تمام امت مسلمہ کو عید مبارک۔ میں اس پرمسرت م��قع پر دل کی گہرائیوں سے آپ سب کو مبارکباد پیش کرتا ہوں۔ اس وقت بلوچستان دہشت گردی اور دیگر پیچیدہ مسائل سے دوچار ہے، مگر میری پُرعزم دعا ہے کہ اللہ تعالیٰ ہ��یں توفیق دے کہ ہم ان چیلنجز کو عبور کرتے ہوئے بہت جلد بلوچستان کو ترقی کی راہ پر گامزن کریں۔ آمین
ایک لعین رجب بٹ (بھٹی) نامی جاہل ٹک ٹاکر مختلف اسلامی شعائر (نماز، روزہ، حج، زکوۃ) وغیرہ کا مذاق اڑاتا رہا، ادارے اور حکومتیں خاموش رہیں، اور اب اس نے ناموس رسالت کے قانون کا مذاق رمضان کے مہینے میں اڑایا ہے۔
یہ شخص اور اس کے سرپرست آخر چاہتے کیا ہیں
سوچنگ
🤔
پنجاب کی وزیراعلی جو وقت دفتر میں گزارتی ہیں تو عوام کیلئے نئے پراجیکٹس کی پلاننگ میں گزارتی ہیں ۔
اور جب وہ پنجاب کی وزیراعلی سڑکوں پر نکلتی ہیں تو عوام کی مشکلات سے آگاہی کیلئے نکلتی ہیں ۔
مریم نواز نے خدمت کی سیاست کو ایک نیا رنگ ایک نیا ڈھنگ دے دیا ہے ماشاءاللّہ
وزیرِ اعلیٰ پنجاب مریم نواز کی طرف سے بیوہ خواتین کیلئے "بیوہ سہارا کارڈ"
پروگرام ایک شاندار اقدام ہے
برائے مہربانی یہ معلومات زیادہ سے زیادہ لوگوں تک پہنچائیں جزاک اللّہ
میں پورن دیکھنے کی لت میں مبتلا تھا۔ وی پی این لگا کر مختلف ویب سائٹس سے لطف لیا کرتا تھا۔ فحش ویڈیوز وغیرہ کے کچھ گروپس میں بھی ایڈ تھا۔ وہاں بھی مطلب کی چیزیں دیکھنے کو مل جاتی تھیں۔ ایک دن ایسی ہی ایک ویب سائٹ پر موجود تھا کہ پاپ اپ ہوا۔ "آپ اپنے قریبی علاقے میں ایک نوجوان لڑکی سے تعلق قائم کرنا چاہتے ہیں؟" میں نے اس پاپ اپ پر کلک کر دیا۔ میری خوش قسمتی کہ اس کے بعد واقعی ایک لڑکی سے رابطہ ہو گیا۔ اس سے بات ہونا شروع ہو گئی۔ وہ بھی پورن کی دلدادہ تھی۔ میری ناآسودہ جنسی خواہشات بر آنے کے سنہرے دن آ گئے تھے۔ ہمارا تعلق ہر گزرتے دن کے ساتھ مضبوط اور پر اعتماد ہوتا جا رہا تھا۔ لیکن ابھی تک ہماری ملاقات نہ ہو سکی تھی جس کیلئے میں بہت بے تاب تھا۔ لڑکی نے مجھے ایک دو اور مزے کے گروپس میں بھی ایڈ کروا دیا۔ اس گروپ میں بھی دل خوش کرنے والا مواد ملتا تھا۔ ایک دن اس گروپ میں توہین مذہب پر مبنی کنٹینٹ شیئر ہوا۔ فحش تصاویر پر مقدس نام وغیرہ لکھے ہوئے تھے۔ میں نے لڑکی سے رابطہ کیا کہ یہ کیسا مواد شیئر ہوا ہے۔ اس نے کہا مجھے نہیں پتہ۔ می��ی نظر سے یہ شیئرنگ نہیں گزری۔ مجھے بھیجو، میں بھی دیکھوں کیا معاملہ ہے۔ ہمارا اعتماد کا تعلق تھا۔ اس کو شیئر کر دیا کہ دیکھو۔
لڑکی کو یہ توہین آمیز مواد شیئر کرنے کے بعد میرا اس سے رابطہ منقطع ہو گیا۔ مجھے گروپ سے نکال دیا گیا۔ ��ڑکی نے بھی بلاک کر دیا۔ مجھ سے پیسوں کا تقاضا کیا گیا۔میں غریب فیملی سے تعلق رکھتا ہوں۔ پیسے ادا نہیں کر سکا اور پھر میرے اوپر توہین مذہب کا کیس بن گیا۔
یہ ایک سچی کہانی ہے جو توہین مذہب کے مقدمے میں قید ایک نوجوان نے میرے ساتھ شیئر کی ہے۔
