بیشک اللہ اس بات سے نہیں شرماتا کہ وہ (کسی بات کو واضح کرنے کے لئے) کوئی بھی مثال دے، چاہے وہ مچھر (جیسی معمولی چیز) کی ہو، یا کسی ایسی چیز کی جو مچھر سے بھی زیادہ (معمولی) ہو، اب جو لوگ مؤمن ہیں وہ خوب جانتے ہیں کہ یہ مثال ایک حق بات ہے جو ان کے پروردگار کی طرف سے آئی ہے۔ البتہ جو لوگ کافر ہیں، وہ یہی کہتے ہیں کہ بھلا اس (حقیر) مثال سے اللہ کا کیا مطلب ہے؟ (اس طرح) اللہ اس مثال سے بہت سے لوگوں کو گمراہی میں مبتلا کرتا ہے، اور بہت سوں کو ہدایت دیتا ہے۔ (مگر) وہ گمراہ انہی کو کرتا ہے جو نافرمان ہیں۔
﴿سورۃ البقرۃ،۲۶﴾
ایک دن آنحضرت ﷺ لوگوں میں تشریف فرما تھے کہ آپ ﷺکے پاس ایک شخص آیا اور پوچھنے لگا کہ ایمان کسے کہتے ہیں ۔ آپ ﷺ نے فرمایا کہ ایمان یہ ہے کہ تم اللہ پاک کے وجود اور اس کی وحدانیت پر ایمان لاؤ اور اس کے فرشتوں کے وجود پر اور اس ( اللہ ) کی ملاقات کے برحق ہونے پر اور اس کے رسولوں کے برحق ہونے پر اور مرنے کے بعد دوبارہ اٹھنے پر ایمان لاؤ ۔ پھر اس نے پوچھا کہ اسلام کیا ہے ؟ آپ ﷺ نے پھر جواب دیا کہ اسلام یہ ہے کہ تم خالص اللہ کی عبادت کرو اور اس کے ساتھ کسی کو شریک نہ بناؤ اور نماز قائم کرو ۔ اور زکوٰۃ فرض ادا کرو ۔ اور رمضان کے روزے رکھو ۔ پھر اس نے احسان کے متعلق پوچھا ۔ آپ ﷺ نے فرمایا احسان یہ کہ تم اللہ کی عبادت اس طرح کرو گویا تم اسے دیکھ رہے ہو اگر یہ درجہ نہ حاصل ہو تو پھر یہ تو سمجھو کہ وہ تم کو دیکھ رہا ہے ۔ پھر اس نے پوچھا کہ قیامت کب آئے گی ۔ آپ ﷺ نے فرمایا کہ اس کے بارے میں جواب دینے والا پوچھنے والے سے کچھ زیادہ نہیں جانتا ( البتہ ) میں تمہیں اس کی نشانیاں بتلا سکتا ہوں ۔ وہ یہ ہیں کہ جب لونڈی اپنے آقا کو جنے گی اور جب سیاہ اونٹوں کے چرانے والے ( دیہاتی لوگ ترقی کرتے کرتے ) مکانات کی تعمیر میں ایک دوسرے سے بازی لے جانے کی کوشش کریں گے ( یاد رکھو ) قیامت کا علم ان پانچ چیزوں میں ہے جن کو اللہ کے سوا کوئی نہیں جانتا ۔ پھر آپ ﷺ نے یہ آیت پڑھی کہ اللہ ہی کو قیامت کا علم ہے کہ وہ کب ہو گی ( آخر آیت تک ) پھر وہ پوچھنے والا پیٹھ پھیر کر جانے لگا ۔ آپ ﷺنے فرمایا کہ اسے واپس بلا کر لاؤ ۔ لوگ دوڑ پڑے مگر وہ کہیں نظر نہیں آیا ۔ آپ ﷺ نے فرمایا کہ وہ جبریل علیہ السلام تھے جو لوگوں کو ان کا دین سکھانے آئے تھے ۔
(صحیح بخاری، ۵۰)
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
اللہ نے تمہیں تین آفتوں سے بچا لیا ہے: ایک یہ کہ تمہارا نبی تم پر ایسی بدعا نہیں کرے گا کہ تم سب ہلاک ہو جاؤ، دوسری یہ کہ اہل باطل اہل حق پر غالب نہیں آئیں گے، تیسری یہ کہ تم سب گمراہی پر متفق نہیں ہو گے ۔
(سنن ابی داؤد، ۴۲۵۳)
رسول الله ﷺ نے فرمایا:
"کسی کے گناہ گار ہونے کے لئے یہی عمل کافی ہے کہ اپنے مملوک کے حق کو روک کر بیٹھ جائے."
