فوج 8 سے 10 سال بعد اپنے چیف سے بھی اکتا جاتی ہے اور چلتا کرتی ہے لیکن نواز شریف فوج کا ایسا لاڈلہ بیٹا ہے کہ 50 سال بعد بھی اس سے نہیں اکتائی اور آج بھی نواز شریف فوج کا ویسے ہی لاڈلہ بچہ ہے فوج کبھی بھی نواز شریف کو کھونا نہیں چاہتی نہ کچھ ایسا کرے گی کہ نواز شریف کو کھو دے!
اٹھا لیا گیا تو کئی ہفتوں یا مہینوں تک کوئی خیر خبر نہیں تھی۔ نا تو وکیل سے رابطہ کروایا گیا اور نا ہی اہلخانہ سے ۔ اس دوران سختیوں اور پابندیوں کا تو کوئی تصور بھی نہیں کرسکتا۔ کافی وقت کے بعد پہلی مرتبہ گھر فون کرنے کی اجازت ملی۔ بتایا گیا کہ دو تین منٹ کی اس فون کال کے دوران کسی قسم کی سیاسی گفتگو نہیں کرنی۔ مہینوں بعد ہیلو کی آواز نے زار و قطار رلا دیا۔
“ جنید بول رہا ہوں آپ ٹھیک ہیں ؟ میں بھی ٹھیک ہوں “
تیسرا سوال آپ کی جان نکال دے گا۔
“ عمران خان رہا ہوگیا ہے ؟”
سیاسی گفتگو نہ کرنے کی پابندی تھی۔ خلاف ورزی پر آپریٹر نے کال منقطع کردی۔ جنید جہانگیر کی زبان میں لکنت ہے اللہ نے وہ کسر دماغ میں پوری کردی ۔ دو تین دفعہ اس سے ملاقات ہوئی تھی ۔قدیمی ٹوئٹر والے سبھی لوگ اسے جانتے ہیں۔ پرانے دور کا سلیبرٹی۔ سلمان رضا فرنٹ سوشل میڈیا پر زیادہ متحرک نہیں رہا لیکن انتظامی امور میں ٹیم ورک میں سلمان رضا نے تحریک انصاف کے لیے بہت کام کیا۔
کئی لوگوں سے بات ہوئی۔ بہت لوگوں سے پوچھا۔ ان کیساتھ مسئلہ کیا ہوا۔ کچھ لوگوں نے بتایا کہ تحریک انصاف آفیشلز نے اپنی گردن چھڑانے کے لیے ان کا نام دیا اور یہ امارات میں دھر لیے گئے۔ کچھ لوگوں نے یہ بتایا کہ انکی کچھ پوسٹس اماراتی حکومت کے راڈار میں آئیں جو ان کے لیے یہ مسئلہ بن گیا۔ جتنے منہ اتنی کہانیاں ۔ کچھ کا خیال ہے کہ تحریک انصاف انکے لیے کچھ نہیں کررہی۔ کئی لوگوں نے بتایا کہ تحریک انصاف نے کافی سفارت کاروں ، سابق وفاقی وزراء اور بیک ڈور چینلز کی مدد سے انکی جان چھڑانے کی کوشش کی لیکن ہر جگہ سے انکار ہوا۔
سلمان رضا بال بچے دار ہے۔ انکی اہلیہ کی پوسٹس دکھائی دیتی رہتی ہیں۔ جنید کے خاندان والے بھی روتے پیٹتے ہیں۔ ابھی پچھلے دنوں معلوم ہوا کہ ان کو مختلف طرح کے طبی مسائل ہے۔ بغیر بے ہوش کیے سلمان رضا کی ایک سرجری بھی کی گئی۔ ان کی صحت بھی دن بدن گررہی ہے۔
اب شاید دو تین سال ہوچکے۔ کتنی ہی عیدیں ان دو خاندانوں کی سسکیوں میں گزری ہوں گی۔ بوڑھے ماں باپ دن میں کتنی ہی مرتبہ روتے ہوں گے۔ ان بوڑھے والدین کی بہنوں اور اہلیہ کی بچوں کی سسکیاں اور بددعائیں عرش ہلائیں گی ، ہم یہ سب بے غیرتیاں کرنے والوں کے لیے زمین ہلاتے رہیں گے۔ ایک دن جنید گھر فون کرے گا اور پوچھے گا “ اس کا کیا بنا” اسے بتائیں گے “ وہ آگیا ہے “ ہم سوشل میڈیا کی طاقت سے عمران خان سے جو پہلا کام لیں گے وہ جنید اور سلمان کی رہائی کا لیں گے۔
" سسٹم نہی ایک اڈہ ' ایک گندہ نالہ یا ایک کوٹھا "
(اس نظام کو سسٹم کہنا ہی غلط ہے کیوں کہ اس میں اڈوں والی بدمعاشی ' گندے نالے والا تعفن اور کوٹھے والا بازاری پن ہے )
