یہ ہے کہ سردار موسانی کے وہ بیٹے جو حراست میں ہیں، انہیں اپنے ہی بھائی کے جنازے میں شرکت کی اجازت نہیں دی گئی۔ پارٹی کارکنوں، ہمدردوں اور دوستوں کو بھی سوگوار خاندان کے ساتھ اظہارِ تعزیت اور یکجہتی سے روکا گیا۔
غم میں شریک ہونا، جنازے میں شرکت کرنا اور تعزیت کرنا نہ صرف ایک بنیادی انسانی حق ہے بلکہ ہماری معاشرتی اور روایتی اقدار کا بھی حصہ ہے۔ ایسے حالات کا سامنا ہمیں جنرل مشرف کے دور میں بھی نہیں کرنا پڑا تھا۔ یہ انتہائی تشویشناک امر ہے کہ جمہوریت کے دعوے کرنے والے نظام می�� لوگوں کو اپنے پیاروں کے غم میں شریک ہونے کے بنیادی حق سے بھی محروم کیا جا رہا ہے۔
Since 8 this morning, I and members of the party’s central leadership have been held back and prevented from travelling to Zehri to offer condolences to Sardar Naseer Ahmed Moosani on the loss of his son. Even more tragic, Sardar Moosani’s sons in custody were denied the right to attend their brother’s funeral. Preventing families, friends, and political colleagues from mourning their dead is a dark stain on any democracy.
@MKAchakzaiPKMAP@MalikAchkJourno محمود خان صاحب، آپ کا بنیادی مسئلہ ہمیشہ رنگی اور جنگی ��یاست رہا ہے۔ جب آپ حکومت میں ہوتے ہیں تو پشتون قوم کے حقوق بھول جاتے ہیں، اور جیسے ہی حکومت سے باہر آتے ہیں تو بلوچوں کے خلاف زہر اُگلنا شروع کر دیتے ہیں
@MKAchakzaiPKMAP@MalikAchkJourno محمود خان صاحب2013سے2018 تک جب آپ کی حکومت تھی، اُس دور کے بارے میں کچھ بتا دیجیےیا یہ بتا دیجیے کہ اُس حکومت کے دوران آپ نے جنوبی پختونخوا کے لیے کیا اقدامات کیےاس مقصد کے حصول کے لیے کیا پیش رفت کی، کون سے عملی اقدامات اٹھائے، اور اس حوالے سے اسمبلی یا حکومت میں کیا کوششیں کیں
محمود خان صاحب2013سے2018 تک جب آپ کی حکومت تھی، اُس دور کے بارے میں کچھ بتا دیجیےیا یہ بتا دیجیے کہ اُس حکومت کے دوران آپ نے جنوبی پختونخوا کے لیے کیا اقدامات کیےاس مقصد کے حصول کے لیے کیا پیش رفت کی، کون سے عملی اقدامات اٹھائے، اور اس حوالے سے اسمبلی یا ح��ومت میں کیا کوششیں کیں
عدلیہ کے پر کاٹے گئے، پریس پہ پابندی لگائی گئی، بنیادی انسانی حقوق معطل ہیں۔ بس جس کیا جو جی چاہے کرے ، بس جو صرف حکومت وقت کو سپورٹ کریں اس سے کوئی پوچھ گچھ نہیں، کوئی پوچھنے والا نہیں۔
@MKAchakzaiPKMAP محمود خان صاحب! آپ سے ایک معصومانہ سوال ہے۔ آپ نے اپنی پانچ سالہ صوبائی حکومت میں ایک بار بھی اسمبلی میں جنوبی پختونخوا کا بل کیوں پیش نہیں کیا؟ اور ایک بار بھی اس معاملے پر بات کیوں نہیں کی? اور ایک بلوچ کو وزارتِ اعلیٰ کے لیے ووٹ کیوں دیا؟ اور یہ فیصلہ کس کے کہنے پر کیا گیا تھا
محمود خان صاحب! آپ سے ایک معصومانہ سوال ہے۔ آپ نے اپنی پانچ سالہ صوبائی حکومت میں ایک بار بھی اسمبلی میں جنوبی پختونخوا کا بل کیوں پیش نہیں کیا؟ اور ایک بار بھی اس معاملے پر بات کیوں نہیں کی? اور ایک بلوچ کو وزارتِ اعلیٰ کے لیے ووٹ کیوں دیا؟ اور یہ فیصلہ کس کے کہنے پر کیا گیا تھا
ہمارا بلوچ بھائیوں سے کوئی جھگڑا نہیں، برٹش بلوچستان کونسا علاقہ ہے، براہوی کنفیڈریسی یا جینون بلوچستان کونسا علاقہ ہے ہمیں سب پتا ہے، ڈویژنز اور ضلعے بنانے میں ہم ایک دوسرے کے علاقوں پر قبضہ کرنے کی کوشش نہ کریں۔ ڈیموگرافک چینج وغیرہ تو فلسطین اور اسرائیل کا قیصہ بن جائے گا۔
محمود خان صاحب ہمیں اچھی طرح معلوم ہےکہ پشتونوں اوربلوچوں کاکوئی جھگڑانہیں ہےلیکن یہ آپ کی ایک پرانی خواہش رہی ہےکہ بلوچوں اورپشتونوں کےدرمیان اختلافات اورجھگڑا پیداہواگرجناب واقعی جنوبی پشتونخوا بناناچاہتےتھےتواپنی پانچ سالہ حکومت کےدوران آپ نے صوبہ بنانے کا بل کیوں پیش نہیں کیا
ہمارا بلوچ بھائیوں سے کوئی جھگڑا نہیں، برٹش بلوچستان، قلاتی یا جینوئن بلوچستان کون سا علاقہ ہے ہمیں سب پتا ہے، ہم ایک دوسرے کے علاقوں پر قبضہ کرنے کی کوشش نہ کریں، محمود خان اچکزئی
#Balochistan#Quetta
During a raid on the home of Sardar Naseer Ahmed Moosani in Bulbul Zehri, the sanctity of the home was violated and his sons and close relatives were detained and taken to an undisclosed location. Among them was Sardarzada Khalil Ahmed Moosani, Senior Vice President of BNP Khuzdar and son of former District Chairman and Central Committee member Sardar Naseer Ahmed Moosani. Despite being injured, Khalil Ahmed Moosani was taken away by security forces, and his family was later informed to collect his body.