موت کے منہ سے زندگی کے سفر تک 🌺
جب ہر امید ٹوٹ چکی تھی، تب ایک رحم دل انسان نے اس معصوم ماں کو نیا جنم دیا۔ انسان کا ایک چھوٹا سا رحم دلی کا قدم کسی کی پوری دنیا بدل سکتا ہے❤️🐾
1980 کا ہی پھر سے ذکر ہے اور یہ ذکر اس لئے بار بار آتا ہے کہ اس دھائی میں پاکستان میں ادب، اداکاری، ڈرامہ نویسی، پرڈکشن، گلوکاری، موسیقی سب اپنے عروج پر تھی اور ہم اس دور میں ہوش سنمبھال رہے تھے. گھر اور سکول کے ساتھ ساتھ پی ٹی وی ہمارے شعور، لاشعور، ادراک اور زبان کی تربیت کر رہا تھا. لاشعوری طور پر اس زمانے میں جس طرح میں نے پی ٹی وی سے ادب کا، آداب کا، زبان اور تلفظ کا، اعلی درجے کے مزاح کا اور سماجی شعور کا علم حاصل کیا، حسرت سے سوچتا ہوں کہ کاش ہماری نئی نسل بھی اس بیش قیمت خزانے سے مستفیض ہو سکتی اور سیکھ سکتی۔
تو اسی دور کا، 1980 کا ذکر ہے کہ پی ٹی وی پر ایک بہت ہی گلیمرس ڈرامہ شروع ہوا. گلیمرس اس لئے کہ اس میں بہت بڑےبڑے نام تھے. عثمان پیرزادہ، ساحرہ کاظمی، راحت کاظمی، عطیہ شرف، صبا حمید، بدر خلیل، شفیع محمّد اور عابد کاشمیری. ڈرامے کا نام تھا تیسرا کنارہ. ان دنوں ڈرامے کی سمجھ تو خاک نہیں آتی تھی، مگر واحد تفریح ہونے کے سبب سب گھر والوں کے ساتھ سکرین کے سامنے بیٹھنا ضروری تھا. سو بے مقصد ڈرامہ دیکھنے کے دوران کچھ باتیں ذھن میں رہ گئیں جن میں ایک تو ساحرہ کاظمی کی سحر انگیز شخصیت تھی، دوسرا راحت کاظمی کا مانوس سا فرینڈلی چہرہ، اور تیسری ایک سکون میں ڈوبی آواز جو مختلف مناظر میں بیک گراونڈ میں چلتی تھی، اور ایک نظم اس طرح گاتی تھی جیسے زخموں پر مرہم رکھتی ہو. وہ نظم تھی:
کبھی ہم خوبصورت تھے
اور آواز تھی نیرہ نور کی. یہ میرا نیرہ نور سے پہلا تعارف تھا اور آج بھی اس کا نام ذھن میں آتے ہی اس کی گائی یہی نظم ذھن میں گونجتی ہے.
علامہ اقبال کا شاہین کہتا تھا کہ "پرندوں کی دنیا کا درویش ہوں میں". اگر موسیقی کی دنیا کا درویش دیکھنا ہو تو نیرہ نور سے مل لیجئے. ایک انوکھا اورعجیب و غریب کردار ...عاجزی انکساری میں ڈوبا، ہر وقت جیسے خود کو سب کی نگاہوں سے چھپاتا ہوا، ملکہ ترنم کے بلا خیز گلیمر کے مقابل اعتماد کے ساتھ کھڑا ہوا، ناہید اختر کی شوخیوں کو نظر انداز کرتا ہوا، طاہرہ سید کی تمکنت کو پس پشت ڈالتا ہوا، عاجزی اور انکساری میں ڈوبا، خود میں کھویا ہوا پی ٹی وی کی رنگا رنگ تقریبات میں سفید کاٹن کا سادہ سا لباس پہنے، میک اپ اور زیور سے بے نیاز دھیمے لہجے میں ہر سوال کا مختصر سا جواب دیتا ہوا. لیکن جب یہ کم گو گلوکارہ سُر چھیڑتی تو یوں لگتا جیسے کوئی لوری گنگنا رہا ہے اور گویا زمانے کی گردشیں کسی پر سکوں ندی کی لہروں میں ہلکے ہلکے ہچکولے لینے لگیں ہیں. شاید ہی کوئی زی روح ہو جس نے نیرہ نور کو سنا ہو اور اس کو پسند نہ کرتا ہو اور اس کے ساتھ ساتھ اس کا احترام نہ کرتا ہو. میں نے ہمیشہ لوگوں کو نیرہ نور کی سادگی کو سراھتے ہوئے دیکھا ہے. آج تک نہیں سنا کہ کسی نے کہا ہو کہ نیرہ نور بناؤسنگھار کیوں نہیں کرتی؟ نیرہ نور در حقیقت 'نہیں محتاج زیور کا جسے خوبی خدا نے دی' کی تصویر تھی.