احسن اقبال صاحب کچھ ہفتے پہلے کولمبس آیے تھے - اپنی تقریر میں تین دفعہ بولے کہ میں اسی جیل میں تھا جس میں عمران خان آج ہے - تب میں نے وہاں پوچھ لیا کہ "آپ کو بھی سات ماہ تک بہن بھائی سے نہی ملنے دیا جاتا تھا " جس پر ان کے پاس کوی جواب نہی تھا -
پھر میں نے سوال کیا کہ آپ اوورسیز سے خطاب کر رہے ہیں ' آپ نے ان کے ووٹ کا حق کیوں چھینا ؟
جواب ملا کہ یہ وہاں آکر ووٹ ڈالیں - یہاں سے انٹرنیٹ ہیک ہوسکتا ہے - (البتہ وہاں جو پیپرز پر ٹھپے لگتے ہیں وہ سب سے فول پروف سسٹم ہے )
پھر میں نے سوال کیا کہ ملک سے اتنا برین ڈرین ہورہا ہے ' آپ کے منسٹر اور فیلڈ مارشل اس کو "برین گین" کہتے ہیں - یہ سمجھادیں -
جواب ملا کہ "یہ ایک یونیورسل فنومینا ہے - پوری دنیا کا ہی برین ڈرین ہورہا ہے "
وہاں سوال ہوا کہ ہائبرڈ نظام کب تک چلے گا ' جواب ملا کہ "عمران خان نے فوج کو اتنا مظبوط کردیا ہے کہ ان کو سیاست سے نکالنے میں اب وقت لگے گا " (سو اسی لئے ہم نے ان کو اور طاقتور کرنے کیلئے فیلڈ مارشل اور پانچ سال کیلئے چیف آف ڈیفینس بنا ڈالا )-
یہ سوال جواب میں نے اس لئے لکھے کہ ان کی اس تقریر میں بھی آپ کو ایسا ہی "فلسفی " نظر آئیگا -دلچسپ بات یہ ہے کہ جو بات پہلے تحریک انصاف کے سپورٹرز اور پورا پاکستان کہتا تھا اب اس کی گواہی مسلم لیگ نواز اور پیپلز پارٹی خود دے رہی ہے - فارم 47 کا وزیر اعظم فارم 47 کا صدر ' اسی فارم 47 کی پارلیمینٹ اور اسی پارلیمنٹ کے ہاتھ سے ہونے والی 26 ویں اور 27 ویں آئینی ترامیم اور ان کے نتیجے میں بننے والا آج کا عدالتی نظام اور اور فیلڈ مارشل سمیت پانچ سال کی مدت والا چیف آف ڈیفینس فورسیز کا عہدہ ' سب ہی فارم 47 زدہ اور متنازع ہوجاتا ہے - اس وقت پوری قوم بس تماشہ دیکھ رہی ہے کہ کس طرح فرروی 2024 کے انتخابات میں ان کے مینڈیٹ پر ڈاکہ ڈالنے والے سر عام کس طرح اپنا اپنا جرم قبول کررہے ہیں اور پھر بھی نہ چہرے پر کوئی ندامت ہے نہ ماتھے پر کوئی پشیمانی - یہ ہے اصل سسٹم کا کولیپس ہونا -
یہ بھی بس پاکستان میں ہی ممکن ہے کہ عوام کے مینڈیٹ کی مل کر چوری کرو اور پھر سرعام اس چوری کو قبول کرکے ہنسوں ؛ اور قہقہے اور تالیاں بجاؤ -' آپ کو کوئی پوچھنے والا ' کوئی سوال کرنے والا نہی - یہ ہے اصل سسٹم کا کولیپس کرنا - کہ آپ کو جوابدہی کا خوف ہی نہ رہے - سسٹم اتنا کھوکھلا اور کرپٹ ہو کہ وہ اپنے منہ سے اپنے جرائم قبول کرنے والوں کو بھی پروسیکیوٹ نہ کرسکے - سٹسم اتنا کمزور ہو کہ وہ سائکل کی چوری پر ایک سال سزا سنا دے پر کروڑوں لوگوں کے ووٹ کی چوری پر آپ کو وزیر اعظم اور صدر بنادے اور جب وہ اپنے اپنے منہ سے اپنا گناہ تسلیم بھی کریں تب ان کیلئے پنڈال سجاے اور تالیاں بجاے-
اچھے خاصے چلتے سسٹم کو تباہ کرکے جو ایک غیر فطری سسٹم بنایا آج خود مان رہے ہیں کہ "سسٹم نہی چل رہا ' اور اب مزید تجربوں کی بات کر رہے ہیں "
یہی بات جب سڑکوں پر عوام کرتے تھے تو یہ ان پر گولیاں چلاتے تھے -
بھائی ! سسٹم پر مزید بات کرنے سے پہلے ان کو تو سزا ادیں جو یہ سسٹم لے کر آیے تھے کیوں اگر اگلے سسٹم کے موجد بھی ووہی اناڑی ' self proclaimed انجنئیر ہیں تو وہ بھی کیا خاک چلے گا - جنہوں نے پہلا سسٹم برباد کیا پہلے ان کو تو ایک ایک طمانچہ رسید ہو ' پھر اگلے سسٹم کی بات ہو -
