اکثر نمازی اپنی پیشانی پر بنے اس کالے محراب پر فخر کرتے ھیں مگر یہ "پیراسائیٹک انفیکشن" ھے جو فرش، قالین اور جائے نماز پر گندے پاؤں کی وجہ سے لگتی ھے۔ Trosyd کریم استعمال کرنے سے یہ نشان ختم ھو جاتا ھے۔
کئی نمازیوں کے ٹخنوں پر بھی یہی " محراب " دیکھا گیا ھے.
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے بڑھ کر کسی نے نہ نماز پڑھی اور نہ طویل سجدے کیے ,
شمائل نبوی میں کہیں بھی ان محرابوں کا ذکر نہیں
اس لیے اپنے ماتھے رگڑ رگڑ کر خراب مت کریں۔
یہ کریم لگائیں تاکہ انفیکشن ختم ھوجاۓ
لاہور، گلشن راوی کے علاقہ میں خراب سینڈوچ کی واپسی کے معاملے پر جھگڑا، خاتون نے مالمو بیکری ملازم کو تھپڑا مارا جس کے بعد ملازم نے خاتون پر تھپڑوں کی بارش کردی،ایف آئی آر درج، خاتون کے مطابق اس کے کپڑے بھی پھاڑے گئے۔
ایس ایس ایز کو سالہا سال سے ریگولر نہ کر کے جو ناانصافی کی گئی اس کا ذمہ دار کون ہے ؟ ان کے جونیئر پروموشن لے سینئر بن چکے اور یہ 14000 لوگ ابھی تک ریگولرائزیشن کے منتظر ہیں۔حکومت میں آنے سے پہلے مریم صاحبہ نے وعدہ کیا تھا جو ابھی تک وفا نہ ہو سکا۔
ڈاکٹروں کی تنظیموں نے ہسپتال کے ڈاکٹر ہاسٹلز میں کمرے پکڑے ہوئے، اور آپ کو ان تنظیموں میں شمولیت پر مفت کمرے مل جاتے، اور اگر آپ ممبر نہ بنیں تو فیس دیکر بھی آپکو کمرے نہیں ملتے،
اور انتظامیہ بجائے شفافیت لانے کے، کمروں کی لسٹ چھپاتے رہتے، کیونکہ ہر کسی نے اپنا حصہ پکڑا ہوا
اسٹبلشمنٹ کے پاس 2چیزیں ہیں ایک ڈنڈا دوسرا عوام کا پیسہ
جو انکے خلاف کھڑا ہو اس کے لئے ڈنڈا جو انکے آگے جھک جائے انکے لئے عوام کا پیسہ
اپنی جعلی حکومت قائم رکھنے اور عمران خان کو جیل میں رکھنے کے لئے بھوک سے مرتی عوام کا پیسہ پانی کی طرح بہایہ جارہا تاکہ سسٹم انکا غلام رہے
انٹرویو سنٹر کے باہر ایک غریب باپ اپنے بیٹے کی ٹائی سیدھی کر رہا تھا، کبھی اس کے بال ٹھیک کرتا، کبھی قمیض کے بٹن بند کرتا اور ہر بار اس کی آنکھوں میں ایک ہی دعا جھلکتی تھی: میرا بیٹا کامیاب ہو جائے۔
حکمرانوں کو کیا خبر کہ اس ایک انٹرویو کے پیچھے کتنے برسوں کی بھوک، کتنی راتوں کی بے چینی، کتنے اپنے خوابوں کی قربانی چھپی ہوتی ہے۔ اس باپ نے اپنے پیٹ پر پتھر رکھ کر، اپنی خواہشوں کو مار کر، اپنے لختِ جگر کو پڑھایا ہے۔ اس کے ہاتھوں کی لکیروں میں مزدوری کی تھکن ہے، مگر دل میں صرف ایک امید ہے کہ شاید آج اس کی محنت رنگ لے آئے۔
اللہ ایسے والدین کی قربانیوں کو قبول فرمائے اور ہر محنت کرنے والے باپ کے بیٹے کو کامیابی عطا کرے۔ آمین۔
They don't even know how to speak and present themselves that's why. Imagine Babar going to Wimbledon he'll end up getting trolled by everyone for his dressing and not being able to speak properly.
حکومت تعلیمی نظام میں تقسیم کیوں پیدا کررہی ہے؟
تین قسم کے سکولز ہیں۔ سرکاری سکولز
جن کے پاس اتنا بجٹ نہیں ہے کہ وہ بجلی کے بل دے سکیں۔
پرائیوٹ سیٹ اپ، نواز شریف سکول آف ایمننس
ان سکولز میں حکومت فی بچہ اوسط 5500 روپے دے رہی ہے۔
پیف سکولز
اس پرائیوٹ سیٹ میں فی بچہ 800 روپے دئیے جارہے ہیں۔
سرکاری وسائل کی تقسیم تمام سکولز میں برابر کیوں نہیں ہے؟ کیا صرف نواز شریف کا نام ہونے کے باعث سکولز کو بھاری رقوم سرکاری خزانے سے دے جارہی اور دوسری جانب اسی صوبے کے بچوں کے لیے اتنے وسائل بھی نہیں دئیے جارہے کہ بجلی کا بل ادا ہوسکے۔ اس تقسیم سے آپ کیسے تمام بچوں اور اساتذہ سے ایک جیسے نتائج کی امید کرسکتے ہیں اور سرکار وسائل کی تقسیم میں حکومت کیسے پک اینڈ چوز کرسکتی؟
From a poor village to Wimbledon through clean content. Imagine if he had the mindset of many Pakistani creators, his first big purchase would’ve been a Vigo Daala, and the first destination would’ve been Dubai.
They’ll pause for Jummah Namaz, then get right back to the drug trade. Drugs? Perfectly halal, apparently. (Bacha Baazi)Gay sex? Somehow acceptable.
But let a girl go to school? That’s where they draw the line.
They will take a break for Jummah Namaz and then resume their drug business. Drugs are halal mmmkay, gay sex is also kosher mmkay, but dare you send girls to schools.