حکومت نے وفاقی افسران کو بطور بورڈ ممبر”لامحدود الاؤنس“حاصل کرنیکی اجازت دیدی۔ اس سے قبل اداروں/کمپنیوں کے بورڈ آف ڈائریکٹراور بورڈ آف گورنر میں بطور سرکاری ممبر بیٹھنے والے وفاقی افسران بورڈ اجلاسوں میں شرکت کی سالانہ10لاکھ سے زیادہ فیس/الاؤنس کی وصولی نہیں کر سکتے تھے:دنیا نیوز
مجاں داؤد صاحب کی ذیل میں درج تحریر ھُذا میں کچھ نکات بحث طلب اور کافی سوالیہ نشان کے حامل ہیں۔۔
1-بنیادی طور پر پاکستان نے تو کارگل میں شمولیت سے ہی انکار کر رکھا تھا، اور تمام مدعا کشمیریوں کے سر منڈھ رکھ تھا۔
2-کارگل کے پورے کونفلکٹ کو دوران پاکستان نے جنگ ڈکلئیر نہیں کی تھی نہ ہی میڈیا بشمول ٹی وی اور اخبارات میں جنگ کا ماحول بنایا گیا جیسا کہ 2019 اور سالِ رواں میں بنا۔
3-کارگل کونفلکٹ میں کسی موقع پر بھی پاکستان نے اپنی ائیر فورس کو انگیج نہیں کیا، کیونکہ مشرف پلان کے تحت پاکستان کا
موقف تھا کہ چوکیوں پر قبضہ کشمیریوں نے کیا ہے ہمارا کوئی تعلق نہیں۔ دوسری طرف بھارت ائیر فورس اور آرٹلری دونوں استعمال کرتا رہا جسکی وجہ سے پاکستان کا شدید جانی نقصان ہوتا رہا۔
4-انڈین اییر فورس کے استعمال کی وجہ سے پاکستان کی سپلائی لائنز متاثر ہوتی رہیں جسکی وجہ سے نہ بروقت اسلحے کی کمک پہنچی نہ فوجیوں کی خوراک۔ پاکستانی فوجیوں کی لاشوں کی بھارتیوں کے ہاتھوں تدفین کی ویڈیوز اس وقت بھی زیر گردش ہیں، بہ آسانی دیکھی جا سکتی ہیں۔
5-مشرف کے اعترافات اور اعزازات وغیرہ تو کونفلکٹ ختم ہونے کے بعد کی بات ہے جب انٹرنیشنل میڈیا نے فوجیوں کی شہادتیں اور نقصانات رپورٹ کرنے شروع کر دئیے تھے۔
جنرل شاہد عزیز، جنرل جمشید گلزار کیانی جو کہ کارگل کونفلکٹ کا حصہ تھے آن ریکارڈ کہہ چکے ہیں کہ کارگل میں ہم نے انڈیا کے ہاتھوں کافی نقصان اٹھا چکنے کے بعد اس وقت کے وزیراعظم نوازشریف کے پاس جنرل محمود کو سیزفایز کروانے کیلئیے بھیجا، جنرل محمود نے بالمشافہ اور جنرل مشرف نے فون پر نوازشریف کو باقاعدہ کنونس کیا کہ فوری سیز فائیر نہ ہوا تو کافی نقصان ہو جائے گا کیونکہ اییر فورس کو شامل نہ کرنا بڑی غلطی تھی، اور اب شامل کرتے تو کونفلکٹ بہت زیادہ بڑھنے کا اندیشہ تھا۔
دونوں کے کنونس کرنے پر نوازشریف کلنٹن سے ملے، جیسے ہی کلنٹن نے واجپائی کو سیزفاییر کیلئے راضی کیا، مشرف ٹولے نے میڈیا پر شور مچا دیا کہ نوازشریف نے جیتی ہوئی جنگ ہروا دی۔
In Pakistan if you kill someone, you can pay off to the family (if they agree) and walk away free.
In Pakistan, if you get caught with billions of fraud/scam, you can make plea bargain and walk away.
Justice is for sale at all levels.
انسانی تاریخ میں آوازوں کو بند کرکے کوئی بڑا مقصد حاصل نہیں کیا جاسکا ۔۔۔ ستائس یوٹیوب چینلز کو بند کرنے کے بجائے اپنے عدالتی نظام کو درست کرنا زیادہ بہتر ہوگا ۔ جہاں ایک وزیراعظم اپنے خلاف ہتک عزت کے دعویٰ میں پچھلے گیارہ سال سے انصاف نہیں لے سکا
پاکستانی ہو تو پاکستان کی مالکی own کرو، اپنے جائز حقوق مانگنا اور چھیننا سیکھو
مراعات یافتہ طبقے کی پبلک ٹیکس سے دی جانے والی مراعات کو چیلنج کرو۔۔۔۔ ان سب کو ٹف ٹائم دو جو مسلسل اپنی تنخواہیں اور مراعات بڑھواتے جارے ہیں اور عوام کو پیستے جارہے ہیں
This is in Ray, Iran, a 1,000-year-old marvel still stands, known as the Toghrol Tower. Measures some 20 meters high, standing since 1063 CE, made of earthen bricks, with some historians believing that it shelters the tomb of Tughril Beg, founder of the Seljuk dynasty. It serves as a beacon for Silk Road caravans, its stark silhouette marking the landscape under a fiery sun and moonlit desert scape alike.