سسٹم ؟ کیا ہے یہ سسٹم ؟
کسی ارشد شریف کا قتل ہو تو اسی دن سب کو قاتلوں کا پتا ہو پر ساتھ میں یہ بھی یقین ہو کہ ان کو سزا نہی ملے گی - یہ ہے سسٹم ؟
الیکشن سے تین ہفتے پہلے سب سے بڑی جماعت کا انتخابی نشان چھین لیا جائے ' اور یہ بھی معلوم ہو کہ یہ ووٹر کے حق پر حملہ ہے ' یہ ہے سسٹم ؟
پھر بھی جب انتخابات میں منہ کی کھانی پڑے تو 2 + 2 کو 22 لکھ دیا جائے ' الیکشن کمیشن کی ویب سائٹ کو کسی سرکاری سکول کا حاضری والا رجسٹر بنا کر وہاں کاٹے مآٹے مار کر نمبرز پورے کیے جائیں ' یہ ہے سسٹم ؟
جو سب سے زیادہ ووٹ جیتے اس کو 33 سال کی قید سنادو ' جیل میں اس کے خاندان کا ملنا اس سے بند کردو ؛ اس کی بینائی ضایع ہونے لگے تو اپنی آنکھیں بند کرلو - اس کو وہ بنیادی حقوق بھی نہ دو جو ایک عام قیدی کا بھی حق ہوتا ہے ' یہ والا سسٹم ؟
جو صحافی آواز اٹھاے اس کو اٹھا لو - ملک بدر کردو - جیل میں ڈال دو - چینل سے نکال دو - یہ والا سسٹم ؟
جو جج اپنے کمروں میں کیمرے لگانے کے خلاف خط لکھے ' جو الیکشن ٹریبونل میں فارم 47 کو ویریفائی کرنے کیلئے وہاں کے فارم 45 بھی منگوالے ' اسکی ڈگری کو 35 سال بعد جعلی ثابت کردو ' اس کا چھوٹی عدالتوں میں ٹرانسفر کروادو ' اور کسی دوسری کورٹ سے 15 ویں رینک کے جج کو بلا کر اسکوان کے اوپر چیف جسٹس لگا دو ' عدالتوں کو جرگہ بنا دو ' یہ والا سسٹم ؟
جنہوں نے اس غیرعوامی حکومت کو یہ سسٹم بنا کر دیا' ان کے عہدوں کو ایکسٹنشن دو ' ان کو فیلڈ مارشل اور چیف آف ڈیفینس بناؤ ' اور اپنے اس "symbiosis " اور اس بند بانٹ کو جب کوئی اور نام نہ ملے تو "ہائبرڈ " نظام کا نام دے کر کوئی بلغم کو مقیت شہد کہنے کی کوشش کرو ' یہ والا سسٹم ؟
سینیٹ اور کابینہ میں اپنے بندے بغیر الیکشن کے لاؤ ' ان کو ڈائریکٹ سینیٹر اور وزیر داخلہ لگاو اور پھر تین سال بعد اسی سے کہلواؤ کہ "سٹسم کولیپس کر گیا ہے " یہ والا سسٹم ؟
میری نظر میں اس نظام کو "سسٹم " کہنا ہی غلط ہے - سسٹم میں اصول ہوتا ہے ' نظم و ضبط ہوتا ہے ' دو جمع دو چار ہوتا ہے ' اس میں پروڈکشن ہوتی ہے - اس میں جواب طلبی ہوتی ہے ' اس میں مواخذہ ہوتا ہے - اس نظام کو سسٹم نہی "اڈہ" ' گندہ نالہ " یا "کوٹھا " کہنا زیادہ مناسب ہے کیوں اس میں "اڈوں " والی بدمعاشی ہے ' "گندے نالے " والا تعفن ہے اور "کوٹھے " والا بازاری اور کنجرپن ہے جس کی گواہی اب یہ سسٹم اور اس کے بینیفشری اپنی زبان سے خود دے رہے ہیں -
قلم کی جسارت وقاص نواز
-------------------------------------------------------
@MoeedNj@ImranRiazKhan@javerias@soulful7867
دھوکے میں مت آئیں! 🚨
وزیر داخلہ اور ن لیگ کے وزراء کی باہمی نوک جھونک ایک سستا ڈرامہ ہے تاکہ 5 اگست کے پشاور جلسے سے عوام کا دھیان ہٹایا جا سکے۔
حکمران خوفزدہ ہیں! تمام ورکرز اور قوم ان کی اس چال کو سمجھیں اور اپنی تمام تر توجہ پشاور جلسے کو کامیاب بنانے پر رکھیں۔ ہمارا اتحاد ہی ان کا سب سے بڑا خوف ہے!
