159 دن گزر گئے…
میرے والد سابق MNA نثار پنہور اور میرے بھائی محسن پنہور کو 22 دسمبر 2025 کو جبری طور پر لاپتہ کیا گیا، اور آج 29 مئی 2026 ہے۔ آج تک نہ ہمیں یہ بتایا گیا کہ وہ کہاں ہیں، کس حال میں ہیں، اور نہ ہی کسی قسم کی کوئی واضح معلومات دی گئیں۔
ہمارے پاس تمام ثبوت موجود ہیں، یہاں تک کہ اُن لوگوں کے بھی جنہوں نے اس سے پہلے 16 ستمبر کو میرے والد کو اغوا کیا تھا۔ اُس وقت میرے والد کو 87 دن کی غیر قانونی حراست کے بعد رہا کیا گیا تھا۔ ہماری فیملی نے سکھ کا سانس لیا تھا کہ چلو یہ اذیت ختم ہوئی، مگر رہائی کے صرف 10 دن بعد، 22 دسمبر کو، میرے والد کو دوبارہ اُن کے بیٹے، میرے بھائی محسن پنہور، کے ساتھ اغوا کر لیا گیا۔
آخر کیوں؟
میرے والد نے 10 سال سے زیادہ اس ملک کی خدمت کی۔ جب وہ رہا ہوئے تو بغیر کسی دعوت کے ہزاروں لوگ اُن کی رہائی پر خوشی منانے آئے۔ یہ عوام کی محبت تھی، مگر شاید کچھ لوگوں کو یہ بھی برداشت نہ ہوا۔
159 دن گزر چکے ہیں۔۔۔
آپ نے دنیا کے مسائل مذاکرات سے حل کیے، ہم اپنی پاک فوج کی اُن کوششوں کو سراہتے ہیں، مگر اپنے ہی لوگوں کے ساتھ انصاف کیوں نہیں؟
اگر اختلاف ہے تو قانون موجود ہے، عدالتیں موجود ہیں، مگر ایک باپ اور بیٹے کو اس طرح غائب کر دینا کون سا انصاف ہے؟
عید ہے خدارا…
آپ بھی مسلمان ہیں، انسان ہیں، رحم کریں۔
لا الہ الا اللہ محمد رسول اللہ ﷺ
یا اللہ میرے بابا سائیں نثار پنہور اور میری جان میرے بھائی محسن پنہور کو اپنے حفظ و امان میں رکھ۔ اُنہیں جلد از جلد آزادی نصیب فرما۔ اور دنیا بھر کے تمام بے گناہ اور ناحق قید لوگوں کو رہائی عطا فرما۔ آمین۔
#ReleaseNisarAndMohsinPanhwar
#PakistanZindabad
جب تک فلسطین کی آزاد اورخودمختار ریاست قائم نہیں ہوجاتی، اس وقت تک اسرائیل کو تسلیم نہ کیا جائے۔ الطاف حسین
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
فیلڈ مارشل عاصم منیر، موجودہ حکومت اورتمام ارباب اختیار سے امید کرتا ہوں کہ وہ عوام کے احساسات و جذبات، خواہشات اور امنگوں کااحترام کریں گے
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
امریکہ کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ جوصبح شام اپنے بیانات بدلتے رہتے ہیں، جوصدرمنتخب ہونے سے قبل یوکرین جنگ بند کرنے اور فلسطین کامسئلہ حل کرانے کے اپنے اعلان پرعمل نہیں کراسکے تھے، انہوں نے پہلے سے موجود تنازعات کوحل کرانے کے بجائے ایک نیامحاذ کھول دیا اور اسرائیل کے ساتھ ملکر ایران پر چڑھائی کردی،جب تمام تربمباری اورشدید حملوں کے باوجود ایران کوفتح نہ کیاجاسکااوراس پر قبضہ نہ کیا جاسکا تو امریکہ کوبالآخر ایران سے مذاکرات کی میز پربیٹھنا پڑا۔