پاکستان تحریک انصاف کے ورکرز اور سپورٹرز کل کے الیکشن کی بھرپور تیاری رکھیں
کسی بھی امیدوار کے بارے میں پراپیگنڈے پر یقین نہ کریں
آپ نے ناصرف ووٹ ڈلوانے ہیں بلکہ اپنے ووٹ کی حفاظت بھی کرنی ہے
Pakistani police fired tear gas and arrested dozens of demonstrators gathered to support jailed ex-PM Imran Khan and to protest attempts to keep his PTI party out of the 2024 elections ⤵️
پاکستان کی ڈومیسٹک کرکٹ میں سب سے زیادہ مشہور ٹورنامنٹ پی ایس ایل ہے جس میں چھ فرینچائز حصہ لیتی ہیں اور ہر فرنچائز کروڑوں روپیہ بورڈ کو دیتی ہے-
ہر فرینچایز کی الگ الگ قیمت ہے ملتان سب سے مہنگی اور اسکے بعد کراچی اور لاہور، لیکن جب بات حصہ کی آتی ہے تو منافع سب کو برابر تقسیم ہوتا ہے جو کہ سراسر غلط ہے ۔
دوران پی ایس ایل ٹیمز کو پریکٹس کی کوئی خاص سہولیات موجود نہیں جس کو ہمارے اور بین الاقوا��ی کھلاڑی استعمال کر سکیں ، بورڈ کے اپنائے ہوئے ڈرافٹ ، ریٹنشن اور کیٹیگری کے رولز یا تو نامناسب ہیں یا مبہم یانامعلوم۔ راشد خان ( سلور ) ہیلز (ڈائمنڈ) میں کیسے آ سکتے ہیں یہ عام شائقین کے ساتھ ساتھ پیشہ ور صحافیوں اور تجزیہ کاروں کی سمجھ سے بھی باہر ہے۔ اس ہی طرح کے رولز کی وجہ سے لیگ میں سنجیدگی کا عنصر نہ ہونے کے برابر ہے ۔
ہوم اینڈ اوے میچز کی گیٹ منی کی تقسیم میں بھی تضاد نظر آتا ہے ، کوئٹہ اور پشاور کے ہوم گراؤنڈ نہیں ہیں حالانکہ پشاور اور کوئٹہ کے اپنے اپنے گراؤنڈ ہونا ضروری ہیں کیونکہ ۸ سال ہو گئے پی ایس ایل کو شروع ہوئے ۔ جس مقام پر پی ایس ایل کو ہونا چاہیے تھا وہ وہاں نہ پہنچ سکا، برانڈ بلکہ نیچے کی جانب آیا ہے ۔ تھوڑا سہارا سیروگیٹ جوئے کی ک��پنیز نے دیا تھا لیکن انکے ہٹنے کے بعد فرینچائز کو اسپانسر تلاش کرنے میں بظاہر مشکلات ہو رہی ہیں جو کہ فرنچائز ۸ سال چلانے کے بعد آنی نہیں چاہئیں تھیں ۔ چونکہ پشاور اور اسلام آباد نے اپنے آپ کو سیروگیٹ کمپنیوں سے دور رکھا اس لئے اس معاملے میں وہ اب بھی مستحکم نظر آتی ہیں۔
اچھے بین الاقوامی کھلاڑیوں کی قلت نظر آرہی ہے کیونکہ جو لوگ اس کو چلا رہے ہیں انکا زندگی میں کرکٹ سے دور دور کا کوئی واسطہ نہیں ۔ میرٹ نام کی چیز نظر نہیں آتی ۔ بورڈ کو سیاسی اکھاڑا بھی کہہ سکتے ہیں اور کچھ کے لیئے سونے کا انڈا دینے والی مرغی ۔
ڈومیسٹک کرکٹ کی بات کی جائے تو فرسٹ کلاس اور گریڈ ۲ کر��ٹ میں ۱۶ ریجن موجو ہیں لیکن فرسٹ کلاس صرف ۸ ریجن کھیل سکتے ہیں ۔
۱- کراچی ۲- لاہور ۳- فاٹا ۴- فیصل آباد ۵۔ راولپنڈی ۶- پشاور ۷- ملتان یہ فرسٹ کلاس کھیلتے ہیں جس میں لاہور کی ۲ ٹیمز ہیں ۔
کچھ ریجن صرف گریڈ ۲ کھیلتے ہیں اور کہنا یہ ہے کہ پاکستان میں اتنے کھلاڑی نہیں ہیں کہ فرسٹ کلاس کھیل سکیں ۔ مطلب یہ ہوا کہ کچھ ریجن صرف ووٹ کے لیئے بنائے گئے تھے جس میں ڈیرہ مراد جمالی، کوئٹہ ، ایبٹ آباد ، اسلام آباد ، حیدر آباد اور لاڑکانہ شامل ہیں ۔ سیالکوٹ بھی گریڈ ۲ ہی کھیلتا ہے جس ریجن نے درجنوں انٹرنیشل کھلاڑی پاکستان ٹیم کو دئیے ہیں ۔
پاکستان کرکٹ کو ایک منظم ڈومیسٹک اسٹرکچر بنانا ہو گا جو حکومت یا چیئرمین کی ہر تبدیلی میں تبدیل نہ ہو سکے ۔
اگر ۲۰۲۵ میں عالمی معیار کی چیمپینز ٹرافی کروانی ہے تو بورڈ کو اب اپنا انفرا اسٹریکچر بہتر کرنا ہو گا ، پاکستان میں ایک بھی بین الاقوامی
طرز کا اسٹیدیم نہیں ہے کیا چیمپئنز ٹرافی میچز انہی فرسودہ حال اسٹیڈیمز پر کروائے جائیں گے ؟
بورڈ میں پُر خلوص لوگوں کی شاید کمی نہیں لیکن اپنے کام کے ماہرین کی شدید کمی ہے جس کا نتیجہ عامیانہ سوچ اور سطحی نظر بھی ہیں۔ اہم معاملات میں اس اس بات کا ادراک تک موجود نہیں ہے کہ پاکستان کرکٹ کو دراصل کن چیزوں، کن طریقوں اور کس طرح کی قابلیت اور تجربہ رکھنے والوں کی ضرورت ہے۔ بائیو میکینکس، ڈیٹا سائنس، پچ، گراؤنڈ، براڈکاسٹ پروڈکشن وغیرہ ان ہی میں شامل ہیں جن کے بغیر ماڈرن کرکٹ مینیجمنٹ نامکمل ہے لیکن پاکستان کرکٹ میں اب تک ان کا صحیح طور ادراک بھی موجود نہیں ہے۔
ہمیں آسٹریلیا کی مٹی کی ضرورت نہیں بالکہ انکی کرکٹ سوچ کی ضرورت ہے ۔
کوئی گروہ بندی نہیں۔
کوئی اسٹار کلچر نہیں۔
اجتماعی حوصلہ-
مکمل عزم-
ملک پہلے فرنچائز نہیں۔