We have absolutely no reliable information on Imran Khan’s health. Imran Khan have never had any blood pressure issues. His normal blood pressure has always been on the lower side since he does regular exercise for several hours a day. So this disinformation being spread on Imran Khan has all the markings of the agency disinformation cell. Are they trying to set the stage for something more serious to happen to him? All those claiming credible sources are effecting their own credibility!
دھوکے میں مت آئیں! 🚨
وزیر داخلہ اور ن لیگ کے وزراء کی باہمی نوک جھونک ایک سستا ڈرامہ ہے تاکہ 5 اگست کے پشاور جلسے سے عوام کا دھیان ہٹایا جا سکے۔
حکمران خوفزدہ ہیں! تمام ورکرز اور قوم ان کی اس چال کو سمجھیں اور اپنی تمام تر توجہ پشاور جلسے کو کامیاب بنانے پر رکھیں۔ ہمارا اتحاد ہی ان کا سب سے بڑا خوف ہے!
It has now been around 1,100 days since my father, Imran Khan, was imprisoned, and my brother and I haven’t heard his voice since March. For months, we’ve been denied contact with him. We remain in the dark about his access to healthcare as his eyesight continues to deteriorate. He urgently needs medical attention, and with no family or legal access, we don’t even get any second hand information or reassurance.
I’ve found myself especially missing him recently. I want to speak to him about mundane things like my cricket, books I’ve been reading and what new movies are good. I understand the people of Pakistan want their chosen leader free, but I miss my father more than ever.
But this is not just about a father. It is about Pakistan, and its future. A rigged, authoritarian regime continues to crush political opposition, undermine democratic institutions, and deny millions of Pakistanis their right to freely choose their leaders, whilst terrorising those who speak their beliefs.
I once again plea to the international community to not look away. Silence in the face of injustice only enables it.
🚨 علیمہ خان کی اہم ترین پکار: "عمران خان کی زندگی بچانے کے لیے اب خاموش رہنے کا وقت نہیں!"
ملک بھر کے غیرت مند پاکستانیوں اور انصاف پسند حلقوں کے لیے علیمہ خان کی جانب سے ایک انتہائی اہم اور ہنگامی اپیل:
📌 اہم ترین مطالبات اور اپیل کے بنیادی نکات:
عمران خان کی زندگی کا تحفظ: یہ جنگ اب صرف سیاست یا قانون کی نہیں رہی، بلکہ عمران خان کی زندگی اور سلامتی کی جنگ بن چکی ہے۔ اگر ہم نے آج آواز نہ اٹھائی تو تاریخ ہمیں کبھی معاف نہیں کرے گی۔
سپریم کورٹ سے انصاف کی امید: ہم عدالتِ عظمیٰ کی طرف دیکھ رہے ہیں۔ لیکن اگر سپریم کورٹ سے بھی انصاف نہ ملا اور مروجہ آئینی حقوق پامال کیے گئے، تو پرامن احتجاج کے علاوہ کوئی دوسرا راستہ باقی نہیں رہے گا۔
ملک گیر پرامن احتجاج کی کال: پاکستان تحریکِ انصاف (PTI) کے تمام عہدیداران، مخلص کارکنان اور عام عوام سے دردمندانہ اپیل ہے کہ وہ اپنے لیڈر کے بنیادی انسانی حقوق اور ان کی زندگی کے تحفظ کے لیے پرامن انداز میں سڑکوں پر نکلیں۔
"گھروں سے باہر نکلیں، اپنے حقوق کی حفاظت کریں اور ناانصافی کے خلاف سیسہ پلائی ہوئی دیوار بن جائیں۔ سچائی اور قانون کی بالادستی کے لیے عوام کی طاقت ہی آخری امید ہے!"
جو لوگ دن رات سوشل میڈیا پر شکوے کرتے ہیں کہ پاکستانی اپنے حق کے لیے نہیں نکلتے وہ جان لیں کہ کشمیر اور بلوچستان میں عوام بڑی تعداد میں اپنے مطالبات کے حق میں باہر نکلے ہیں۔ دونوں جگہوں پر کئی دھرنے جاری ہیں مگر میڈیا میں مکمل بلیک آؤٹ سے خبر دبائی جا رہی ہے۔ اب آپکی ذمہ داری ہے کہ کھل کر انکی کوریج سوشل میڈیا پر کریں انکی آواز کو پوری دنیا تک پہنچائیں۔ تاکہ مایوسی کی جگہ امید جنم لے۔۔۔
اسلحے اور طاقت کے زور پر زبردستی نکالے گئے لوگ ہیں۔ سیاسی سوچ تبدیل ہوتی یا کسی لالچ کے لیے جانا ہوتا تو کافی پہلے چھوڑ جاتے۔ سیاسی لوگ تھے کوئی تربیت یافتہ کمانڈوز تو تھے نہیں کہ جرنیلوں سے لڑ جاتے مگر آفرین ہے ڈٹ جانے والوں خصوصاً ان خواتین پر جو یہ لڑائی بھی لڑ گئیں اور آج ملٹری اسٹیبلشمنٹ انہی کی وجہ سے ہلکان ہوئی پڑی ہے۔
دنیا کے سارے خدا اکٹھے ہوچکے ہیں
مگر رب کعبہ کی قسم رب محمد صلئ اللہ علیہ وآلہ وسلم کی قسم
یہ ہمارے خان کے سامنے زیرو ہیں
میاں اسلم اقبال کی وہ بات جو اج تک ٹھیک ثابت ہوتی جارہی ہے
ایک دن عمران خان نے میری آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر مجھے کہا شہباز اگر تم حق پر ہو تو تمہیں فلاح ملے گی اگر تم حق پر نہیں ہو تمہیں عزت نہیں ملے گی اگر حق پر ہو تو ڈٹ جاؤ ایک دن تمہارا ڈنکا بجے گا۰
ڈاکٹر شہباز گل
🚨 اہم ترین پیغام: تمام ممبرانِ اسمبلی اور انصاف سنز متوجہ ہوں! 🚨
کل کا دن حقیقی آزادی کی تحریک اور ہمارے قائدین کے لیے انتہائی اہمیت کا حامل ہے۔ عدالتی محاذ پر کل دو اہم ترین سماعتیں شیڈول ہیں، جہاں ہماری بھرپور حاضری اور یکجہتی وقت کی سب سے بڑی ضرورت ہے۔
⚖️ کل کا عدالتی شیڈول:
صبح 09:00 بجے: قائدِ تحریک عمران خان اور بشریٰ بی بی کو قیدِ تنہائی میں رکھنے کے خلاف اہم ترین سماعت۔
دن 11:30 بجے: القادر ٹرسٹ کیس کی سماعت۔
تمام اراکینِ قومی و صوبائی اسمبلی اور سینیٹرز کو ہدایت کی جاتی ہے کہ وہ بھرپور تعداد میں بروقت پہنچیں۔ یہ صرف ایک حاضری نہیں، بلکہ ہمارے کپتان اور بھابھی کے ساتھ چٹان کی طرح کھڑے ہونے کا عملی ثبوت ہے۔
"ظلم کے خلاف خاموشی، ظالم کا ساتھ دینے کے مترادف ہے۔ کل ہم نے ثابت کرنا ہے کہ کپتان اکیلا نہیں، پوری قوم اور اس کے نمائندے اس کے ساتھ ہیں۔"