"ایک اور پریس کانفرنس "
آج پھر ایک پریس کانفرنس ہوئی - بس تاریخ نئی تھی - دن نیا تھا - باقی ووہی سپیکر ' ووہی کسٹمائزڈ صحافی اور ووہی کاپی پیسٹ سوال - ووہی چورن - ووہی چٹنی
ووہی حسن ایوب کی چابی اور اس کے منہ سے سوال کروا کر مولانا فضل ارحمن کو جواب - جواب بھی کیا ' ووہی شہیدوں کے سر پر جرنیلوں کی سیاست - سپاہیوں اور لانس نایکوں کے خون پر سیاست میں مداخلت کا جواز --
مجھے ایک بات سمجھ نہی آتی ؟ جب یہ پریس کانفرنس کرتے ہویے اپنے ادارے کے کارنامے گنواتے ہویے سپاہیوں اور لانس نایکوں کی شہادت کا ذکر لازمی کرتے ہیں اور ان کی تعظیم میں وڈیوز دکھا کر کھڑے ہو کر سلامی بھی دیتے ہیں تو پھر اسی ادارے کے جرنیلوں کے کرتوتوں ' چار مارشل لاز ' چالیس سالہ آمریت ' ملک میں ایمرجنسی ' آئین شکنی' ایک وزیر اعظم کو پھانسی دینا ' کتنوں کو گھر بھجوانا جیسے قابل شرم کاموں پرندامت سے سر کیوں نہی جھکاتے؟
یہ بھی اچھا رواج پڑا ہے کہ شہیدوں کا نام لیتے لیتے سیاست پر قابض ہوجاؤ - ان کے لہو کا ذکر کر کر کے آئین کو لہو لہو کردو - اگر جونیئرز کا جان دینا سینئرز کو حکومتیں الٹانے کا جواز فراہم کردیتا ہے تو پھر کرونا میں تین سو ڈاکٹرز شہید ہویے تھے ' پنجاب کا سی ایم کسی ڈاکٹر کو بنادو - پولیس کے جوان روز شہید ہوتے ہیں ' کسی آئ جی کو وزیر اعظم لگادو - فائر بریگیڈ والے واپڈا والے اپنی ملازمت کرتے ہویے جان کی بازی ہارتے ہیں ' عدالتیں ان کے ماتحت کردو اور لیسکو کے چیف کو ہائبرڈ نظام کا حصہ بنا لو -
آخر کب تک ہم ان لوگوں کا نام اے ٹی ایم کی طرح استعمال کرتے رہیں گے جو اپنی زندگیوں میں میجر یا کیپٹن کے رینک سے آگے تک نہی جاپاتے اور شہید ہو کر بہت سے جرنیلوں اور لیفٹننٹ کرنیلوں کو سیاست جاری رکھنے کی لائف لائن فراہم کر جاتے ہیں - میرے نزدیک یہ ان شہیدوں کی سب سے بڑی بے حرمتی ہے کہ ان کے نام کو اپنے غیر آئینی کرتوت چھپانے کیلئے کوور کے طور پر استعمال کیا جائے -
آج کی پریس کانفرنس کا خلاصہ بس یہ تھا کہ سب درہم برہم کرکے جو ایک ہائبرڈ رجیم قایم کی تھی ' دو تین سال بعد اس کے بارے میں کہو کہ نظام نہی چل رہا ' کولیپس (collapse) کر گیا ہے -
حضور! کولیپس تو اسی دن کر گیا تھا جب عمران خان کی حکومت گرانے کیلئے پی ڈی ایم جیسا غیر فطری اتحاد بنوایا تھا - جب فروری 2024 کو عوام کے مینڈیٹ پر شب خون مارا تھا - جب چھبسویں اور ستائیسویں ترمیم کے ذریعے عدالتوں کو مسمار کرکے وہاں جرگے بٹھا دیے تھے - اب جب ریت مٹھی سے نکل رہی ہے تو گلہ کیسا ؟ جس عمارت کو خود ریزہ ریزہ کیا تھا اس کی مٹی کب تک مٹھی میں تھمی رہتی ؟
آپ چار کو چھوڑ کر چالیس صوبے بنالیں ' آپ کے مسائل کبھی حل نہیں ہونگے کیوں چار ہوں یا چالیس ' جب وہاں چیف منسٹر آپ نے اپنا ہی بٹھانا ہے ' وہاں آئ جی سے لے کر جج تک آپ کی مداخلت سے بندے لگنے ہیں تو تبدیلی خاک آنی ہے ؟ جب انجنئیر ہی اناڑی ہے تو وہ چار مشینیں بناے یا چالیس ' تکنیکی خرابی کا امکان کسی طرح کم نہی ہوگا - اس مشین کا انجنئیر بدلیں - اس کو عوام کے ہاتھ میں دیں جو اس کے حقیقی اور آئینی انجنئیر ہیں ورنہ آپ اسی گھن چکر میں گھومتے رہیں گے جہاں ایک سال پہلے کوئی محسن نقوی کہے گا کہ پورا نظام ایک بندے کی وجہ سے چل رہا ہے اور اگلے سال کہے گا کہ پورا نظام کولیپس کر گیا ہے -
