یہ منصف بھی تو قیدی ہیں ہمیں انصاف کیا دیں گے
لکھا ہے ان کے چہروں پر جو ہم کو فیصلہ دیں گے
اٹھائیں لاکھ دیواریں طلوع مہر تو ہوگا
نہیں پرواہ ہمیں یہ اہل دانش کیا سزا دیں گے
ہمارے قتل پر جو آج ہیں خاموش کل جالب
بہت آنسو بہائیں گے بہت داد وفا دیں گے
حبیب جالب