(مملوک: جن کے نان و نفقہ، کفالت، اخراجات کا وہ ذمہ دار ہو. یعنی اپنے ان فرائض میں غفلت کرے).
مسلم 2312
(ابوداؤد 1692؛ مشکوٰۃ المصابيح 3346)
حضرت جابر ﷺ فرماتے ہیں کہ
رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا :
انسان کی سعادت مندی میں سے یہ بھی ہے کہ اس کی عمر زیادہ ہو ، اور اللہ تعالیٰ اس کو توبہ کی توفیق دے ۔
(المستدرک : 7602)
اے ایمان والو! اگر تم اللہ کے ساتھ تقویٰ کی رَوِش اختیار کروگے تووہ تمہیں (حق وباطل کی) تمیز عطاکردے گا، اور تمہاری بُرائیوں کاکفارہ کردے گا، اور تمہیں مغفرت سے نوازے گا، اور اللہ فضلِ عظیم کامالک ہے۔
﴿سورۃ الانفال، ۲۹﴾
رسول الله ﷺ نے فرمایا:
بے حیائی جس چیز میں بھی ہو، اسے بدنما کر دیتی ہے. اور حیاء جس چیز میں بھی ہو، اسے خوشنما کر دیتی ہے.
ماجہ 4185
(ترمذی 1974؛ مسند احمد 9225؛ مشکوٰۃ 4854)
رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:
اگر لوگ جان لیں جو ثواب نماز کے لیے جلدی آنے میں ہے تو ایک دوسرے سے آگے بڑھیں اور اگر عشاء اور صبح کی نماز کے ثواب کو جان لیں تو اس کے لیے ضرور آئیں خواہ سرین کے بل آنا پڑے اور اگر پہلی صف کے ثواب کو جان لیں تو اس کے لیے قرعہ اندازی کریں۔
(بخاری،۷۲۱)
ایک اعرابی نے جب پوچھا کہ قیامت کب آئے گی، تو رسول الله ﷺ نے فرمایا:
"جب امانت ضائع کی جائے تو قیامت کا انتظار کرو."
پوچھا: یا رسول الله! امانت کس طرح ضائع کی جائے گی؟ فرمایا: "جب معاملات نااہل لوگوں کے سپرد کر دیئے جائیں، تو قیامت کا انتظار کرو."
بخاری 6496، 59
(مشکوٰۃ 5439)
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
جھوٹا وہ نہیں ہے جو لوگوں میں باہم صلح کرانے کی کوشش کرے اور اس کے لیے کسی اچھی بات کی چغلی کھائے یا اسی سلسلہ کی اور کوئی اچھی بات کہہ دے۔
(صحیح بخاری، ۲۶۹۲)
رسول الله ﷺ نے فرمایا:
حیاء ایمان کا حصہ ہے اور ایمان جنت میں جانے کا باعث ہے. اور بے حیائی کا تعلق ظلم سے ہے اور ظلم جہنم میں جانے کا باعث ہے.