مذاکرات کے دوران بھی امریکہ کی جانب سے ایران کودھمکیاں اورڈکٹیشن دی گئیں لیکن ایران کی حکومت اورعوام نے ان دھمکیوں اور ڈکٹیشن کوتسلیم نہیں کیا توصدرٹرمپ نے ان مذاکرات کے دوران ایک نیا تنازعہ کھڑاکردیا ہے اورپیغمبر حضرت ابراہیم علیہ السلام کے نام سے ”ابراہم اکارڈ“ پیش کردیا ہے اور29مئی کووائٹ ہاؤس میں اپنی کابینہ کے ساتھ اجلاس کے موقع پر صدرٹرمپ نے میڈیا سے گفتگوکرتے ہوئے ایران، سعودی عرب، قطر، اومان اور پاکستان سمیت تمام اسلامی ممالک سے کہا ہے کہ وہ ”ابراہم اکارڈ“ میں لازماً شامل ہوں۔ صدر ٹرمپ کایہ بھی کہناہے کہ ہم جو فارمولاپیش کررہے ہیں اس کومانا جائے، سعودی عرب، قطر، اومان اورپاکستان سمیت تمام اسلامی ممالک ہماری بات ماننے کے پابند ہیں۔اس ابراہم اکارڈ کی جو شقیں اب سامنے آرہی ہیں ان کے تحت اسرائیل سے سفارتی، تجارتی اورہرقسم کے تعلقات قائم کرنے ہوں گے۔یعنی ابراہم اکارڈ میں شامل ہونے والے تمام اسلامی ممالک کواسرائیل کولازمی تسلیم کرناہوگا۔
اسرائیل کوتواقوام متحدہ 1949ء میں ایک آزاد ریاست تسلیم کرچکی ہے اورکئی ممالک اسرائیل کوتسلیم بھی کرچکے ہیں لیکن فلسطین کی ریاست کوآج تک تسلیم نہیں کیا گیاہے، اصولی طورپرہوناتویہ چاہیے تھا کہ فلسطین کوایک آزاداورخودمختار ریاست کے طورپرتسلیم کیا جاتا لیکن اس کے بجائے اسلامی ممالک پر دباؤ ڈالاجارہا ہے کہ اسرائیل کوباقاعدہ تسلیم کریں اور ابراہم اکارڈ میں لازمی شامل ہوں۔دوسر ی طرف آبنائے ہرمز کے لئے ایران کے ساتھ ملکر کام کرنے پر اب صدرٹرمپ کی جانب سے اومان کوبھی تباہ کرنے کی دھمکی دی جارہی ہے۔
میں عوام سے سوال کرتا ہوں کہ جب تک فلسطین کی آزاد اور خودمختار ریاست قائم نہیں ہوجاتی، تب تک کیاپاکستان کواسرائیل کوتسلیم کرنا چاہیے؟ میں نے پول میں عوام کے سامنے جوسوال رکھاتھااس میں 96.12 فیصد حاضرین نےاس کے حق میں ووٹ دیا ہے کہ جب تک فلسطین کی آزاد اور خودمختارریاست قائم نہیں ہوجاتی اس وقت تک پاکستا ن کواسرائیل کوکسی بھی صورت میں تسلیم نہیں کرناچاہیے جبکہ 3.88 فیصد یعنی 4 فیصد سے بھی کم لوگوں نے رائے دی ہے کہ فلسطینی ریاست کے قیام کے بغیر اسرائیل کوتسلیم کرلینا چاہیے۔
موجودہ حکومت اوراسٹیبلشمنٹ اگر پاکستان میں عوامی سطح پر بھی یہ پول کرالیں تویہی نتیجہ آئے گا۔میں مسلح افواج کے سربراہ فیلڈمارشل عاصم منیر صاحب سے کہتا ہوں کہ آج کے پول میں عوام نے موجودہ حکومت اورتمام ارباب اختیارکویہ واضح پیغام دیدیا ہے کہ جب تک فلسطین کی آزاد اورخودمختار ریاست قائم نہیں ہوجاتی اور اقوام متحدہ اسے ایک آزاد اور خودمختار ریاست کی حیثیت سے تسلیم نہیں کرتی اس وقت تک کسی بھی صورت میں اسرائیل کو تسلیم نہ کیاجائے۔ میں فیلڈمارشل عاصم منیر،موجودہ حکومت اور تمام ارباب اختیار سے امید کرتاہوں کہ وہ عوام کے اس فیصلے کوتسلیم کریں گے اور عوام کے اس مینڈیٹ، ان کے احساسات و جذبات، خواہشات اورامنگوں کااحترام کرتے ہوئے اسرائیل کوتسلیم نہیں کریں گے۔