اور اس کی خوبیوں میں سادگی اور درویشی کے بعد ان کی آواز تھی جو بہت شوخ بھی ہوتی تھی تو ایک پر سکون بہتی ندی کے شور سے زیادہ نہیں ہوتی تھی. میں سوچتا ہوں کہ اگر وہ 'کبھی ہم بھی خوبصورت تھے' کے بعد کچھ نہ بھی گاتی تو بھی لوگ ان کو ہمیشہ یاد رکھتے. لیکن اس نے ایک اور غزل بھی گنگنا ڈالی:
اے جذبہ دل گر میں چاہوں
جو ان کی پہچان بن گئی. اسی غزل کی بنا پر اس نے کئی ایوارڈ حاصل کئے (وکی پیڈیا). اگر وہ یہاں رک جاتی تو بھی یہ کلام اس کو موسیقی میں زندہ رکھنے کے لئے کافی تھا. لیکن اس نے شاید ٹھان رکھی تھی کہ اسی طرح خاموشی سے غزل کی گائیکی میں اپنا ایسا رنگ جمانا ہے جو سب سے منفرد ہو. اور اس نے رنگ جمایا لیکن اپنی مخصوص خاموشی اور دھیمے پن سے، اور غزلوں کی ایک لائن لگا دی:
وہ جو ہم میں تم میں قرار تھا تمہیں یاد ہو کہ نہ یاد ہو
پھر ساون رت کی پون چلی تم یاد آئے
کہاں ہو تم چلے آو محبت کا تقاضا ہے
اے عشق ہمیں برباد نہ کر
جلے تو جلاو گوری، پیت کا الاو
ہر چند سہارا ہے تیرے پیار کا دل کو
پھر انہوں نے فیض کو گانا شروع کیا، اور فیض کو کس کس نے نہیں گایا تھا ....ملکہ ترنم نور جہاں نے، اقبال بانونے، ٹینا ثانی نے. لیکن نیرہ نور نے جو جو غزل گائی وہ بس انہی کے رنگ میں رنگ گئی. فیض کا سمندری طوفانوں جیسا انقلابی لہجہ نیرہ نور کی آواز میں ڈھل کے کسی گہرے دریا کی طرح مدھم مدھم بہنے لگتا.
آج بازار میں پا بجولاں چلو
مرے قاتل مرے دلدار مرے پاس رہو
ہم کہ ٹھہرے اجنبی اتنی مداراتوں کے بعد
آئیے عرض گزاریں کہ نگار ہستی
رات یوں دل میں تیری کھوئی ہوئی یاد آئی
لاو اپنے حسن کی ناؤ، لیلی اترے پار
مجھے ان میں سب سے زیادہ خوبصورت "مرے قاتل مرے دلدار مرے پاس رہو' لگتی ہے.
