Daily fixing of petrol price:
1. The taxi driver cannot quote a fare.
2. The bus operator cannot print a ticket.
3. The school van driver cannot set a monthly fee.
4. The trucker cannot price a shipment.
5. The kiryana owner cannot accept a delivery quote.
6. The ambulance cannot fix a call-out charge.
7. The farmer cannot calculate the cost of a crop.
8. The courier cannot honour a delivery contract.
9. The caterer cannot give a wedding estimate.
10. Family cannot write a monthly budget.
@AsadAToor موجیں لگی ہوئی ہیں سر۔۔۔۔۔یہ وہ حساب ہے گورکن کی معیشت لوگوں کے مرنے سے چلتی ہے۔۔۔۔ہمارے حکمرانوں کا بھی یہی حال ہے جتنی جنگیں ہوں گی اتنی ان کی جیبیں بھرتی جائے گی۔۔۔۔
شاہ لطیف بھٹائی نے کہا تھا کہ اللّٰہ تعالیٰ جب کسی سے ناراض ہوتا ہے تو اسے ہتھیار سے نہیں مارتا بلکہ اس سے اسکی عقل چھین لیتا ہے پھر وہ انسان ایسے فیصلے کرتا ہے جو اسے تباہی کے راستے پر ڈال دیتے ہیں دُعا کریں کہ اللّٰہ تعالیٰ ہمارے حکمرانوں کو وہ عقل دے جو ان سے درست فیصلے کرائے
I’m amazed at Pakistani media channels. The economy is in its worst state with so much unemployment, poverty, inflation, lack of investment, falling exports. In addition Balochistan & Kp are facing the most serious terrorist activities while Azad Kashmir is in turmoil.
But check our tv channels - almost exclusively talking about foreign policy as if our citizens are having the best time of their lives & there is nothing to discuss or debate.
Precisely for this reason social media is so much watched and read.
مشرف دور میں ایک ریٹائرڈ فوجی جنرل ارشد محمود کو پنجاب یونیورسٹی کا وائس چانسلر لگا دیا گیا
ایک میٹنگ میں اس ریٹائرڈ جنرل نے ڈاکٹر مجاہد کامران سے پوچھا!
"شاہ جی آپ کیا بننا پسند کریں گے"
جس پر ڈاکٹر مجاہد کامران نے جواب دیا کہ *میں راولپنڈی کا کور کمانڈر بننا پسند کروں گا.*
جنرل نے کہا آپ تو پروفیسر ہیں آپ کا کوئی فوجی تجربہ نہیں آپ کیسے راولپنڈی کے کور کمانڈر لگ سکتے ہیں؟
ڈاکٹر صاحب نے جواب دیا *جیسے ایک ریٹائرڈ فوجی کو ایک اہم ترین تعلیمی ادارے کا سربراہ بنا دیا گیا ہے، بالکل ویسے ہی مجھے بھی کور کمانڈر لگایا جائے*
اس کے بعد جنرل ارشد محمود صاحب کے چراغوں میں روشنی نہ رہی
*لمحہ فکریہ ہے کہ ایک سال میں 2 لاکھ سے زائد اعلیٰ تعلیم یافتہ نوجوان بیرون ممالک شفٹ ہو چکے ہیں اور یہاں ریٹائر حضرات میں اعلیٰ عہدے فتح کرنے کا ورلڈکپ جاری ہے*
انا للّٰہ وانا الیہ راجعون
Copy
پہلے 1 یونٹ زائد استعمال کرنے کا جرمانہ 6 ماہ بھرنا پڑتا تھا.اب اگر حد کراس کی تو ہمیشہ کے لیے پروٹیکٹڈ کیٹیگری سے نکل جائیں گے ۔
200 یونٹس کا بل : 3600
201 یونٹس کا بل : 10,200
طریقہ یہ تھا پہلے
کہ اگر آپکا کبھی 200 یونٹ نہیں ہوئے تو Protected User ہیں۔اور ان کو ریٹ 200 کا 3600 بنتا ہے اور جیسے یونٹ 201 ہوئے تو 10200 ہو جائے گا ریٹ ڈبل سے بھی زیادہ۔
پہلے جب کسی کا 201 یونٹ ہو جاتے تھے تو اگر وہ 6 مہینے 200 تک محدود رکھتا تھا تو ساتویں مہینے واپس Protected میں آجاتا تھا۔
لیکن اب ترقی ہوگئی ہے
اب یہ سننے میں آرہا ہے کہ
جو ایک دفعہ 201 یونٹ ہوگئے تو وہ ہمیشہ ہمیشہ کے لیے Protected کٹیگیری سے نکل گیا اب اسے سستا والا ریٹ نہیں ملے گا۔
خیال کریں سب۔
بجلی کے بل:
برداشت کی آخری حد ختم ہو چکی؟
خاموش معاشی حملہ بند کرو
199 یونٹ بل 3500 روپے
ظلم کی انتہا 201 یونٹ بل 9000
ہر یونٹ کے ساتھ بڑھتی عوام کی پریشانی
ظالمانہ نظام ختم کرو غریب عوام کو سکون سے جینے دو۔
ظلم کے خلاف اپنی آواز بلند کریں
قیصر شریف
پبلک ایڈ کمیٹی جماعت اسلامی لاہور
#PetrolDieselPrice #PublicAwareness #LPGPriceHike #protest #humanrights #PetrolPrice #insidestorywithmohsinbilal
اس پر زیادہ سے زیادہ شور ڈالیں ورنہ یہ بہت بڑی واردات ہے چھ مہینے والی سزا تو پہلے نون لیگ نے مقرر کی تھی اب تو یوں سمجھ آ رہا کہ ایک دفعہ 201یونٹ استعمال کرنے پر ہمیشہ آپ کا بل زیادہ آئے گا
اس کی وضاحت آنا بہت لازم ورنہ غریب مکمل تباہ ہے
This is what a 'ceasefire' looks like in Gaza - kids killed every day as Israel bombs families in Gaza.
This is what ongoing war crimes look like:
https://t.co/tGWX04SZ6T