میں پول میں حصہ لینے والوں کاشکریہ ادا کرتاہوں اوراللہ تعالیٰ سے دعا بھی کرتا ہوں کہ گزشتہ 78برسوں میں فلسطینیوں کابہت خون بہہ چکاہے، اب کوئی ایساراستہ بنادے کہ فلسطین کی آزاد اورخودمختار ریاست کا قیام عمل میں آجائے اور مظلوم فلسطینیوں کواس ظلم وجبر سے ہمیشہ ہمیشہ کیلئے نجات حاصل ہوجائے۔
الطاف حسین
ٹک ٹاک پر 409 ویں فکری نشست سے خطاب
29 مئی 2026ء
(مکمل نشست سنئیے )👇
https://t.co/cFdI811gxz
160 دن گزر گئے، میرے والد نثار پنہور اور بھائی محسن پنہور غیر قانونی حراست میں ہیں۔ نہ وہ ڈرے، نہ جھکے، نہ کسی ظلم کے آگے سر تسلیمِ خم کیا۔ آخر کس کو میرے والد اور بھائی کی موجودگی سے اتنا خوف ہے کہ انہیں دن دہاڑے جبری طور پر لاپتا کر دیا گیا؟
اختیار اور طاقت کا ناجائز استعمال ہمیشہ قائم نہیں رہتا۔ آج جو خود کو بے حساب طاقتور سمجھتے ہیں، انہیں یاد رکھنا چاہیے کہ سب سے بڑی طاقت اللہ تعالیٰ کی ہے، اور اس کی عدالت میں ہر ظلم کا حساب ہوگا۔ #ReleaseNisarAndMohsinPanhwar
2/3
بنگلہ دیش میں محصور پاکستانی اوراقوام متحدہ کاکردار:::
جب مشرقی پاکستان میں فوج حقوق کامطالبہ کرنے والی بنگالی قوم کو گاجر مولی کی طرح کاٹ رہی تھی جس کے جواب میں بنگالیوں نے بھی اپنی بقاء کے لئے ہتھیار اٹھالیے تھے۔ایسے میں سابقہ مشرقی پاکستان میں اردواسپیکنگ مہاجروں نے پاکستان کوبچانے کے لئے پاکستانی فوج کا بڑھ چڑھ کر ساتھ دیا۔انہوں نے پاکستان کے دفاع کیلئے سات لاکھ جانوں کے نذرانے پیش کیے۔ خانہ جنگی کے بعد پاکستانی فوج نے انڈین فوج کے آگے ہتھیارڈال دیئے اوریوں 1971ء میں پاکستان دولخت ہوگیا۔پاکستان کی 90ہزار پاکستانی فوجی جنگی قیدی بنکرانڈیابھیج دیے گئے۔ اس صورتحال میں پاکستانی فوج کا ساتھ دینے والے اردواسپیکنگ یک و تنہا رہ گئے اوربنگالیوں کے ہاتھوں ان کا قتل عام کیاجانے لگا۔اس موقع پر اقوام متحدہ نے زمین خرید کر 66 کیمپ بنائے جہاں اردو اسپیکنگ کو پناہ دلوائی گئی۔ہتھیار ڈالنے والی 93 ہزار سے زائد پاکستانی فوج انڈین فوج کی قیدمیں رہنے کے بعد وطن واپس آگئی لیکن ریڈکراس کے کیمپوں میں پناہ لینے والے مہاجر آج 55 سال گزر جانے کے باوجود وطن واپس نہ لائے جاسکے۔ان مہاجرین مشرقی پاکستان کی تین نسلیں ختم ہوچکیں، چوتھی نسل جوان ہورہی ہے اورپانچویں نسل پروان چڑھ رہی ہے لیکن وہ 55سال گزرجانے کے باوجود آج بھی ریڈ کراس کے 66 کیمپوں میں محصور ہیں۔وہ آج تک پاکستان سے وابستگی اورمحبت کا مظاہرہ کررہے ہیں، اپنے کیمپوں میں پاکستان کے پرچم لہراتے ہیں، اقوام متحدہ نے ان محصورین بنگلہ دیش کو کیمپ توفراہم کردیئے لیکن کیا اس نے کبھی پاکستان پر دباؤ ڈالا کہ محصورین بنگلہ دیش نے پاکستانی فوج کاساتھ دیا تھا یہ تمہارے اپنے لوگ ہیں لہٰذا ان محصورین کو پاکستان واپس لے جایا جائے؟ یہ پاکستانی آج تک ریڈکراس کے کیمپوں میں کیوں محصور ہیں؟