بقیہ
1980 کا ہی پھر سے ذکر ہے اور یہ ذکر اس لئے بار بار آتا ہے کہ اس دھائی میں پاکستان میں ادب، اداکاری، ڈرامہ نویسی، پرڈکشن، گلوکاری، موسیقی سب اپنے عروج پر تھی اور ہم اس دور میں ہوش سنمبھال رہے تھے. گھر اور سکول کے ساتھ ساتھ پی ٹی وی ہمارے شعور، لاشعور، ادراک اور زبان کی تربیت کر رہا تھا. لاشعوری طور پر اس زمانے میں جس طرح میں نے پی ٹی وی سے ادب کا، آداب کا، زبان اور تلفظ کا، اعلی درجے کے مزاح کا اور سماجی شعور کا علم حاصل کیا، حسرت سے سوچتا ہوں کہ کاش ہماری نئی نسل بھی اس بیش قیمت خزانے سے مستفیض ہو سکتی اور سیکھ سکتی۔
تو اسی دور کا، 1980 کا ذکر ہے کہ پی ٹی وی پر ایک بہت ہی گلیمرس ڈرامہ شروع ہوا. گلیمرس اس لئے کہ اس میں بہت بڑےبڑے نام تھے. عثمان پیرزادہ، ساحرہ کاظمی، راحت کاظمی، عطیہ شرف، صبا حمید، بدر خلیل، شفیع محمّد اور عابد کاشمیری. ڈرامے کا نام تھا تیسرا کنارہ. ان دنوں ڈرامے کی سمجھ تو خاک نہیں آتی تھی، مگر واحد تفریح ہونے کے سبب سب گھر والوں کے ساتھ سکرین کے سامنے بیٹھنا ضروری تھا. سو بے مقصد ڈرامہ دیکھنے کے دوران کچھ باتیں ذھن میں رہ گئیں جن میں ایک تو ساحرہ کاظمی کی سحر انگیز شخصیت تھی، دوسرا راحت کاظمی کا مانوس سا فرینڈلی چہرہ، اور تیسری ایک سکون میں ڈوبی آواز جو مختلف مناظر میں بیک گراونڈ میں چلتی تھی، اور ایک نظم اس طرح گاتی تھی جیسے زخموں پر مرہم رکھتی ہو. وہ نظم تھی:
کبھی ہم خوبصورت تھے
اور آواز تھی نیرہ نور کی. یہ میرا نیرہ نور سے پہلا تعارف تھا اور آج بھی اس کا نام ذھن میں آتے ہی اس کی گائی یہی نظم ذھن میں گونجتی ہے.
علامہ اقبال کا شاہین کہتا تھا کہ "پرندوں کی دنیا کا درویش ہوں میں". اگر موسیقی کی دنیا کا درویش دیکھنا ہو تو نیرہ نور سے مل لیجئے. ایک انوکھا اورعجیب و غریب کردار ...عاجزی انکساری میں ڈوبا، ہر وقت جیسے خود کو سب کی نگاہوں سے چھپاتا ہوا، ملکہ ترنم کے بلا خیز گلیمر کے مقابل اعتماد کے ساتھ کھڑا ہوا، ناہید اختر کی شوخیوں کو نظر انداز کرتا ہوا، طاہرہ سید کی تمکنت کو پس پشت ڈالتا ہوا، عاجزی اور انکساری میں ڈوبا، خود میں کھویا ہوا پی ٹی وی کی رنگا رنگ تقریبات میں سفید کاٹن کا سادہ سا لباس پہنے، میک اپ اور زیور سے بے نیاز دھیمے لہجے میں ہر سوال کا مختصر سا جواب دیتا ہوا. لیکن جب یہ کم گو گلوکارہ سُر چھیڑتی تو یوں لگتا جیسے کوئی لوری گنگنا رہا ہے اور گویا زمانے کی گردشیں کسی پر سکوں ندی کی لہروں میں ہلکے ہلکے ہچکولے لینے لگیں ہیں. شاید ہی کوئی زی روح ہو جس نے نیرہ نور کو سنا ہو اور اس کو پسند نہ کرتا ہو اور اس کے ساتھ ساتھ اس کا احترام نہ کرتا ہو. میں نے ہمیشہ لوگوں کو نیرہ نور کی سادگی کو سراھتے ہوئے دیکھا ہے. آج تک نہیں سنا کہ کسی نے کہا ہو کہ نیرہ نور بناؤسنگھار کیوں نہیں کرتی؟ نیرہ نور در حقیقت 'نہیں محتاج زیور کا جسے خوبی خدا نے دی' کی تصویر تھی.
