یہ عمران خان کو قتل کرنے جا رہے ہیں ہم اس وقت عمران خان کو ان کی جانب سے قتل کرنے کی کوششوں کو کم سے کم کرنے کی کوشش کر رہے ہیں، جب اڈیالہ جیل کے باہر احتجاج کا امکان تھا تب ہمارے تک اطلاعات تھیں کہ یہ اس احتجاج کو عمران خان کو قتل کرنے کے لیے استعمال کریں گے، بلکل واضح ہے کہ عاصم منیر اب عمران خان کو مردہ دیکھنا چاہتے ہیں۔ قاسم خان
@MaryamNSharif Aoa Mam Chief Minister Sahiba Hamary City main LPG 620 Rupees sale ho rahe ha maharbani kr ke Is pe bhi Nazar sani krain magangai bohat ha chicken 620 , Payyaz 200 , Alu 160 kg mil rahy hain maharbani krain magangai main control krwaye shukriya
شہری کے ساتھ بدتمیزی چیک کریں
اسے مارا بھی جرمانہ بھی اور گاڑی بھی اٹھا لی ہے
یہ فرعونیت نہیں تو کیا
میں نے آپ تک پہنچادی ہے اب آپ کو پتہ کہاں تک پہنچانی ہے
"ایک دفعہ کا ذکر ہے، جنرل مشرف صاحب کا طوطی بولتا تھا۔ ان کے دونوں بڑے سیاسی مخالف نواز شریف اور بینظیر جلاوطنی میں تھے، جبکہ تا حدِ نگاہ کسی مخالف تحریک کا نام و نشان موجود نہیں تھا۔ نواز شریف ایک تضحیک آمیز معاہدہ کر کے سعودی عرب میں سکونت اختیار کر چکے تھے۔ وطنی طول و عرض میں جنرل مشرف کی مخالفت میں دور نزدیک کہیں معمولی سے کمتر آواز موجود نہیں تھی۔ 2007 تک راوی چین لکھ رہا تھا کہ ہمارے جنرل صاحب نے بغیر کسی وجہ، ضرورت سے زیادہ خود اعتمادی اور زُعم میں چیف جسٹس افتخار چوہدری کو طلب کیا اور انہیں مستعفی ہونے کا حکم دیا، ان کے خلاف تحریک چلی اور یہ پرویز مشرف کی جڑوں میں بیٹھ گئی اور اقتدار سے ہاتھ دھو بیٹھے"۔ حفیظ اللہ نیازی
@hafeezullah_k
سورس جاننے کیلئے QR Code سکین کریں
سکوٹی پر سوار لڑکی پر تشدد کرنے والے ملزم کو لاہور پولیس نے رات ہی کو گرفتار کر لیا تھا۔خواتین اور بچے وزیراعلیٰ مریم نواز شریف کی ریڈ لائن ہیں۔ ایسا رویہ کسی صورت برداشت نہیں کیا جائے گا۔
#MaryamNawaz#PunjabPolice
لاہور، مزنگ مریم نواز کی ریڈ لائن کراس ۔۔۔
موٹرسائیکل سوار ملزم نے سکوٹی پر سوار لڑکی کو روکا، نیچے گرایا، تشدد کیا اور فرار ہوگیا۔
عوام بھی تماشائی بنی ہوتی ہے ، ہربندہ فرعون بنا ہوا ہے
میرے سہیل سے بہت سارے سوالات ہیں۔ جو پوچھتا رہوں گا۔ لیکن جب تک خان کی انڈروسمنٹ سہیل کے ساتھ ہے وہی وزیراعلی ہے۔ کوئی بھی سازش کرے گا اس کا بھرپور مقابلہ کیا جائے گا۔ وزیراعلی لگانے بدلنے کا اختیار صرف خان کا۔ کیونکہ عوام نے ووٹ خان کو دیا۔ کوئی اور اس کا ماما چاچا نہ بنے۔ اس لئے سہیل کو ہٹانے کے ہر عمل کی بھرپور مخالفت کی جائے گی۔ ہمارا کوئی گروپ نہیں۔ نہ ہی کسی سے زاتی عناد۔ دشمنی۔ یا دوستی۔
سوالات دونوں سے ہیں۔