سیکوریٹی کونسل کے 5 رکن ممالک کی اجارہ داری:::
اقوام متحدہ کاڈھانچہ انصاف اور یکسانیت کی بنیاد پر نہیں رکھا گیا بلکہ اس کی بنیاد دہرے معیار پر رکھی ہے۔ اب اس طرز عمل کو کیانام دیا جائے کہ اقوام متحدہ کے 190سے زائد ممبران ہیں، اگران میں سے کسی بھی رکن ملک پر امریکہ یا برطانیہ حملہ آور ہوں، اقوام متحدہ کا سیکریٹری جنرل فلسطینی عوام پر جارحیت اوربمباری میں معصوم بچوں کی ہلاکتوں کا ذکر کرکے رونے لگے اور اقوام متحدہ کے ممبر ممالک مطالبہ کریں کہ اسرائیل کی جارحیت بند کرائی جائے، اسرائیل پر پابندیاں عائد کی جائیں اورمقبوضہ علاقوں کو اسرائیلی فوج سے خالی کرایا جائے۔ اقوام متحدہ کے 90 فیصدرکن ممالک نے اسرائیلی جارحیت کے خلاف کئی بار ووٹ دیا لیکن جب یہ معاملہ اقوام متحدہ کی سیکوریٹی کونسل میں گیا تو وہاں ویٹوپاور رکھنے والے ممالک نے اکثریت کی رائے کو ملیا میٹ کردیا، اس دہرے معیار اور ویٹو پاور کے نقائص نے اقوام متحدہ کے نظام انصاف کو تہہ وبالا کرڈالاہے۔ میں سمجھتا ہوں کہ اس ویٹو پاور کے اختیار کو ختم ہونا چاہیے اور اقوام متحدہ کے نظام کو تبدیل ہونے کی ضرورت ہے کیونکہ اقوام متحدہ کا موجودہ نظام Might is right یعنی ”جس کی لاٹھی اس کی بھینس“ کے اصول پر چل رہا ہے، اقوام متحدہ پراس کی سیکوریٹی کونسل کے چند اراکین کی اجارہ داری ہے جبکہ اقوام متحدہ کے قیام کا مقصد یہ تھا کہ دنیاکے تمام ممالک کے ساتھ برابری کا سلوک کیاجائےگا لیکن سیکوریٹی کونسل میں ویٹو پاورکااختیاررکھنےوالے 5 اراکین جن میں امریکہ، برطانیہ، چائنا، فرانس اورروس شامل ہیں،ان پانچ ممالک کو یہ اختیار حاصل ہے کہ اگراقوام متحدہ کے تمام 190رکن ممالک مل کر کوئی متفقہ فیصلہ کرلیں تواقوام متحدہ کی سیکوریٹی کونسل کے ان پانچ اراکین میں سے کوئی بھی ایک رکن ویٹو پاور استعمال کرکے اقوام متحدہ کے رکن ممالک کے اکثریتی فیصلے کو ردی کی ٹوکری میں پھینک سکتا ہے، کیونکہ یہ ممالک اپنے اتحادی جارح ملک کے ظلم وستم کو درست سمجھتے ہیں۔اس طرح اقوام متحدہ کے 190رکن ممالک سیکوریٹی کونسل کے پانچ ارکان کے سامنے بے بس ہیں، ان کے محتاج ہیں، انصاف کے طالب ہیں اورویٹو پاور رکھنے والے سیکوریٹی کونسل کے پانچ ارکان اقوام متحدہ کے 190رکن ممالک کی قسمت کے مالک بنے بیٹھے ہیں۔آج وقت کاتقاضا ہے کہ عالمی امن کے قیام اور اقوام متحدہ کے ڈھانچے کوانصاف کے اصولوں پر نئے سرے سے تشکیل دیا جائے اورسیکوریٹی کونسل کے پانچ ممالک کو حاصل ویٹو پاورکااختیار سرے سے ختم کردیاجائے۔
157 دن گزر گئے۔ نیا سال آ گیا، رمضان آیا، عیدالفطر گزر گئی اور اب عیدالاضحیٰ بھی آ پہنچی، مگر میرے والد نثار پنہور اور بھائی محسن پنہور آج تک واپس نہ آئے۔