اور اس کی خوبیوں میں سادگی اور درویشی کے بعد ان کی آواز تھی جو بہت شوخ بھی ہوتی تھی تو ایک پر سکون بہتی ندی کے شور سے زیادہ نہیں ہوتی تھی. میں سوچتا ہوں کہ اگر وہ 'کبھی ہم بھی خوبصورت تھے' کے بعد کچھ نہ بھی گاتی تو بھی لوگ ان کو ہمیشہ یاد رکھتے. لیکن اس نے ایک اور غزل بھی گنگنا ڈالی:
اے جذبہ دل گر میں چاہوں
جو ان کی پہچان بن گئی. اسی غزل کی بنا پر اس نے کئی ایوارڈ حاصل کئے (وکی پیڈیا). اگر وہ یہاں رک جاتی تو بھی یہ کلام اس کو موسیقی میں زندہ رکھنے کے لئے کافی تھا. لیکن اس نے شاید ٹھان رکھی تھی کہ اسی طرح خاموشی سے غزل کی گائیکی میں اپنا ایسا رنگ جمانا ہے جو سب سے منفرد ہو. اور اس نے رنگ جمایا لیکن اپنی مخصوص خاموشی اور دھیمے پن سے، اور غزلوں کی ایک لائن لگا دی:
وہ جو ہم میں تم میں قرار تھا تمہیں یاد ہو کہ نہ یاد ہو
پھر ساون رت کی پون چلی تم یاد آئے
کہاں ہو تم چلے آو محبت کا تقاضا ہے
اے عشق ہمیں برباد نہ کر
جلے تو جلاو گوری، پیت کا الاو
ہر چند سہارا ہے تیرے پیار کا دل کو
پھر انہوں نے فیض کو گانا شروع کیا، اور فیض کو کس کس نے نہیں گایا تھا ....ملکہ ترنم نور جہاں نے، اقبال بانونے، ٹینا ثانی نے. لیکن نیرہ نور نے جو جو غزل گائی وہ بس انہی کے رنگ میں رنگ گئی. فیض کا سمندری طوفانوں جیسا انقلابی لہجہ نیرہ نور کی آواز میں ڈھل کے کسی گہرے دریا کی طرح مدھم مدھم بہنے لگتا.
آج بازار میں پا بجولاں چلو
مرے قاتل مرے دلدار مرے پاس رہو
ہم کہ ٹھہرے اجنبی اتنی مداراتوں کے بعد
آئیے عرض گزاریں کہ نگار ہستی
رات یوں دل میں تیری کھوئی ہوئی یاد آئی
لاو اپنے حسن کی ناؤ، لیلی اترے پار
مجھے ان میں سب سے زیادہ خوبصورت "مرے قاتل مرے دلدار مرے پاس رہو' لگتی ہے.
بقیہ
آگئے یہ منحوس شکل والے قوم سے ایک اور فراڈ کرنے کے لئے کیونکہ اب قوم چھتر مارتی تھی تو اب روز ٹیکا لگے گا صبح ایک ریٹ ہو گا شام کو دوسرا اور اعلان بھی نہی ہو گا تو عوام انکو بھول جائے گی
بجلی کے بلوں پر بھی یہی فراڈ کیا کہ بل پر ٹیکس لکھنا چھوڑ دیا
لعنتی
اگر قوم نے ڈیزل کے چھترول بند نہ کی تو GHQ کے آگے دھرنا دینگے،
عبدالغفور حیدری ...
ٹھیک ہے لیے آئیں اپنے زیبرے اپنا شوق پورا کر لیں
اس سے پہلے ایک نشئی نے بھی یہ حرکت کی تھی
رزلٹ آپکے سامنے ہیں،،
زندگی میں نشیب و فراز آتے ہی رہتے ہیں. کبھی مشکلات کبھی آسانیاں ،کبھی مالی تنگی، کبھی رزق کی فراوانی. اگر کبھی مالی تنگی آ ہی جائے تو ہمیں کیا سوچ رکھنی چاہئے؟ سنئے سرفراز احمد شاہ کا یہ چھوٹا سا کلپ. بہت اچھا بولتے ہیں، ماشاء اللّہ ! ❤️
اللہ نے دوبارہ سانس عطا کر دی!
