جہالت کا طوفان صرف کتابوں سے نہیں رکتا، اسے ایسے دل درکار ہوتے ہیں جن میں علم چراغ بن کر جلتا ہو۔ کیونکہ جہالت جب پھیلتی ہے تو صرف ذہنوں کو اندھیرا نہیں کرتی، کرداروں کو بھی برباد کر دیتی ہے؛ اور علم جب پھیلتا ہے تو صرف سوالوں کے جواب نہیں دیتا، انسان کو خود اپنے وجود کا جواب بنا دیتا ہے۔
ایک جاہل معاشرہ افواہ کو خبر، تعصب کو غیرت اور اندھی تقلید کو سچ سمجھ لیتا ہے۔ مگر علم کا ایک چراغ جل جائے تو نسلوں کی آنکھیں روشن ہو جاتی ہیں۔
اس لیے کتاب اٹھاؤ، سوال کرو، سیکھو، سوچو؛ کیونکہ آنے والی نسلوں کے لیے سب سے مضبوط قلعہ اینٹوں سے نہیں، علم سے تعمیر ہوتا ہے۔
اور یاد رکھو:
جہالت کا طوفان جتنا بھی خوفناک ہو، اگر ایک نسل علم کی دیوار بن کر کھڑی ہو جائے تو اندھیرا راستہ نہیں پاتا۔
جو دکھائی دے، ضروری نہیں کہ وہی حقیقت ہو✨
از قلم چوہدرانی ✒️ 👑
بعض اوقات زندگی ہمارے سامنے ایک ایسا منظر رکھ دیتی ہے جو بظاہر بالکل واضح، صاف اور ناقابلِ تردید محسوس ہوتا ہے۔ ہم اسے دیکھتے ہیں، اپنی سمجھ کے مطابق اس کا مطلب نکالتے ہیں اور پھر بغیر کسی گہرائی میں اترے اسے حقیقت تسلیم کر لیتے ہیں۔
حالانکہ حقیقت اکثر منظر کے پیچھے چھپی ہوتی ہے۔
ہر مسکراہٹ خوشی نہیں ہوتی،
ہر خاموشی رضا مندی نہیں ہوتی،
ہر قربت محبت نہیں ہوتی،
ہر دوری نفرت نہیں ہوتی،
ہر آنسو کمزوری نہیں ہوتا،
اور ہر خوبصورت تعلق حقیقت میں خوبصورت نہیں ہوتا۔
کبھی کبھی انسان وہی منظر دکھاتا ہے جو وہ چاہتا ہے کہ تم دیکھو۔
وہ اپنی زندگی کا ایک مخصوص رخ تمہارے سامنے رکھتا ہے، باقی تمام حقیقت پردے کے پیچھے چھپا دیتا ہے۔ تمہیں صرف اتنا دکھایا جاتا ہے جتنا دکھانا مقصود ہو، اور پھر تم سے توقع کی جاتی ہے کہ تم اسی محدود منظر کو مکمل حقیقت سمجھ لو۔
یہی وہ مقام ہے جہاں انسان اکثر دھوکا کھا جاتا ہے۔
ہم آنکھوں سے دیکھتے ہیں اور دل و دماغ کو یقین دلا دیتے ہیں کہ ’’یہی سچ ہے۔‘‘
حالانکہ آنکھ صرف منظر دیکھ سکتی ہے، نیت نہیں۔
الفاظ سنائی دے سکتے ہیں، مگر ان کے پیچھے چھپی نیت ہمیشہ سنائی نہیں دیتی۔
رویّہ نظر آ سکتا ہے، مگر اس کے پیچھے چھپی وجہ نہیں۔
اور سب سے بڑھ کر یہ کہ انسان دوسروں کو اپنی حقیقت نہیں، اکثر اپنی ضرورت کے مطابق حقیقت دکھاتا ہے۔
اس لیے زندگی میں ہر چیز کو فوراً حتمی سچ سمجھ لینا دانش مندی نہیں۔
کسی کے بہت خوش نظر آنے کا مطلب یہ نہیں کہ وہ اندر سے بھی خوش ہے۔
کسی کے بہت مصروف نظر آنے کا مطلب یہ نہیں کہ وہ واقعی مصروف ہے۔
کسی کے کسی کے بہت قریب نظر آنے کا مطلب یہ نہیں کہ ان کے درمیان واقعی وہی تعلق ہے جو تم سمجھ رہے ہو۔
کسی کا اچانک بدل جانا بھی ہمیشہ بے وفائی نہیں ہوتا؛ کبھی انسان کے اندر ایسی جنگ چل رہی ہوتی ہے جس کا تمہیں علم ہی نہیں ہوتا۔
اور کبھی کبھی معاملہ اس کے بالکل برعکس بھی ہوتا ہے…
جو شخص معصوم دکھائی دے، ضروری نہیں کہ وہ معصوم ہو۔
جو بہت محبت دکھائے، ضروری نہیں کہ اس کے دل میں محبت ہو۔
جو تمہاری خاطر بہت کچھ کرتا ہوا نظر آئے، ممکن ہے وہ صرف ایک خاص تاثر قائم کر رہا ہو۔
