مرشد وسے سے کوہاں تے مینوں دسے نیڑے ھو
کی ہویا بت اوہلے ہویا پر اوہ وسے وچ میرے ھو
جنہاں الف دی ذات صحی کیتی اوہ رکھدے قدم اگیرے ھو
نحن اقرب لبھ لیوسے باھو جھگڑے کل نبیڑے ھو
#SayingsOfSultanBahoo@abyatebahoo
Communication or interaction between different cultures, societies, groups & individuals is viewed as a complex process that involves multiple factors. However, respecting others' viewpoints fosters understanding & dialogue, enriching our collective perspectives. Let's embrace diversity of thoughts with empathy & openness. Peace & harmony can be achieved by exploring multiple views & finding common grounds.
#Respect #Diversity
Humanity's Relationship With God.
[ Explained By: His Excellency Sahibzada Sultan Ahmed Ali Sb ].
YouTube: https://t.co/5rCsaikeVF
For Complete Videos: https://t.co/Xf3IIeatC4
#SultanAhmedAli#SultanBahoo#SultanBahu#SahibzadaSultan
10 فروری یوم وفات: سلطان عبد الحمید ثانی
سلطنت عثمانیہ کے آخری با اختیار خلیفہ اور حکمران، جنہوں نے مشکل ترین وقت میں بیک وقت کئی محاذوں پر اندرونی بیرونی دشمنوں کا مقابلہ کیا سلطنت کی حفاظت کی ۔ شرافت ، صداقت ، عدل و انصاف اور رحم ان کی شخصیت کا خاصہ تھا۔ انہوں نے اپنے دور حکومت میں حرمین شریفین اور مسجد الاقصی کی حرمت پر کبھی بھی آنچ نہیں آنے دی۔ اللّٰہ تعالٰی آپ کے درجات بلند فرمائے۔ آمین
جناب سید ذوالفقار علی شاہ پر قاتلانہ حملے میں زخمی ہونے کی اطلاعات افسوناک ہیں۔ اللّٰہ تعالٰی آپ کو صحت کاملہ عطا فرمائے اور ہمیشہ اپنی حفظ و امان رکھے۔ آمین @SyZulfiqarShah
از وفائے حق تو بستہ دیدۂ
اُذْکُرُوْا اَذْکُرکُم, نشنیدۂ
اللّٰہ (تعالی) کی وفاداری سے تو نے آنکھ بند کر لی ہے
تم یاد کرو، میں تمہیں یاد کروں گا، تو نے نہیں سنا ہے
#MuvlanaRum
لاہور : سالانہ میلاد مصطفٰے ﷺ و حق باھُو کانفرنس میں شرکت اور خصوصی خطاب
خطاب کا موضوع: "قرآن مجید کی دعوتِ فکر اور اولیائے کرام کی تعلیمات"
گفتگو کے اہم نکات:
-قرآن مجید میں بارہا مرتبہ انسان کو کائنات میں غور و فکر کی تلقین کی گئی ہے (الاعراف،آیت 185��سورة الغاشية، 17-20)۔ یونانی فلسفہ محض تخیلات پہ مبنی تھا جبکہ جدید دور تجربہ(empiricism) پہ قائم ہے۔ فرانسیسی مؤرخ رابرٹ بریفالٹ ( Robert Briffault)اپنی کتابThe Making of Humanity میں کہتا ہے کہ آپ قدیم اور جدید دنیا کے درمیان رابطے کو نہیں سمجھ سکتے جب تک آپ اسلام کے سنہرے دور کا مطالعہ نہیں کرتے- مسلمانوں نے قرآن مجید میں غو ر وفکر کی دعوت کی بدولت تجربہ کی بنیاد رکھی۔ کائینات میں غور و فکر کو ایمان کی نشانی کے طور پہ بیان فرمایا گیا ہے(سورة النحل، 79)۔
- خلوت میں سوچ وچار اور مراقبہ انسان کو کائینات اور تخلیق کے اسرار و رموز جاننے کا موقع دیتا ہے۔ قرآن مجید کی دعوت ِ فکر کے پیشِ نظر اولی��ئے کاملین نے انسان کو مراقبےاور خلوت کی طرف توجہ دلائی ہے۔
سَنُرِيهِمْ آيَاتِنَا فِي الْآفَاقِ وَفِي أَنفُسِهِمْ حَتَّىٰ يَتَبَيَّنَ لَهُمْ أَنَّهُ الْحَقُّ
