اَقِمِ الصَّلٰوةَ لِدُلُوْكِ الشَّمْسِ اِلٰى غَسَقِ الَّيْلِ وَقُرْاٰ نَ الْـفَجْرِ ۗ اِنَّ قُرْاٰ نَ الْـفَجْرِ كَا نَ مَشْهُوْدًا
"نماز قائم کرو زوال آفتاب سے لے کر اندھیرے تک اور فجر کے قرآن کا بھی التزام کرو کیونکہ قرآن فجر مشہود ہوتا ہے"
(QS. Al-Isra' 17: Verse 78)
والی نسلیں بھی ہدایت، نیکی اور اطاعت کے راستے پر چلیں یہ الفاظ ہمیں سکھاتے ہیں کہ حقیقی کامیابی صرف مال، مقام یا دنیاوی آسائشوں میں نہیں بلکہ اس تعلق میں ہے جو بندے کو اپنے پروردگار کے قریب کر دے۔
یہ دعا محبت، عاجزی اور بندگی کے اس مقام کی تصویر پیش کرتی ہے جہاں انسان اپنے رب کے سامنے اپنی مکمل محتاجی کا اعتراف کرتا ہے۔ ایک ایسی محبت جس میں دنیا کی ہر چاہت سے بڑھ کر اللہ کی رضا کی طلب ہو جہاں دل کی سب سے بڑی خواہش یہ ہو کہ انسان خود بھی فرمانبردار بن جائے اور اس کی آنے
اعرابیوں (بدوؤں) نے نبی کریم ﷺ سے سوال کیا کہ:
الله کے رسول! بندے کو جو چیزیں الله تعالیٰ نے عطا کی ہیں ان میں سب بہتر چیز کیا ہے؟
آپ ﷺ نے فرمایا: "اچھے اخلاق"
ماجہ 3436
(ابی شیبہ 25823؛ بیہقی 19559؛ مشکوٰۃ 5078)
اللہ کی کتاب اور اس کی اطاعت ہے ابن کثیر نے لکھا کہ اللہ ایسے شخص کو اس کے اختیار کردہ راستے کے مطابق شیطان کے ساتھ چھوڑ دیتا ہے جو دنیا میں اسے گمراہی کی طرف لے جاتا ہے یہ آیت انسان کو خبردار کرتی ہے کہ اللہ کی یاد سے دوری دل کو کمزور کرتی اور شیطان کے اثر کو بڑھا دیتی ہے۔
مفسرین کے بیان کے مطابق اس آیت میں بتایا گیا ہے کہ جو انسان اللہ تعالیٰ کی یاد، قرآن کی ہدایت اور حق بات سے جان بوجھ کر غفلت اختیار کرتا ہے اس کے اعمال کے نتیجے میں شیطان اس پر مسلط ہو جاتا ہے اور اسے برائیوں کو اچھا دکھانے لگتا ہے عبداللہ بن عباس سے منقول ہے کہ ذکرِ رحمن سے مراد
رسول الله ﷺ نے فرمایا:
1) الله کے ڈر سے رونے والا جہنم میں داخل نہیں ہوگا، یہاں تک کہ دودھ تھن میں واپس لوٹ جائے، (اور یہ محال ہے)، اور
2) جہاد کا غبار اور جہنم کا دھواں ایک ساتھ جمع نہیں ہوں گے.
ترمذی 1633، 2311
(نسائی 3110؛ ابی شیبہ 35853؛ مشکوٰۃ 3828)
عورت جب نیک عمل کرتے ہیں تو اللہ انہیں صرف ان کے اعمال کے مطابق نہیں بلکہ اپنے فضل سے جنت عطا فرماتا ہے جہاں انہیں بے حساب رزق اور نعمتیں ملیں گی آیت یہ بھی واضح کرتی ہے کہ اللہ کے نزدیک اصل معیار ایمان کے ساتھ عملِ صالح ہے نہ کہ صرف جنس، حیثیت یا دنیاوی مقام۔
یہ آیت اللہ تعالیٰ کے کامل عدل اور بے پایاں فضل کو بیان کرتی ہے اس میں بتایا گیا ہے کہ قیامت کے دن کسی کے ساتھ ناانصافی نہیں ہوگی جو شخص برائی کرے گا اسے اس کے عمل کے برابر ہی سزا ملے گی یعنی اللہ کا عدل کامل ہوگا لیکن نیکی کے معاملے میں اللہ کا فضل بہت وسیع ہے کیونکہ مومن مرد یا
*جمعہ کی سنتیں❤️*
▪️سورۃ الکہف کی تلاوت
▪️ غسل کرنا
▪️خوشبو کا استعمال
▪️ صاف کپڑوں کا اہتمام
▪️ کثرت سے درود پڑھنا
▪️ مسواک کرنا
▪️خاموشی سے خطبہ سننا
▪️ دعا کا خصوصی اہتمام
▪️صدقہ کرنا
السلام علیکم! صبح بخیر
ڈیجیٹل دور میں سائبر کرائم اور آن لائن فراڈ کے خطرات بڑھ رہے ہیں۔ نامعلوم لنکس پر کلک کرنے، کمزور پاس ورڈز استعمال کرنے اور مشکوک ای میلز کا جواب دینے سے گریز کریں۔ اپنے سوشل میڈیا اکاؤنٹس پر Two-Factor Authentication فعال رکھیں، مضبوط پاس ورڈ استعمال کریں اور موبائل و کمپیوٹر کو باقاعدگی سے اپ ڈیٹ کریں۔ محتاط رہیں، باخبر رہیں اور اپنی ذاتی معلومات کو محفوظ بنائیں۔
#PunjabPolice #CyberSecurity #CyberCrimeAwareness #OnlineSafety #StaySafeOnline #DigitalSecurity #PunjabPolicePakistan #BeAwareBeSafe
یقین دیتا ہے کہ چاہے وہ کتنا ہی گناہگار کیوں نہ ہو اللہ کی رحمت ہمیشہ اس کے لیے وسیع ہے اسی لیے انسان کو گناہ کے بعد مایوس نہیں ہونا چاہیے بلکہ توبہ کی طرف پلٹ آنا چاہیے کیونکہ رحمتِ الٰہی ہر چیز پر غالب ہے اور بندے کے لیے امید کا دروازہ ہمیشہ کھلا رہتا ہے۔
اس کا مطلب یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ کا اصل معاملہ بندوں کے ساتھ سختی یا عذاب نہیں بلکہ رحمت اور معافی کا ہے اگرچہ وہ گناہوں پر پکڑ بھی کرتا ہے مگر اس کی اصل اور غالب صفت رحمت ہے مفسرین اس حدیث کی شرح میں بیان کرتے ہیں کہ یہ کلام انسان کے دل سے ناامیدی کو ختم کر دیتا ہے اور اسے یہ
اس آیت میں اللہ تعالیٰ بندے کو یہ یقین دلاتا ہے کہ جو شخص سچے دل سے اللہ پر بھروسہ کر لیتا ہے اللہ اس کے لیے کافی ہو جاتا ہے توکل کا مطلب یہ نہیں کہ انسان کوشش چھوڑ دے بلکہ کوشش کے بعد اپنے معاملات اللہ کے سپرد کر دے اور یقین رکھے کہ بہترین فیصلہ وہی کرے گا جس دل میں اللہ پر