It is an engineering wonder - note the smooth, 11 m-wide inner cylinder cloaked by a 24-sided exterior ring, 16 m in width. In true Persian fashion, its geometry not only serves to protect the tower from earthquakes - but it also transforms the monument into a giant sundial; each vertex’s shadow marking an hour of the day - nearly a millennium on, the structure still measures time with the rising sun, a testament to the ancient artisans who blended astronomy, spirituality, and architectural daring under one roof of brick and sarooj.
One of many wonders of the world located on the great nation of Iran…
"رپورٹ میں سب سے سنگین معاملہ 35؍ لاکھ 90؍ ہزار ٹن گندم کی درآمد کو قرار دیا گیا ہے، جو اس وقت کی گئی جب ملک میں مقامی سطح پر وافر مقدار میں گندم موجود تھی۔"
ویسے چینی کی امپورٹ والا اگلی کسی رپورٹ میں نکلے گا لیکن فی الحال تو اندھ بھگتوں کا دو ہفتے کا ہوم ورک نکل آیا ہے۔
🚨 NATURE’S NUCLEAR BLAST — Indonesia’s Volcano Sends Ash 11 Miles High
🌋 Mount Lewotobi Laki-Laki just erupted in one of Indonesia’s most powerful eruptions in 15 years.
It launched an ash plume 18 km (11 miles) into the stratosphere —
☢️ That’s the same height reached by a 100-kiloton nuclear explosion.
No warhead. No launch codes. Just Earth reminding us who’s boss.
🛰️ Ash clouds now threaten air travel, crops, and regional climate.
📍Located in the volatile Pacific "Ring of Fire" — the eruption shows why this zone is Earth’s most dangerous pressure valve.
23 مارچ کو یہ ٹویٹ کی تھی کہ ملک ریاض سے ڈیل مکمل ہو چکی ہے، اب فوج کے پیارے بوڑھے بچے جنرل حمید گل کے بیٹے کے ذریعے پورا پلان پھینکا گیا جناب کیسے تشریف لائیں گے، ساتھ ہی پرانے فوجی پاپی طلعت کے ذریعے سیکورٹی ذرائع سے تردید پھینکی گئی جبکہ سچ یہی ہے کہ ڈیل بہت پہلے ہو چکی ہے اب ملک ریاض دبئی رہے یا پاکستان اس سے کیا فرق پڑتا ہے قومی مفاد میں جلد بحریہ ٹاون پاکستان میں اکٹیو ہو جائے گا۔۔
آپ کی اطلاع کیلئے عرض ہے کہ اگر فوج کیا حکومت وقت بھی چاہے تو دبئی سے کسی کو واپس گرفتار کر کے لانا دنیا بھر میں سب سے زیادہ آسان ہے، لوگ روز گرفتار ہو کر آتے، پاکستان انٹرپول جی۔ سی۔ سی عمان سے آپریٹ ہوتا ہے ملک ریاض کو کوئی خوف ہوتا تو دبئی میں ڈیرہ ہی نہ لگاتا۔ اس لئے آپ بھی موج میلہ کریں اور خوش رہیں۔
PCB's COO, not any selector, addresses the press conference today, to announce the T20 squad for series against Bangladesh.
Interesting! Don't remember such media appearance for team announcements by the board's COOs in the past.
اس تحریر میں چند تلخ حقائق شامل نہیں ہیں۔ پاکستان کا مسئلہ یہ تھا کہ اگر کارگل کی ان لاشوں کو اپنا مان لیتا تو مجاہدین والا بیانیہ مٹی میں مل جاتا اور بعد ازاں ایسا ہی ہوا۔ ایک نہیں تین مثالیں حاضر ہیں۔ کیپٹن کرنل شیر کے بھائی انور شیر نے ہمارے محترم عباس ناصر (جو اس وقت بی بی سی اردو کا حصہ تھے) کو فون کیا اور کہا کہ انڈیا نے کچھ شہیدوں کی لاشیں دیکھائی ہیں ان میں ہمارا بھائی بھی ہے، حکومت پاکستان ہماری مدد نہیں کر رہی تو آپ کچھ کر سکتے ہیں۔ انہوں نے بی بی سی سرینگر کے نمائندے سے بات کی اور اس نے مزید تفصیلات سے آگاہ گیا۔ اس کے بعد یہاں اس معاملے پر شور وغل ہوا اور میت واپس آئی۔ دوسری مثال ایس ایس جی والے کیپٹن عمار کی ہے، جس شہید کی ماں سے ملک کے آرمی چیف جنرل مشرف نے جھوٹ بولا کہ آپ کے بیٹے کی لاش ضرور واپس لائیں گے لیکن ایسا نہیں ہوا۔ ایک اور مثال کیپٹن تیمور ملک شہید کی ہے، کیپٹن تیمور کے کچھ قریبی رشتے دار برطانیہ میں تھے، انہوں نے وہاں سے مہم چلائی اور انڈین حکام سے رابطہ کرکے کہا یہ ہمارا شہید ہے اور ہمیں اس کی میت کے وارث ہیں، کیپٹن تیمور ملک کی میت واپس آنے میں تقریباً دو مہینے لگ گئے تھے۔