گنڈاپور کے وقت ڈیڑھ سال اور سہیل کے وقت پورا سال ضائع ہوا۔ خان کو ریلیف نہ مل سکا۔ دوسری طرف فوجی آپریشن میں بے گھر کئیے جانے والوں کو گنڈا پور نے 9 ارب دہیے تو سہیل نے 22 ارب۔ یہی فوج کی ڈیمانڈ تھی۔ ڈرون پر خان کے احکامات پر دونوں نے کچھ نہ کیا۔ دونوں نے خان سے ملے بغیر بجٹ پاس کئیے۔ دونوں نے سرپلس پیسے بجٹ میں رکھے۔ یہ تمام چیزیں خان کے احکامات کے خلاف ہوئیں۔ اور بہت سارے دوسرے سوالات جو پبلک میں نہیں پوچھے جا سکتے۔ وہ خان کے سامنے بیٹھ کر باتھ ہوگی۔ انشاللہ۔ ہوسکتا ہے میں غلط ہوں۔ غلط ہوا تو خان صاحب فیصلہ کر دیں گے۔ اور خان کبھی چھپاتا نہیں۔ فیصلہ بھی پبلک ہی کرتا ہے۔
لیکن سب سوالوں کے باوجود۔ آج کے دن سہیل ہی ہمارا وزیر اعلی ہے۔ اور رہے گا۔ تا وقت کے خان اسے تبدیل کرنے کے احکامات جاری کرے۔ کیونکہ عوامی مینڈیٹ خان کا ہے-
انہوں نے مولانا فضل الرحمان کا ایک بندہ اٹھایا تھا
بدلہ میں انہوں نے تباہی اور بربادی پھیر دی بندہ چھوڑنا پڑا ،اور اختر مینگل کے سینیٹرز اٹھائے انہوں نے بلوچستان میں سڑکیں بند کر دی
لیکن PTi کے وزیر اعلی کو اٹھا لیا جاتا ہے صوبائی صدر غائب مگر پارٹی خاموش بیٹھی ہے،، صدیق جان
🚨لاہور: مزنگ کے علاقے میں موٹرسائیکل سوار کا سکوٹی پر سوار لڑکی پر بہیمانہ تشدد ۔۔ لڑکی پر تشدد کی سی سی ٹی وی منظر پر آگئی، موٹرسائیکل سوار شہری نے "سکوٹی سوار" لڑکی کو اوور ٹیک کرکے روکا ۔۔ موٹرسائیکل سوار شہری اترا اور لڑکی کو دبوچ کر زمین پر پٹخ دیا۔۔ لڑکی کو تھپڑ مارے اور بال بھی نوچے ،لوگوں نے لڑکی جان خلاصی کروائی ۔۔ ملزم نے لڑکی کا بیگ چھین کر زمین پر پٹخ دیا،جس میں 85 ہزار مالیت کا لیپ ٹاپ بھی ٹوٹ گیا ۔تشدد سے لڑکی کی ناک کی ہڈی اور چہرے پر زخم آئے ۔۔
ملزم فرار، لوگوں نے موٹرسائیکل تحویل میں لے کر پولیس کے حوالے کر دی، لڑکی کے باپ کی مدعیت میں ایف آئی آر درج
مراد سعید ملک کی طاقتور اور منافع بخش ترین وزارتوں میں سے ایک، وزارتِ مواصلات کے وفاقی وزیر رہے، مگر ان کا بھائی آج بھی خیبر پختونخوا حکومت میں گریڈ 9 کا ملازم ہے اور سرکاری کوارٹر میں رہتا ہے۔ کیا موروثی سیاست میں ایسی مثال مل سکتی ہے؟ یہی عمران خان کا پاکستان کے لیے تحفہ ہے۔ ابوذر سلمان نیازی
#pakistan @SalmanKNiazi1
خبر کا سورس لنک جاننے کیلئے QR Code سکین کریں۔۔
صحافی حسنین رفیق کو پشاور کے ایک گودام میں بند کرکے آئی ایس آئی ایم آئی نے بدترین تشدد کرتے رھے جس سے حسنین رفیق کے کمر سے خون سیمنے لگا😪 کمر کی سائیڈ پر کپڑے خون سے بھر گئے
حسنین رفیق کو کالا کپڑا ڈال کر پشاور سے پنجاب میں ضلع وزیراباد تھانہ سٹی میں چار دن رکھ کر تشدد کرتے رھے حسنین رفیق کی گردن کے پیچھے چھتروں کے گھرے نشان نظر پڑ گئے😭 اگلے دن حسنین رفیق کو وزیراباد سے گوجرانوالہ سی پی او آفس لے گئے وھاں پر CPO اپنے سامنے حسنین رفیق پر بدترین تشدد کرواتا رھا وھاں سے بروز سوار کو حسنین رفیق کو تھانہ صدر لے آئے ایک رات رہ کر اب سیالکوٹ لے گئے یار رھے کہ جب بھی حسنین رفیق منظر عام پر آئے اپنی ساری ظلم کی کھانی سنائے گے
حسنین رفیق کو جب وزیراباد لایا گئے تو اس کے کمر سے خون سیم رھا تھا اس کے کپڑے پر ابھی بھی خون کے نشانات ھے
سارے لوگ حسنین رفیق کی تصویر لگا کر اس کے لیےآواز اٹھائے
