مال، مویشی،ڈنگر رُڑ گئے
کُھرلی، کھونٹے، چھپر رُڑ گئے
ٹُٹ گئے کاواں، چڑیاں دے گھر
ٹاہلی، بیری، کِکر رُڑ گئے
پنڈ دی وڈی مسجد ڈیہہ گئی
دریاں، پارے، منبر رُڑ گئے
دھی رانی دے ویاہ لئی سانبھے
بالن، بکسے، بستر رُڑ گئے
کی دساں نقصان دی قیمت
ہیریاں ورگے پُتر رُڑ گئے
#FloodsInPakistan
پیسے سے خوبصورتی خریدی جا سکتی ہے ...
انسان 2 چیزوں کی ہمیشہ سے شدید خواہش رکھتا آیا ہے:
* ہمیشہ جوان رہے
* اور کبھی نہ مرے
اور زیادہ تر کام ترقی یافتہ ممالک میں انہی چیزوں پر ہو بھی رہا ہے
موت کا تو فی الحال پتہ نہیں، لیکن کم از کم جوانی کو دیرپا بنانے کی جدوجہد نے ایک پوری عالمی صنعت کو جنم دے دیا - یہ ایک بلین ڈالر انڈسٹری ہے
جس میں میک اپ، کاسمیٹکس، سرجریز، انجیکشنز، میک اوورز، ٹرانسپلانٹس، سکن وائٹننگ، سکن ٹائٹننگ اور پتلا ہونے کے حربے شامل ہیں
ظاہری حسن کا بڑھتا ہوا جنون ...
حسین، خوبصورت دکھنے کا شوق سب کو ہوتا ہے، یہ ایک فطری چیز ہے - بچہ ہو کہ جوان، ادھیڑ عمر ہو یا بوڑھا، مرد ہوں یا عورت - ہر ایک کو اپنے آپ کو ظاہری طور پر ٹپ ٹاپ رکھنے کا دل کرتا ہے
اور جو کوئی بھی اس کا انکار کرتا ہے، وہ جھوٹ بولتا ہے
اپنے آپ کو دوسروں کے سامنے Presentable طریقے سے پیش کرنے کے لیے، انسان ہر ممکن کوشش کرتا ہے - کم از کم جو کچھ وہ کر سکتا ہوتا ہے اپنی سہولت کو سامنے رکھتے ہوئے، اتنا تو وہ ضرور کرتا ہے
ایک دور تھا، جب ہم فیئر اینڈ لولی، فائزہ بیوٹی کریم، لیپ یا نسخے تک محدود رہتے تھے - مگر اب معاملات بہت آگے نکل چکے ہیں
آج کا انسان صرف چہرے پر رنگت کی بہتری پر مطمئن نہیں، بلکہ وہ ہر عضو، ہر زاویے، ہر تاثر کو نئے سانچے میں ڈھالنا چاہتا ہے
اب تو بات یہاں پر ختم ہوتی ہے - کہ پیسہ پھینک تماشا دیکھ
* ہیئر ٹرانسپلانٹس:
جن لوگوں کے سر پر بال کم ہیں، وہ الگ الگ قسم کی Treatments کروا کر اس کو ٹھیک کرنے کی کوشش کرتے ہیں
* ہیئر (Hair) ریموول:
جن لوگوں کے چہرے، ہاتھوں، جسم پر غیر ضروری بال زیادہ نکلتے ہیں، اور جو بار بار گھر/پارلر میں ویکسنگ وغیرہ نہیں کروانا چاہتے - وہ پھر لیزر ٹریٹمنٹ کرواتے ہیں - جس کے ملٹیپل سیشنز لینے سے آہستہ آہستہ ان بالوں کی Growth ہونا کم ہو جاتی ہے
* امپلانٹس:
یہ کام زیادہ تر خواتین کرواتی ہیں اپنی چھاتیوں اور کولہوں پر - تاکہ ان کے جسم کے ان اعضاء میں نمایاں تبدیلی نظر آئے - جس سے ان کا جسم بھرا بھرا ہوا لگتا ہے
* چہرے کی سرجریز و فلرز:
اگر ہونٹ پتلے ہیں، تو ان کو نمایاں کرنے کے لیے انجیکشنز کے ذریعے ان کو ابھارا جا سکتا ہے یا پھر ان کی شیپ بھی بدلی جا سکتی ہے
اپنی Jawline کی شیپ بھی بدل سکتے ہیں سرجری کے ذریعے - جس سے پورے چہرے کی Look ہی بدل جاتی ہے
ناک کا اسٹائل پسند نہیں، تو وہ بھی سرجری کر کے بدلی جاسکتی ہے - جس کو رائنوپلاسٹی کہتے ہیں
آنکھیں اگر آپ کی نڈھال نڈھال سی ہیں، تو وہ بھی آپریشن کر کے Tight کی جا سکتی ہیں
ماتھے پر لکیریں زیادہ پڑتی ہیں، تو وہ انجیکشن کے فلرز لگوا کر دور کی جا سکتی ہیں
آنکھوں کے نیچے ڈارک سرکلز ہیں، تو وہ بھی لیزر یا انجیکشن کے ذریعے دور کیے جا سکتے ہیں
* لیپوسکشن اور Fat ریموول:
جسم کے جس حصے پر بھی آپ کو لگے کہ چربی زیادہ ہے، تو وہاں کی سرجری کروا کر آپ Fat کو نکال باہر کر سکتے ہیں اور اس کو Re-Shape دے سکتے ہیں
