What happened to the female doctor in Quetta yesterday goes against our traditions, our values, and everything Balochistan stands for. Women hold the highest place of respect in our society, and there can be no tolerance for those who try to bring down respected and successful women with backward and patriarchal thinking.Balochistan is a land where women are honoured, valued, and often lead from the front. Any attack on a woman’s dignity, reputation, or achievements is an attack on our collective values. We stand with every woman facing injustice and strongly condemn those who believe they can silence, shame, or target women. There must be zero tolerance for such behaviour. Respect for women is not a choice it is a principle that must be upheld at all times. We stand united with the victims family and demand justice.
محترم محمود خان صاحب کے لیے میرے دل میں بے حد احترام ہے، لیکن اگر ہم برطانوی نوآبادیاتی حوالوں کو حرفِ آخر اور مستند تاریخ ماننا شروع کر دیں تو پھر #پشتونوں، #بلوچوں اور خطے کی دیگر اقوام کے بارے میں بھی بے شمار گمراہ کن دعوؤں کو تسلیم کرنا پڑے گا۔ پشتون اور بلوچ دونوں صدیوں تک #نوآبادیاتی طاقتوں کے زیرِ اثر رہے، اس لیے ان کے وضع کردہ اصطلاحات، درجہ بندیاں اور سیاسی تعبیرات کو تاریخ کا حتمی حوالہ نہیں بنایا جا سکتا۔
"براہوی کنفیڈریسی" کی اصطلاح بھی دراصل قلات کے حکمرانوں کی نہیں بلکہ نوآبادیاتی دور کے برطانوی مصنفین اور مورخین کی وضع کردہ اصطلاح ہے۔ تاریخی ریکارڈ سے واضح ہے کہ قلات کے حکمران خود کو "خانِ بلوچ" کہتے تھے، نہ کہ "براہوی کنفیڈریسی" کے سربراہ۔ خانۂ قلات ایک مشترکہ سیاسی وحدت تھی جس میں براہوی، بلوچ اور دیگر قبائل شامل تھے۔ حتیٰ کہ Encyclopaedia Iranica بھی تسلیم کرتی ہے کہ خانِ قلات کا لقب خانِ بلوچ تھا اور ریاست کی سیاسی شناخت بلوچ تھی۔
بلوچستان کی تاریخ اتحاد، مشترکہ جدوجہد اور اجتماعی سیاسی شناخت کی تاریخ ہے، نہ کہ ان نوآبادیاتی اصطلاحات کی جو بعد میں تفریق اور تقسیم کے لیے متعارف کرائی گئیں۔ میر نوری نصیر خان نے بھی اپنی شاعری اور سیاسی فکر میں اس سرزمین کو بلوچ وطن کے طور پر بیان کیا۔ تاریخ کو انہی لوگوں کی نظر سے پڑھنا چاہیے جنہوں نے اسے جیا، نہ کہ صرف ان قوتوں کی نظر سے جنہوں نے اس پر حکومت کی۔
During a raid on the home of Sardar Naseer Ahmed Moosani in Bulbul Zehri, the sanctity of the home was violated and his sons and close relatives were detained and taken to an undisclosed location. Among them was Sardarzada Khalil Ahmed Moosani, Senior Vice President of BNP Khuzdar and son of former District Chairman and Central Committee member Sardar Naseer Ahmed Moosani. Despite being injured, Khalil Ahmed Moosani was taken away by security forces, and his family was later informed to collect his body.
