نامِ صدیقؓ صداقت کا پتا دیتا ہے
جام الفت کا محبت کا پلا دیتا ہے
اسکے دامن میں وفاؤں کے گُہَر گرتے ہیں
عشقِ صدیقؓ میں جو اشک بہا دیتا ہے
مغفرت اسکے مقدر پہ نہ ہو کیوں نازاں
جاں ابوبکرؓ کی خاطر جو لٹا دیتا ہے
کردے انکار نبوتﷺ کا ابوجہل اگر
اس کو صدیقؓ بھی دو چار سنا دیتا ہے
جو ابوبکرؓ کے منصب کا نہیں رکھتا لحاظ
مومن اُس شخص سے ہر ناطہ بھلا دیتا ہے
بعد آقاﷺ سے محبت کے یہاں دیوانہ
عشقِ صدیقؓ کی آواز لگا دیتا ہے
بخت والے ہی ابوبکرؓ کے گُن گاتے ہیں
اور اِس اعزاز کی توفیق خدا دیتا ہے
مختصر یہ کہ ابوبکرؓ کے در پر صائم
ربِّ بوبکرؓ محمدﷺ سے ملا دیتا ہے
کلام مبشر صائم صاحب