میر جعفر کی روح بھی قبر میں تڑپ رہی ہو گی کہ میں سراج الدولہ سے غداری پر بنگال میں اتنا بدنام نہیں ہوا تھا جتنا "عمران خان" نے مجھے پاکستان میں بدنام کر رکھا ہے
یاد رہے"میر جعفر سراج الدولہ کا
کمانڈر انچیف"تھا
#MarchAgainstImportedGovt#امپورٹڈ__حکومت__نامنظور
“Every Pakistani should study the Hamood ur Rahman Commission Report and get to know who was the true traitor, General Yahya Khan or Sheikh Mujibur Rahman.” - Founding Chairman PTI Imran Khan
#غدار_کون_تھا
@MuradSaeedPTI یوں نہ ہو کہ کل کو کلیساؤں کی دہلیزوں پر اپنی پہچان سے مُکرتے پائے جاؤ اور عین ممکن ہے کہ اُس پر بھی گلو خلاصی نہ ہوپائے کیونکہ جس خوف کی تم نے آبیاری کی، اُس خوف نے تابعداری نہیں نفرت جنی ہے اور نفرت کے بوٹوں پر کونپلیں صرف ایک طرز کی کھلتی ہیں بغاوت
#ناحق_قید_میں_قید_میرا_مرشد
#ہمارے_لیڈر_کو_رہا_کرو
ہر تعلق کی طرح ریاست اور اس کے شہریوں کا تعلق بھی اعتبار پر قائم ہوتا ہے۔ ریاست کاغذ کے ایک ٹکڑے پر اپنی مہر لگاتی ہے اور دہقان اپنے مہینوں کی محنت کاغذ کے ایسے چند ٹکڑوں کے عوض اپنی ریاست کے حوالے کردیتا ہے۔پھر دوسرا شہری اس اناج کو کاغذ کے ایسے ہی ٹکڑوں کے بدلے لیتا ہے، محنت لگا کر اُسے روٹی بنا کر مزید ٹکڑوں کے عوض آگے بیچ دیتا ہے۔ کاغذ کے یہ ٹکڑے صرف ان شہریوں کا گھر نہیں چلاتے وہ شہری اور ریاست کے مابین اعتبار کی علامت ہوتے ہیں۔ کروڑوں لوگ دن رات محنت کرتے ہیں جن کے عوض ریاست انہیں کاغذ کے یہ ٹکڑے فراہم کرتی ہے جنہیں فقط اس کی مہر معتبر بناتی ہی۔ اپنی یہ محنت کی کمائی پھر شہری ریاست کو لوٹاتا ہے ٹیکسوں کی صورت۔ بدلے میں ریاست سے بنیادی ڈیمانڈ صرف ایک ہوتی ہے۔ تحفظ؛ افلاس، آفات اور بدامنی سے۔ شہریوں سے اپنا یہ تعلق نبھاتے ہوئے، انہیں تحفظ فراہم کرنے کے لیے ریاست آئین بناتی ہے۔ جس کے تحت ادارے بنتے ہیں اور کچھ قوانین بنائے جاتے ہیں۔ شہریوں کا اپنی ریاست پر اعتبار انہیں ان قوانین کا پابند اور ریاست کا وفادار رکھتی ہے۔ اس لیے ٹریفک سگنل پر لوگ رُکتے ہیں اور خلاف ورزی کرنے والے کو چالان کیا جاتا ہے (نہ کہ وہیں کے وہیں دو جھانپڑ لگا کر سیدھا کیا جاتا ہے)۔ اپنے آپسی مسائل اپنے زورِ بازو پر حل کرنے کے بجائے عدالتوں میں لے جائے جاتے ہیں جہاں ایک انجان آدمی جج کی کرسی پر بیٹھ کر میاں بیوی کے مابین طلاق سے لے کر انہی کی اولاد کے نان نفقے، سگے بھائیوں کے درمیان جائیداد اور قبیلوں کے بیچھ قتل تک کے فیصلے کرتاہے۔ یہ عوام کا اپنی ریاست پر اعتبار ہوتا ہے کہ دونوں فریق ایک انجان آدمی کے فیصلے پر سرتسلیم خم کرتے ہیں۔ خوف نہیں، اعتبار۔ کیونکہ تابعداری ہمیشہ اعتبار کی مرہونِ منت ہوتی ہے۔ گذشتہ دو تین ہفتوں سے ہم پنجاب میں جیسے افسوسناک واقعات کی بازگشت سن رہے ہیں اور جو چند دن سے ہم کشمیر میں دیکھ رہے ہیں، وہ حالات اس بات کی غمازی کرتے ہیں کہ ریاست اور شہریوں کے مابین اعتبار معدوم ہورہا ہے۔ دو سال سے جو چلن ریاست نے اپنا رکھا تھا اُس کا یہی انجام تھا جس سے ہم خبردار کرتے آرہے ہیں۔ جس تعلق کا بنیادی تقاضہ ہی تحفظ ہو وہ خوف پر کیسے قائم رہ سکتا ہے؟ خوف ہمیشہ صرف نفرت کو جنم دیتا ہے اور نفرت بغاوت کو۔ عوام نے ایک حکومت منتخب کی, جو کہ آئین کے تحت عوام کا اپنی ریاست پر حق بنتا تھا۔مگر ریاستی ادارے عوام کے اعتبار کو ٹھیس پہنچاتے ہوئے اُس حکومت کے خلاف سازش میں آلہ کار بنے۔ پھر جن ریاستی اہلکاروں نے حلف لیا تھا اس عوام کو تحفظ فراہم کرنے کا وہ اپنی نوکریاں بچانے یا اپنے ذاتی فوائد کے لیے اُسی عوام کے خلاف جرائم کے مرتکب ہوئے۔ ہزاروں لوگوں کے گھر توڑے گئے۔ کاروبار بند کیے گئے۔ انہیں ناحق قید میں رکھا گیا۔ ان پر بہیمانہ تشدد کیا گیا۔ ہر ایک انسان کے ساتھ دسیوں لوگ جڑے ہوتے ہیں جن کی زندگیاں ان کی کامیابی، ناکامی، خوشی غمی سے متاثر ہوتی ہیں۔ جتنا خوف کا کاروبار بڑھتا گیا نفرت پھیلتی گئی۔ مگر وفاداری کا تقاضہ تحمل تھا سو قوم نے پھر بھی تحمل سے کام لیا اور دوبارہ اپنے حق کا استعمال کیا مگر پھر ننگی ڈھٹائی سے ان کی آنکھوں کے سامنے ان کا حق لوٹا گیا۔ جس ریاست کا کام تھا عوام کو افلاس، آفات اور بدامنی سے تحفظ فراہم کرنے کا وہ عوام کے لیے دہشت کا نشان بن گئی۔ بدامنی وافر۔ افلاس درودیوار سے ٹپک رہا اور آفت بن کر تو خود ریاست ہی ٹوٹ پڑی۔ اُس پہ ضد کے جو لکیر ہم نے کھینچ دی اس پر سر رکھو۔ جب تعلق کا بنیادی تقاضہ ہی تحفظ کا ہے تو وہ تعلق خوف پر کیسے قائم رہ سکتا ہے؟ اب نفرت بغاوت میں بدل رہی ہے تو چاہے آپ جتنی بھی گیدڑ بھبکیاں دے دیں حقیقت یہی ہے کہ ڈنڈے کے زور پر جانوروں کے ریوڑ چلتے ہیں (اور ironically وہ بھی اعتبار کی بنیاد پر ہی چلتے ہیں) قومیں نہیں۔ یہ جو ہم کہتے ہیں کہ عمران خان آپ کے اور عوام کے مابین آخری پردہ ہے تو اس کا مطلب یہ نہیں ہے کہ عمران خان نے کسی سحر سے انہیں جھکڑ رکھا ہے۔ عمران خان اس وقت ریاست اور عوام کے تعلق کی آخری کڑی ہے۔ وہ اس حق کی علامت ہے جو ریاست نے اس آئین کے تحت انہیں دیا جو آئین ان کے تحفظ کا بنیادی فرض نبھانے کے لیے تخلیق کیا گیا۔ اس اعتبار کی علامت جو ریاست اور عوام کے تعلق کی اساس ہے۔ ریاست کے کرتا دھرتا ہر شخص کی بقا اور سلامتی یہ حقیقت تسلیم کرنے میں ہے۔ وگرنہ پچھلے کچھ عرصے میں جتنے پاکستانی ریاست سے اپنے تعلق سے مایوس ہوکر دنیا کے دیگر ملکوں میں منتقل ہوگئے ہیں یقین مانیں کسی کو کہیں پناہ نہیں ملنی۔ یوں نہ ہو کہ کل کو کلیساؤں کی دہلیزوں پر اپنی پہچان سے مُکرتے پائے جاؤ اور عین ممکن ہے کہ اُس پر بھی گلو خلاصی نہ ہوپائے کیونکہ جس خوف کی تم نے آبیاری کی، اُس خوف نے تابعداری نہیں نفرت جنی ہے اور نفرت کے بوٹوں پر کونپلیں صرف ایک طرز کی کھلتی ہیں؛ بغاوت۔
#چوروں_کے_دو_سال