اسی لیے میں نے سیکھا ہے کہ ہر دکھائی دینے والی چیز پر فوراً فیصلہ نہیں کرنا چاہیے۔
کچھ وقت دو۔
خاموش رہو۔
مشاہدہ کرو۔
الفاظ سے زیادہ تسلسل دیکھو۔
دعوں سے زیادہ کردار دیکھو۔
اور ایک شخص کے بارے میں رائے قائم کرنے سے پہلے یہ دیکھو کہ وہ مختلف حالات میں کیسا رہتا ہے۔
کیونکہ انسان کی اصل شخصیت اس وقت سامنے آتی ہے جب اسے وہ سب کچھ نہ مل رہا ہو جو وہ چاہتا ہے۔
جب کوئی اسے دیکھ نہیں رہا ہوتا۔
جب اسے اپنے فائدے کے لیے اچھا بننے کی ضرورت نہیں ہوتی۔
جب اس کے پاس اختیار ہوتا ہے اور سامنے والا کمزور۔
وہاں سے حقیقت کے دروازے کھلتے ہیں۔
زندگی نے یہ بھی سکھایا ہے کہ ہر بات کا جواب فوراً جاننا ضروری نہیں۔
کبھی وقت کو کام کرنے دینا چاہیے۔
وقت بہت بڑا پردہ اٹھانے والا ہے۔
جو چیز مصنوعی ہو، زیادہ دیر قائم نہیں رہتی۔
جو رشتہ صرف دکھاوا ہو، کسی نہ کسی موڑ پر اس کی دراڑیں نظر آ جاتی ہیں۔
جو محبت صرف الفاظ ہو، عمل کی پہلی آزمائش میں کمزور پڑ جاتی ہے۔
اور جو انسان صرف ایک کردار ادا کر رہا ہو، وقت کے ساتھ کہیں نہ کہیں اس کا اصل چہرہ ضرور سامنے آ جاتا ہے۔
اس لیے ہر منظر دیکھ کر فوراً یقین مت کر لیا کریں۔
ہر بات سن کر فوراً فیصلہ مت کیا کریں۔
ہر دکھائی جانے والی قربت کو محبت، ہر خاموشی کو رضامندی اور ہر مسکراہٹ کو خوشی کا نام مت دیں۔
ہو سکتا ہے جو تمہیں دکھایا جا رہا ہے، مقصد ہی تمہیں وہی دکھانا ہو۔
اور شاید حقیقت اس پردے کے بالکل دوسری طرف کھڑی تمہاری منتظر ہو۔
اس لیے لوگوں کو صرف وہ نہ سمجھو جو وہ تمہیں دکھاتے ہیں؛
انہیں اس وقت بھی دیکھو جب انہیں معلوم نہ ہو کہ کوئی انہیں دیکھ رہا ہے۔
کیونکہ اصل حقیقت اکثر منظر میں نہیں، رویّوں کے تسلسل میں چھپی ہوتی ہے۔
اور زندگی میں بعض سچ ایسے ہوتے ہیں جنہیں آنکھیں نہیں،
وقت، تجربہ اور خاموش مشاہدہ آشکار کرتے ہیں۔
دوا کا نام: ’’آج کے بعد فکر نہ کریں‘‘
اجزاء:
لَا إِلٰهَ إِلَّا أَنْتَ، سُبْحَانَكَ إِنِّي كُنْتُ مِنَ الظَّالِمِينَ
(اے اللہ! تیرے سوا کوئی معبود نہیں، تو پاک ہے، بے شک میں ہی ظالموں میں سے تھا۔)
طریقۂ استعمال:
سجدے کی حالت میں اسے بار بار پڑھنا۔
خصوصیات:
دل میں اطمینان پیدا کرتا ہے، غم اور بے چینی کو دور کرتا ہے، اور تکبر کے سرطان سے بچاتا ہے۔
استعمال کی وجوہات:
جب دل میں وحشت، گھبراہٹ یا کسی بھی قسم کا دکھ اور درد محسوس ہو۔
علاج کی مدت:
تمام عمر۔
✨ عرق النساء (Sciatica Pain) کا دیسی علاج
• دائیں طرف کا درد: خشک گرم مزاج (علاج: اسگند، سورنجاں شیریں، نوشادر، ریوند عصارہ اور سقمونیا کا سفوف)۔
• بائیں طرف کا درد: تری گرم مزاج (علاج: حرمل بریاں، سورنجاں اور مصبر کی گولیاں)۔
1/2
✨ جسمانی کمزوری اور آئرن کی کمی کا آسان علاج
• فوائد: آئرن کی کمی دور، تازہ خون کی افزائش، کمر درد سے نجات، معدے و دماغ کی تقویت اور چہرے کی شادابی۔
📜 اجزاء (بڑے): کھجور (3 عدد)، بادام (11 عدد)، کشمش (1 مٹھی) اور دودھ (1 پاؤ)۔
1/2
کبھی بھی ایسے شخص کو اپنی زندگی میں دوبارہ جگہ نہ دیں