آخر ہمارے اداروں کو ایک بے گناہ باپ اور بیٹے کو جبری لاپتہ کر کے کیا ملا؟ کسی کے باپ، بھائی اور گھر کے سہارے کو چھین کر کون سا انصاف قائم ہو رہا ہے؟ یہ ظلم آخر کب تک جاری رہے گا؟
ہم ریاستی اداروں سے جواب چاہتے ہیں۔ خدا کے لیے اب یہ ظلم بند کریں۔ ہمارے والد اور بھائی کو فوری رہا کیا جائے۔ بہت ہو چکے یہ ظلم و ستم۔ مزید اذیت برداشت نہیں کر سکتے۔
#ReleaseNisarAndMohsinPanhwar
25 مئی آج میرے بھائی عامر فاروقی شہید کی برسی ہے۔۔ اللہ تعالٰی میرے بھائی کی مغفرت فرمائے اسے جنت الفردوس میں اعلٰی مقام عطا فرمائے آمین ثم آمین
@AltafHussain_90
فیلڈ مارشل عاصم منیر خدارا آپ اپنے ملک میں بھی مفاہمت اورمصالحت کا راستہ اختیار کریں۔ الطاف حسین
#LiftBanOnAltafHussain
28فروری 2026ء کوامریکہ اوراسرائیل کی جانب سے ایران پر بلاجواز اور بلااشتعال بمباری اور بلااشتعال جنگ چھیڑ نے کے بعد امریکہ اوراسرائیل سمجھ رہے تھے کہ ایران 24گھنٹوں میں فتح ہوجائے گا لیکن 28 فروری سے مئی کامہینہ بھی اختتام پر ہے لیکن امریکہ اوراسرائیل تمام ترحملوں اور بمباریوں کے باوجود ایران کوفتح نہیں کرسکے، گزشتہ ایک ماہ سے امریکہ اور ایران کے درمیان مذاکرات جاری ہیں اور پاکستان ان مذاکرات میں ثالث کا کردار ادا کررہا ہے۔
پاکستان کے وزیراعظم شہبازشریف،مسلح افواج کے سربراہ فیلڈ مار شل عاصم منیر گزشتہ کئی دنوں سے امریکہ ایران کے درمیان جنگ بندکرانے اور دونوں ملکوں کے درمیان ثالثی کرانے کی جو بھرپور کوششیں کررہے ہیں انہیں ہرجگہ سراہا جارہا ہے، مجھے بھی خوشی ہے کہ ان کوششوں کی بدولت پاکستان کا نام بلند ہورہا ہے کیونکہ جنگوں کے نتیجے میں انسانی جانیں ضائع ہوتی ہیں اور تباہی وبربادی ہوتی ہے۔
وزیراعظم شہبازشریف اورفیلڈمارشل عاصم منیردوسرے ملکوں کے درمیان توجنگ بند کرانے اور مصالحت کے لئے بھاگ دوڑ اوربات چیت کررہے ہیں لیکن ہمارے مذہب کی تعلیمات اور رسول اکرم ﷺ کا درس ہے کہ امن، مصالحت اورانصاف دینے کاعمل اپنے گھرسے شروع کریں۔وزیراعظم شہبازشریف اور مسلح افواج کے سربراہ فیلڈ مارشل عاصم منیرامریکہ ایران کے درمیان تو جنگ بند کرانے اور مصالحت کے لئے کوششیں کررہے ہیں لیکن کیااس وقت اپنے ملک میں مصالحت اورثالثی کی ضرورت نہیں ہے؟ پاکستان میں گزشتہ دس سالوں سے ملک کی بڑی جماعت ایم کیوایم کے خلاف فوجی آپریشن جاری ہے، ایم کیوایم پر پابندی ہے، الطاف حسین کے گھر پر تالا لگادیا گیا، پھر اسے آگ لگا کر بلڈوزکردیا گیا، اس کے تمام دفاتر اورسیاسی وفلاحی سرگرمیوں پر پابندی ہے، تحریک انصاف زیرعتاب ہے، عمران خان اوران کے ساتھی تین سالوں سے جیل میں قید ہیں، آخر عمران خان سے مصالحت اورصلح جوئی کی بات کیوں نہیں کی جاتی؟ الطاف حسین سے صلح جوئی کی بات کیوں نہیں کی جاتی؟ میں جنگ بند کرانے کے سلسلے میں وزیراعظم شہبازشریف اورفیلڈمارشل عاصم منیر کی کوششوں کو سراہتا ہوں لیکن میں ان سے کہتاہوں کہ وہ اپنے ملک میں بھی ثالثی، مصالحت اوربات چیت کی کوششیں کریں، کشیدگی ختم کریں، جوسیاسی قائدین اور ایم کیوایم اور پی ٹی آئی کے سیاسی کارکنان جھوٹے مقدمات میں جیلوں میں قید ہیں، انہیں رہا کریں۔ آپ ملک سے باہر توثالثی کررہے ہیں لیکن اپنے ملک میں سیاسی مخالفین پر جبر کررہے ہیں، ان کی پرامن سیاسی سرگرمیوں پر پابندی اورزبانوں پر تالے ڈالے ہوئے ہیں، حتیٰ کہ وہ پاکستانی شہری جو امریکہ، کینیڈا، برطانیہ اوردیگرمغربی ممالک میں ر ہتے ہیں، جو بڑی مقدارمیں زرمبادلہ پاکستان بھیجتے ہیں،لیکن جب وہ پاکستان میں جاری سیاسی انتقام اور جبروستم کے خلاف احتجاج کرتے ہیں توسیکوریٹی فورسز کی جانب سے پاکستان میں ان کے گھروں پر چھاپے مارکر ان کے اہل خانہ کوبھی جبروتشدد کا نشانہ بنایا جاتا ہے۔
میں مسلح افواج کے سربراہ فیلڈ مارشل عاصم منیر اور فوج کے تمام جرنیلوں سے گزارش کرتاہوں کہ خدارا آپ اپنے ملک میں بھی مفاہمت اورمصالحت کاراستہ اختیار کریں، سیاسی جماعتوں کے مینڈیٹ کو تسلیم کریں، تمام قوموں کوان کاحق دیں، جب امریکہ، برطانیہ یامغربی ممالک میں لوگوں کوپرامن احتجاج کا حق ہے تو آپ اپنے ملک میں عوام سے احتجاج کاآئینی وقانونی حق کیوں چھین رہےہیں؟ ہمارے ملک کا نام ”اسلامی جمہوریہ پاکستان“ ہے تو خدارا اس کے معنے کوحقیقی روپ دیجئے،لوگوں کی شکایات اور مطالبات پرتوجہ دیں، ان کی شکایات کاازالہ کریں۔ فارم 47کے تحت وجود میں آنے والی جعلی اورجھوٹی حکومت اور ٹاؤٹ قسم کے لوگوں کے ذریعے حکومت تو چل سکتی ہے لیکن اس سے عوام کے دل نہیں جیتے جاسکتے، جب تک لوگوں کے زخموں پر مرہم نہیں رکھاجائے گااس وقت تک لوگوں کے دل نہیں جیتے جاسکتے اورجب تک دل نہیں جیتے جائیں گے اس وقت تک لوگوں کے دلوں میں حکمرانوں کیلئے پیاراوراحترام کے جذبات پیدا نہیں ہوسکتے۔
الطاف حسین
ٹک ٹاک پر 407 ویں فکری نشست سے خطاب
25مئی 2026ء
The world stands at the cusp of a new order.
As President Xi said “The transformation unseen in a century is accelerating across the globe,” and I emphasize that the Iranian nation’s 70-day resistance has accelerated this transformation.
The future belongs to the Global South.
The Zionist regime is hunting down medics across Lebanon, yet the criminal Western journalists in Lebanon are indifferent. These three heroes have just been murdered.
Asia's oldest living organism, the ancient Abarkuh cypress tree - at least 4500 years old - is rooted in land that was already known as Iran at the time.