جب قومیں خود میں حق کا ساتھ دینے کی جرات نہ دیکھیں یا باطل کی چالوں کو اپنی تقدیر کا لکھا پڑھنے لگیں یا جب وہ تقسیم ہو کر اپنوں کے خلاف ہتھیار اٹھا لیں جیسے ۱۹۷۱ میں ہوا تو ایسے دن کو سیاہ دن کہتے ہیں۔ وہ روشن دن ہوتا ہے جب ہجوم قوم بنتی ہے۔ جب وہ ایک مقصد کے لیے، ایک پرچم تلے جمع ہوتی ہیں۔ عمران خان کا مشن کبھی بھی محض پاکستان کا ایک اور وزیر اعظم بننا نہیں تھا کہ ۹ اپریل سانحہ ہوتا، اُس کا مقصد تو اپنے لوگوں کو ایک قوم بنانا تھا۔ جو وہ ۹ اپریل ۲۰۲۲ کو بنی اور اُس کے بعد سے جیسے دو سال سے اُس کی قوم زمینی خداؤں سے اپنے حق کے لیے نبرد آزما ہے ایسا تو افسانوں میں ہوتا ہے؛ ایک دیو مالائی کردار کہ جو نصف شب کو خالی ہاتھ محل سے نکلا اور اُس کی قوم اُس کے پیچھے نکل آئی۔۔ کبھی اُس کی ڈھال بنی، تو کبھی اُس کا بازو۔۔ اُس کے ایک جنبش آبرو پر اپنی جانیں لٹانے کو تیار۔ اُس کے لفظوں کو اپنا رہ نما بنا کر منزلیں کھوجتی۔ سیاہ دن تو ۹ اپریل ان کے لیے ہے کہ جنہیں ۹ اپریل کی ہزیمت مٹانے کے لیے پہلے ۹ مئی کا ڈرامہ رچانا پڑا اور پھر ۹ فروری کو اپنے حجاب نوچ کر اپنی رہی سہی عزت سے ہاتھ گنوانا پڑا۔۔ تاریخ نے سیاہی تو اُن کے چہرے پر ملی ہے۔ روئیں گے تو وہ اِس دن کو کہ جب اُن کے تمام اندازوں، مکر اور سازشوں کے برخلاف گلیوں میں مٹھائیاں نہیں بٹیں۔ سڑکوں پر جشن نہیں احتجاج ہوا۔ سوال ہوا کہ اُن کے فیصلے کی توہین کیوں کی گئی؟ کہ اُن کی آزادی اور اُن کی خود مختاری کی قیمت کیا لگائی گئی؟ کیوں لگائی گئی؟ اور کون ہوتا ہے ایک سرکاری ملازم یہ فیصلہ کرنے والا کہ چوبیس کروڑ کے ملک پر حکومت کون کرے گا؟ کس نے اختیار دیا ایک ذیلی ادارے کو کہ وہ خود کو ریاست گردانے اور الاعلان خود کو ہر آئین و قانون سے مُبرا کردے؟ بتایا کہ ریاست عوام ہے۔ اور عوام کا والی ان کا منتخب کردہ وزیراعظم۔ نہ کوئی کوتاہ قامت بھکاری کہ جس کی نا آپ کوئی غیرت سے شناسائی ہو نہ اُسے قوم کی خوداری کا کوئی پاس۔ اور نہ اُس جیسے بونوں کا کینہ طوز سردار۔ عمران خان اور پاکستانی قوم تو ۹ اپریل کو سرخرو ہوئے ہیں، عمران خان اپنی قومی حمیت کو اقتدار پر مقدم رکھ کر، اور اُس کی قوم اپنی غیرت کے لیے ایک بے لگام طاقت کے سامنے سینہ سپر ہوکر اور انشاء اللہ جس جوانمردی سے اپنے حق کی یہ لڑائی لڑ رہے ہیں، سُرخرو رہیں گے۔ سفر مشکل ہے مگر آزادی کا سفر کب آسان رہا ہے؟
۹ اپریل ۲۰۲۲ کی رات کو شروع ہونے والا تماشہ ۹ فروری ۲۰۲۴ کو ختم نہیں ہونا تھا اور نا یہ ایسے ختم ہوگا۔ عمران خان کو جن کی ایما پر ہٹایا گیا تھا انہیں اُس کی واپسی قبول نہیں ہے، چاہے اُس کے لیے ۲۴ کروڑ کے ملک کو آگ میں جھونک دیا جائے۔ اس بات کا ادراک ہمیں ۹ اپریل کی رات کو ہی تھا، ۹ فروری کے بعد صرف ہمارے خدشات پر ایک اور تصدیقی مہر ثبت ہوئ ہے۔ امریکہ کو ایبسلوٹلی ناٹ بولنا، یوکرائن جنگ میں یورپی یونین کی ہم نوائی نا کرنا، اسرائیل کو تسلیم کرنے سے انکار اور ہندوستان کی اجارہ داری کے سامنے سر تسلیم خم نہ کرنا عمران خان کے وہ جرائم ہیں جو بیرونی طاقتوں کے لیے تو نا قابلِ قبول ہیں ہی مگر ان کے اندرونی مہروں کی بقا بھی اسی میں ہے کہ عمران خان نام کی کوئی تلوار اُن کی بیش بہا اور آئین و قانون سے مبرا طاقت پر نا لٹکتی رہے۔ دو سال کی بدترین فسطائیت اسی امید پر تھی کہ عمران خان پیچھے ہٹ جائے یا یہ عوام تھک جائے۔ اس دوران یہ کوشش بھی مستقل جاری رہی کہ عمران خان نام کا کانٹا ہی نکال دیا جائے، ایک بار نہیں کئی کئی بار عمران خان پر حملہ کیا گیا اور اب جب سے عمران خان کو پابندِ سلاسل کیا گیا ہے ہر ایک لمحہ اسی مقصد پر عملدرآمد کی منصوبہ بندی میں صرف ہورہا ہے۔ میں متعدد بار یہ اشارہ دے چکا ہوں اور اب مزید واضح کررہا ہوں اس ملک پر قابض خدائی کے دعویداروں کا فیصلہ ہے کہ عمران خان کو نومبر سے پہلے پہلے راستے سے ہٹانا ہے۔ زندگی اور موت اللہ کے ہاتھ میں ہے جس ذات نے آج تک عمران خان کی زندگی کی حفاظت کی ہے وہ انشاء اللہ آگے بھی کریگی مگر عین ممکن ہے کہ ۱۸ مارچ ۲۰۲۳ کی طرح اس مرتبہ بھی وسیلہ اللہ نے اُس کی قوم کو بنانا لکھا ہو اور یہ کوشش ہم پر فرض اس لیے بھی ہے کہ عمران خان کی زندگی کی ضرورت عمران خان کو نہیں ہے،عمران خان کی قوم کو ہے؛ ہمیں ہے۔ چنانچہ لازم ہے کہ ہم اپنی طاقتیں مجتمع کریں اور منظم ہو کر میدان میں اتریں۔ اُن کے پاس اگر ہتھیار اور اختیار ہے تو ہمارے پاس تقریر، تحریر اور قلبِ جرار ہے۔ حق پر ہونے کا اعزاز ہے۔
اس وقت مقتدرہ متعدد منصوبوں پر کاربند ہے۔ ان سب کا مقصد ایک ہی ہے، عمران خان کے سائے تک سے نجات پانا۔ اس کے لیے اڈیالہ پر دہشت گرد حملوں اور سیکیوریٹی رسک کا ڈرامہ بھی رچایا گیا، مذہبی جنونیت اور جیل میں قیدیوں کی لڑائی کے قصے بھی پھیلائے گئے، ُان کی صحت کے حوالے سے پہلے ہی بی بی کو دھمکی دی گئی تھی، عمران خان کو بنی گالہ منتقل کرنے کے بابت بھی غوروخوض ہوا۔ بنی گالہ میں بشری بی بی سے جو سلوک روا رکھا گیا ہے اور اُن کی منتقلی پر کیسی خبریں چلائی گئیں وہ آپ کے سامنے ہیں۔ بہر صورت خان کو نقصان پہنچانے کی ذمہ دار وہی قوتیں ہوں گی کہ جو عدالتوں کے فیصلوں کو روند کر اُن سے ملاقاتوں پر پابندی عائد کرنے پر قادر ہیں۔
ان تمام امکانات اور چند دیگر حقائق کہ جن کا ذکر فی الوقت مناسب نہیں ہے کی بنا پر درج ذیل نکات الیکشن کے فوراً بعد ہی قیادت اور اوور سیز نمائندگان تک پہنچا چکا ہوں اور اب چونکہ آپ کو حالات کی سنگینی کا درست اندازہ ہوچکا ہے اس لیے اپنی قوم کے لیے بھی لکھ رہا ہوں۔
ہمیں اس وقت مکمل فوکس اور یک جہتی سے عمران خان کی آواز بننا ہے۔ جہاں قومی اسمبلی میں مستقل عمران خان کی رہائی کی آواز کی گونج کم نہیں ہونی چاہئے وہیں اپنے مینڈیٹ کی واپسی کا علم عدالتوں، میڈیا اور سڑکوں پر اونچا لہرانا ہے۔
۱- عمران خان کی تصویر لیکر پروگراموں میں شرکت کریں جس چینل یا اینکر کو اس عمل پر اعتراض ہے اُس پروگرام میں ہی نا جائیں۔ عمران خان، بشری بی بی، شاہ محمود قریشی سمیت غیر قانونی طور پر پابندِ سلاسل کارکنان اور صحافیوں کی رہائی کے مطالبے سے بات کا آغاز کریں۔ میڈیا اپنی تمام تر مجبوریوں کی باوجود آپ کے وجود کی نفی نہیں کرسکتا کیونکہ آپ اس ملک کی سب سے بڑی حقیقت ہیں۔