ترجمہ: ابھی ہم انہیں دکھائیں گے اپنی آیتیں دنیا بھر میں اور خود ان کے آپے میں یہاں تک کہ ان پر کھل جائے کہ بیشک وہ حق ہے۔( سورة فصلت،53)
یعنی کائینات اور انسان کے اپنے اندر کی نشانیاں، دونوں ہی توحید کی جانب لیجاتی ہیں۔ صوفیاء حدیث مبارکہ بیان فرماتے ہیں کہ گھڑی بھر کا تفکر جملہ جن و انس کی عبادت سے افضل ہے۔ ذکر اور فکر کے مابین توازن انسان کو منزل مقصود پہ پہنچاتا ہے اور یہ دونوں انسان سے خلوت کا تقاضا کرتے ہیں –اللہ تعالیٰ نے حضرت موسیٰ ؑ کو چالیس دن خلوت میں رکھا –اسی طرح حضور نبی اکرم ﷺ نے غارِحرا میں خلوت کو اختیار فرمایا-
- أَوَلَمْ يَتَفَكَّرُوا فِي أَنفُسِهِم
ترجمہ: کیا انہوں نے اپنے ج�� میں نہ سوچا؟( سورة الروم، 8)
اپنے آپ میں فکر کرتے ہوئے پہلا سوال اپنی تخلیق کے مقصد کے متعلق جاننا ہے۔ فرمانِ باری تعالیٰ ہے،
وَمَا خَلَقْتُ الْجِنَّ وَالْإِنسَ إِلَّا لِيَعْبُدُونِ
ترجمہ: اور میں نے جنّات اور انسانوں کو صرف اسی لئے پیدا کیا کہ وہ میری بندگی اختیار کریں (سورة الذاريات، 56)
حضرت عبداللہ ابن عباس(رض) فرماتے ہیں کہ اس عبادت سے مراد اللہ کی معرفت و پہچان ہے۔ اسی جانب دعوت قرآن کریم میں دی گئی ہے،
وَنَحْنُ أَقْرَبُ إِلَيْهِ مِنْ حَبْلِ الْوَرِيدِ
ترجمہ: اور ہم دل کی رگ سے بھی اس سے زیادہ نزدیک ہیں (سورة ق، 16)
حضرت سلطان باھُو فرماتے ہیں،
نیڑے وسن د��ر دسیون ویڑھے ناہیں وڑدے ھُو
دور گیاں کجھ حاصل ناہیں شوہ لبھے وچ گھر دے ھُو
- حدیثِ قدسی میں فرمان ہے کہ میں زمین اور آسمانوں میں نہیں سماتا لیکن بندہ مومن کے قلب میں سما جاتا ہوں۔صوفیاء فرماتے ہیں کہ ضرورت اس امر کی ہے ہم اپنے آپ میں غور و فکر کریں اور جیسے کنویں کے ذریعے زمین سے پانی حاصل کرتے ہیں اسی طرح اپنے اندر سے مالک حقیقی کے انوار و تجلیات حاصل کریں۔غوث الاعظم حضرت شیخ عبدالقادر جیلانی فرماتے ہیں کہ جیسے دودھ میں گھی چھپا ہے اسی طرح انسان میں اللہ تعالیٰ کے انوار و تجلیات پوشیدہ ہیں۔ جیسے دودھ کو جاگ لگا کر ایک خاص طریقہ سے گزار کر گھی حاصل کیا جاتا ہے اسی طرح ہمیں مرشد کامل درکار ہے جو ہمیں ہمارے اندر سے معرفتِ حقیقی تک پہنچائے۔ فرمانِ باری تعالیٰ ہے،
فَاسْأَلُوا أَهْلَ الذِّكْرِ إِن كُنتُمْ لَا تَعْلَمُونَ
ترجمہ: علم والوں سے پوچھو اگر تمہیں علم نہیں (سورة النحل، 43)
- صوفیاء فرماتے ہیں کہ اللہ کے ذکر سے اس کی معرف حاصل کرو وگرنہ اس نے وعید سنائی ہے،
ترجمہ: اور جس نے میری یاد سے منہ پھیرا تو بیشک اس کے لیے تنگ زندگانی ہے اور ہم اسے قیامت کے دن اندھا اٹھائیں گے،( سورة طه، 124)
یعنی ذکر کے منکر کی روح کی روزی تنگ ہو گی اور حتیٰ ک�� قیامت کے روز وہ اندھا کھڑا ہو گا۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے کہ اصل نابینا وہ ہے جو دل کا اندھا ہے(سورة الحج، 46)
ایران کے حملہ کے جواب میں پاکستان نے ذمہ دارانہ اور مؤثر جوابی کاروائی کی۔ برادر اسلامی ممالک کے مابین حالیہ کشیدگی سے، نہ صرف دونوں ممالک بلکہ خطے پر دور رس منفی اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔ دونوں ممالک کو باہمی مسائل بات چیت اور سفارتی ذرائع سے حل کرنے کیلئے مزید آگے بڑھنا چاہئے اور ایک دوسرے کے ساتھ تعاون کو وسیع کرنا چاہئے تاکہ دونوں ممالک میں اتحاد مضبوط ہو اور خطے میں امن قائم ہو۔