ترمذی 2009
(ماجہ 4184؛ المستدرک للحاكم 171؛ السلسلة الصحيحة 109؛ مشکوٰۃ 5077)
حضرت ابی بن کعب ؓ نے کہا، رسول الله ﷺ نے فرمایا:
اے ابو منذر! کتاب الله کی کون سی آیت تمہارے نزدیک سب سے با عظمت ہے؟ میں نے عرض کیا: "الله لا إله إلا هو الحي القيوم..."، تو آپ ﷺ نے میرے سینے کو تھپتھپایا اور فرمایا: اے ابو منذر! تمہیں یہ علم مبارک ہو.
مسلم 1885
(ابوداؤد 1460)
آپﷺنے فرمایا:
”مومن کے مومن پر چھ حقوق ہیں،
جب بیمار ہو تو اس کی بیمار پرسی کرے،
جب مرے تو اس کے جنازے میں شریک ہو،
جب دعوت کرے تو قبول کرے،
جب ملے تو اس سے سلام کرے،
جب اسے چھینک آئے تو اس کی چھینک کا جواب دے،
اس کے سامنے موجود رہے یا نہ رہے اس کا خیرخواہ ہو“۔
(ترمذی،۲۷۳۷)
رسول الله ﷺ نے فرمایا:
سن لو! بیشک دنیا ملعون ہے اور جو کچھ دنیا میں ہے وہ بھی ملعون ہے، سوائے:
(1) الله کے ذکر (یاد)، اور
(2) اُس چیز کے جس کو الله پسند کرتا ہے، اور
(3) عالم یا متعلّم (طالب علم) کے.
ترمذی 2322
(ماجہ 4112؛ السلسلة الصحيحة 2852؛ مشکوٰۃ 5176)
حدیث قدسی:
اے آدم کے بیٹے! میری عبادت کے لئے فارغ ہوجا، میں تیرے دل کو استغنا (بے نیازی) سے بھر دوں گا اور تیرا فقر (محتاجی) دور کردوں گا. اور اگر تو نے ایسا نہ کیا تو میں تیرے دل کو مصروفیت سے بھر دوں گا، اور تیرا فقر دور نہیں کروں گا.
ماجہ 4107
(ترمذی 2466؛ مشکوٰۃ 5172)
حضرت انس بن مالک ؓ بیان کرتے ہیں:
رسول الله ﷺ پیتے وقت تین سانس لیتے تھے، اور آپ ﷺ فرماتے تھے: "یہ (تین سانس لینا) زیادہ پیاس بجھاتا ہے، صحت بخش ہے اور زیادہ زود ہضم ہے."
مسلم 5287
(مسلم 5286؛ بخاری 5631؛ ترمذی 1884؛ ابوداؤد 3727؛ ماجہ 3416؛ مسند احمد 7474؛ مشکوٰۃ 4263)
لوگو! ایک مثال بیان کی جارہی ہے، اب اُسے کان لگاکر سنو! تم لوگ اللہ کو چھوڑکر جن جن کو دُعا کے لئے پکارتے ہو، وہ ایک مکھی بھی پیدا نہیں کرسکتے، چاہے اس کام کے لئے سب کے سب اِکٹھے ہوجائیں، اور اگر مکھی اُن سے کوئی چیز چھین کر لے جائے تو وہ اُس سے چھڑا بھی نہیں سکتے۔
﴿الحج، ۷۳﴾
I will say him KING only when he will become Match Winner for Pakistan.. these performances in leagues is for his own not for his country 🇵🇰... Babar Fans you are only destroying his career.
#BabarAzam𓃵
اور میں نے جنات اور اِنسانوں کو اس کے سوا کسی اور کام کے لئے پیدا نہیں کیا کہ وہ میری عبادت کریں۔ میں ان سے کسی قسم کا رِزق نہیں چاہتا، اور نہ یہ چاہتا ہوں کہ وہ مجھے کھلائیں۔ اللہ تو خود ہی رزّاق ہے، مستحکم قوت والا!
﴿سورۃ الذاریات، ۵۶-۵۸﴾