دو سال سے جس فسطائیت کا سامنا یہ قوم کر رہی ہے اس پر “ہیلنگ ٹچ” صرف انصاف کی صورت میں لگ سکتا ہے۔ انصاف کا پہلا مرحلہ قوم کے مینڈیٹ کی واپسی ہے۔ اُس سے کم پر آمادگی کا اظہار کرکے اپنے مقصد کو کمزور نا کریں یہ قوم کی قربانیوں کی توہین ہے۔
۲- سوشل میڈیا ایکٹیوسٹ، تحریک کے کارکنان، آفیشل اکاؤنٹس روزمرہ کے معاملات کے ساتھ اپنا فوکس مینڈیٹ کی واپسی اور عمران خان، پارٹی لیڈران اور کارکنان کی رہائی پر ایسے رکھیں جیسے آپ کی زندگی اِس پر منحصر ہو۔ کوئی بھی ذاتی بیانات، اختلافات، بیان در بیان اور آراء آپ کو یہ نہ بُھلا پائیں کہ یہ جنگ آپ کے لیے کیا معنی رکھتی ہے۔ آپ کو شاید آج اندازہ نہ ہورہا ہو لیکن آپ کی زندگی واقعی ان دو عوامل پر منحصر ہے، یقین نہیں آتا تو اُن قوموں کو دیکھ لیں جن کی شہ رگ میں فسطائیت پنجے گاڑ چکی ہیں، آپ کو اُن کے چہروں پر زندگی کی شاذ ہی کوئی رمق دکھائی دے گی۔
۳۔ جہاں ظلم کے اندھیرے گہرے ہونے کے عندیے دیے جارہے ہیں لازم ہے کہ ہم اتنے ہی دیے روشن کریں۔ جو لکھ سکتا ہے لکھے۔ جو بول سکتا ہے بولے۔ جس کی احتجاج کی سکت ہے وہ اُن میں شرکت کرے۔ لیکن جس تحمل کے ساتھ یہ عمل آپ دو سال سے جاری رکھے ہیں اُس صبر کا دامن ہاتھ سے نہیں چھوٹنا چاہئے۔ مدمقابل سفاک بھی ہے اور بے غیرت بھی۔ وہ اپنی کاروائیوں کا الزام آپ پر دھر کر آپ کے لیڈر کو نقصان پہنچا سکتا ہے اس لیے ہوش اور فوکس۔
۴- جو بیرون ملک ہیں وہ دنیا کو جگائیں۔ یاد رکھیں جمہوری معاشروں میں حکومتیں عوام کو جوبداہ ہوتی ہیں وہ ایک حد تک ہی اِن کے جبر اور غیر آئینی اقدامات سے چشم پوشی کرسکتی ہیں۔ آپ کے پروگرامز ، احتجاج، سوشل میڈیا پر آپ کی تحریکیں پرزور ہونی چاہئیے۔ یاد رکھیں عمران خان آپ کا وقار ہے۔ دنیا میں آپ کی عزت کا ضامن ہے۔ جن محفلوں میں آپ پر دہشت گردی کے لیبل لگتے رہے وہاں وہ آپ کا مقدمہ لڑا ہے۔ وہ جو کبھی کسی کے سامنے نہیں جھکا تھا فقط آپ کے حق کے لیے سوالی بنا ہے۔
۵- سب سے بڑی اور اہم ذمہ داری اس وقت وکلاء پر ہے۔ وکلاء قیادت بار کونسلز کے ذریعے عدلیہ کو جھنجھوڑیں ملک میں دو سال سے جو آئین و قانون کا مذاق بنا کر رکھ دیا گیا ہے اُس پر شور مچائیں۔ انسانی حقوق کی تنظیموں کو اُن روگردانیوں سے آگاہ کریں کہ جن کے زریعے ۲۴ کروڑ کے ملک کو یرغمال بنایا گیا ہے۔
۶- قیادت کے مطابق وہ جلد ہی گذشتہ ہفتہ کی ملاقاتوں اور تنظیموں سے مشاورت کے مطابق لائحہ عمل کا اعلان کریگی۔ میں اس تناظر میں اپنے یوتھ، آئ ایس ایف، ٹرانسپورٹرز اور ٹریڈرز تنظیموں اور وی سی تنظیموں جو کہ صرف پختونخواہ میں ۷۰،۰۰۰ عہدیدار بنتے ہیں سے اپیل کرتا ہوں کہ آج رات سے ہی اپنی تیاری کرلیں۔ کسی بھی اعلان اور پر امن تحریک کے آغاز میں آپ کا کلیدی کردار ہوگا۔
