@PTCLOfficial This is completely unacceptable. Customers deserve transparency, not surprise charges every month. I expect an immediate explanation and resolution. Please look into this urgently.
@PTCLOfficial
Extremely disappointed with PTCL's service and billing! My 10 Mbps connection (Phone #: 0673090051) used to have a bill of around Rs. 2,800, then it increased to Rs. 3,500, and now it has suddenly gone above Rs. 3,850 without any clear explanation.
#BillingIssue
ایل پی جی کی ڈسٹریبیوشن کے بڑے ٹھیکے کس کے پاس اگر آپ ان کے نام چیک کریں تو آپ کو سمجھ آ جائے گی کہ یہ مافیا کیوں اتنا طاقتور اور کیسے سرکاری ریٹ پاوں تلے روند رہا ہے
سب اقتدار میں ادھر ادھر بیٹھے ہیں
عوام کے لئے بڑا ریلیف۔
اوگرا نے ایل پی جی کی قیمت میں کمی کا نوٹیفکیشن جاری کردیا، نوٹیفکیشن کے مطابق ایل پی جی کی فی کلو قیمت میں 67 روپے 33 پیسےکمی کی گئی ہے جس کے بعد فی کلو ایل پی جی کی نئی قیمت 241 روپے43 پیسے ہوگئی۔
جن وفاقی وزیروں، فیڈرل سیکرٹریز نے خود یہ متنازعہ ٹیلی کام بل بنایا یا ان سے ٹیلی کام کمپنیوں کے “جنات” نے بنوایا یا ٹیلی کمپنیوں کے گھوسٹ نے بنا بنایا ایک پرنٹ انہیں دے دیا جسے انہوں نے من و عن ایک کاما اور فل اسٹاپ تبدیل کیے بغیر چپکے سے قومی اسمبلی سے پاس بھی کرالیا لیکن سینٹ میں شور مچنے پر اب انہی وزیروں/سیکرٹریز کی کمیٹی بھی بنا دی جن کے خلاف دراصل وزیراعظم، کابینہ ارکان اور پارلیمنٹ کو گمراہ کرنے پر ایکشن لینا تھا کہ یہ انہوں نے ون سائیڈ سب کچھ کیا۔
ٹیلی کام کمپنیوں کے پاس بڑا پیسہ ہے۔ صاف لگ رہا ہے یہ بل بہت بڑی لابنگ کے بعد وجود میں آیا ہے جہاں سب جرمانے، سزائیں یا پاورز کمپنیوں کے پاس ہیں، ملک میں ہزاروں ہاوسنگ سوسائٹیز یا سرکاری ادارے جن کے پارکس ہیں یا جن کے پاس پبلک سپیس ہے، ان سب کے پاس ایک ہی حل ہے کہ وہ ٹیلی کام کمپنیوں کی شرائط پر ڈیل کریں ورنہ جرمانوں کا سامنا کریں۔
ٹیلی کام سیکٹر کی سمجھداری اور منصوبہ بندی ملاحظہ فرمائیں کہ پہلے جاز کمپنی کے ایک سابقہ ملازم ضرار ہاشم خان کو کنٹریکٹ پر سیدھا 22 گریڈ کے برابر فیڈرل سیکرٹری آئی ٹی لگوایا اور پھر اس کے زریعے ہی یہ بل بنوایا، کابینہ میں بھیجا اور پھر لابنگ کے بعد اسمبلی سے بغیر چوں چراں کے پاس بھی کرا لیا۔
اب وہی کردار اس کمیٹی میں جج ، جیوری اور جلاد بھی خود ہیں۔ ان کے خلاف انکوائری یا مقدمے میں ان سب کو ہی جج بنا کر بٹھا دیا کہ اپنا فیصلہ خود کر لو۔ یہ ہے ہمارے وزیراعظم شہباز شریف صاحب کا ماڈل آف ایکشن، انکوائری اور انصاف۔ 😎
@BBhuttoZardari@CMShehbaz@PalwashaKhan18@naveedqamarmna@MIshaqDar50@AyazSadiq122@JunaidAkbarMNA@BarristerGohar@DrTariqFazal@HinaRKhar@ShaziaAttaMarri@sherryrehman@SyedAliZafar1@AzamNazeerTarar@MoitOfficial@ShazaFK@KhSaad_Rafique@sharmilafaruqi
حالیہ منظور شدہ متنازعہ ٹیلی کمیونیکیشن بل کے Section 27A میں ٹیلی کام کمپنیوں (لائسنس ہولڈرز) کو عوامی اور نجی جائیداد (بشمول گھر، پلاٹ، ہاؤسنگ سوسائٹی وغیرہ) پر زبردستی ٹاور لگانے کا حق مل گیا!