ضلع صوابی سے تعلق رکھنے والے ریسکیو 1122 کے میڈیکل ٹیکنیشن کامران خان اپنے گاؤں جا رہے تھے کہ راستے میں نہر کے کنارے ایک دردناک منظر دیکھا۔ تین سالہ معصوم بچہ نہر میں ڈوب چکا تھا اور اہلِ خانہ اسے مردہ سمجھ کر غم سے نڈھال تھے۔
اسی لمحے کامران نے اپنی پیشہ ورانہ ذمہ داری نبھاتے ہوئے بچے کو سی پی آر دینا شروع کر دی اور چند لمحوں کے بعد بچے کی سانس بحال ہو گئی
اللہ نے دوبارہ سانس عطا کر دی!
ضلع صوابی سے تعلق رکھنے والے ریسکیو 1122 کے میڈیکل ٹیکنیشن کامران خان اپنے گاؤں جا رہے تھے کہ راستے میں نہر کے کنارے ایک دردناک منظر دیکھا۔ تین سالہ معصوم بچہ نہر میں ڈوب چکا تھا اور اہلِ خانہ اسے مردہ سمجھ کر غم سے نڈھال تھے۔
اسی لمحے کامران نے اپنی پیشہ ورانہ ذمہ داری نبھاتے ہوئے بچے کو سی پی آر دینا شروع کر دی اور چند لمحوں کے بعد بچے کی سانس بحال ہو گئی
جمیل الدین عالی اخبار جنگ میں ایک مقبول کالم لکھا کرتے تھے
" نقار خانے میں"
ایک مرتبہ اس کالم میں انہوں نے ابن انشاء کے متعلق
ایک واقع تحریر کیا۔۔۔۔۔
" انشاء جی کے آخری ایام میں کینسر کے مرض کے علاج کے سلسلے میں ان کے ساتھ راولپنڈی کے CMH میں گیا تو انہیں وہاں داخل کر لیا اور ٹیسٹوں کے بعد ہمیں بتایا کہ کینسر پھیل گیا ہے اور اب تھوڑے دن کی بات رہ گئی ہے کیوں کہ علاج کافی وقت سے چل رہا تھا ہم کئی بار یہاں آ چکے تھے
شام کے وقت ہم دونوں ہسپتال کے اپنے کمرے میں باتیں کر رہے تھے کہ کمرے کے دروازے پر دستک ہوئی میں نے دروازہ کھولا تو میرے سامنے ایک بہت ہی حسین وخوبصورت خاتون ہاتھوں میں پھولوں کا گلدستہ لئے کھڑی مُسکرا رہی تھیں، کہنے انشاء جی سے ملنا ہے، میں انہیں کمرے میں لے آیا
محترمہ نے گلدستہ انشاء جی کے ہاتھ میں دیا اور رونا شروع کر دیا اور کہا کہ انشاء جی میں آپ کی فین ہوں اور آپ میرے آئیڈیل ہیں مجھے پتہ چلا ہے کہ آپ کا کینسر پھیل گیا ہے اور آخری اسٹیج پر ہے
میں اللّٰہ سے دُعا کرتی ہوں کہ وہ میری زندگی کے پانچ سال آپ کو دے دے
میں آپ سے بہت محبت کرتی ہوں میں اپنی ساری زندگی آپ کو دے دیتی لیکن میری مجبوری یہ ہے کہ میرے چھوٹے چھوٹے دو بچے ہیں جن کو مجھے پالنا ہے میں پھر بھی سچے دل سے پانچ سال آپ کو دے رہی ہوں
انشاء جی اُس کی اس بات پر زور سے ہنسے اور کہا، ارے ایسی کوئی بات نہیں ہے میں ٹھیک ہوں
خاتون تقریباً ایک گھنٹہ بیٹھنے کے بعد چلی گئی
تھوڑی دیر بعد انشاء جی رونے لگے اور کہا کہ دیکھو جمیل الدین یہ میری فین ہے اور دو بچوں کی ماں بھی ہے اور مجھے اپنی زندگی کے پانچ سال دینا چاہتی ہے اس کو کیا پتہ کہ ایک دن بھی کتنا قیمتی ہوتا ہے میرا تو وقت آ گیا ہے اللّٰہ اسے اپنے بچوں میں خوش وخرم رکھے