میں ایک مرتبہ پھر دہرا دوں مدمقابل سفاک بھی ہے اور بے غیرت بھی وہ آپ ہی کو آپ کے خلاف استعمال کریگا۔ ہمیں ہر قدم یہ سوچ کر اٹھانا ہے کہ ہمارے سامنے مقصد بہت بڑا ہے۔ ہمیں ان بیرونی طاقتوں کے آلہ کاروں، خدائی کے دعویداروں سے اپنے لیڈر کی زندگی، اپنا مینڈیٹ اور اپنا ملک تینوں بچانے ہیں۔
ان کی طاقت کا دار ومدار آپ کی خاموشی پر ہے۔ ان کی امید آپ کے حوصلے ٹوٹنے سے وابستہ ہے، آپ کے اونچے سر۔ آپ کی محکم آوازیں۔ آپ کی جمے قدم ان کے پیروں تلے سے زمیں سرکا رہے ہیں یاد رکھیں آپ وہی قوم ہیں جو ۱۵ اور ۱۸ مارچ کو عمران خان کی ڈھال بنی تھی آپ متحد تھے، فوکسڈ تھے تو قدرت نے بھی آپ کی مدد کی تھی۔ دل نہیں چھوڑنا آپ کے خدا کو آج بھی کوئ شراکت نہیں۔
@StateDeptSpox Impossible to hold free and fair elections in Belarus with 1400 political prisoners.
Internal matter in Pakistan after 10k+ political prisoners.
The biggest question is, what explains this discrepancy? What magical spell does the Pakistani junta have the state dept under?
گذشتہ دنوں میں نے مقتدرہ کی طرف سے ایک ملاقات میں رکھی گئی شرائط کا ذکر کیا تھا، جنہیں جھٹلانے کی صورت میں دو دھمکیاں دی گئی تھیں کہ جن کا الیکشن سے پہلے کے ماحول میں تذکرہ مناسب نہیں ہوتا۔
ایک کا نقطۂ آغاز وہ کردار کُشی کی مہم تھی جو بشری بی بی کے خلاف چلائی گئی تاکہ اُن پر پریشر ڈالا جاسکے اور وہ خان صاحب کو ڈیل پر آمادہ کریں اور اُس کے لیے دباؤ اُن کی ذات تک محدود نہیں رکھا گیا بلکہ اُن کے بچوں تک کو سنگین نتائج کی دھمکیاں دی گئیں۔ وہی سلسلہ ہم زیر حراست ان پر ذہنی تشدد اور اُن کو جسمانی طور ہر کمزور کرنے کے لیے روا رکھے گئے سلوک کی صورت دیکھ رہے ہیں۔ مقصد ان کو توڑنا اور انہیں تکلیف دے کر خان صاحب کو مجبور کرنا ہے۔
اُس وقت شرائط پر آمادہ نہ ہونے کی صورت میں خان صاحب، اُن سے وابستہ افراد اور پارٹی پر سختیاں بڑھانے کا عندیہ بھی دیا گیا تھا۔ جس کے بعد ہی کاغذاتِ نامزدگی چھیننے، مسترد کرنے، پارٹی سے انتخابی نشان لینے اور امیدواروں کو جبراً انتخابات سے دستبردار کرنے جیسی کاروائیں کی گئیں۔
دوسری دھمکی (معدے کی خرابی کے حوالے سےاُن دنوں چلنے والی خبروں کا حوالہ دے کر دی گئی) کہ طبیعت تو اُن کی (خان صاحب کی) ویسے بھی ناساز رہتی ہے۔ مزید طبی مسائل بھی ہوسکتے ہیں۔ بعد ازاں یہ مستند معلومات موصول ہوئیں کہ اگر عمران خان ڈیل پر آمادہ نہیں ہوتے تو اُن کا مصر طرز پر کوئ بندوبست کیا جائے۔ صاحبِ علم یہ اشارہ باآسانی سمجھ سکتے ہیں۔
بشری بی بی کی جانب سے تب اسلام آباد ہائیکورٹ میں خان صاحب کی صحت اور تحفظ کے حوالے سے پٹیشن دائر کی گئی (جسے تقریباً دو ماہ سے زیادہ عرصہ گزرنے کے بعد بھی چیف جسٹس اسلام آباد ہائی کورٹ عامر فاروق سماعت کے لیے نہیں مقرر ہونے دے رہے)۔