قلم کی جسارت وقاص نواز
----------------------------------------------------
@MoeedNj@ImranRiazKhan@SabeeKazmi786@soulful7867@SdqJaan@siasatpk
With absolutely no respect for military apologist @anwaar_kakar, whose public role has long been, in my view, to defend whatever the generals decide. While Balochistan has witnessed decades of enforced disappearances, extrajudicial killings, and systematic repression, he has consistently chosen to justify the establishment instead of standing with the victims or demanding accountability.
@jeremycorbyn, you were absolutely right to raise concerns over the brutal killing of protesters in AJK who were demanding their democratic rights. This regime has turned propaganda into a governing strategy: brand protesters as “armed,” label dissent as a threat to the state, and then use those accusations to justify violence and repression.
We’ve seen the same script before, after 9 May 2023 and again following 26 November 2024. Manufacture a narrative, criminalise dissent, suppress scrutiny, and then expect the world to accept the official version without question. In my view, Kashmir is being subjected to the same playbook.
And don’t be impressed by the titles Anwaar Kakar carries. He never became Prime Minister or Senator through a direct public mandate. His political career is widely seen as a product of the establishment, not the ballot box.
Knowing your lifelong commitment to justice and human rights, I doubt you’ll be swayed by his talking points. But it is still important to publicly call out military propagandists and apologists instead of allowing disinformation and state narratives to go unchallenged.
مریم نواز اور دیگران کو بونگیاں مارنے کا حکم وہیں سے آیا جنہوں نے اسے حکومت بنا کر دی ہے اور جو عوامی ردعمل سے خوفزدہ ہوکر توجہ ہٹانا چاہتے ہیں۔ ان سے فاصلہ رکھیں۔
ہمیں امن عمران خان کے دور والا چاہیے
ہمیں گندم کا ریٹ اور ادائیگی عمران خان کے دور والی چاہیے
ہمیں صحت کی سہولیات عمران خان کے دور والی چاہییں
ہمیں گروتھ ریٹ عمران خان کے دور والا چاہیے
ہمیں ایکسپورٹس عمران خان کے دور والی چاہییں
ہمیں نیت اور اہلیت عمران خان کے دور والی چاہیے
ہمیں عمران خان چاہیے !
It is well documented that Asim Munir has said in various speeches that he wants to "hang and quarter" (exact phrase he has used) political opponents - a barbaric medieval punishment.
You can imagine the kind of barbaric mind you're dealing with.
آج اپنے آپ کو بہت بے بس محسوس کر رہا ہوں۔ کشمیر لہو لہان ہے۔ آج وہی فارمولا استعمال کیا گیا جو خیبر پختونخوا بلوچستان 26 نومبر اور تحریکِ لبیک کے خلاف استعمال کیا گیا تھا۔ آج اسی کے تحت راولاکوٹ میں بھی مظلوموں کو شہید کر دیا گیا۔ اس طرح تحریکیں روکی نہیں جا سکتیں۔ درندگی کی بس کرو۔