میں خود اتنا افسردہ تھا کہ کچھ نہ کہہ سکا. اُس رات انشاء کے ساتھ ہسپتال میں رہا اور اگلے روز میں نے دو دن کی اجازت لی کہ میں اپنے عزیزوں سے مل آؤں جو کہ پنڈی میں رہتے تھے
میں دو روز بعد واپس آیا تو انشاء نے مجھے اپنی تازہ نظم
اب عمر کی نقدی ختم ہوئی، اب ہم کو ادھار کی حاجت ہے
رو رو کر سنائی جس میں اُس خاتون کے پانچ سالوں کا ذکر بھی کیا"
اب عمر کی نقدی ختم ہوئی
اب ہم کو ا دھار کی حاجت ہے
ہے کوئی جو ساہو کار بنے
ہے کوئی جو دیون ہار بنے
کچھ سال ،مہینے، دن لوگو
پر سود بیاج کے بن لوگو
ہاں اپنی جا ں کے خزانے سے
ہاں عمر کے توشہ خانے سے
کیا کوئی بھی ساہو کار نہیں؟
کیا کوئی بھی دیون ہار نہیں؟
جب نام ادھار کا آیا ہے
کیوں سب نے سر کو جھکایا ہے
کچھ کام ہمیں نپٹانے ہیں
جنہیں جاننے والے جانے ہیں
کچھ پیار دلار کے دھندے ہیں
کچھ جگ کے دوسرے پھندے ہیں
ہم مانگتے نہیں ہزا ر برس
دس پانچ برس دو چار برس
ہاں ،سود بیا ج بھی دے لیں گے
ہاں اور خرا ج بھی دے لیں گے
آسان بنے، دشوار بنے
پر کوئی تو دیون ہار بنے
تم کون ہو تمہارا نام کیا ہے
کچھ ہم سے تم کو کام کیا ہے
کیوں ا س مجمع میں آئی ہو
کچھ مانگتی ہو ؟ کچھ لاتی ہو
یہ کاروبار کی باتیں ہیں
یہ نقد ادھار کی باتیں ہیں
ہم بیٹھے ہیں کشکول لیے
سب عمر کی نقدی ختم کیے
گر شعر کے رشتے آئی ہو
تب سمجھو جلد جدائی ہو
اب گیت گیا سنگیت گیا
ہاں شعر کا موسم بیت گیا
اب پت جھڑ آئی پات گریں
کچھ صبح گریں، کچھ را ت گریں
یہ اپنے یار پرانے ہیں
اک عمر سے ہم کو جانے ہیں
ان سب کے پاس ہے مال بہت
ہاں عمر کے ماہ و سال بہت
ان سب کو ہم نے بلایا ہے
اور جھولی کو پھیلایا ہے
تم جاؤ ا ن سے بات کریں
ہم تم سے نا ملاقات کریں
کیا پانچ برس ؟
کیا عمر ا پنی کے پانچ برس ؟
تم جا ن کی تھیلی لائی ہو ؟
کیا پاگل ہو ؟ سو دائی ہو ؟
جب عمر کا آ خر آتا ہے
ہر دن صدیاں بن جاتا ہے
جینے کی ہوس نرالی ہے
ہے کون جو ا س سے خالی ہے
کسی اور خراج کا لالچ ہے ؟
تم سوہنی ہو ، من موہنی ہو ؛
تم جا کر پوری عمر جیو
یہ پانچ برس، یہ چار برس
چھن جائیں تو لگیں ہزار برس
سب دوست گئے سب یار گئے
تھے جتنے ساہو کار ، گئے
بس ایک یہ ناری بیٹھی ہے
یہ کون ہے ؟ کیا ہے ؟ کیسی ہے ؟
ہاں عمر ہمیں درکار بھی ہے ؟
ہاں جینے سے ہمیں پیار بھی ہے
جب مانگیں جیون کی گھڑیاں
گستاخ اکھیں کتھے جا لڑیاں
ہم قرض تمہیں لوٹا دیں گے
کچھ اور بھی گھڑیاں لا دیں گے
جو ساعت و ماہ و سال نہیں
وہ گھڑیاں جن کو زوال نہیں
لو ا پنے جی میں اتار لیا
لو ہم نے تم سے ادھار لیا…!!!