Trump has slaughtered hundreds of Iranian children and imposed an unprecedented economic crisis on the world for the sake of Netanyahu and a genocidal Zionist regime.
144 days of illegal detention.Nisar Panhwar spent his life serving people, yet today he is missing for the 5th time without any crime, and for the 2nd time along with his son Mohsin Panhwar. Who is behind this injustice, and why? Release them now.#ReleaseNisarAndMohsinPanhwar
3/3
قیام پاکستان کے بعد بانیان پاکستان کے ساتھ ناانصافیاں کی گئی اورتعصب ونفرت میں پاکستان دولخت کردیا گیا۔ کرپٹ اور طاقتور اقتدارمافیا آج باقی ماندہ پاکستان کو توڑنے میں لگی ہوئی ہے۔ جو سیاسی رہنماء تاریخی حقائق بیان کرتا ہے اسے الطاف حسین کی طرح یا تو جلاوطنی اختیارکرنے پر مجبور کردیا جاتا ہے یا قیدوبند کی صعوبتیں برداشت کرنی پڑتی ہیں۔اللہ تعالیٰ پاکستان کے عوام کو عقل وشعوردے، ان میں شعوری بیداری پیدا ہو اور وہ پاکستان سے اس جبر کے نظام کے خاتمے کیلئے اتحاد ویکجہتی کامظاہرہ کریں۔
برصغیرکی تاریخ کے حوالے سے میری فکری نشستوں کاسلسلہ آئندہ بھی جاری رہے گا۔
الطاف حسین
ٹک ٹاک پر 401 ویں فکری نشست سے خطاب
10، مئی 2026ء
( مکمل فکری نشست کی وڈیو ملاحظہ کیجئے ) 👇
https://t.co/gjMPznF61u
I state clearly that I am not against to the existence of the Army in the country, nor to its ranks from soldiers up to generals. I am only opposed to army generals or officers taking part in politics. This is against the oath they take at their passing-out parade, when they swear before God. They should not break that oath and should honor their pledge.
#LiftBanOnAltafHussain
My struggle is for #Pakistan to have a government of genuine, elected leaders who are honest. The hereditary political system should end, and the feudal and landlord-based system should also be abolished. Article 6 of Pakistan’s constitution has become meaningless, so a new law should be made under which no army general would even dare — let alone dismiss an elected prime minister — to speak to one disrespectfully or use a humiliating tone in front of them. The people of Pakistan will have to create such a law, and for that they will have to unite and struggle together.
There is no doubt that Imran Khan was brought into politics by the establishment. It was the establishment that brought people into his party, and it was the establishment that formed his government in 2018. But God can guide people at any time and change their thinking. @ImranKhanPTI eventually understood the flaws of the corrupt system prevailing in the country and challenged those responsible for it. I have supported Imran Khan for the last three years not because I want anything from him, but because he appears to me better than others and someone fighting for what is right. I have offered that if Imran Khan wishes, he can include the voice of Altaf Hussain and form an alliance with him. Together, we can strongly work to end military dominance, bureaucratic dominance, feudalism, and hereditary politics in the country.
I also say to the rulers that they should stop begging for the country and extending their hands before others. If we eliminate corruption, the country’s economy can be improved and Pakistan can stand on its own feet. The public has great potential, but until the feudal, landlord-based, and hereditary systems are ended, and the country is freed from this corrupt system, Pakistan will continue to suffer.
Many false cases have been made against Altaf Hussain, but to this day, not a single case has been made against him for corruption. There is no allegation that Altaf Hussain owns even one acre of land, let alone one hundred acres, or that he has any bungalow in Lahore, Murree, or Islamabad.
I pray that God brings truthful and honest people into politics, that the country prospers, and that the dreams of sincere Pakistanis are fulfilled.
— Altaf Hussain
Addressing the 401st intellectual session on TikTok
10 May 2026
نہ چھوڑا سچ، قبول سارا خسارہ کر لیا ہے،
مخالف شہر بھی سارے کا سارا کر لیا ہے،
کہیں مجھ پر بھی ان کا رنگ نہ آجائے غالب،
سو بزدل اور بےضمیروں سے کنارہ کر لیا ہے.
#OnlyAltafHussainTillDeath