انتخابات میں تحریک انصاف کی کامیابی سے ہواس باختہ قوتیں جہاں دیگر سازشیں اور چالیں چل رہی ہیں وہاں بشری بی بی کے ساتھ حراست میں روا رکھا گیا سلوک, ان کے حوالے سے موصول ہونے والی خبریں اور ڈیل نہ کرنے کی صورت میں ان کو دی گئی دھمکی کو مدنظر رکھتے ہوئے میں اُن کے وکلاء سے استداء کرتا ہوں کہ اُن کی زندگی کو لاحق خطرات اور اُن سے روا رکھے گئے غیر انسانی سلوک سے فوراً عدالت کو آگاہ کریں۔
میں نہایت اخلاص اور تحمل سے مقتدرہ کو بھی متنبی کردوں کہ اپنی انا کی جنگ اور طاقت کے نشے میں خدانخواستہ کوئ قدم ایسا نہ اٹھالیں کو جو ناقابلَ تلافی ہو کیونکہ نا یہ مصر ہے اور نا عمران خان محمد مُرسی! آپ کی ہر دھمکی اور ہر چال سے آگہی ہے۔
بہتر ہوگا کہ آگ سے کھیلنے سے اجتناب کریں۔
عمران خان کا جیل سے پیغام:
“میرے پاکستانیو، مجھے آپ کی حقیقی آزادی کی جنگ لڑنے پر 24 سال کی سزا سنا دی گئی۔
مجھے اور پاکستان کو آپ کے بس 24 گھنٹے چاہئیں!
لوگوں کے زیادہ سے زیادہ ووٹ ڈلوائیں، پولنگ ایجنٹ کو فارم 45 ملنے تک پولنگ سٹیشن پر رکیں، اور پھر مکمل رزلٹ آنے تک ریٹرننگ افسر کے دفتر کے باہر پرامن طریقے سے بیٹھیں-“
Imran Khan's Message from Jail:
“My Pakistanis, I have been sentenced to 24 years imprisonment for fighting for your Haqeeqi Azadi.
Pakistan and I call for you to dedicate only 24 hours!
Encourage the maximum number of people to vote, wait at the polling station until the polling agent receives the Form 45, and then stay peacefully outside the Returning Officer's office until the final results are announced.”
چند ماہ قبل بشری بی بی کے خلاف شروع ہونے والی کردارکشی کی مہم سے کچھ ہی دن پہلے خود کو آئین و قانون سے مبراسمجھنے والے ایک سرکاری عہدیدار کے ایلچی نے اُن سے ملاقات کی۔ اِس ملاقات میں اُن کے سامنے دو راستے رکھے گئے۔ ایک ایسی “ڈیل” کا جو وہ خان صاحب کے پاس لے کر جائیں اور اُس پر انہیں راضی کریں اور دوسرا راستہ ایک ایسی دھمکی تھی کہ جِس پر اُن کے انکار کے بعد سے عملدرآمد ہورہا ہے اور آج اِس فیصلے کے ذریعے اس کا ایک اور مرحلہ طے کیا گیا ہے (اور یہ اب بھی آخری مرحلہ نہیں ہے)۔
جن حالات کا سامنا بشری بی بی نے کیا ہے یہ کسی عام انسان کے بس کی بات نہیں ہے۔ جوعمر ہمارے معاشروں میں اپنی ذمہ داریوں سے فارغ ہوکر آرام اور سکون سے زندگی گزارنے کی سمجھی جاتی ہے اس عمر میں ایک خاتون نے وہ راستہ چُنا جس کی صعوبتیں جھیلنے کا حوصلہ شاید مضبوط ایقان والوں کو ہی عطا ہے۔ وہ جانتی تھیں کہ اس سفر میں انہوں نے صرف کانٹوں پہ چلنا نہیں ہے بلکہ بدبودار جوہڑوں کے باسی اپنے چہروں کا کیچڑ اُن کی ذات پر بھی اچھالیں گے اور اس کی مثالیں آپ ان چند ماہ میں دیکھ چکے ہیں۔ قصور صرف اُس شخص کا سہارہ بننا کہ جس نے اس ملک کی بہتری کو اپنی زندگی پر مقدم رکھا اور اس کے مقصد کو اپنی زندگی کا مقصد بنانا۔