بی بی اگر آپ اختر مینگل صاحب کے حلقہ سے ہیں تو کم ازکم اتنی بڑی غلطی نہ کرتے - سرکار نے عوامی ٹیکس سے آپ کو Verified اکاؤنٹ تو بنا کر دے دیا - Verified بلوچ نہیں بنا سکا -
یہ دوہرا معیار پر مبنی اندھا پروپیگنڈا ہے جہاں جمال رئیسانی 6 کروڑ 50 لاکھ روپے کی BMW چلائیں تو کوئی ان سے سوال نہیں کرتا کیونکہ وہ محبِ وطن سمجھے جاتے ہیں، جبکہ سندھ کے ایک شخص کو اختر مینگل بنا کر یہ تاثر دیا جاتا ہے کہ وہ کروڑوں کی گاڑی میں گھوم رہے ہیں اس لیے کیونکہ اختر مینگل ان کے محب وطنی کے معیار پر پورا نہیں اترتے۔۔۔
اگر آپ کے پاس #بلوچستان پر بے شمار کتابیں پڑھنے کا وقت نہیں، تو یہ گفتگو آپ کے لیے ہے۔
عدیل — بلوچستان کی مٹی کا سچا بیٹا — میرے ساتھ ایک گہری اور سنجیدہ گفتگو میں شامل ہے، جو آپ کو ٹی وی مباحثوں میں نہیں ملے گی۔ نہ شور، نہ سطحی باتیں — بس تاریخ، حال اور وہ حقائق جنہیں اکثر نظر انداز کر دیا جاتا ہے۔
دیکھیے، غور کیجیے اور اپنی رائے ضرور دیں — آپ کی شرکت ایسے بامقصد مکالموں کو آگے بڑھانے میں مدد دے سکتی ہے۔
🎥 ابھی دیکھیے: [https://t.co/LiUbcthA1w)
The famous slogan ‘democracy is the best revenge.’ Apparently the new translation is: take revenge by recruiting every top death squad you can find. Truly inspirational politics mashAllah
ایک شہر میں ایک شخص تھا جس نے اپنی تصویر ہر دیوار پر آویزاں کر رکھی تھی۔ وہ ہر تقریب میں خود کو فاتحِ زمانہ کہتا، اور اپنی ہی جیب سے کرائے کے نعروں کی گونج پیدا کرتا۔ اس نے اخباروں کے صفحات خرید لیے، مگر سوال خرید نہ سکا۔ جب ایک نوجوان نے مجمع میں کھڑے ہو کر پوچھا، “اگر آپ واقعی کامیاب ہیں تو کھلے مناظرے سے کیوں گھبراتے ہیں؟” تو اسٹیج کی روشنیاں مدھم کر دی گئیں اور مائیک بند کر دیا گیا۔
لوگوں نے اس دن پہلی بار سمجھا کہ جس شخص کو اپنی عظمت ثابت کرنے کے لیے کرائے کی تالیاں درکار ہوں، وہ دراصل اپنے خوف کو چھپا رہا ہوتا ہے۔ شہر کے بزرگ بولے، “اصل پہاڑ اپنی بلندی کا اعلان نہیں کرتے، انہیں دیکھ کر خود اندازہ ہو جاتا ہے۔” وقت نے گواہی دی کہ شور سے تعمیر ہونے والی عمارتیں خاموش سچ کے سامنے زیادہ دیر قائم نہیں رہتیں۔
اچکزئی صاحب ! آپ اس بات کو پاکستان یا بیرون دنیا چھپنے والی لاکھوں بلکہ کروڑوں #کتابوں یا کسی کابینہ وغیرہ کے دستاویز سے ثابت کرسکتے ہیں ؟
اپ اور @fawadchaudhry صاحب ہوائی فائرنگ سے گریز کرتے ہوے کوئی بھی بات کرتے ہیں اسکا ریفرنس یا دستاویزی ثبوت دیں - آپ دونوں #بلوچستان کے سلگتے حالات کو مزید خراب کرنے کی کوشش کررہے ہیں تاکہ اس تنازعہ کے بیمفشری بنیں - یہ علمی، سیاسی بد دیناتی کی آخری حدیں - سیاست میں اپنی قابلیت و صلاحیتوں سے جگہ بنائیں - نہ کہ ازخود جملہ، واقعات، تاریخ کا دال چاول بنائیں- شکریہ
Sardar Akhtar Jan Mengal @sakhtarmengal said authorities ignoring violence in Balochistan while reacting swiftly to events in Lahore. He announced that neither he nor his family will contest the by-election, adding that the party will decide its candidate. He remarked, “If they’ve already placed 19 of their own in parliament, they can bring a 20th too.”
#Balochistan
Sardar Akhtar Mengal’s @sakhtarmengal#Lahore speech was a sober reminder that the primary social contract — the Instrument of Accession — and the subsequent Constitutions have not been honoured in spirit with #Balochistan. Promises remain unfulfilled.
Balochistan cannot be ruled like a colony, nor can its people be treated as #subjects under #tyranny. It was not a rant — it was a calm call to rethink, reform, and address the root causes.