ابن انشاء
جمیل الدین عالی اخبار جنگ میں ایک مقبول کالم لکھا کرتے تھے
" نقار خانے میں"
ایک مرتبہ اس کالم میں انہوں نے ابن انشاء کے متعلق
ایک واقع تحریر کیا۔۔۔۔۔
" انشاء جی کے آخری ایام میں کینسر کے مرض کے علاج کے سلسلے میں ان کے ساتھ راولپنڈی کے CMH میں گیا تو انہیں وہاں داخل کر لیا اور ٹیسٹوں کے بعد ہمیں بتایا کہ کینسر پھیل گیا ہے اور اب تھوڑے دن کی بات رہ گئی ہے کیوں کہ علاج کافی وقت سے چل رہا تھا ہم کئی بار یہاں آ چکے تھے
شام کے وقت ہم دونوں ہسپتال کے اپنے کمرے میں باتیں کر رہے تھے کہ کمرے کے دروازے پر دستک ہوئی میں نے دروازہ کھولا تو میرے سامنے ایک بہت ہی حسین وخوبصورت خاتون ہاتھوں میں پھولوں کا گلدستہ لئے کھڑی مُسکرا رہی تھیں، کہنے انشاء جی سے ملنا ہے، میں انہیں کمرے میں لے آیا
محترمہ نے گلدستہ انشاء جی کے ہاتھ میں دیا اور رونا شروع کر دیا اور کہا کہ انشاء جی میں آپ کی فین ہوں اور آپ میرے آئیڈیل ہیں مجھے پتہ چلا ہے کہ آپ کا کینسر پھیل گیا ہے اور آخری اسٹیج پر ہے
میں اللّٰہ سے دُعا کرتی ہوں کہ وہ میری زندگی کے پانچ سال آپ کو دے دے
میں آپ سے بہت محبت کرتی ہوں میں اپنی ساری زندگی آپ کو دے دیتی لیکن میری مجبوری یہ ہے کہ میرے چھوٹے چھوٹے دو بچے ہیں جن کو مجھے پالنا ہے میں پھر بھی سچے دل سے پانچ سال آپ کو دے رہی ہوں
انشاء جی اُس کی اس بات پر زور سے ہنسے اور کہا، ارے ایسی کوئی بات نہیں ہے میں ٹھیک ہوں
خاتون تقریباً ایک گھنٹہ بیٹھنے کے بعد چلی گئی
تھوڑی دیر بعد انشاء جی رونے لگے اور کہا کہ دیکھو جمیل الدین یہ میری فین ہے اور دو بچوں کی ماں بھی ہے اور مجھے اپنی زندگی کے پانچ سال دینا چاہتی ہے اس کو کیا پتہ کہ ایک دن بھی کتنا قیمتی ہوتا ہے میرا تو وقت آ گیا ہے اللّٰہ اسے اپنے بچوں میں خوش وخرم رکھے
میں خود اتنا افسردہ تھا کہ کچھ نہ کہہ سکا. اُس رات انشاء کے ساتھ ہسپتال میں رہا اور اگلے روز میں نے دو دن کی اجازت لی کہ میں اپنے عزیزوں سے مل آؤں جو کہ پنڈی میں رہتے تھے
میں دو روز بعد واپس آیا تو انشاء نے مجھے اپنی تازہ نظم
اب عمر کی نقدی ختم ہوئی، اب ہم کو ادھار کی حاجت ہے
رو رو کر سنائی جس میں اُس خاتون کے پانچ سالوں کا ذکر بھی کیا"
اب عمر کی نقدی ختم ہوئی
اب ہم کو ا دھار کی حاجت ہے
ہے کوئی جو ساہو کار بنے
ہے کوئی جو دیون ہار بنے