کیا آپ کو یہ بات حیران نہیں کرتی کہ پچھلے کچھ سال میں ایف آئی اے سائبر کرائم ونگ کے تحت درج ہونے والے توہین مذہب (295 سی) کے 400 سے زیادہ مقدمات میں زیادہ تر متاثرین کے ساتھ بالکل اسی طرح کا واقعہ پیش آیا اور ان کیخلاف ایف آئی آر درج کروانے والے گھوم پھر کر وہی چند لوگ ہیں؟ کیا آپ کو توہین کے یہ معاملات مشکوک نہیں لگتے؟
اگر متاثرہ بچوں کے والدین کہتے ہیں کہ وزارت داخلہ اسپیشل برانچ اور کمیشن فار ہیومن رائٹس کی رپورٹس ہیں کہ ایک گینگ جس میں کچھ وکلا، ایف آئی اے کے کچھ اہلکار اور ایک معروف مذہبی شخصیت کے بھائی کی سربراہی میں گروہ کے چند ارکان شا��ل ہیں جو بچوں کو ٹریپ کرتے، انہیں بلیک میل کرتے اور توہین کے مقدمات بنواتے ہیں تو اس پر ایک فیکٹ فائنڈنگ کمیشن بنانے میں کسی کو کیا اعتراض ہو سکتا ہے؟ اگر متاثرہ والدین کہتے ہیں کہ ایف آئی اے کے انہی اہلکاروں سے تفتیش کروانا جن پر الزامات ہیں کہاں کا انصاف ہے؟ بہتر نہیں ایک غیر جانبدارانہ کمیشن اس پر تحقیقات کرے۔ اس کمیشن کے پاس ریسورسز بھی زیادہ ہوں گے اور وہ زیادہ محفوظ بھی ہو گا۔ اس کی تشکیل پر واویلا کیوں؟ کیا اس بزنس کے گروپ کے اپنے لوگوں کے پھنسنے کا خطرہ ہے جو وہ اس کی مخالفت کر رہے ہیں؟
ہائیکورٹ صوبے کی سب سے بڑی عدالت ہوتی ہے۔ اس کے جج کو چھوٹی (ٹرائل) عدالتوں کے ججز کے مقابلے میں بہت زیادہ محفوظ تصور کیا جاتا ہے۔ اگر ہائیکورٹ کا جج بھی توہین سے متعلق مقدمات سنتے ہوئے اپنی عدالت میں اس گروہ کی ہلڑ بازی سے خطرے اور پریشانی کا شکار ہو تو چھوٹی عدالتوں کے ججز کو جس خطرے اور دباؤ کا سامنا ہوتا ہو گا کوئی اندازہ کر سکتا ہے؟ کیا یہ چھوٹی عدالتیں اس گروپ ک�� دھمکیوں وغیرہ کی موجودگی میں میرٹ پر فیصلے کرتی ہوں گی؟
توجہ نہ دی گئی تو توہین مذہب کے "واقعات" میں اضافہ ہو گا۔ بہت سارے نوجوان کال کوٹھریوں میں جائیں گے اور والدین ساری زندگی ایک عذاب سے گزریں گے۔
نوٹس لیں۔ ورنہ یہ آگ آپ کے گھر بھی پہنچ سکتی ہے۔
اپنے بچوں کی سرگرمیوں پر نظر رکھیں۔ ان کے ساتھ دوستانہ رویہ رکھیں۔ ان کے ساتھ اس گروپ کا طریقہ واردات شیئر کریں۔ اس معاملے پر آپ کی اپنے بچوں سے بات چیت اور رہنمائی آپ کو مستقبل میں کسی بڑی مصیبت سے بچا سکتی ہے۔
طاہر چودھری، ایڈووکیٹ ہائیکورٹ، لاہور۔
ماہ رنگ ، بی ایل اے ، پی ٹی آئی ، انڈیا کیخلاف آواز اٹھانے اور انکی حقیقت پاکستانیوں تک پہنچانے کی وجہ سے میرا اکاؤنٹ ریاست دشمنوں کیجانب سے مسلسل رپورٹ کیا جا رہا ۔ آپکا ایک کمنٹ ، ری اور لائک اکاؤنٹ کو شہید ہونے سے بچا سکتا ہے ۔
@ImranRiazKhan سوال: وہ “غیرت مند” اور “ایماندار” کدھر ہے جو اپنی تیسری بیوی کے پہلے شوہر کو بھی سرکاری خرچے پر اپنے ساتھ ہی عمرہ کروانے لے آیا تھا۔
جواب : اڈیالے میں بند ہے ۔۔۔
بتایا گیا کہ یہ سوال جواب عربی زبان میں ہوئے
سو نورانی کی نہی گرل فرینڈ یوتھن ہے عاصم منیر صاحب نے پنکی پیرنی کی چوری پکڑی تھی ان سے بدلہ مطلوب تھا سو پی ٹی آئئ نے عورت کارڈ کھیلا ہنی ٹریپ کیا اور نئی معشوق کی محبت میں آرمی چیف کی بیٹیوں کی تصاویر وائرل کروائی مس لیڈنگ انفانرمیشن دی تاکہ یوتھیے ان تصاویر پر ٹرولنگ کریں گندگی اچھالیں بس اتنی سی حقیقت ہے نورانی کی صحافت کی