@ForeignOfficePk
فیصل آباد: سالانہ میلادِ مصطفےٰﷺ وحق باھُو کانفرنس میں شرکت اور خصوصی خطاب
خطاب کا موضوع: " قرآن مجید میں سیدنا حضرت ابراہیمؑ کے قصص سے ہمارے لیے اسباق اور مرشدِ کامل کی تلقین و تربیت"
گفتگو کے اہم نکات:
-جس مومن کو قرآن مجید سے رغبت، محبت اور ہدایت نصیب ہوجائے اللہ تعالیٰ اس کے سینے کو ایمان کی روشنی سے منور کردیتا ہے- قرآن مجید میں اللہ تعالیٰ نے سیدنا آدمؑ سے لے کر سیدنا عیسی ٰ ؑ تک انبیاء کرام کے جو قصے بیان فرمائے و ہ لوگوں کے لیے ہدایت و تلقین کا ذریعہ ہیں-
-قرآن مجید نے ہمیں سیدنا حضرت ابراہیم ؑ کی مکالمہ ،گفتگو اور منطق و استدلال کی عظیم صفت سے متعارف کروایا جسے آج اپنانے کی ضرورت ہے - سورۃ البقر ہ میں سیدنا ابراہیم علیہ السلام اور نمرود کے تفصیلی مکالمہ سے معلوم ہوتا ہے کہ جب بھی تم کسی جابر حکمران کے سامنے جاؤ تو حضرت ابراہیم ؑ کی منطق کے ساتھ کلمہ حق کہو تاکہ تمہاری بات کو جھٹلایا نہ سکے-
-حضور نبی اکرمﷺ کی ذاتِ گرامی تک جتنے انبیاء کرامؑ تشریف لائے سیرت مبارکہ سے سیکھیں اور کبھی ایسی بات نہ کریں جو عقل اور منطق کے معیار پہ پوری نہ اترتی ہو-
-آج اکثر لوگ کام کاج کے علاوہ اپنا باقی وقت سوشل میڈیا پہ صرف کرتے ہیں اور سوشل میڈیا پہ ایسی زبان استعمال ہوتی ہے جس میں آداب اور شائستگی کو ملحوظ نہیں رکھا جاتا -لہذادینِ ابراہیمؑ کے ماننے والوں پہ لازم ہے کہ ایسی زبان استعمال کریں جس سے ادب ،خلق اور حیاء کی خوشبو آئے - سلطان العارفین فرماتے ہیں:
تسبی پھری تے دل نہیں پھریا کی لینا تسبی پھڑ کے ھو
علم پڑھیا تے ادب نہ سکھیا کی لینا علم نوں پڑھ کے ھو
-اولیاء کرام حضرت ابراہیمؑ ا��ر نمرود کے واقعے کی تشریح کرتے ہیں کہ تمہارا نفس (نفسِ امارہ) تمہارے اندر کا نمرود ہے-جس طرح نمرود نے اپنی سلطنت میں جبر اور اختیار قائم کیا اور اپنی سلطنت کے باشندو ں کو یقین دلایا تم سب کو میری ہی پیروی کرنی ہے-اولیاء کے نزدیک انسان کا وجود مملکت کی مثل ہے اور نفس اس میں نمرود کی مثل ہے جو جسم کے تمام اعضا ء اور قلب و روح کو اپنے تابع بناتا ہے-
-مرشد کامل کی صحبت اور تلقین سلطنتِ وجود کے لیے تعلیمِ ابراہیمؑ کا کام دیتی ہے اور قوم ِ نمرود سے صوفیاء کرام نے انسان کے بھٹکے ہوئے خیالات مراد لیے ہیں -مرشد کامل سب سے پہلے اپنی صحبت وتوجہ سے نفس کو قابو میں لاتا ہے اور خیالات کی بھٹکی ہوئی قوم کو ایک ایسی سمت عطا کرتا ہے جس سے آدمی اللہ رب ّالعزت کی جانب گامزن ہوجاتا ہے-
Pakistan is a well-known place in for tourism, especially its northern regions attract foreign tourists & climbers. According to GB govt., 11,000 foreigners visited the area in 2023, highest number in past two decades. The United Nations World Tourism Organization has declared Pakistan as the best performing country for 1st 9 months of 2023. Govt. should support tourism industry to tap into its full potential by starting a hassle-free visa process for foreign tourists & ensuring availability of all facilities in relevant regions.