یعنی یہ کمپنیاں کسی کے گھر یا جائیداد پر ٹیلی کام انفراسٹرکچر (موبائل ٹاور، فائبر آپٹک کیبلز، جنریٹرز، آلات وغیرہ) کی تنصیب، آپریشن، مینٹیننس یا اپ گریڈنگ کے لیے رسائی/استعمال کا حق رکھتی ہیں
اس کا طریقہ کار یہ ہوگا کہ کمپنی مالک/کرایہ دار کو رجسٹرڈ ڈاک یا کورئیر کے ذریعے نوٹس بھیجے گی 15 دن میں جواب نہ ملے تو یاد دہانی اگر 30 دن میں اگر جواب نہ ملا تو اس کو منظوری یعنی رضامندی سمجھا جائے گا کہ کمپنی اس شخص کی زمین یا جائیداد پر اپنا سسٹم لگاسکتی ہے
اگر زمین کا مالک انکار کردے کہ بھائی میں نہیں لگانے دوں کا کوئی ٹاور یہاں پر تو پھر تنازع حکومت کو بھیجا جائے گا اور سیکریٹری سطح کے افسر کے ذریعے یہ مسئلہ 45 دن میں حکومت خود حل کرے گی
اسی طرح ہاؤسنگ سوسائٹی/کوآپریٹو وغیرہ میں جواب نہ دینے کو یعنی خاموشی کو منظوری سمجھا جائے گا یعنی آپ مالک ہیں آپ کو نوٹس ملا ہی نہیں لیکن کمپنی نے بھیجا ہے اور 30 دن بعد کمپنی سسٹم اٹھا کر لے آئے گی کہ آپ نے تو جواب نہ دیکر منظوری دے دی تھی
اسکے علاوہ Section 27B کہتا ہے کہ حکومت کسی بھی مالک، کرایہ دار، tenant یا ادارے پر 5 کروڑ روپے (Rs 50 million) تک جرمانہ لگا سکتی ہے جو ٹیلی کام کمپنی کے حقوق کی گرانٹ میں رکاوٹ ڈالے یا تاخیر کرے یعنی اگر کوئی آپ کے آبائی گھر پر ٹاور لگانا چاہتا ہے اور آپ اس کو روکتے ہیں تو پھر 5 کروڑ روپے جرمانہ لگے گا
یہ شقیں ٹیلی کام کمپنیوں کو نجی گھروں/جائیداد پر ٹاور یا فائبر لگانے کی کوشش کا قانونی راستہ فراہم کرتی ہیں اگر مالک انکار کرے یا عمل میں رکاوٹ ڈالے تو جرمانے یا حکومت کے ذریعے حل کا امکان ہے یعنی حکومت خود ہی وہ زمین ٹیلی کام کمپنی کو زبردستی دے دے گی
اگر آپ سب اجازت دیں تو PTA ترمیمی بل قومی اسمبلی سے پاس کروانے پر مسلم لیگ ن کے سوشل بائیکاٹ اور احتجاج کا ایک مہذب طریقہ تجویز کرنے کی جسارت کر سکتا ہوں؟
کیونکہ ہم مجبور اور مظلوم پاکستانی اب مہذب ممالک جیسے بائیکاٹ اور احتجاج کے راستے ہی اپنا سکتے ہیں؟