ہمیں ایک نئی جنگ کی ضرورت ھے، جس کے ہتھیار کتابیں ہوں، اِس کے لیڈر اھلِ فِکر ہوں ، اور اُس کا شکار جِہالت اور ذہنی و فکری پسماندگی ھو۔
فیوڈور دوستوفسکی
"ہیرا منڈی کی گلیوں میں کتاب ایک شوق اور گھنگھرو زندگی ہے۔یہاں قسمت ہتھیلیوں میں نہیں پیروں میں ہوتی ہے۔لوگ لڑ کر آزاد ہوتے ہیں اور طوائف مرکر۔"
ہیرا منڈی میں موجود عورتوں کی دم توڑتی خواہشوں اور مرتے جذبات کی خوبصورت داستان۔
#HeeraMandiOnNetflix
سرائیکی زبان کا "پندھ" ہزاروں سالوں پر محیط ہے لیکن حکومت خیبر پختونخوا نے خصوصی "محبت" اور اس کا "اظہار" سرکاری اور پرائیویٹ سکولوں میں "نصابی کتب" کی "اشاعت" کی صورت میں کر کے "سرائیکی زبان" کو جہاں محفوظ کیا وہاں اپنی نیک نامی کو بھی امر کر لیا۔
جماعت اول سے جماعت ہشتم تک کی سرائیکی بکس بطور لازمی مضمون اس وقت ڈیرہ اسماعیل خان اور ٹانک کے سکولوں میں پہنچ چکیں ہیں جس کے مصنفین ڈاکٹر قیصر انور اور محمد یعقوب بابڑ ہیں۔
ان کتابوں میں سرائیکی وسیب، ثقافت، میلے ٹھیلے، لینڈ سکیپ،مذہبی موضوعات، شخصیات، ڈرامے، قصے، لوک ورثہ، کھنڈرات، قدیم اور تاریخی عمارات، رسم و رواج، جدید علوم اور شاعری جیسے موضوعات کو فوکس کیا گیا ہے۔ جس سے "آج کے بچے" کی اپنے اسلاف سے جڑت اور ان کے کارناموں کو پڑھنے اور ان پر عمل کرنے میں مدد ملے گی۔
ان ضرورت اس امر کی ہے کہ سرائیکی زبان کی ترویج اور بہتر انداز میں بچوں کو پڑھانے کے عمل کو بہتر بنایا جائے۔ اس مقصد کے لیے "اساتذہ ٹریننگ مینول" بھی تیار ہے۔
لہذا اساتذہ ٹریننگ کرائی جائے اور سرائیکی زبان کے لیے ایس ایس ٹی اور ایس ایس ٹیچرز کی پوسٹیں Sanction کی جائیں۔
اب ہماری وزیر اعلی خیبر پختونخوا سردار علی امین خان گنڈا پور سے یہی " ارداس" ہے۔
@FaisalAminKhan@dawarkkundi@AliAminKhanPTI@ahmadkundi@fkkundi
#DIKhan #KPK #news #CMKPK
@