گھر میں سبزی آگاو۔ یا پھر پودوں کو پانی دو ۔اور کیاری صاف کرو ۔ جالے اتاروں سارے گھر کے۔ یا پھر سارا دن بار بار برتن دھوو۔ یا پھر باہر سے پورے گھر کا سودا لے کر آو۔
اگر کیسی ایک کام کو کرنا ہو تو کون سا کرو گے۔
میں پودوں کو پانی دوں گیئ اور کیاری صاف کر دوں گیئ ۔اور آپ ؟ سچ بتانا
دنیا سمجھتی ہے آزمائش عذاب ہے.
مگر حقیقت میں یہ "چناؤ" ہے. اللہ کے پاس کروڑوں بندے ہیں. سب نماز پڑھتے ہیں، سب روزے رکھتے ہیں. مگر جنہیں وہ اپنے خاص کمرے میں بلانا چاہتا ہے... ان کا انٹرویو ہوتا ہے. اور اس انٹرویو کا نام ہے: آزمائش یوسف علیہ السلام کو کنویں میں ڈالا گیا... کیونکہ انہیں مصر کا بادشاہ بنانا تھا. ایوب علیہ السلام کو بیماری دی گئی... کیونکہ ان کا صبر دنیا کے لیے مثال بنانا تھا. محمد ﷺ سے سب سے زیادہ تکلیفیں اٹھواہیں... کیونکہ انہیں سب سے بلند مقام دینا تھا.
کبھی کچھ دے کر... "شکر کرتے ہو یا نہیں" دیکھتا ہے. کبھی کچھ لے کر.... "صبر کرتے ہو یا نہیں" دیکھتا ہے. کیونکہ جس کا دل مال سے خالی ہو جائے، وہی دل میں اللہ کے لیے جگہ بنتی ہے. کبھی اپنوں کے ذریعے زخم دیتا ہے. تاکہ تمہارا آخری سہارا وہ نہ رہیں... میں رہ جاؤں. جب دنیا کے سارے دروازے بند ہو جاہیں، تو تم مجبوراً اسی کے دروازے پر سر ٹیک دو.
بےنیند راتیں، بےنام خوف، بےنام آنسو. یہ سب اس لیے... تاکہ تم سجدے لمبے کر دو. تاکہ تم "یااللہ" کہنا سیکھ جاؤ. تاکہ تمہاری زبان پر اس کا نام چڑھ جائے. آزمائش کے دوران سب سے پہلے تنہائی ملتی ہے. کیونکہ اللہ نہیں چاہتا تمہاری بات کوئی اور سنے. پھر بےبسی ملتی ہے. کیونکہ اللہ نہیں چاہتا تم کسی اور سے امید لگاؤ. پھر اندھیرا ملتا ہے. کیونکہ اللہ نہیں چاہتا تم اسی کے نور کے محتاج ہو جاؤ. اور جب تم ٹوٹ کر کہتے ہو: "بس اللہ تو ہی ہے" اس دن آزمائش ختم.... اور قربت شروع.
سنار سونے کو آگ میں اس لیے ڈالتا ہے تاکہ اس کی کھوٹ نکل جائے اور وہ نکھر جائے. اللہ بھی ہمیں آگ میں ڈالتا ہے تاکہ ہمارے اندر کا "میں" جل جائے. اور صرف "وہ" بچ جائے. لوگ کہتے ہیں "صبر کرو" مطلب "برداشت کرو" نہیں! صبر کا مطلب ہے: "اللہ پر بھروسہ رکھو" صبر کا مطلب ہے: "میں گرا نہیں، میں جھکا ہوں" صبر کا مطلب ہے: "میرا رب مجھے دیکھ رہا ہے"
جس رات تم رو کر سوئے تھے... اللہ نے فرشتوں کو کہا تھا "اس کی حفاظت کرنا"جس دن تمہارا دل ٹوٹا تھا... اللہ نے اس ٹوٹے دل کو اپنے قریب کر لیا تھا. جس لمحے تم نے" یااللہ"کہا تھا... آسمان میں تمہارے لیے دروازے کھل گئے تھے. آزمائش لمبی نہیں ہوتی. بس اللہ کو تمہارا "یااللہ" سننا اچھا لگتا ہے. "اللہ تمہیں اپنے قریب لانا چاہتا ہے"