تُو کہ آج قاتل ھے
پھر بھی راحتِ دل ھے
زھر کی ندی ھے تُو
پھر بھی قیمتی ھے تُو۔
پَست حوصلے والے
تیرا ساتھ کیا دیں گے؟؟
زندگی اِدھر آجا
ھم تجھے گزاریں گے
ناصر
یہ سوچ کر کہ غم کے خریدار آگئے
ہم خواب بیچنے سرِ بازار آگئے
آواز دے کے چھپ گئی ہر بار زندگی
ہم ایسے سادہ دل تھے کہ ہر بار آگئے
ہم کج ادا چراغ کہ جب بھی ہوا چلی
تاکوں کو چھوڑ کر سرِ دیوار آگئے
سورج کی دوستی پہ جنہیں ناز تھا فراز
وہ بھی تو زیرِ سایہِ دیوار آگئے
فرازؔ
نکتہ دانان رفتہ کی نہ کہو
بات وہ ہے جو ہووے اب کی بات
ظلم ہے قہر ہے قیامت ہے
غصے میں اس کے زیر لب کی بات
کہتے ہیں آگے تھا بتوں میں رحم
ہے خدا جانیے یہ کب کی بات
گو کہ آتش زباں تھے آگے میرؔ
اب کی کہیے گئی وہ تب کی بات