آج ان فیصلوں کےزریعے محض ہمیں ہماری اوقات بتائ جارہی ہیں۔ لیکن ہم نے ۸ فروری کو اِن کو ان کی اوقات بتانی ہے۔ جو گھناؤنی ڈیل بشری بی بی کو خان صاحب کے پاس لے جانے کا کہا گیا اُس کی تفصیل میں جانے کے لیے یہ وقت مناسب نہیں مگر اتنا کہہ دوں کہ پاکستانی قوم کو اپنا مستقبل بچانے کا یہ آخری موقع مہیا کرنے کے لیے عمران خان اپنا سب کچھ داؤ پر لگا چکا ہے اور اس موقع کو گنوانے کا پچھتاوا آپ رہتی دنیا تک نہیں مٹا سکیں گے۔ اگر آپ نے کسی بھی خوف کسی بھی دباؤ میں آکر، اپنا ووٹ ڈالنے کا حق سرینڈر کردیا تو عمران خان کی عزت اور اُس کی زندگی کا قرض آپ کو زندہ درگور کردیگا۔
If Pakistan’s elections are held under the current circumstances, “they would be a disaster,” the former prime minister warns. “The only viable way forward for Pakistan is fair and free elections,” he argues in a guest essay https://t.co/rflLNeAodb
جہاں سے ریحان زیب کا تعلق ہے اِن علاقوں کے اور اس کلاس کے ہزاروں نوجوان عرب امارات اور سعودیہ میں محنت مزدوری کرتے ہیں۔ کوئ خوش قسمت ہو اور اس کی طرح پڑھ لکھ جائے تو وہ یورپ امریکہ بھی چلا جاتا ہے۔ اچھا کما لیتا ہے، اچھا پہن اوڑھ لیتا ہے۔ پیچھے والے سمجھتے ہیں بڑا خوش قسمت ہے مگر وہ تمام عمر ٹکڑوں میں بٹا رہتا ہے۔ جیب میں جتنے بھی ڈالر اور پاؤنڈ آجائیں جب دہلیز پر آگ آتی ہے تو کچھ نہیں دیکھتی کماؤ بیٹے کے بوڑھے ماں باپ اور بہن بھائ، پیچھے رہ جانے والے یار دوست اور غریب عزیز رشتہ دار یکساں دربدر ہوتے ہیں۔ بلا تفریق ٹھوکریں کھاتے ہیں۔
دو سال قبل جب دہشتگردی کی واپسی کے حوالے سے بات کرنا شروع کی تو اپنی پارٹی کے کچھ رہنماؤں اور خیرخواہوں نے روکنے کی کوشش کی۔ کچھ نے خان صاحب سے بھی اپنے خدشات کا زکر کیا۔ کوئ بھی انسان ایسے میں سوچ میں پڑ جائے کچھ لمحے کےلیے مجھے بھی یہ خیال آیا کہ کیا میں واقعی بہت بڑا خطرہ مول لے رہا ہوں؟ کیا ایسا کرنے کہ سوا میرے پاس کوئ چارہ ہے؟ کیا خاموشی میری زندگی کی ضمانت ہوسکتی ہے؟
اور تب مجھے احساس ہوا کہ میرے پاس کوئ راستہ نہیں ہے آواز اٹھانے کے سوا۔ کیونکہ میرے پاس اس ملک کے علاوہ کچھ نہیں ہے۔ مجھ جیسی پاکستان کی چوبیس کروڑ عوام کی جڑیں اس زمین میں گڑی ہیں۔ ہماری شاخیں کہیں بھی پہنچ جائیں یہاں کی لو، خشک سالی، سردی گرمی سب ہم تک پہنچیں گی۔ ہم جیسے جانتے ہیں کہ ہم چپ رہ کر، برداشت کرکے اپنی زندگی کے دو چار دن بڑھا بھی لیں خاموشی، تابعداری ہماری زندگیوں کی ضمانت نہیں ہے۔ کیونکہ ہماری جڑوں نے اس ملک میں رہنا ہے۔ آج نہیں تو کل ہماری زندگیوں کے کسی نا کسی موڑ پر ہمارے اور اس ملک کے سٹیٹس کو کے مفادات ایک دوسرے کے مقابل آئیں گے۔ اور اگر ہم آج اجتماعی طور پر اپنا حق تیاگ دیں گے تو کل ایک ایک کرکے ہمیں اس کی قیمت چکانی پڑے گی۔
یقین کریں اور یہ حقیقت تسلیم کریں کہ ہم جیسوں، ریحان زیب جیسوں کے پاس کوئ راستہ نہیں ہے آواز اٹھانے کے سوا۔ اب چاہے اس کی قیمت ہم ایک ایک کرکے ادا کریں یا مل کر ایک بار یہ فیصلہ کرکے کہ ہم مزید جنازے نہیں، آواز اٹھائیں گے!