جس نے آپ کے کردار ، مالیات یا تعلقات کو نقصان پہنچانے کی کوشش کی ہو۔
سانپ کھال تبدیل کر لیتا ہے ، لیکن وہ رہتا سانپ ہی ہے ہمیشہ اسکی فطرت کبھی نہیں بدلتی ۔۔۔۔۔۔۔۔
اللہ تعالی نے اپنی زمین میں اپنے نہ ماننے والوں کو جس طرح برداشت فرمایا ہوا ہے،
اسی طرح ہم بھی دوسروں کو ان کے عقائد کے اختلاف کے باوجود برداشت کیوں نہیں کرتے؟
(حضرت واصف علی واصف رحمۃ اللہ علیہ )
✨ بالوں کے تمام مسائل کا مجرب ہربل آئل
• فوائد: گرتے بال، خشکی، سکری، دو شاخے اور کمزور بالوں کی دیکھ بھال کے لیے قدرتی علاج۔
📜 اہم اجزاء: روغنِ بیضہ مرغ، روغنِ ارنڈ، زیتون، ناریل، لہسن اور سفید پیاز کا رس (مکمل مقداریں منسلک تصویر میں درج ہیں)۔
1/2
اگر تم فرقہ پسند نہیں ہو،
بڑے گھر اور گاڑی پر اتراتے نہیں ہو،
بڑے بڑے لوگوں کے ساتھ تصویر کھنچوانے کا شوق نہیں رکھتے،
تو تم جو بھی ہو، جہاں بھی ہو، ہم دوست ہیں۔
ہم ناکامی سے کیوں ڈرتے ہیں؟
ہم کبھی کبھی ناکامی سے اس لیے نہیں ڈرتے کہ وہ ہمیں تکلیف دیتی ہے، بلکہ اس لیے ڈرتے ہیں کہ اگر ہم کامیاب نہ ہوئے تو دوسرے لوگ ہمیں کس نظر سے دیکھیں گے۔
چنانچہ ہم اپنی جگہ پر ٹھہرے رہنے کو ترجیح دیتے ہیں اور اُس محفوظ راستے کو اختیار کر لیتے ہیں، جو ہمیں اُس تجربے میں قدم رکھنے سے روک دیتا ہے جو شاید ہماری زندگی ہی بدل دے۔
لیکن ناکامی نہ کوئی عیب ہے اور نہ ہی بے بسی کی دلیل؛ بلکہ یہ ایک ایسی کوشش ہے جو ابھی مکمل نہیں ہوئی، اور ایک ایسا سبق ہے جو شاید تمہیں کامیابی کی طرف لے جائے۔
لہٰذا گرنے کے خوف کو اپنے سفر کی راہ میں رکاوٹ نہ بننے دو۔
گردوں کی حفاظت کیجئے
گردے جسم میں بننے والے زہریلے مادوں کو فلٹر کرتا ہے جس سے آپ صحتمند رہتے ہیں،
اگر گردے صحتمند نہیں رہیں گے تو یہ زہریلے مادے آپ کے جسم کو کھا جائیں گے
اسلیئے یہ ضروری ہے کہ آپ نمک کا استعمال کم سے کم کریں، روزانہ جاگنگ کریں، 2لیٹر پانی پیئں اور جنک فوڈ
اور، سوڈا ڈرنکس، انرجی ڈرنکس کو بائے بائے کریں اور کم از کم 6 گھنٹے کی نیند پوری کریں اور سب سے اہم خود سے پین کلر میڈیسن ہرگز مت استعمال کریں
افسوس اُن لوگوں پر ہے جنہوں نے ہمارے برے وقت کو ہماری کمزوری سمجھ لیا وہ شاید یہ بھول گئے کہ وقت صرف حالات نہیں بدلتا لوگوں کے بارے میں ہماری رائے بھی بدل دیتا ہے۔ ہم ان کے ہاتھوں ہارے نہیں بس ان کی حقیقت جان گئے اور کسی انسان کی حقیقت جان لینا بھی ایک طرح کی نجات ہے
نظر انداز کرنا اُن اہم تجربات میں سے ایک ہے جو انسان اپنی تھکا دینے والی زندگی کے سفر میں حاصل کرتا ہے۔ یہ ایک ایسی دانائی ہے جو انسان کو اس کے تجربات ورثے میں دیتے ہیں۔ اور کمال یہ ہے کہ ہم اس دانائی کو اپنا مستقل رویّہ بنانے میں کامیاب ہو جائیں۔
انسان سیکھتا ہے کہ ہر چیز کی باریک بینی سے چھان بین کرنا اکثر اپنے فائدوں سے کہیں زیادہ نقصان کا باعث بنتا ہے۔ کیونکہ ہر وقت آنکھ کی پتلی کو پھیلا کر ہر چیز کو غور سے دیکھتے رہنا آخرکار ایسا سر درد پیدا کر دیتا ہے جو بعد میں حاصل ہونے والی تمام کامیابیوں کی لذت بھی برباد کر دیتا ہے۔
— سلیمان الناصر