* سکن ٹائٹننگ:
بڑھتی عمر کے ساتھ آپ کی کھال بھی لٹکنا اور نرم ہونا شروع ہو جاتی ہے۔ تو اس کے لیے بھی میڈیکل سائنس کے پاس حل ہے، کہ وہ سرجریز کروا کر ان کو ٹائٹ کر دیتے ہیں
* سکن وائٹننگ:
گورا بننے کے لیے اب ڈرپس اور انجیکشنز لگائے جاتے ہیں - جس سے آپ کی سکن Glow بھی کرتی ہے اور ساتھ میں اس میں بہتری بھی آجاتی ہے
* سکن ٹریٹمنٹ:
داغ، دھبوں، جھریوں، ایکنی وغیرہ کو دور کرنے کے لیے کیمیکل پیلنگ کی ٹیکنیک استعمال کی جاتی ہے یا پھر میڈیسنز/انجیکشنز، لیزر کی مدد لی جاتی ہے
* ایبز:
سوشل میڈیا کے زمانے میں، سب کو شوق ہوتا ہے اپنی فٹنس کو دکھانے کا
تو اس کے لیے آج کل Abs کو نمایاں کرنے کے لیے بھی سرجریز اور ٹریٹمنٹ کروایا جاتا ہے، جس سے آپ کے پیٹ پر 6 یا 8 Abs تک کھل کر سامنے آنا شروع ہو جاتے ہیں
* دبلا پن:
اپنے آپ کو ایک دم فٹ فاٹ یا دبلا دکھانے کے لیے پہلے تو سرجریز کا سہارا لیا جاتا تھا - جس کے ذریعے سے آپ کے جسم میں سے چربی کو نکال باہر کر دیا جاتا تھا
مگر اب مختلف دوائیوں اور انجیکشنز کے ذریعے، کچھ ہی ہفتوں میں انسان ایک دم (بلکہ حد سے زیادہ ہی) دبلا ہو جاتا ہے
* دانتوں کی سفیدی:
اپنی مسکراہٹ کو بہترین سے بہترین بنانے کے لیے دانتوں کو Shape دی جاتی ہے، ان کو سفید کیا جاتا ہے، ان کو ایک جیسا بنایا جاتا ہے، ہر قسم کے داغ دھبوں کو دور کیا جاتا ہے - اور یہ کام بھی الگ الگ Treatments کے ذریعے ہوتا ہے
* جینڈر میں تبدیلی:
اور اگر آپ کو اپنا Gender ہی تبدیل کروا دینا ہے، تو وہ بھی آج کے دور میں پوری طرح سے ممکن ہے
اس کے لیے الگ الگ سرجریز کی جاتی ہیں - Multiple سیشنز ہوتے ہیں اور آپ اس چیز میں کسی حد تک کامیابی حاصل کر بھی لیتے ہیں
خلاصہ ...
جس کے پاس پیسہ ہے، وہ اپنے آپ کو جس طرح کا بھی دکھانا چاہتا ہے آج کے زمانے میں، ویسا دکھا بنا سکتا ہے
سر کے بالوں سے لے کر پاؤں کے انگوٹھے تک کے درمیان جتنے بھی اعضاء ہیں - انسان اس کو اپنی مرضی کے مطابق ڈھال/تبدیل کر سکتا ہے
میڈیکل سائنس نے کافی ترقی کر لی ہے اور مزید کیا کچھ ابھی آنے والا ہے، اس کا تو ہم سوچ بھی نہیں سکتے ہیں
سوال صرف "خوبصورت بننے" کا نہیں، بلکہ یہ پوچھنے کا ہے کہ
کیا ہم واقعی اپنی مرضی سے ایسا کر رہے ہیں یا معاشرے کے بنائے گئے خوبصورتی کے پیمانے ہمیں مجبور کر رہے ہیں؟
اپنی Skin کے اندر رہتے ہوئے Confident محسوس کرنا، آج کے دور میں بڑا مشکل کام بن چکا ہے۔ کیونکہ ہر ایک کے ہاتھ میں کیمرہ موجود ہے - اور ہم نے خود کو دوسروں کی نگاہ سے دیکھنا شروع کر دیا ہے - اور اسی نے ہمیں خود اپنے وجود سے غیرمطمئن کر دیا ہے
اور سوشل میڈیا کے اس زمانے میں، جہاں ہر کوئی اپنی تشہیر کرنے میں لگا ہوا ہے - وہاں لوگ اپنے اوپر الگ الگ Treatments کروا کر حسین سے حسین بننے کی دوڑ میں بھاگے چلے جا رہے ہیں
یہ صرف خوبصورتی کی جستجو نہیں،
یہ "اپنی اصل کو بھلانے" کا سفر ہے
جس کا انجام شاید یہ ہوگا کہ،
ہم سب ایک جیسے لگیں گے،
مگر اندر سے خالی،
تھکے ہوئے اور الجھے ہوئے ہوں گے
یہ Race کب اور کہاں جا کر ختم ہوگی، اس کا تو مجھے کوئی اندازہ نہیں۔ ہاں اتنا ضرور ہے، کہ اس بھاگ دوڑ میں ہم اپنے راستے سے ضرور بھٹک چکے ہیں - یہ یقینی بات ہے