جہاں ٹکے ٹکے کی نوکریوں اور زمینی خداؤں کی خوشنودی کے لیے ضمیر فروشی ایک عام چلن بن گیا ہے، خیبر پختونخواہ پولیس میں آج بھی ایسے بہادر اور غیرت مند سپوت موجود ہیں جو اپنی حمیت اور روایات کو اپنی زندگی پر مقدم رکھتے ہیں۔ عمران الدین سے نہ کبھی کوئ رابطہ رہا نہ کوئ وابستگی تھی۔ پہلی دفعہ ان کا ذکر سوشل میڈیا پر سُنا جہاں ناصرف انہوں نے میرے گھر کی خواتین کے ساتھ دست درازی سے انکار کیا بلکہ مجسٹریٹ کے سامنے اپنے بیان میں اعتراف کیا کہ میرے رشتہ داروں کے گھر چھاپے کے احکامات آئ ایس آئ کے کرنل کی جانب سے دیے گئے تھے۔ دوسری دفعہ ان کا تذکرہ، دہشت گردوں کے ساتھ مقابلے میں زخمی ہونے کی خبر میں پڑھا۔ متعدد بار ٹارگٹ اور ہر دوسرے دہشت گردی کے واقعے میں اس کی موجودگی کی خبر پڑھنے کو ملی تو کسی کو پیغام بھجوایا کہ جب واضح ہوگیا کہ اس فرض شناس افسر کو ٹارگٹ کیا جا رہا ہے اور مجھے لگ رہا ہے کہ اس رات کے سٹینڈ اور پھر روایات کا پاس رکھنے پر ملنے والی عزت و مقبولیت پر باقی افسران کو پیغام دینے اور میری وجہ سے ٹارگٹ کیا جا رہا ہے تو مجھے اس کی بڑی فکر ہے کیونکہ یہ اتفاق تو نہیں ہوسکتا کہ ہر خبر اس پر حملے سے شروع اور جہاں اس کی موجودگی ہو ادھر ہی دہشت گردی کے واقعات اور مقابلہ ہو، چاہے وہ ہنگو ہو کوہاٹ ہو یا کرک۔
جواباً بتایا گیا کہ ڈی ایس پی عمران الدین سے ہم نے بھی کئی مرتبہ بات کی اسے بھی سمجھ ہے لیکن کہتا ہے کہ کرنے دو ان کو جو کرنا ہے۔ میرے لیے کسی سے بات نہیں کرنی میں مقابلہ کروں گا۔ میں نہیں چاہتا کوئی یہ سمجھے میں ان حملوں سے خوف زدہ ہوگیا ہوں۔
آج بالاخر فارم سنتالیس کے کٹھ پتلی وزیر اعظم نے اقبالِ جرم کیا کہ دہشت گردوں کو واپس لانے کی پالیسی غلط تھی لیکن یہ نہیں بتایا کہ عمران خان نے اس پالیسی کو ابسولٹلی ناٹ کہا تھا اور رجیم چینج کے بعد پہلی ہی سیکورٹی کمیٹی کی میٹنگ میں آرمی چیف اور ڈی جی آئی ایس آئی نے یہ پالیسی سامنے رکھی تو بغیر بحث کے منظوری کرا لی گئ۔ اگلے ہفتے افغانستان وفد بھیجا گیا، جولائی ۲۰۲۲ کے آخری ہفتے پہلی تشکیل ہوئی، دو دفعہ ہم نے نکالا لیکن ہمارے سروں کی قیمت جاری کر کے جرنیلوں اور ان کی کٹھ پتلیوں نے یہ مقتل گاہ سجا دی۔ دہشت گردی کی آڑ میں جنہوں نے پختونخواہ پر قبضہ کیا وہ میڈ اپ دہشت گردی لانے والے ہیں۔ آج ڈی ایس پی عمران الدین کی شہادت کی خبر سُن کر فخر بھی ہوا اور افسوس بھی۔ عاصم منیر کی اس مسلط کردہ میڈ اپ دہشت گردی کا ایندھن اور کتنے گھرانے، کتنے بہادر سپوت بنیں گے اور کتنے بے گناہ ان کی ہوس کی قیمت چکائیں گے، اللہ بہتر جانتا ہے۔
لائبہ اور وسیم کےقاتل انجام کو پہنچے،ان درندوں کے ساتھ یہی ہونا چاہیئے تھا مگر دکھ اور تکلیف یہ کہ کوئٹہ میں ایک سردار نے ٹریفک وارڈن کو گاڑی تلے کچل کر مار دیا،اسلام آباد میں ہائیکورٹ کے جج کے بیٹے نے دو بچیاں مار دیں اور کراچی کی امیرزادی نے باپ،بیٹی مار دئیے مگر یہ سب رہا،آزاد اور یہاں کوئی پولیس مقابلہ نہ ہوا اور پھر لاہور میں دو غیرملکی خواتین سے جنسی زیادتی والے ایک بڑے کے بیٹے کے نیفے میں بھی پستول نہ چل سکا،یہ دوہرا معیار کیوں ؟