کچھ سال ،مہینے، دن لوگو
پر سود بیاج کے بن لوگو
ہاں اپنی جا ں کے خزانے سے
ہاں عمر کے توشہ خانے سے
کیا کوئی بھی ساہو کار نہیں؟
کیا کوئی بھی دیون ہار نہیں؟
جب نام ادھار کا آیا ہے
کیوں سب نے سر کو جھکایا ہے
کچھ کام ہمیں نپٹانے ہیں
جنہیں جاننے والے جانے ہیں
کچھ پیار دلار کے دھندے ہیں
کچھ جگ کے دوسرے پھندے ہیں
ہم مانگتے نہیں ہزا ر برس
دس پانچ برس دو چار برس
ہاں ،سود بیا ج بھی دے لیں گے
ہاں اور خرا ج بھی دے لیں گے
آسان بنے، دشوار بنے
پر کوئی تو دیون ہار بنے
تم کون ہو تمہارا نام کیا ہے
کچھ ہم سے تم کو کام کیا ہے
کیوں ا س مجمع میں آئی ہو
کچھ مانگتی ہو ؟ کچھ لاتی ہو
یہ کاروبار کی باتیں ہیں
یہ نقد ادھار کی باتیں ہیں
ہم بیٹھے ہیں کشکول لیے
سب عمر کی نقدی ختم کیے
گر شعر کے رشتے آئی ہو
تب سمجھو جلد جدائی ہو
اب گیت گیا سنگیت گیا
ہاں شعر کا موسم بیت گیا
اب پت جھڑ آئی پات گریں
کچھ صبح گریں، کچھ را ت گریں
یہ اپنے یار پرانے ہیں
اک عمر سے ہم کو جانے ہیں
ان سب کے پاس ہے مال بہت
ہاں عمر کے ماہ و سال بہت
ان سب کو ہم نے بلایا ہے
اور جھولی کو پھیلایا ہے
تم جاؤ ا ن سے بات کریں
ہم تم سے نا ملاقات کریں
کیا پانچ برس ؟
کیا عمر ا پنی کے پانچ برس ؟
تم جا ن کی تھیلی لائی ہو ؟
کیا پاگل ہو ؟ سو دائی ہو ؟
جب عمر کا آ خر آتا ہے
ہر دن صدیاں بن جاتا ہے
جینے کی ہوس نرالی ہے
ہے کون جو ا س سے خالی ہے
کسی اور خراج کا لالچ ہے ؟
تم سوہنی ہو ، من موہنی ہو ؛
تم جا کر پوری عمر جیو
یہ پانچ برس، یہ چار برس
چھن جائیں تو لگیں ہزار برس
سب دوست گئے سب یار گئے
تھے جتنے ساہو کار ، گئے
بس ایک یہ ناری بیٹھی ہے
یہ کون ہے ؟ کیا ہے ؟ کیسی ہے ؟
ہاں عمر ہمیں درکار بھی ہے ؟
ہاں جینے سے ہمیں پیار بھی ہے
جب مانگیں جیون کی گھڑیاں
گستاخ اکھیں کتھے جا لڑیاں
ہم قرض تمہیں لوٹا دیں گے
کچھ اور بھی گھڑیاں لا دیں گے
جو ساعت و ماہ و سال نہیں
وہ گھڑیاں جن کو زوال نہیں
لو ا پنے جی میں اتار لیا
لو ہم نے تم سے ادھار لیا…!!!
ابن انشاء
سیدی رسول اللہﷺ کی پاک فوج اور آج کے عبداللہ بن ابیئ..
اللہ کے فضل سے اج کی اذان وقت کے منافقین کے خلاف شدید ترین جنگ ہے۔۔
جو پاک فوج پر حملے کرتا ہے وہ وقت کا بدترین منافق کافر اور مرتد ہے ۔۔
ہم اس کو معاف نہیں کریں گے۔ اور اللہ مزید دردناک عذاب دے گا۔